رمضان المبارک کی عبادات
آنحضرت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنی عبادات اور دعاؤں کو پورا سال ایک خاص اہتمام کے ساتھ جاری رکھتے تھے لیکن جب سید الشہور یعنی ماہ رمضان المبارک کی آمد ہوتی تو آپ اپنی کمر ہمت کس لیتے اور آپ کا ذوق عبادت عروج پر ہوتا اور خوف و خشیت کا غلبہ ہوتا
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے: شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَالۡفُرۡقَانِ ۚ فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلۡیَصُمۡہُ ؕ وَمَنۡ کَانَ مَرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ یُرِیۡدُ اللّٰہُ بِکُمُ الۡیُسۡرَ وَلَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ ۫ وَلِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰٮکُمۡ وَلَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ۔ (البقرة:۱۸۶) ترجمہ:رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لیے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اتارا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔ پس جو بھی تم میں سے اس مہینے کو دیکھے تو اس کے روزے رکھے اور جو مریض ہو یا سفر پر ہو تو گنتی پوری کرنا دوسرے ایام میں ہوگا۔ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا اور چاہتا ہے کہ تم (سہولت سے) گنتی کو پورا کرو اور اس ہدایت کی بنا پر اللہ کی بڑائی بیان کرو جو اس نے تمہیں عطا کی اور تاکہ تم شکر کرو۔
اسلام میں سب عبادتوں کا مقصد توحید باری تعالیٰ کا اقرار اور اپنے خالق حقیقی سے زندہ اور مضبوط تعلق پیدا کرنا ہے اس کے نتیجے میں انسان خدا کو پاتا اور اپنی روحانی تربیت کی تکمیل کرتا ہے۔ نماز و روزہ ہو یا زکوٰۃ و حج سب عبادتوں کے طریق گو کہ جدا جدا ہیں مگر مقصد ایک ہے یعنی تعلق باللہ۔
اگر نمازتَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡکَرِ کا درس دیتی ہے تو روزہ روح کی غذا اور جسم کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ اگر زکوٰۃ دنیا سے بےزاری کا اظہار اور حقوق العباد کا درس دیتی ہے تو حج اللہ کی محبت اور اس کے قرب کا ذریعہ ہے۔پس اسلام کی عبادات حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا بھی ذریعہ ہیں اس لیے اسلام کی تعلیمات کو مکمل ضابطہ حیات کہا گیا ہے۔
بانی اسلام محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی کا ہر ایک پہلو مکمل نمایاں اور ممتاز تھا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کی زندگی کے متعلق فرمایا کہ لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب :۲۲)یعنی تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ اگر ہم سرور کائنات خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ہر ایک پہلو پر نگاہ ڈالیں تو ایک چیز آپؐ کے ہر پہلو میں نظر آئے گی اور وہ ہے آپؐ کا اپنے خدا سے مضبوط تعلق۔ یہ تعلق ہمیں عبادات کی صورت میں بھی نظر آتا ہے اور دعاؤں کی صورت میں بھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنی عبادات اور دعاؤں کو پورا سال ایک خاص اہتمام کے ساتھ جاری رکھتے تھے لیکن جب سید الشہور یعنی ماہ رمضان المبارک کی آمد ہوتی تو آپ اپنی کمر ہمت کس لیتے اور آپ کا ذوق عبادت عروج پر ہوتا اور خوف و خشیت کا غلبہ ہوتا ۔چنانچہ اسی عروج اور غلبے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہِ وَآلِہِ وَسَلَّمْ إذَا دَخَلَ رَمَضَانُ تَغَیَّرَ لَونُہُ وَکَثُرَتْ صَلَاتُہُ وَابْتَہَلَ فِی الدُّعَاءِ وَأشْفَقَ مِنْہ (بیہقی شعب الایمان، رقم:۳۶۲۵) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت یہ تھی کہ جب رمضان داخل ہوتا توآپ کا رنگ بدل جاتا، نمازوں میں اضافہ ہوجاتا،دعاوٴں میں خوب الحاح وزاری کرتے، خوف وخشیت کا غلبہ ہوتا۔
