امریکی سفیر مائیک ہکابی کا انٹرویو اوربائیبل میں بیان کردہ اسرائیل کی سرحدیں
’’اس آیت [الانبیاء:۱۰۶]سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ الارض سے مراد جو شام کی سرزمین ہے یہ صالحین کا ورثہ ہے اور جو اب تک مسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔ خدا تعالیٰ نے یَرِثُھَا فرمایا یَمْلِکُھَا نہیں فرمایا۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ وارث اس کے مسلمان ہی رہیں گے اور اگر یہ کسی اور کے قبضہ میں کسی وقت چلی بھی جاوے تو وہ قبضہ اس قسم کا ہوگا جیسے راہن اپنی چیز کا قبضہ مرتہن کو دے دیتا ہے یہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کی عظمت ہے۔ ارض شام چونکہ انبیاء کی سرزمین ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اس کی بے حرمتی نہیں کرنا چاہتا کہ وہ غیروں کی میراث ہو۔
یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوۡنَ فرمایا صالحین کے معنے یہ ہی کہ کم از کم صلاحیت کی بنیاد پر قدم ہو۔‘‘
(حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام)
اگر پوری دنیا میں امن کی حالت ہو تو بھی کسی کو بھی ایسے بیانات نہیں دینے چاہئیں جن کے نتیجےمیں کسی ملک یا کسی گروہ کو کسی اَور ملک یا قوم پر حملہ کر کے ان کے علاقوں اور ملکوں پر قبضہ کرنے کی تحریک پیدا ہو۔ لیکن جب پوری دنیا میں ہر طرف سے تنازعات اور خون خرابے کی خبریں موصول ہور ہی ہوں، جیسا کہ ہم آجکل کے ماحول میں دیکھ رہے ہیں اس وقت یہ سب انسانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی بیان بازی سے احتراز کریں۔ انسان ہونے کے ناطے خواہ انسانوں کا تعلق کسی بھی قوم یا مذہب سے ہو، سب کےحقوق کا احترام ضروری ہے۔ اور خاص طور پر ذمہ دار عہدیداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقہ اثر میں ان نظریات کا پرچار کریں کہ ہم سب کا فرض ہے کہ یہ کوششیں کریں کہ کسی بھی قوم یا شخص کو اس کے حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔ حال ہی میں اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکابی (Mike Huckabee) کا ایک انٹرویو منظرعام پر آیا۔ یہ انٹرویو ایک معروف صحافی ٹکر کارلسن (Tucker Carlson)لے رہے تھے۔
اسرائیل کی سرحدوں کے بارے میں موقف
اس انٹرویو کے دوران مائیک ہکابی نے یہ دعویٰ پیش کیا کہ بائبل کی رو سے یہ ملک جس میں اب اسرائیل موجود ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کو عطا کیا گیا تھا۔ اور اس سلسلے میں سفیر ہکابی صاحب نے بائبل کی کتاب پیدائش کے حوالے بھی دیے اور کہا کہ اس لیے یہودیوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اس خطّے میں اپنا ملک قائم کریں اور ان کی اس خطّے سے ایک تاریخی وابستگی بھی ہے۔ اس پر سوالات کرنے والے صحافی نے بجا طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ وعدہ پیدائش کے باب ۱۵ میں موجود ہے۔ اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ خدا نے دریائے نیل اور دریائے فرات کے درمیان کا علاقہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کو عطا فرمایا تھا۔ اس کے مطابق تو پھر یہودیوں کا یہ حق بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ اس تمام علاقے پر قبضہ کرسکتے ہیں اور اس علاقے میں فلسطین کے علاوہ مصر، شام، اردن، لبنان، سعودی عرب اور عراق کا بڑا حصہ بھی شامل ہے۔ پہلے تو سفیر ہکابی نے اس کا براہ راست جواب دینے سے احتراز کیا اور کہا کہ اس وقت اور فی الحال تو اسرائیل ان ممالک پر دعویٰ نہیں کررہا اور اس وقت ہم ان دوسرے ممالک کی بات نہیں کررہے۔ یہ جملہ حیران کن تھا کیونکہ اس سے یہ تاثر مل سکتاتھا کہ مستقبل میں اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اسرائیل ان سب ممالک پر بھی دعویٰ کردے۔ اس لیے صحافی ٹکر کارلسن بار بار اس سوال کو دہراتے رہے کہ بائبل کے مطابق تو یہ تمام علاقے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کو دینے کی پیشگوئی کی گئی تھی۔ اوریہ خدا اور خدا کی اس قوم کے درمیان عہد تھا۔ جب سفیر ہکابی صاحب کو بار بار اس سوال کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے اپنے نظریات ان الفاظ میں پیش کیے :
