قانونِ خدا

(فارسی منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)
لطفِ او چوں خاکیاں را عشق داد عاشقاں را چوں بیفگندے ز یاد
اُس کی مہربانی نے جب مٹی کے پتلے کو عشق بخشا۔ تو وہ اپنے عاشقوں کو کیونکر بھلا سکتا ہے
عشق چون بخشید از لطف اتم چوں نہ بخشیدے دوائے آں الم
جب کامل مہربانی سے اُس نے محبت دی۔ تو پھر کیوں اس درد کی دوا نہ بخشتا
خود چو کرد از عشق خود دلہا کباب چوں نہ کردے از سرِ رحمت خطاب
جب خود ہی اُس نے اپنے عشق سے ہمارے دلوں کو کباب کر دیا تو پھر رحمت کے ساتھ ہم سے کلام کیوں نہ کرتا
دل نیارامد بجز گفتارِ یار گرچه پیشِ دیدہا باشد نگار
دل کو محبوب کے کلام کے سوا آرام نہیں ملتا۔ خواہ محبوب آنکھوں کے سامنے ہی ہو
پس چو خود دلبر بود اندر حجاب کے تواں کردن صبوری از خطاب
پس جب محبوب خود ہی پردے میں ہو۔ تو کلام کے بغیر صبر کس طرح آ سکتا ہے
لیک آں داند کہ او دلداده است در طریق عاشقی افتاده است
مگر ان باتوں کو صرف وہ عاشق ہی جانتا ہے جو راہ محبت کا واقف ہے
حُسن را با عاشقاں باشد سرے بے نظر ور کے بود خوش منظرے
حسن کا عاشقوں کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اور کوئی حسین بغیر قدردان کے نہیں ہوتا
عاشق آں باشد کہ او گم از خود است در طریق عشق خود بینی بدست
عاشق وہ ہوتا ہے جو اپنے آپ کو بھول جائے۔ طریقِ عشق میں (اپنے) آپ کو کچھ سمجھنا برا ہے
لیکن استیصال ایں کبر و خودی نیست ممکن جز بوحیٔ ایزدی
لیکن اس تکبر اور خودی کا استیصال خدا تعالیٰ کی وحی کے بغیر ممکن نہیں
ہر کہ ذوقِ یارِ جانی یافت ست آں ز وحی آسمانی یافت ست
جس نے اس دلی دوست کے وصل کا لطف اٹھایا۔ اُس نے صرف آسمانی وحی کی بدولت اٹھایا
عشق از الہام آمد در جہاں درد از الہام شد آتش فشاں
عشق الہام ہی کی وجہ سے دنیا میں آیا اور درد نے بھی الہام ہی کی وجہ سے آتش فشانی کی
شوق و انس و الفت و مہر و وفا جمله از الہام مے دارد ضیا
شوق، اُنس، اُلفت اور مہر و وفا — ان سب کی رونق الہام کی وجہ سے ہے
(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد اول صفحہ۱۷۱-۱۷۲ بحوالہ درثمین فارسی مترجم صفحہ ۸۰-۸۱)
مزید پڑھیں: قانونِ خدا