جب رمضان شروع ہونے والا ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ ؓکو اکٹھا کرتے اور رمضان کی فضیلت بیان فرماتے۔ چنانچہ حضرت سلمان فارسیؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے شعبان کی آخری تاریخ کو ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! تم پرایک بڑی عظمت اور شان والا مہینہ سایہ کرنے والا ہے۔ ہاں ! ایک برکتوں والا مہینہ جس میں ایک ایسی رات ہے جو ثواب اور فضلیت کے لحاظ سے ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے فرض کیے ہیں اور اس کی رات کی عبادت کو نفل ٹھہرایا ہے۔ اس مہینہ میں جو شخص کسی نفلی عبادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو اُسے اُس نفل کا ثواب عام دنوں میں فرض ادا کرنے کے برابر ملے گا۔ اور جس نے اس مہینے میں ایک فرض ادا کیا اسے عام دنوں کے ستر فرض کے برابر ثواب ملے گا۔ اور یہ مہینہ صبر کا مہینہ ہے۔ اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ اور یہ ہمدردی و غم خواری کا مہینہ ہے اور ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھایا جاتا ہے۔ جو شخص اس مہینہ میں روزہ دار کی افطاری کرواتا ہے تو یہ عمل اُس کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن جاتا ہے اور اُسے آگ سے آزاد کیا جاتا ہے۔ اور اُسے روزہ دار کے اجر کے برابر ثواب ملتا ہے۔ بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر میں کچھ کمی ہو۔ صحابہ کرامؓ بیان کرتے ہیں ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ ہم میں سے ہرایک کی اتنی توفیق نہیں کہ روزہ دار کی افطاری کا انتظام کرسکے تو رسول اللہؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ افطاری کا یہ ثواب اُس شخص کو بھی عطا کرتا ہے جو روزہ دار کو ایک گھونٹ دودھ میں پانی ملا کر دودھ کی کچی لسی یا کھجور سے یا پانی کے ایک گھونٹ سے ہی روزہ کھلوا دیتا ہے۔ اور جو روزہ دار کو سیر کرکے، پیٹ بھر کے کھلائے گا اُسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ هُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةً وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ وَاٰخِرُهُ عِتْقٌ مِّنَ النَّار اور یہ ایسا مہینہ ہے جس کی ابتدا نزول رحمت ہے۔ اور جس کا اوسط مغفرت کا وقت ہے۔ اور جس کا آخر کامل اجر پانے یعنی آگ سے آزادی کا زمانہ ہے۔ اور جو شخص اس مہینے میں اپنے مزدور یا خادم سے اُس کے کام کا بوجھ ہلکا کرتا ہے اور کم خدمت لیتا ہے اللہ تعالیٰ اُس شخص کو بھی بخش دے گا اور اُسے آگ سے آزاد کر دے گا۔ (مشكوةالمصابيح كتاب الصوم حدیث: ۱۹۶۵)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ کلمات سکھاتے: اللّٰهُمَّ سَلِّمْنِي لِرَمَضَانَ، وَسَلِّمْ رَمَضَانَ لِي، وَتَسَلَّمْهُ مِنِّي مُتَقَبَّلًا ۔اے اللہ! آپ مجھے اس مہینے میں(گناہوں سے)بچا لیجیے، اور مجھے رمضان تک پہنچا دیجیے، اور اس مہینے کی (عبادات)کو میری طرف سے قبول فرمائیے۔ ( كنز العمال كتاب الصوم: من قسم الأفعال، فصل في فضله وفضل رمضان رقم الحديث:۲۴۲۷۷)
امام طبرانی نے کتاب الدعاء میں لکھا ہے کہ مسلمان رمضان کا مہینہ داخل ہونے پر یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰهُمَّ أَظَلَّ شَهْرُ رَمَضَانَ وَحَضَرَ، فَسَلِّمْهُ لِيْ وَسَلِّمْنِيْ فِيْهِ، وَتَسَلَّمْهُ مِنِّيْ اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِيْ صِيَامَهٗ وَقِيَامَهٗ صَبْرًا وَّاحْتِسَابًا وَّارْزُقْنِيْ فِيْهِ الْجِدَّ وَالِْاجْتِهَادَ وَالْقُوَّةَ وَالنَّشَاطَ وَأَعِذْنِيْ فِيْهِ مِنَ السَّاٰمَةِ وَالْفَتْرَةِ وَالْكَسَلِ وَالنُّعَاسِ وَوَفِّقْنِيْ فِيْهِ لِلَيْلَةِ الْقَدْرِ وَاجْعَلْهَا خَيْرً الِّي مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ۔ ترجمہ: اے اللہ! رمضان کا مہینہ قریب آ گیا۔