It will be fine if they took it all
یعنی اگر وہ (یعنی اسرائیل ) ان تمام ممالک پر قبضہ کر لے تو یہ درست ہوگا۔
اس جملے کے سیاسی مضمرات کیا ہو سکتے ہیں؟ پڑھنے والے اس بارے میں اپنی رائے خود قائم کر سکتے ہیں۔ سفیر ہکابی یہ بیان دے رہے ہیں کہ بائبل کی رو سے اگر اسرائیل ان تمام ممالک یعنی لبنان، شام، اردن، اور سعودی عرب، عراق اور مصر کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لے تو اس میں کوئی ہرج نہیں۔ ان تمام ممالک میں بسنے والے لوگ کہا جائیں گے اور ان کے بنیادی حقوق کا کیا بنے گا؟ سفیر صاحب نے ان امور کا ذکر نہیں کیا۔
جیسا کہ اس انٹرویو میں بھی ذکر کیا گیا کہ سفیر مائیک ہکابی نظریات کے اعتبار سے مسیحی صیہونی ہیں۔ مسیحی صیہونی وہ عیسائی ہیں جو اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہود دوبارہ ارض موعود یعنی فلسطین پر مکمل طور پر قبضہ کریں کیونکہ ان میں سے کئی کا نظریہ ہے کہ جب یہود مکمل طور پر ارض موعود پر قابض ہوجائیں گے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ دنیا میں آمد ہو گی۔ اور بعض کا خیال ہے کہ اس مرحلے پر تمام یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔ اور اس انٹرویو کے دوران بھی سفیر ہکابی نے یہ ذکر کیا کہ وہ اسرائیل میں امریکہ کا سفیر بننے سے قبل سو سے زائد مرتبہ اسرائیل آئے تھے۔ اور انہوں نے کہا کہ وہ بائبل کے پرانے اور نئے عہد نامے کے لفظ لفظ پر یقین رکھتے ہیں۔ ایک طرف تو وہ بار بار کہتے رہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے اور قائم رہنے کا حق حاصل ہے اور دوسری طرف وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت قائم عدالتوں یعنی عالمی عدالت انصاف اور انٹرنیشنل کورٹ آف کریمنل کو بے لگام ادارے قرار دیتے رہے۔
اٹھہترسال(۷۸)قبل حضرت مصلح موعودؓ کا انتباہ
اس بابت بائبل کے ان حوالوں کی حقیقت کیا ہے؟ اور ارض موعود کا وعدہ کن لوگوں سے کیا گیا تھا؟ اس وعدے کی شرائط کیا تھیں؟ اس بارے میں قرآن کریم کی پیشگوئی کیا ہے؟ ان سوالات کے بارے میں کچھ حقائق اس مضمون میں پیش کیے جائیں گے لیکن ان تفصیلات میں جانے سے قبل یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ اٹھہتر سال قبل کسی شخصیت نے یہ بتا دیا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ اس قسم کے دعوے کیے جائیں گے! ۱۰؍ستمبر ۱۹۴۸ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت مصلح موعود ؓنے صیہونی تنظیم کے اصل عزائم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: انہوں نے یہ تجویز کی ہے کہ پہلے فلسطین کے ایک حصہ پر قبضہ کر لو۔ پھر آہستہ آہستہ باقی فلسطین پر قبضہ کر لیا جائے گا۔ پھر ٹرانس جورڈن پر قبضہ کرلیا جائے گا کیونکہ وہ بھی فلسطین کا ایک حصہ ہے۔ پھر شام اور لبنان پر قبضہ کر لیا جائے گا۔ اس لیے کہ اسرائیلی اپنےلمبے دور میں ان پر قابض رہے۔ پھر عرب پر قبضہ کر لیا جائے گا اس لیے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت یمن کے کناروں تک تھی۔ پھر مصر پر قبضہ کر لیا جائے گا اس لیے کہ وہ وہاں آباد تھے اور انہیں جبراََ وہاں سے نکال دیا گیا تھا۔ ان کی اس تجویز کے مطابق حکومت اسرائیل آئندہ شام، لبنان، ٹرانس جارڈن،عرب، یمن اور عراق پر مشتمل ہو گی۔ (خطبات محمود جلد ۲۹ صفحہ ۲۸۸)
