توحیدِ الٰہی کے تناظر میں سیرت نبویﷺ کا ایمان افروز تذکرہ نیز امتِ مسلمہ کوحقیقی توحید سمجھنے اور اس پر عمل کرنےکے حوالے سے دعا کی تحریک۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۱۳؍مارچ ۲۰۲۶ء
٭… آپؐ نے اپنے صحابہؓ میں ،اپنے ماننے والوں میں بھی توحید کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہنے کی ایسی روح پھونکی جس کی کوئی مثال نہیں ملتی
٭… ہزاروں ہزار درود ہوں آپ ﷺ کی ذات ِبابرکات پر کہ توحید کے قیام کے لیے جو تڑپ آپؐ کے سینے میں موجزن تھی وہ کبھی بھی ایک لمحہ کے لیے کم نہ ہوئی اور ان ساری تکالیف کو گویا قلبی بشاشت کے ساتھ بڑی خوشی کے ساتھ قبول کیا اور پھر بھی بنی نوع انسان سے شفقت اور محبت میں ذرا برابر بھی کمی نہیں ہوئی
٭… ہمیں چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سچا عشق کریں ۔اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کو توحید کے قیام کے لیے بھیجا ہے اور ہم نے آپ کی بیعت کی ہے۔ اس لیے ہمیں بھرپور کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اس کا حق ادا کرنے والے ہوں۔رمضان کے دنوں میں خاص طور پر ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ توحید کے قیام کے لیے ہم سب سے آگے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے ۔ امت مسلمہ کے لیے بھی دعا کریں یہ بھی حقیقی توحید کوسمجھنے والے ہوں اور اس پر عمل کرنے والے ہوں
٭… مکرم ذکر اللہ تایوایوب صاحب مربی سلسلہ نائیجیریا کی وفات پر ان کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۳؍مارچ ۲۰۲۶ء بمطابق ۱۳؍امان ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۱۳؍مارچ ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے دو جمعہ پہلے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سیرت کے پہلو توحید کے لیے تڑپ کا ذکر کیا تھا ۔یہ وہ مقصد تھا جس کے قیام کے لیے آپؐ آئے اور اس کے لیے نہ صرف آپؐ کے اپنے قول و فعل سے تڑپ کا اظہار ہوتا ہے بلکہ
آپؐ نے اپنے صحابہؓ میں ،اپنے ماننے والوں میں بھی توحید کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہنے کی ایسی روح پھونکی جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
آج بھی میں آپؐ کی سیرت کے اسی پہلو کا ذکر کروں گا اور اس حوالے سے بعض صحابہ ؓکی قربانیوں کا بھی ذکر آ جائے گا۔
ایک دفعہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ کیا تم ہمارے معبودوں کے بارے میں یہ بات نہیں کرتے ۔ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ اس پر وہ آپؐ کے گرد جمع ہو گئے ۔اس وقت کسی نے حضرت ابو بکرؓ سے کہا کہ اپنے دوست کی خبر لو۔ حضرت ابو بکرؓ نکلے اور مسجد حرام میں پہنچے ۔آپ نے رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں پایا کہ لوگ آپؐ کے ارد گرد اکٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا تمہارا بُرا ہو۔ کیا تم اس لیے اس شخص کو قتل کرو گے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا ربّ اللہ ہے ؟اس پر انہوں نے آنحضرت ﷺ کو تو چھوڑ دیا اور حضرت ابو بکر ؓکی طرف لپکے اور ان کو مارنے لگے۔ حضرت ابو بکر ؓکی بیٹی کہتی ہیں کہ آپ ہمارے پاس اس حالت میں آئے کہ آپ اپنے بالوں کو ہاتھ لگاتے تھے تو وہ آپ کے ہاتھ میں آ جاتے تھے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ آپ ﷺ بازار سے گزر رہے تھے تو مکہ کےاوباشوں کی ایک جماعت آپؐ کے گرد ہو گئی اور رستہ بھر آپؐ کی گردن پر یہ کہہ کر تھپڑ مارتی چلی گئی کہ لوگو یہ وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ میں نبی ہوں۔ آپؐ کے گھر میں ارد گرد کے گھروں سے متواتر پتھر پھینکے جاتے تھے، آپؐ کے گھر میں گندی چیزیں پھینکی جاتی تھیں۔ کھانا پکانے والی جگہوں میں بھی گندی چیزیں پھینکی جاتی تھیں ۔ لیکن
ہزاروں ہزار درود ہوں آپ ﷺ کی ذاتِ بابرکات پر کہ توحید کے قیام کے لیے جو تڑپ آپؐ کے سینے میں موجزن تھی وہ کبھی بھی ایک لمحہ کے لیے کم نہ ہوئی اور ان ساری تکالیف کو گویا قلبی بشاشت کے ساتھ بڑی خوشی کے ساتھ قبول کیا اور پھر بھی بنی نوع انسان سے شفقت اور محبت میں ذرا برابر بھی کمی نہیں ہوئی ۔