پس آپ اس مہینے کو میری سلامتی کا ذریعہ بنائیے اور مجھے اس مہینے میں گناہوں سے محفوظ فرمائیے اور میری طرف سے اسے سلامتی والا بنائیے۔ اے اللہ! مجھے صبر اور اجر کی امید کے ساتھ اس کے روزے اور راتوں کی عبادت کی توفیق عطا فرمائیے، اور اس مہینے میں مجھے کوشش کرنے کی، محنت کرنے کی، طاقت کی اور چستی کی توفیق عطا فرمائیے، اور مجھے بچا لیجیے اس مہینے میں اکتاہٹ، تھکنے، سستی اور اونگنے سے،اور اس مہینے میں مجھے شب قدر نصیب فرمائیے جس کو آپ نے ہزار مہینے سے بہتر بنایا ہے۔(کتاب الدعاء للطبرانی باب القول عند دخول رمضان)
حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺنے رمضان المبارک کی ہر رات کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ چنانچہ حدیث میں آتاہے کہ رمضان کی ہر رات اللہ تعالیٰ ایک منادی کرنے والے فرشتہ کو بھیج دیتاہے جو یہ اعلان کرتاہے کہ اے خیر کے طالب !آگے بڑھ اور آگے بڑھ۔ کیا کوئی ہے جو دعا کرے تا کہ اس کی دعا قبول کی جائے کیا کوئی ہے جو استغفار کرے کہ اسے بخش دیاجائے کیاکوئی ہے جو توبہ کرے تاکہ اس کی توبہ قبول کی جائے۔ (کنز العمال جلد ۸ کتاب الصوم قسم الاول )
حضرت عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ رمضان میں اللہ کا ذکر کرنے والا بخشا جاتاہے اور اس ماہ اللہ سے مانگنے والا کبھی نامراد نہیں رہتا۔پھر ایک حدیث ہے کہ روزہ دار کے لیے اس کی افطاری کے وقت کی دعا ایسی ہے جو ر دّ نہیں کی جاتی۔(ابن ماجہ کتاب الصیام باب فی الصائم لاتردد …)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرتﷺ نے روزوں اور قیام اللیل کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا :یقیناً جنت میں بالا خانے ہوں گے جن کے اندرونے باہر سے اور خارجی حصے اندرسے نظرآتے ہوں گے۔ اس پر ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر سوال کیاکہ حضورؐ یہ کن کے لیے ہوں گے؟ فرمایا :یہ ان کے لیے ہوں گے جو خوش گفتار ہوں گے، ضرورتمندوں کو کھانا کھلانے والے ہوں گے، روزے کے پابند اور راتوں کو جب لوگ سوتے ہوں تو وہ نمازیں ادا کریں ۔ (سنن ترمذی کتاب صفۃ الجنۃ )
پھر حضرت ابومسعود غفاریؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے رمضان کے شروع ہونے کے بعد ایک روز آنحضرتﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر لوگوں کو رمضان کی فضیلت کاعلم ہوتا تو میری امت اس بات کی خواہش کرتی کہ سارا سال ہی رمضان ہو۔ اس پر بنو خزاعہ کے ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے نبیؐ! ہمیں رمضان کے فضائل سے آگاہ کریں۔ چنانچہ آپؐ نے فرمایا: یقیناً جنت کو رمضان کے لیے سال کے آغاز سے آخر تک مزیّن کیاجاتاہے اور جب رمضان کاپہلا دن ہوتاہے تو عرش الٰہی کے نیچے ہوائیں چلتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو روزے دار کے منہ کی بُو جو ہے، نہ کھانے کی وجہ سے منہ میں پیدا ہوجاتی ہے، صرف اس لیے پسند ہے کہ میرے بندے نے میری خاطر اپنے اوپر یہ پابندی لگائی ہوئی ہے اور میری عبادت میں مشغول ہے تو خداتعالیٰ ایسے روزہ داروں کی بہت قدر کرتاہے۔ اور ایسے لوگوں پر اپنی رحمتوں اور فضلوں کی ہوائیں چلاتاہے۔ اس دنیا میں بھی انہیں اپنی پناہ میں رکھتاہے اور اگلے جہان میں بھی اپنی جنتوں کا وارث بناتاہے۔(معجم الکبیر جلد ۲۲ صفحہ ۳۸۸۔۳۸۹ حدیث ۹۶۷ ابو مسعود الغفاری مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ روزے تو میرے لیے ہیں مَیں ہی ان کی جزا بن جاتاہوں یعنی روزوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا وصال ہو جاتاہے اگر تمام شرائط کے ساتھ وہ رکھے ہوں۔ یہ اس لیے ہے کہ میرا بندہ میرے لیے روزے میں اپنی جائزخواہشات اور اپنے کھانے پینے کو بھی ترک کردیتاہے۔ فرمایا روزہ گناہوں کے خلاف ایک ڈھال ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں مقدر ہیں۔ ایک وہ خوشی جو اسے اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ خدا کے فضل سے اپنے روزوں کو مکمل کرلیتاہے۔ یہ خوشی اسے دنیا میں ملتی ہے اور ایک وہ خوشی جو اسے آخرت میں ملے گی جب وہ اپنے ربّ سے اس حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے راضی ہوگا۔ نیز آنحضرتﷺ نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بُو خدا کے نزدیک مُشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پیاری ہے۔ (بخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالیٰ یریدون ان یبدلوا کلام اللہ )
حضرت مسیح موعود ؑروزے کی فلاسفی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : رمضان شریف کے مہینہ کی بڑی بھاری تعلیم یہ ہے کہ کیسی ہی شدید ضرورتیں کیوں نہ ہوں مگرخداکا ماننے والا خدا ہی کی رضامندی کے لیے ان سب پر پانی پھیردیتاہے اور ان کی پرواہ نہیں کرتا۔ قرآن شریف روزہ کی اصل حقیقت اور فلاسفی کی طرف خود اشارہ فرماتا اور کہتاہے: یٰٓااَیُّھَالَّذِیْنَ اٰمنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن۔(البقرۃ:۱۸۴)روزہ تمہارے لیے اس واسطے ہے کہ تقویٰ سیکھنے کی تم کوعادت پڑ جاوے۔ ایک روزہ دار خدا کے لیے ان تما م چیزوں کو ایک وقت ترک کرتاہے جن کوشریعت نے حلال قرار دیا ہے اور ان کے کھانے پینے کی اجازت دی ہے صرف اس لیے کہ اس وقت میرے مولیٰ کی اجازت نہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پھر وہی شخص ان چیزوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرے جن کی شریعت نے مطلق اجازت نہیں دی۔ اور وہ حرام کھاوے، پیوے اوربدکاری اورشہوت کو پورا کرے‘‘۔(الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۲)
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ ۱۸۹۵ء میں مجھے تمام ماہ رمضان قادیان میں گزارنے کا اتفاق ہوا اور میں نے تمام مہینہ حضرت صاحب کے پیچھے نماز تہجد یعنی تراویح ادا کی۔ آپ کی یہ عادت تھی کہ وِتر اوّل شب میں پڑھ لیتے تھے اور نماز تہجد آٹھ رکعت دو دو رکعت کر کے آخر شب میں ادا فر ماتے تھے۔ جس میں آپ ہمیشہ پہلی رکعت میں آیت الکرسی تلاوت فرماتے تھے یعنی اللّٰهُ لَا إِلهَ إِلَّا هُوَ…وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيم تک اور دوسری رکعت میں سورۃ اخلاص کی قراءت فرماتے تھے اور رکوع و سجود میں يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ اسْتَغِيْثُ اکثر پڑھتے تھے۔ اور ایسی آواز سے پڑھتے تھے کہ آپ کی آواز میں سن سکتا تھا نیز آپ ہمیشہ سحری نماز تہجد کے بعد کھاتے تھے اور اس میں اتنی تاخیر فرماتے تھے کہ بعض دفعہ کھاتے کھاتے اذان ہو جاتی تھی اور آپ بعض اوقات اذان کے ختم ہونے تک کھانا کھاتے رہتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ دراصل مسئلہ تو یہ ہے کہ جب تک صبح صادق افق مشرق سے نمودار نہ ہو جائے سحری کھانا جائز ہے اذان کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ صبح کی اذان کا وقت بھی صبح صادق کے ظاہر ہونے پر مقرر ہے۔ اس لیے لوگ عموماً سحری کی حد اذان ہونے کو سمجھ لیتے ہیں۔ قادیان میں چونکہ صبح کی اذان صبح صادق کے پھوٹتے ہی ہو جاتی ہے بلکہ ممکن ہے کہ بعض اوقات غلطی اور بے احتیاطی سے اس سے بھی قبل ہو جاتی ہو۔ اس لیے ایسے موقعوں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اذان کا چنداں خیال نہ فرماتے تھے اور صبح صادق کے تبین تک سحری کھاتے رہتے تھے اور دراصل شریعت کا منشاء بھی اس معاملہ میں یہ نہیں ہے کہ جب علمی اور حسابی طور پر صبح صادق کا آغاز ہو اس کے ساتھ ہی کھانا ترک کر دیا جاوے بلکہ منشاء یہ ہے کہ جب عام لوگوں کی نظر میں صبح کی سفیدی ظاہر ہو جاوے اس وقت کھانا چھوڑ دیا جاوے۔ چنانچہ تبین کا لفظ اس بات کو ظاہر کررہا ہے۔ حدیث میں بھی آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال کی اذان پر سحری نہ چھوڑا کرو بلکہ ابن مکتوم کی اذان تک بیشک کھاتے پیتے رہا کرو۔ کیونکہ ابن مکتوم نابینا تھے اور جب تک لوگوں میں شور نہ پڑ جاتا تھا کہ صبح ہوگئی ہے، صبح ہو گئی ہے اس وقت تک اذان نہ دیتے تھے۔(سیرت المہدی جلد ۱ صفحہ ۲۹۵۔ ۲۹۶)