ہم یہ تاریخی حقائق جانتے ہیں کہ ۱۹۴۸ء میں جب اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا گیا اس وقت فلسطین کا صرف ایک حصہ اسرائیل کا حصہ بنایا گیاتھا۔ پھر ۱۹۴۸ء کی جنگ میں فلسطین کے کافی اور حصہ پر قبضہ کر لیا گیا جو کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق فلسطین کے عربوں کا علاقہ قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ۱۹۶۷ء کی جنگ میں یروشلم کے اس حصے پر جو کہ پہلے اردن کے قبضہ میں تھا، اور شام میں گولان کی بلندیوں پر، اور مصر کے صحرائے سینا پر بھی قبضہ کر لیا گیا (بعد میں امن معاہدہ کے عوض صحرائے سینا کا علاقہ مصر کو واپس کیا گیا۔) اور ماضی قریب میں غزہ کو بری طرح برباد کیا گیا۔ اور اب ہکابی صاحب اور ان کے بہت سے ہم خیالوں کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ کم ازکم ایک گروہ کے نظریات کے مطابق ان سرحدوں کو مزید وسیع کرنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ اور اگر دریائے نیل اور دریائے فرات کے درمیان جتنے ممالک ہیں ان پر بھی قبضہ کر لیا جائے تو بائبل کے مطابق یہ درست ہوگا۔ اس میں شام،مصر اردن، لبنان کے علاوہ سعودی عرب کے کچھ علاقے اور عراق کے کچھ علاقے شامل ہیں۔ کوئی پوچھے کہ ان ممالک میں رہنے والی اقوام کہاں جائیں گی تواس کی کوئی وضاحت نہیں پیش کی جاتی۔ اس سوچ کے پس منظر کا جائزہ لینے سے قبل اس بارے میں بائبل کے کچھ حوالوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
پیدائش میں درج وعدے کیا ہیں؟
سب سے پہلے پیدائش باب ۱۵ کے اس حوالے کو درج کرتے ہیں، جس کا ذکر اس انٹرویو میں بار بار کیا گیا تھا۔ اس باب میں لکھا ہے: اسی روز خداوند نے ابرام سے عہد کیا کہ یہ ملک دریائے مصر سے اس بڑے دریا یعنی دریائے فرات تک۔ قینیوں اور قنیزیوں اور قدمونیوں اور حتّیوں اور فرزّیوں اور رفائیم اور اموریوں اور کنعانیوں اور اور جرجاسیوں اور یبوسیوں سمیت میں نے تیری اولاد کو دیا ہے۔‘‘ (پیدائش باب ۱۵ آیت ۱۸۔ ۲۱)
اس حوالے کو پڑھ کر ایک سوال لازمی طور پر پیدا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ چار ہزار سال پرانا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ صیہونی تنظیم یا یہودی احباب کا نظریہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی اولاد سے خدا تعالیٰ کے وعدے ہیں اور اولاد سے مراد صرف اور صرف بنی اسرائیل ہیں اوریہ تمام وعدے ان کے حق میں ہیں۔ اور حضرت ابراہیمؑ کی اولاد سے ہونے کے باوجود یہ وعدے بنو اسمائیل کے حق میں نہیں کیے گئے تھے۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ کسی دَور میں بھی دریائے نیل اور دریائے فرات کے درمیان کا تمام علاقہ بنی اسرائیل کے قبضہ میں یا ان کی حکومت کے ماتحت نہیں رہا۔ البتہ آنحضرت ﷺ کی خلافت راشدہ کے دور میں ہی یہ تمام خطہ ان کی حکومت کے تحت آ چکا تھا۔ اور پھر بنو امیہ اور بنو عباس کے دَور میں بھی یہ تمام خطہ ان کی حکومتوں کا حصہ رہا۔ یہ سوال تو اٹھتا ہے کہ اگر یہ وعدہ خدا تعالیٰ کی طرف سے صرف بنی اسرائیل کے لیے تھا تو پھر چار ہزار سال گذرنے کے باوجود پورا کیوں نہیں ہوا؟ حتیٰ کہ آخری زمانہ شروع ہو گیا۔ بائبل کی کتاب پیدائش میں ایک اور مقام پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اس قسم کا وعدہ ان الفاظ میں کیا گیا تھا۔ یہ واضح رہے کہ ’کنعان‘ کا مطلب فلسطین ہے: ’’ اور ابرام نے اپنی بیوی سارہ اور اپنے بھتیجے لوط کو اور سب مال کو جو انہوں نے جمع کیا تھا اور ان آدمیوں کو جو حاران میں مل گئے تھے ساتھ لیا اور وہ ملک کنعان کو روانہ ہوئے اور ملک کنعان میں آئے۔ اور ابرام اس ملک میں گذرتا ہوا مقام سکم میں مورہ کے بلوط تک پہنچا۔ اُس وقت ملک میں کنعانی رہتے تھے۔ تب خداوند نے ابرام کو دکھائی دیکر کہا کہ یہی ملک میں تیری نسل کو دوں گا۔ …‘‘(پیدائش باب ۱۲ آیت ۵تا۷)