ایک مرتبہ آپ ﷺ مسجد حرام میں کھڑے ہوئے اور مشرکین ِمکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تم کہو: لا الہ الا اللہ۔یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔تم کامیاب ہو جاؤ گے ۔ قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ٹوٹ پڑے۔ حارث بن ابی ھالہ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے ۔ حارث نے آپ کو بچانے کے لیے ان لوگوں سے لڑنا شروع کر دیا اور انہیں رسول اللہ ﷺ سے علیحدہ کر دیا ۔پھر وہ سارے ان پر ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ انہیں شہید کر دیا ۔
کفارِمکہ نے تین سال تک آپؐ کو اور آپؐ کے خاندان والوں کو شعب ابی طالب میں اس طرح قید رکھا کہ ہر قسم کا سوشل بائیکاٹ کر دیا گیا ۔جب یہ ختم ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے توحید کا پرچار پہلے سے بڑھ کر عام کر دیا۔
آپؐ کے سفر طائف کا بھی مشہور واقعہ ہے
وہاں آپؐ پر جو ظلم ہوا تاریخ میں مختلف حوالے سے بیان ہوا ہے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا ہے جب شعب ابی طالب کا محاصرہ اٹھ گیا تو آنحضرت ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ طائف میں جا کر وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں۔ آپ ﷺ نے طائف میں دس دن قیام کیا اور شہر کے بہت سے رؤساء سے یکے بعد دیگرے ملاقات کی مگر اس شہر کی قسمت میں بھی مکے کی طرح اس وقت اسلام لانا مقدر نہ تھا ۔آخر آپؐ نے طائف کے رئیس اعظم کے پاس جا کر اسلام کی دعوت دی مگر اس نے بھی صاف انکار کیا اور کہنے لگا بہتر ہو گا آپ یہاں سے چلے جائیں ۔اس کے بعد اس بدبخت نے شہر کے آوارہ آدمی آپؐ کے پیچھے لگا دیے۔یہ لوگ شور کرتے ہوئے آپؐ کے پیچھے ہو لیےاور آپؐ پر پتھر برسانے شروع کیے جس سے آپؐ کا سارا بدن خون سے تر بتر ہو گیا۔طائف سے تین میل کے فاصلے پر مکے کے رئیس عتبہ بن ربیعہ کا ایک باغ تھا ۔آنحضرت ﷺ نے اس میں آکر پناہ لی اور ظالم لوگ تھک کر واپس لوٹ گئے۔ عتبہ نے اپنے ایک عیسائی غلام عداس کے ہاتھ آپؐ کو ایک کشتی میں انگور بھیجے۔ آپؐ نے عداس سےاس کا نام پوچھا اور کہا تم کہاں سے ہو؟ اس نے کہا میں نینوا سے ہوں۔ آپؐ نے فرمایا میں تمہاری بستی میں آنے والے نبی یونس بن متیٰ کا بھائی ہوں۔تھوڑی دیر آنحضرت ﷺ نے اس باغ میں آرام فرمایا اور پھر وہاں سے روانہ ہوئے ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم توحید کے قیام کے لیے مکے میں انفرادی اور اجتماعی تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ عرب کے بازاروں میں چلے جایا کرتے اور وہاں خدائے واحد لا شریک کی طرف آنے کا پیغام دیتے۔
مکہ سے باہر مختلف جگہوں پر لوگ اکٹھے ہوا کرتے تھے۔ انہیں اسواق العرب کہا جاتا تھا۔ان میں عکاز، مجنّہ اور ذوالمجاز عرب کے بازار تھے۔ حضرت جابر ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایام حج میں عکاز اور مجنّہ کے میلوں میں جاتے اور لوگوں کو گھروں اور قیام گاہوں میں جاکر دعوت دیتے۔ آپؐ فرماتے کون ہے جو مجھے پناہ دے گا ؟کون ہے جو میری مدد کرے گا تاکہ میں اپنے ربّ کا پیغام پہنچا دوں ۔
صحابہ کرامؓ پر بھی توحید کے قبول کرنے پر بہت ظلم ہوئے ۔
قریش مکہ ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ اسلام سے روکنے کی کوشش کرتے رہے اور دوسری طرف اسلام قبول کرنے والوں پر ظلم و بربریت کا وہ بازار گرم کیا اور ایسا وحشیانہ سلوک کیا کہ قلم میں تفصیل لکھنے کی طاقت نہیں ۔ حضرت بلال ؓایمان لائے توان کے مالک نے ان کو پکڑ کر زمین پر لٹا دیا اور ان پر سنگریزے اور گائے کی کھال ڈال دی اور کہنے لگے کہ تمہارا ربّ لات اور عزّیٰ ہے مگر آپؓ احد،احد ہی کہتے تھے۔پھر حضرت ابو بکر ؓنے آپ کو سات اوقیہ یعنی ۲۸۰؍درہم میں خرید کر آزاد کر دیا۔
قریش مکہ صرف مسلمانوں پر ہی ظلم نہ کرتے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک بھی کسی طرح محفوظ نہ تھی ۔ سب سے زیادہ اذیت اور دکھ اور تکلیف کا سامنا آنحضرت ﷺ کو کرنا پڑا۔آپؐ کا نام محمد تھا ۔اس نام کو بگاڑ کر مذمم کہا جاتا یعنی نعوذ باللہ سب سے زیادہ مذمت کیاجانے والا۔آپؐ کو کذاب اور جھوٹا کہا جاتا،فریبی ،لالچی اور دھوکے باز کہا جاتا ۔ پتھر مارے جاتے اور کبھی گندگی آپ پر ڈالی جاتی ۔
حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں:میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ؐہے (ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہوسکتا اور اُس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں ۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا ۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہوچکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا ۔ اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی ۔ اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اُس کی جان گداز ہوئی ۔ اس لیے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اس کی زندگی میں اُس کو دیں۔وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اُس کے ، کسی فضیلت کا دعوی ٰکرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریّت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اُس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اُس کو عطا کیا گیا ہے۔ جو اُس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم از لی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔
ہم کا فرنعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اُس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔
اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اُسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔ وہ لوگ جو اس غلط خیال پر جمے ہوئے ہیں کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لاوے یا مرتد ہو جائے اور توحید پر قائم ہوا ور خدا کو واحد لا شریک جانتا ہو وہ بھی نجات پا جائے گا اور ایمان نہ لانے یا مرتد ہونے سے اس کا کچھ بھی حرج نہ ہوگا …نجات تو دو امر پر موقوف ہے۔ (۱) ایک یہ کہ یقین کامل کے ساتھ خدا تعالیٰ کی ہستی اور وحدانیت پر ایمان لاوے۔ (۲) دوسرے یہ کہ ایسی کامل محبت حضرت احدیت جلّ شانہ کی اُس کے دل میں جاگزین ہو کہ جس کے استیلا اور غلبہ کا یہ نتیجہ ہو کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت عین اُس کی راحت جان ہو جس کے بغیر وہ جی ہی نہ سکے اور اس کی محبت تمام اغیار کی محبتوں کو پامال اور معدوم کر دے یہی توحید حقیقی ہے کہ بجز متابعت ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔ کیوں حاصل نہیں ہو سکتی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کی ذات غیب الغیب اور وراء الوراء اور نہایت مخفی واقع ہوئی ہے جس کو عقول انسانیہ محض اپنی طاقت سے دریافت نہیں کر سکتیں اور کوئی برہان عقلی اس کے وجود پر قطعی دلیل نہیں ہو سکتی کیونکہ عقل کی دوڑ اور سعی صرف اس حد تک ہے کہ اس عالم کی صنعتوں پر نظر کر کے صانع کی ضرورت محسوس کرے مگر ضرورت کا محسوس کرنا اور شے ہے اور اس درجہ عین الیقین تک پہنچنا کہ جس خدا کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے وہ در حقیقت موجود بھی ہے یہ اور بات ہے…پس یقینا ًسمجھو کہ توحید یقینی محض نبی کے ذریعہ سے ہی مل سکتی ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے دہریوں اور بد مذہبوں کو ہزار ہا آسمانی نشان دکھلا کر خدا تعالیٰ کے وجود کا قائل کر دیا اور اب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور کامل پیروی کرنے والے اُن نشانوں کو دہریوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
پس ہمیں چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سچا عشق کریں ۔اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کو توحید کے قیام کے لیے بھیجا ہے اور ہم نے آپ کی بیعت کی ہے۔ اس لیے ہمیں بھرپور کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اس کا حق ادا کرنے والے ہوں۔رمضان کے دنوں میں خاص طور پر ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ توحید کے قیام کے لیے ہم سب سے آگے ہوں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے ۔ امت مسلمہ کے لیے بھی دعا کریں یہ بھی حقیقی توحید کوسمجھنے والے ہوں اور اس پر عمل کرنے والے ہوں۔
آخر پر حضور انور نے
مکرم ذکر اللہ تایوایوب صاحب مربی سلسلہ نائیجیریاکا ذکر خیر فرمایا
نیز اس کی نماز جنازہ غائب پڑھانے کا اعلان فرمایا۔ آپ گذشتہ دنوں ۸۰؍سال کی عمر میں وفات پا گئے تھے۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مرحوم موصی تھے۔۱۹۶۵ءمیں ایک رؤیا کے ذریعہ بیعت کی۔ ۱۹۶۶ءمیں مشنری ٹریننگ کالج گھانا میں داخلہ لیا۔ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ۱۹۷۰ء میں جامعہ احمدیہ ربوہ میں داخل ہوئے۔۱۹۷۹ء میں شاہد کی ڈگری حاصل کی۔پھر واپس نائیجیریا آئے اور خدمت کا آغاز کیا۔ مختلف مقامات پر خدمت کی توفیق ملی۔ نائب امیر بھی رہے ،جامعہ احمدیہ نائیجیریا میں بطو ر پرنسپل بھی رہے۔بہترین کھلاڑی بھی تھے۔اچھے مصنف،ماہر لسانیات اور شاعر بھی تھے۔نہایت مخلص ، وفادار اور عاجز انسان تھے۔
٭…٭…٭