روزہ رکھنے کا شوق سب کو ہوتا ہے اسی لیے یہ سوال عموماً ہوتا ہے کہ کیا بچے روزہ رکھ سکتے ہیں؟ اور کس عمر سے روزے رکھنا شروع کرنے چاہیے ؟ بچوں کے روزہ رکھنے کے متعلق حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بارہ سال سے کم عمر کے بچے سے روزہ رکھوانا تو میرے نزدیک جرم ہے اور بارہ سال سے پندرہ سال کی عمر کے بچے کو اگر کوئی روزہ رکھواتا ہے تو غلطی کرتا ہے۔ پندرہ سال کی عمر سے روزہ رکھنے کی عادت ڈالنی چاہیے اور اٹھارہ سال کی عمر میں روزے فرض سمجھنے چاہئیں۔
مجھے یاد ہے جب ہم چھوٹے تھے ہمیں بھی روزہ رکھنے کا شوق ہوتا تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں روزہ نہیں رکھنے دیتے تھے اور بجائے اس کے کہ ہمیں روزہ رکھنے کے متعلق کسی قسم کی تحریک کرنا پسند کریں ہمیشہ ہم پر روزہ کا رعب ڈالتے تھے۔( الفضل ۱۱؍اپریل ۱۹۲۵ء صفحہ ۷)
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا کہ ہم انبیاء کی جماعت کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم افطاری جلدی کریں اور سحری تاخیر سے کریں۔ عَجِّلُوا الْإِفْطَارَ وَاخِّرُوا السُّحُور(ترمذی ابواب الصوم فی تاخیر السحور)
سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ’’اسی طرح افطاری میں تنوع اور سحری میں تکلفات بھی نہیں ہونے چاہئیں اور یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ سارا دن بھوکے رہے ہیں اب پُرخوری کرلیں۔ رسول کریم ﷺکے زمانے میں صحابہ کرام ؓ افطاری کے لیے کوئی تکلفات نہ کرتے تھے۔ کوئی کھجور سے، کوئی نمک سے، بعض پانی سے اور بعض روٹی سے افطار کر لیتے تھے۔ ہمارے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم اس طریق کو پھر جاری کریں اور رسول کریم ﷺ اور صحابہؓ کے نمونہ کو زندہ کریں‘‘۔ (تفسیر کبیر از حضرت مصلح موعودؓ سورۃ البقرہ زیر آیت ۱۸۶)
آنحضرت ﷺ کی رمضان کی عبادات میں سے ایک قیام اللیل یعنی رات ( تہجد) کی نماز ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآنِ کریم میں ذکر فرمایا ہے۔ فرماتا ہے: اِنَّ رَبَّکَ یَعۡلَمُ اَنَّکَ تَقُوۡمُ اَدۡنٰی مِنۡ ثُلُثَیِ الَّیۡلِ وَنِصۡفَہٗ وَثُلُثَہٗ وَطَآئِفَۃٌ مِّنَ الَّذِیۡنَ مَعَکَ(المزمل:۲۱) یقیناً تیرا ربّ جانتا ہے کہ تُو دو تہائی رات کے قریب یا اس کا نصف یا اس کا تیسرا حصہ کھڑا رہتا ہے نیز اُن لوگوں کا ایک گروہ بھی جو تیرے ساتھ ہیں۔
حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رمضان المبارک میں رسول اللہ ﷺ کی تہجد کی نماز کی کیاکیفیت ہوتی تھی؟ فرمایا: آپؐ رمضان اور غیر رمضان میں (بشمول وتر) گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ چار رکعتیں پڑھتے تو اُن کے حسن ادائیگی اور طوالت کے متعلق نہ پوچھو۔ پھر چار رکعتیں پڑھتے اور ان کے حسن ادائیگی اور طوالت کے متعلق نہ پوچھو۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے (ایک مرتبہ حضور ﷺ کی خدمت میں) عرض کیا: یا رسول اللہؐ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ فرمایا: عائشہ! بے شک میری آنکھیں سوتی ہیں، میرا دل نہیں سوتا۔(البخاري في الصحیح، کتاب التہجد، باب قیام النبي ﷺ باللیل في رمضان وغیرہ)