اس حوالے سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ وعدہ صرف کنعان (فلسطین ) کے ملک کے لیے تھا اور دریائے نیل سے دریائے فرات کے درمیان تمام علاقے کے لیے نہیں تھا۔ فلسطین کا ملک ان دو دریائوں کے درمیان سارے علاقے کا ایک چھوٹا حصہ ہے۔ اس مرحلہ پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام دونوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے تھے۔ اہل عرب کہتے ہیں کہ وہ حضرت اسماعیل ؑکی اولاد سے ہیں اور یہود کا دعویٰ ہے کہ وہ حضرت اسحاق ؑکی اولاد سے ہیں۔ تو پھر یہود اور مسیحی یہ ملک ملنے کا وعدہ بنو اسحاق یا بنی اسرائیل سے کیوں مخصوص سمجھے ہیں؟یہ وعدہ بنو اسماعیل کے حق میں کیوں نہ سمجھا جائے؟اس کے جواب میں یہود یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بائبل کی کتاب پیدائش میں لکھا ہے کہ خدا نے حضرت ابراہیمؑ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ میرا عہد اسحٰق ؑ سے ہوگا گو میں اسمائیلؑ کو بھی ایک بڑی قوم بنائوں گا۔ اس لیے یہ سب پیشگوئیاں بنی اسرائیل یعنی یہود کے حق میں تھیں۔ اس سلسلے میں بائبل کا جو حوالہ پیش کیا جاتا ہے اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ’’جب ابرامؔ ننانوّے برس کا ہوا تب خداوند ابرام کو نظر آیا اور اُس سے کہا کہ مَیں خدائے قادِر ہوں۔ تُو میرے حضور میں چل اور کامل ہو۔ اور مَیں اپنے اور تیرے درمیان عہد باندھوں گا اور تجھے بہت زیادہ بڑھاؤں گا۔ تب ابرامؔ سرنگُوں ہو گیا اور خدا نے اُس سے ہم کلام ہو کر فرمایا۔ کہ دیکھ میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تُو بہت قوموں کا باپ ہو گا۔ اور تیرا نام پھر ابرام نہیں کہلائے گا بلکہ تیرا نام ابرہامؔ ہو گا کیونکہ مَیں نے تجھے بہت قوموں کا باپ ٹھہرا دِیا ہے۔ اور مَیں تجھے بہت برومند کروں گا اور قومیں تیری نسل سے ہوں گی اور بادشاہ تیری اولاد میں سے برپا ہوں گے۔
اور مَیں اپنے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان اُن کی سب پشتوں کے لیے اپنا عہد جو ابدی عہد ہو گا باندھوں گا تاکہ مَیں تیرا اور تیرے بعد تیری نسل کا خدا رہوں۔ اور مَیں تجھ کو اور تیرے بعد تیری نسل کو کنعاؔن کا تمام مُلک جس میں تُو پردیسی ہے ایسا دُوں گا کہ وہ دائمی ملکیت ہوجائے۔ اور مَیں اُن کا خدا ہوں گا۔…
تب ابرہامؔ سرنگوںہوا اور ہنس کر دل میں کہنے لگا کہ کیا سو برس کے بڈّھے سے کوئی بچّہ ہو گا اور کیا سارہؔ کے جو نوّے برس کی ہے اولاد ہو گی؟ اور ابرہامؔ نے خدا سے کہا کہ کاش اسمٰعیلؔ ہی تیرے حضور جیتا رہےتب خدا نے فرمایا کہ بیشک تیری بیوی سارہؔ کے تجھ سے بیٹا ہو گا۔ تُو اُس کا نام اضحاقؔ رکھنا اور میں اُس سے اور پھر اُس کی اولاد سے اپنا عہد جو ابدی عہد ہے باندھوں گا۔ اور اسمٰعیلؔ کے حق میں بھی میں نے تیری دعا سنی۔ دیکھ مَیں اسے برکت دوں گا اور اسے برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا اور اس سے بارہ سردار پَیدا ہوں گے اور مَیں اسے بڑی قَوم بناؤں گا۔ لیکن مَیں اپنا عہد اضحاقؔ سے باندھوں گا جو اگلے سال اسی وقت معیّن پر سارہ سے پیدا ہو گا۔ اور جب خدا ابرہامؔ سے باتیں کر چکا تو اس کے پاس سے اوپر چلا گیا۔ ‘‘(پیدائش باب ۱۷)
دائمی ملکیت کا وعدہ پورا کیوں نہیں ہوا؟
اگر اس عبارت کو من و عن صحیح تسلیم کیا جائے اور یہ فرض کرلیا جائے کہ وقت کے ساتھ اس عبارت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اور یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ اس میں عہد پورا کرنے سے مراد یہ تھی کہ کنعان یعنی فلسطین کا ملک بنی اسرائیل کو دیا جائے گا تو ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ اس پیشگوئی میں تو یہ لکھا ہے کہ کنعان کی زمین دائمی طور پر بنی اسرائیل کی ملکیت ہو گی تو پھر یہ پیشگوئی بہر حال درست ثابت نہیں ہوئی۔ کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر اب تک یہ علاقہ محض چندسو سال بنی اسرائیل کی ملکیت میں رہا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد اس ملک پر دو ڈھائی سو سال تک بنی اسرائیل کی حکومت ضرور رہی تھی۔ اس کے بعد یہ علاقہ آسوری سلطنت نے فتح کیا، پھر بابل کی حکومت کے تحت ہو گیا، پھر فارس کی حکومت نےا س پر قبضہ کرلیا، پھر یونانی سلطنت نے فتح کیا، پھر رومی سلطنت کے حصے میں آیا اور اس دوران بنی اسرائیل کی Hasmonean dynastyصرف سو سال کے لیے قائم ضرور ہوئی تھی، پھر بازنطینی سلطنت کا ایک چھوٹا سا صوبہ بن گیا۔ ان سب کے بعد حضرت عمرؓ کے دور میں یہ خلافت راشدہ کے ماتحت آگیا اور اس کے بعد طویل عرصہ مسلمانوں کی مختلف سلطنتوں کا حصہ رہا۔ بیچ میں صلیبی جنگوں میں اہل یورپ بھی اس پر قابض ہوئے۔ پھر سلطنت عثمانیہ کے قبضہ میں آیا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جب برطانیہ نے اسے اپنے زیر انتظام لیا تو یہاں پر یہود کو بسانا شروع کیا اور ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ یہ مختصر تاریخ اس بات کو بالکل واضح کردیتی ہے کہ یہ ملک کسی طور سے بھی دائمی طور پر بنی اسرائیل کے قبضے میں نہیں رہا۔ اس لیے اس حوالے کی بنیاد پر اس ملک پر دعویٰ کرنا نا قابل فہم ہے کیونکہ یہ پیشگوئی کبھی بھی پوری نہیں ہوئی۔ اگر سلطنت کے وقت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو گذشتہ چودہ سو سال میں مسلمانوں نے اس ملک پر زیادہ لمبا عرصہ حکومت کی ہے پھر دائمی طور پر تمام فلسطین بنی اسرائیل کا کس طرح کہلا سکتا ہے؟
قرآن مجید کا اعلان اور زبور کے حوالے
اب ایک اور زاویہ سے دیکھتے ہیں کہ اس پیشگوئی کے بارے میں قرآن مجید کیا بیان کرتا ہے؟
اللہ تعالیٰ سورۃ الانبیاء میں فرماتا ہے: وَ لَقَدۡ کَتَبۡنَا فِی الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعۡدِ الذِّکۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوۡنَ (الانبیاء ۱۰۶) اور یقیناََ ہم نے زبور میں ذکر کے بعد یہ لکھ رکھا تھا کہ لازماََ زمین کو میرے صالح بندے ہی ورثہ میں پائیں گے۔
اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ زبور میں یہ مضمون کہاں پر بیان ہوا ہے۔ زبور کے مزمور ۳۷ میں لکھا ہے: ’’قہر سے باز آ اور غضب کو چھوڑ دے بیزار نہ ہو۔ اِس سے بُرائی ہی نکلتی ہے۔
کیونکہ بدکردار کاٹ ڈالے جائیں گے لیکن جن کوخداوند کی آس ہے ملک کے وارث ہوںگے۔
کیونکہ تھوڑی دیر میں شریر نابُود ہوجائےگا۔ تُو اُس کی جگہ کو غور سے دیکھے گا پروہ نہ ہوگا۔
لیکن حلیم ملک کے وارث ہوںگے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہیں گے۔
شریر راست باز کے خلاف بندشیں باندھتا ہے اور اُس پر دانت پیستا ہے۔
خُداوند اُس پر ہنسےگا کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اُس کا دِن آتا ہے۔
شریروں نے تلوار نکالی اور کمان کھینچی ہے تاکہ غریب اور محتاج کو گرا دیں اور راست رُو کو قتل کریں۔
اُن کی تلواراُن ہی کے دل کو چھیدیگی اور اُن کی کمانیں توڑی جائیںگی۔
صادِق کا تھوڑا سا مال بہت سے شریروں کی دولت سے بہتر ہےکیونکہ شریروں کے بازو توڑے جائیںگے لیکن خداوند صاوقوں کو سنبھالتا ہے۔ ‘‘(زبور ۳۷آیت ۸ تا ۲۰)
زبور کی اس پیشگوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ موعود سرزمین کسی خاندان کی مستقل ملکیت نہیں۔ آخر کار حلیم طبیعت کے حامل اور صادق ہی ملک کے وارث ہوں گے۔ گو اسی حوالے میں یہ تاثر ملتا ہے کہ جب شریر ملک پر قبضہ کریں گے اور وہ صادقوں پر ظلم کریں گے تو آخر کار خدا ان کی قوت کو توڑ دے گا اور صادقوں کو اس ابتلا سے نجات دلائے گا۔ مناسب ہوتا اگر سفیر ہکابی صاحب بائبل کا یہ حوالہ پیش کر کے تمام اقوام کوتوجہ دلاتے کہ وہ ظلم اور شرارتوں سے کنارہ کش رہیں کیونکہ یہ وعدہ صرف حلیم طبع لوگوں کے حق میں پورا ہوگا۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ یہود کا مقدس معبد یروشلم کی ایک پہاڑی پر بنایا گیا تھا۔ اس بارے میں زبور میں یہ پیشگوئی ہے: ’’اے خداوند تیرے خیمہ میں کون رہےگا؟ تیرے کوہِ مقدس پر کون سکونت کرےگا؟ وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا اور دل سے سچ بولتا ہے۔ وہ جو اپنی زبان سے بہتان نہیں باندھتا۔ اور اپنے دوست سے بدی نہیں کرتا اور اپنے ہمسایہ کی بدنامی نہیں سنتا۔ وہ جس کی نظر میں رذیل آدمی حقیرہے پر جو خداوند سے ڈرتے ہیں اُن کی عزت کرتا ہے۔ وہ جو قسم کھا کر بدلتا نہیں خواہ نقصان ہی اُٹھائے۔ وہ جو اپنا روپیہ سود پر نہیں دیتا اور بے گناہ کے خلاف رشوت نہیں لیتا۔ ایسے کام کرنے والا کبھی جنبش نہ کھائے گا۔‘‘ (زبور مزمور ۱۵آیت ۱ تا ۵)
اس حوالے میں بھی کوہ مقدس پر سکونت کے لیے جو شرائط بیان کی گئی ہیں وہ صالح ہونے کی شرائط ہیں۔ یہ شرط کہ اس مقدس مقام پر وہ سکونت کرے گا جو سود نہیں لیتا قابل توجہ ہے کیونکہ یہ شرط کم از کم اس دور کے یہودپر پوری نہیں ہوتی۔
اسی طرح زبور میں ایک اَور مقام پر بنی اسرائیل کے بارے میں یہ پیشگوئی درج ہے :’’ پھر اُنہوں نے کنعان کے خوش گوار ملک کو حقیر جانا۔ اُنہیں یقین نہیں تھا کہ اللہ اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ وہ اپنے خیموں میں بڑبڑانے لگے اور ربّ کی آواز سننے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ تب اُس نے اپنا ہاتھ اُن کے خلاف اُٹھایا تاکہ اُنہیں وہیں ریگستان میں ہلاک کرےاور اُن کی اولاد کو دیگر اقوام میں پھینک کر مختلف ممالک میں منتشر کردے۔ ‘‘(زبور مزمور ۱۰۶ آیت ۲۴تا ۲۷)
دیگر حوالوں کی طرح یہ حوالہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ بائبل کی رو سے بھی جب بنی اسرائیل خدا کا پیغام نہیں سنیں گے تو خدا انہیں ارض مقدس سے نکال کر مختلف مقامات پر منتشر کردے گا۔ مسیحی صیہونی احباب کو اس نکتہ پر توجہ کرنی چاہیے کہ ان کے علم میں ہے کہ اکثر یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں لائے بلکہ انہیں صلیب دینے کے لیے گرمجوشی سے کوششیں کرتے رہے اور اس طرح انہوں نے خدا کی بات نہیں سنی، تو کیا ان حوالوں کی رو سے مذہبی طور پروہ ارض مقدس کے حق دار رہتے ہیں؟
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تفسیر
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کریمہ میں بیان فرمودہ مضمون کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں: ’’ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھا ہے کہ جو نیک لوگ ہیں وہی زمین کے وارث ہوں گے یعنی ارض شام کے۔ ‘‘(براہین احمدیہ حصہ سوم۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۶۱ بقیہ حاشیہ نمبر۱۱)
واضح رہے اصل میں شام کا لفظ وسیع علاقہ کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے جس میں فلسطین اور موجودہ شام کے ملک کا علاقہ بھی شامل ہے۔ اسی آیت کی تفسیر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ لطیف نکتہ بیان فرماتے ہیں: ’’ اس آیت [الانبیاء:۱۰۶]سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ الارض سے مراد جو شام کی سرزمین ہے یہ صالحین کا ورثہ ہے اور جو اب تک مسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔ خدا تعالیٰ نے یَرِثُھَا فرمایا یَمْلِکُھَا نہیں فرمایا۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ وارث اس کے مسلمان ہی رہیں گے اور اگر یہ کسی اور کے قبضہ میں کسی وقت چلی بھی جاوے تو وہ قبضہ اس قسم کا ہوگا جیسے راہن اپنی چیز کا قبضہ مرتہن کو دے دیتا ہے یہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کی عظمت ہے۔ ارض شام چونکہ انبیاء کی سرزمین ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اس کی بے حرمتی نہیں کرنا چاہتا کہ وہ غیروں کی میراث ہو۔
یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوۡنَ فرمایا صالحین کے معنے یہ ہی کہ کم از کم صلاحیت کی بنیاد پر قدم ہو۔ ‘‘(الحکم ۱۰؍نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ۷۔ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد ۵ صفحہ ۳۶۱ تفسیر سورۃ الانبیاء)
حضرت مصلح موعودؓ کی تفسیر