حضرت ابو امامہ باہلیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: ’’تم رات کے جاگنے کو لازم کر لو، کیوں کہ یہ تم سے پہلے صالحین اور نیک لوگوں کا طریقہ ہے اور رات کا قیام اللہ تعالیٰ کی طرف تقرب کا ذریعہ ہے اور گناہوں کے لیے کفارہ ہے، اور گناہوں سے روکنے اور حسد سے دُور کرنے والی چیز ہے۔ ( ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی دعاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث نمبر: ۳۵۶۰)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی راتوں کے نوافل کو بڑی اہمیت دی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ جو شخص رمضان کی راتوں میں اُٹھ کر نماز پڑھتا ہے اُس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔(صحیح البخاری کتاب الایمان باب تطوع قیام رمضان من الایمان حدیث نمبر ۳۷)
ایک صاحب نے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں خط لکھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ سفر میں نماز کس طرح پڑھنی چاہیے اور تراویح کے متعلق کیا حکم ہے؟ فرمایا: سفر میں دوگانہ سنت ہے۔ تروایح بھی سنت ہے پڑھا کریں اور کبھی گھر میں تنہائی میں پڑھ لیں کیونکہ تراویح دراصل تہجد ہے کوئی نئی نماز نہیں۔ وتر جس طرح پڑھتے ہو بیشک پڑھو۔ ( بدر ۲۶ دسمبر ۱۹۰۷ء صفحہ۶)
قرآنِ کریم اور رمضان کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شَهۡرُ رَمَضَانَ الَّذِىۡٓ اُنۡزِلَ فِيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الۡهُدٰى وَالۡفُرۡقَانِ (البقرۃ:۱۸۶)یعنی رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لیے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اتارا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔
اسی گہرے تعلق کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ روزے اور قرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں گے۔ روزے کہیں گے کہ اے میرے ربّ! میں نے بندے کو دن کے وقت کھانے پینے اور خواہشات سے روکا۔ پس اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما اور قرآن کہے گا کہ میں نے اسے رات کو نیند سے روکے رکھا۔ پس اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ ان دونوں یعنی روزے اور قرآن کی سفارش قبول کی جائے گی۔ ( مسند احمد الرسالۃ۔ مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان کو کم از کم ایک دور قرآنِ کریم کا لازمی مکمل کرتے لیکن آخری سال میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس دفعہ جبرئیل نے قرآنِ کریم کا دَور دو مرتبہ مکمل کروایا ہے۔ (صحیح البخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام حدیث ۳۶۲۴)
اس سنت کی روشنی میں ہمارے پیارے امام سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز احبابِ جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اس سنت کی پیروی میں ایک مومن کو بھی چاہیے کہ دو مرتبہ قرآن کریم کا دور مکمل کرنے کی کوشش کرے۔ اگر دو مرتبہ تلاوت نہیں کر سکتے تو کم از کم ایک مرتبہ تو خود پڑھ کر کریں۔ پھر درسوں کا انتظام ہے، تراویح کا انتظام ہے اس میں قرآن سنیں۔ ( خطباتِ مسرور جلد ۷ صفحہ۴۱۳)
کیا دورانِ سفر روزہ رکھ سکتے ہیں؟ اس کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ایک سفر پرتھے۔ آپؐ نے لوگوں کا ہجوم دیکھااورایک آدمی پر دیکھاکہ سایہ کیا گیاہے۔آپؐ نے فرمایا:’’کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ شخص روزہ دار ہے۔ آپؐ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔(بخاری کتاب الصوم باب قول النبیﷺ لمن ظلل علیہ واشتد…)
ایک اَور روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے رمضان کے مہینے میں سفر کی حالت میں روزہ اور نماز کے بارے میں دریافت کیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایارمضان میں سفر کی حالت میں روزہ نہ رکھو۔ اس پر اس شخص نے کہا یا رسول اللہ! میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا اَنْتَ اَقْوٰی اَمِ اللّٰہ؟ یعنی تو زیادہ طاقتور ہے یا اللہ؟ یقیناًاللہ تعالیٰ نے میری امت کے مریضوں اور مسافروں کے لیے رمضان میں سفر کی حالت میں روزہ نہ رکھنے کو بطور صدقہ ایک رعایت قرار دیاہے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ وہ تم میں سے کسی کوکوئی چیزصدقہ دے پھر وہ اس چیز کو صدقہ دینے والے کو واپس لوٹا دے۔(المصنف للحافظ الکبیر ابی بکرعبدالرزاق بن ھمام الصنعانی الجزء الثانی صفحہ ۵۶۵ باب الصیام فی السفر)