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ اس آیت کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں: ’’مطلب یہ ہے کہ بائبل میں جو یہ پیشگوئی تھی کہ صرف خدا کے نیک بندے ارض مقدس میں رہیں گے اس سے کوئی اس وقت دھوکا نہ کھائے جبکہ بنی اسرائیل اس ملک پر غالب آجائیں گے۔ کیونکہ اس پیشگوئی میں اس طرف بھی اشارہ تھا کہ اگر کوئی وقفہ پڑا تو پھر خدا کے بندے اس ملک پر غالب آجائیں گے۔ اس لیے فرماتا ہے کہ عبادت گذار بندوں کے لیے اس میں ایک پیغام ہے یعنی مسلمانوں کو تو ہوشیار کردے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ پھر بنی اسرائیل اس پر قابض ہو جائیں گے اس لیے یہاں عَابِدِیْنَکا لفظ دائودؑ کی پیشگوئی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال کیا اور بتایا کہ میرے بندوں کو کہہ دے کہ ہوشیار ہو جائو۔ اگر کسی وقت تم نے میرے عباد بننے میں کمزوری دکھائی تو پھر اللہ تعالیٰ یہودیوں کو اس ملک میں واپس لے آئے گا۔ لیکن مسلمانوں کو چاہیے کہ پھر عبادت گذار بن جائیں۔ اس کے نتیجہ میں وہ پھر غالب آجائیں گے۔ ‘‘ (تفسیر کبیر جلد۸ صفحہ ۱۰۵)
پھر آپؓ تحریر فرماتے ہیں: ’’مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وعدہ ارضِ مقدس کے متعلق بنی اسرائیل سے کیا گیا تھا۔ یہ کوئی غیر مشروط وعدہ نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ نیکی اور تقویٰ اور صلاحیت کی شرط لگائی گئی تھی اور انہیں کھلے طور پر بتا دیا گیا تھا کہ اگر تم نے شرارتوں پر کمر باندھ لی اور بد کرداریوں کو اپنا شیوہ بنا لیا تو یہ ملک تم سے چھین لیا جائے گا۔ ‘‘(تفسیر کبیر جلد۸صفحہ۱۰۶)
کیا بائبل کا وعدہ غیر مشروط تھا؟
کیا ارض مقدس بنی اسرائیل کو مستقل طور پر دی گئی تھی؟ سفیر مائک ہکا بی نے چند حوالوں کا ذکر تو کیا لیکن یہ جزوی تصویر ہے۔ مکمل تصویر دیکھنے کے لیے کچھ اور حوالوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ان میں سے چند حوالے پیش کیے جاتے ہیں۔
بائبل کی کتاب استثناء کے باب ۲۸ میں یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اگر بنی اسرائیل نے خدا کے تمام احکام اور آئین پر عمل نہیں کیا، اس صورت میں جو سزائیں دی جائیں گی ان کا تفصیلی ذکر ہے۔ اس طویل اقتباس کا یہ حصہ قابل توجہ ہے:’’تم اس ملک سے اکھاڑ دیئے جائو گے جہاں تو اُس پر قبضہ کرنے کوجا رہا ہے۔ اور خدا تجھ کو زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تمام قوموں میں پراگندہ کر یگا۔ وہاں تو لکڑی اور پتھر کے معبودوں کی جنکو تو اور تیرے باپ داد جانتے بھی نہیں پرستش کرے گا۔ ان قوموں کے بیچ تجھے چین نصیب نہ ہو گا اور نہ تیرے پائوں کے تلوے کو آرام ملے گا بلکہ خداوند تجھ کو وہاں دل لرزاں اور آنکھوں کی دھندلاہٹ اور جی کی کڑہن دے گا۔ ‘‘(استثناء باب ۲۸آیت ۶۳تا۶۶)
یہاں ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ ایک طرف تو سفیر ہکا بی اس انٹریو میں یہ کہتے رہے کہ وہ بائبل کے لفظ لفظ پر یقین رکھتے ہیں اور اس بنیاد پر یہ نظریہ پیش کرتے رہے کہ اگر اسرائیل دوسرے ممالک کے ساتھ مصر کے بڑے حصہ پر بھی قبضہ کرلے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ لیکن وہ بھول گئے کہ بائبل کے مطابق تو بنی اسرائیل کو اور یہود کو یہ ہدایت تھی کہ وہ کبھی مصر کی زمین کو نہ دیکھیں۔ جیسا کہ استثناء کے اسی باب میں لکھا ہے : ’’اور خدا وند تجھ کو کشتیوں میں چڑھا کر اس راستے مصر میں لوٹا لے جائیگا جسکی بابت میں نے تجھ سے کہا کہ تو اسے پھر کبھی نہ دیکھنا اور وہاں تم اپنے دشمنوں کے غلام اور لونڈی ہونے کے لیے اپنے کو بیچو گے پر کوئی خریدار نہیں ہوگا۔‘‘ (استثناء باب ۲۸ آیت ۶۸)
ان کے علاوہ بائبل میں کئی اور مقامات پر یہ واضح ہے کہ بنی اسرائیل سے یہ وعدہ ان کے اعمال سے مشروط ہے نہ یہ کہ ہر صورت میں ارض مقدس ان کی دائمی میراث رہے گی۔ اور اس بات سے مشروط ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے تمام احکامات پر عمل پیرا رہیں۔ جیسا کہ بائبل میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو مخاطب کر کے کہا: ’’لیکن تم ہو یا تمہاری اولاد۔ اگر تم میری پیروی سے برگشتہ ہو جائو اور میرے احکام اور آئین کو جو میں نے تمہارے آگے رکھے ہیں نہ مانو بلکہ جا کر اور معبودوں کی عبادت کرنے اور ان کو سجدہ کرنے لگو۔ تو میں اسرائیل کو اُس مُلک سے جو میں نے ان کو دیا ہے کاٹ ڈالونگا اور اُس گھر کو جسے میں نے اپنے نام کے لیے مقدس کیا ہے اپنی نظر سے دُور کر دونگا اور اسرائیل سب قوموں میں ضرب المثل اور انگشت نما ہوگا۔ ‘‘ (۱۔ سلاطین باب ۹ آیت ۶و ۷)
اسی طرح بائبل کی کتاب عاموس میں یہ پیشگوئی درج ہے: ’’ جو پیالوں میں سے مَے پیتے اور اپنے بدن پر بہترین عطر ملتے ہو لیکن یوسفؔ کی شکستہ حالی سے غمگین نہیں ہوتے۔ اس لیے وہ پہلے اسیروں کے ساتھ اسیر ہو کر جائیں گے اور اُن کی عیش و نشاط کا خاتمہ ہو جائے گا۔
خُداوند خُدا نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے خُداوند رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ مَیں یعقوبؔ کی حشمت سے نفرت رکھتا ہوں اور اُس کے قصروں سے مجھے عداوت ہے۔ اس لیے مَیں شہر کو اُس کی ساری معموری سمیت حوالہ کر دوں گا۔ بلکہ یوں ہو گا کہ اگر کسی گھر میں دس آدمی باقی ہوں گے تو وہ بھی مرجائیں گے۔
اور جب کسی کا رشتہ دار جو اُس کو جلاتا ہے اُسے اُٹھائے گا تاکہ اُس کی ہڈّیوں کو گھر سے نکالے اور اُس سے جو گھر کے اندر ہے پُوچھے گا کیا کوئی اَور تیرے ساتھ ہے؟ تو وہ جواب دے گا کوئی نہیں۔ تب وہ کہے گا چُپ رہ۔ ایسا نہ ہو کہ ہم خُداوند کے نام کا ذکر کریں۔ کیونکہ دیکھ خُداوند نے حکم دے دیا ہے اور بڑے بڑے گھر رخنوں سے اور چھوٹے شگافوں سے برباد ہوں گے۔ کیا چٹانوں پر گھوڑے دَوڑیں گے یا کوئی بیلوں سے وہاں ہل چلائے گا؟ تو بھی تم نے عدالت کو اندراین اور ثمرۂ صداقت کو ناگدونا بنا رکھا ہے۔ تم بے حقیقت چیزوں پر فخر کرتے اور کہتے ہو کیا ہم نے اپنے لیے اپنی طاقت سے سینگ نہیں نکالے؟لیکن خُداوند رب الافواج فرماتا ہے اے بنی اسرائیل دیکھو مَیں تم پر ایک قوم کو چڑھا لاؤں گا اور وہ تم کو حمات کے مدخل سے وادی عرؔبہ تک پریشان کرے گی۔ ‘‘ (عاموس باب ۶آیت۶ تا ۱۴)
قرآن مجید میں بنی اسرائیل سے وعدہ
اس بارے میں بائبل کے کچھ حوالے درج کر دیے گئے ہیں۔ پڑھنے والے ان سے نتائج خود اخذ کر سکتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک، تمام مذاہب سے وابستہ لوگ اور تمام اقوام امن اور سلامتی سے رہیں۔ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے حقوق کا احترام اور ایک دوسرے کے لیے نیک جذبات تو قائم رہنے چاہئیں۔ جو بھی صالح عمل کرے گا، خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس کی نیک جزا پائے گا۔ اور یہ وعدہ دنیا کی تمام اقوام سے ہے۔ بنی اسرائیل کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَاَوۡفُوۡا بِعَہۡدِیۡۤ اُوۡفِ بِعَہۡدِکُمۡ ۚ وَاِیَّایَ فَارۡہَبُوۡنِ۔( البقرۃ:۴۱) اے بنی اسرائیل! اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی اور میرے عہد پر کو پورا کرو اور میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا۔
یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ۔ (البقرۃ:۴۸) اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری اس نعمت کو جو میں نے تم پر کی اور یہ بھی کہ میں نے تمہیں سب جہانوں پر فضیلت دی۔
اللہ تعالیٰ کے وعدے تو دنیا کی تمام اقوام سے ہیں۔ جیسا کہ بائبل میں بھی ذکر ہے اور قرآن مجید بھی اعلان کرتا ہے جو بھی ان کی شرائط کو پورا کرے گا وہ انعامات کا حقدار ہوگا۔ اور ایک شرط یہ بھی ہے کہ انسان باوجود اختلاف نسل اور مذہب کے ایک دوسرے پر ظلم نہ کریں بلکہ ایک دوسرے کی مدد کرنے والے اور ایک دوسرے کا احترام کرنے والے بنیں۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: آیت اللہ علی خامنہ ای شہید