اِس زمانے کے امام اور حکم و عدل حضرت مسیح موعودؑ مسافر اور مریض کے لیے روزہ نہ رکھنے اور فدیہ دینے کے متعلق فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے شریعت کی بنا آسانی پر رکھی ہے جو مسافر اور مریض صاحب مقدرت ہوں۔ ان کو چاہیے کہ روزہ کی بجائے فدیہ دے دیں۔ فدیہ یہ ہے کہ ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔ ( بدر ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ۷)
ایک سوال یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ اگر دورانِ روزہ مرض لاحق ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے؟ اس کے متعلق سیرت المہدی کی ایک روایت ملتی ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔ اس وقت غروب آفتاب کا وقت بہت قریب تھا مگر آپ نے فورا ًروزہ توڑ دیا۔ آپ ہمیشہ شریعت میں سہل راستہ کو اختیار فرمایا کرتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث میں حضرت عائشہؓ کی روایت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی یہی ذکر آتا ہے کہ آپ ہمیشہ دو جائز رستوں میں سے سہل رستہ کو پسند فرماتے تھے۔ (سیرت المہدی جلد ۱ صفحہ۶۳۷)
حضرت مسیح موعودؑ فدیہ دینے کی غرض بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ایک دفعہ میرے دل میں آیا کہ فدیہ کس لیے مقرر کیا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ توفیق کے واسطے ہے تا کہ روزہ کی توفیق اس سے حاصل ہو۔ خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو توفیق عطا کرتی ہے اور ہر شے خدا تعالیٰ ہی سے طلب کرنی چاہیے۔ خدا تعالیٰ تو قادر مطلق ہے وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی روزہ کی طاقت عطا کر سکتا ہے تو فدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جائے اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے۔ پس میرے نزد یک خوب ہے کہ دعا کرے کہ الٰہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور میں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کر سکوں یا نہ اور اس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خدا تعالیٰ طاقت بخش دے گا۔ (البدر ۱۲ دسمبر۱۹۰۲ء صفحہ۵۲)
رمضان کی عبادات میں سے ایک اعتکاف بھی ہے۔ اعتکاف کے لغوی معنی کسی جگہ بند ہو جانے یا ٹھہرے رہنے کے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں عبادت کی نیت سے روزہ رکھ کر مسجد میں ٹھہرنے کا نام اعتکاف ہے۔ آنحضرت ﷺ کا وفات تک یہ معمول رہا کہ آپ آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور آپؐ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی ازواج مطہرات بھی اسی سنت کی پیروی میں اعتکاف کرتی تھیں۔ (بخاری کتاب الاعتکاف)
اعتکاف کی فضیلت بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا:مَنِ اعْتَكَفَ عَشْرًا فِي رَمَضَانَ كَانَ كَحَجْتَيْنِ وَعُمْرَتَيْن۔ یعنی جس نے رمضان میں دس دن تمام شرائط کے ساتھ اعتکاف کیا تو اسے دوحج اور دو عمرے کرنے کے برابر ثواب ملے گا (بیہقی فی شعب الایمان )
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمر کس لیتے اور رات بھر جاگتے رہتے۔(بخاری کتاب فضل لیلۃ القدر باب العمل فی العشر الاواخر من رمضان حدیث نمبر ۲۰۲۴)
اعتکاف کے لیے موزوں جگہ جامع مسجد ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاَنۡتُمۡ عٰکِفُوۡنَ ۙ فِی الۡمَسٰجِدِ (البقرۃ:۱۸۸) حضرت عائشہ فرماتی ہیں لا اعتكاف إلا في مسجد جامع ( ابو داؤد ) کہ جامع مسجد کے علاوہ اعتکاف جائز نہیں۔
لیلۃالقدر کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡر۔ وَمَاۤ اَدۡرٰٮکَ مَا لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ۔ لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَہۡرٍ ( القدر: ۲ تا ۵)
حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: یارسول اللہﷺَ! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ لیلۃ القدر کون سی رات ہے تو ا س رات میں مَیں کیا کہوں ؟ارشاد فرمایا: تم کہو ’’اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ‘‘اے اللہ!یقیناً تُو معاف فرمانے والا،کرم کرنے والا ہے،تُو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے تُو میرے گناہوں کو بھی معاف فرما دے۔ ( ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۴-باب، ۵ ؍ ۳۰۶، الحدیث: ۳۵۲۴)
عقبہ جو حریث کے بیٹے ہیں سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے آخری عشرے میں تلاش کرو (آپؐ کی مراد لیلۃ القدر سے تھی) اگر تم میں سے کوئی کمزور ہو جائے یا عاجز رہ جائے۔ تو وہ آخری سات راتوں میں ہرگز مغلوب نہ ہو جائے۔ (صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل لیلۃ القدر… حدیث نمبر ۲۷۶۵)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی شب ِقدر کو ایمان اور احتساب کے ساتھ گزارے تو اس کے سارے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ (بخاری:حدیث نمبر ۲۰۱۴ )
سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ قبولیتِ دعا اور رمضان کے تعلق میں فرماتے ہیں: رمضان کا مہینہ دعا ؤں کی قبولیت کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتاہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں دعا کرنے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قَرِیْبٌ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ اگر وہ قریب ہونے پر بھی نہ مل سکے تو اَور کب مل سکے گا۔ جب بندہ اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑلیتاہے اور اپنے عمل سے ثابت کر دیتاہے کہ اب وہ خداتعالیٰ کا در چھو ڑ کر اور کہیں نہیں جائے گا تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دروازے اس پر کھل جاتے ہیں اور اِنِّی قَرِیْبٌکی آواز خود اس کے کانوں میں بھی آنے لگتی ہے جس کے معنے سوائے اِس کے اور کیا ہو سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہروقت اُس کے ساتھ رہتاہے۔ اور جب کوئی بندہ اس مقام تک پہنچ جائے تواسے سمجھ لینا چاہیے کہ اُس نے خدا کو پالیا۔ (تفسیر کبیر از حضرت مصلح موعودؓ تفسیر سورۃ البقرہ صفحہ۲۱۲)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :ہر رمضان ہمارے لیے ایک نئی پیدائش کی خوشخبری لے کر آتا ہے۔ اگر ہم ان شرطوں کے ساتھ رمضان میں سے گزر جائیں جو آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی ہیں تو گویا ہرسال ایک نئی روحانی پیدائش ہوگی اور گزشتہ تما م گناہوں کے داغ دھل جائیں گے۔ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۶؍ جنوری ۱۹۹۶ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اے احمدی! اس رمضان کو فیصلہ کن رمضان بنادو اس الٰہی جہاد کے لیے تیار ہو جاؤ مگر تمہارے لیے کوئی دنیا کا ہتھیار نہیں ہے۔ دنیا کے تیروں کا مقابلہ تم نے دعاؤں کے تیروں سے کرنا ہے۔ یہ لڑائی فیصلہ کن ہو گی مگر گلیوں اور بازاروں میں نہیں، صحنوں اور میدانوں میں نہیں بلکہ مسجدوں میں اس لڑائی کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ راتوں کو اٹھ کر اپنی عبادت کے میدانوں کو گرم کرو اور اس زور سے اپنے خدا کے حضور آہ و بکا کرو کہ آسمان پر عرش کے کنگرے بھی ہلنے لگیں۔ متٰى نصرُ اللّٰہ کا شور بلند کردو۔ خدا کے حضور گریہ وزاری کرتے ہوئے اپنے سینوں کے زخم کو پیش کرو اپنے چاک گریبان اپنے رب کو دکھاؤ اور کہو کہ اے خدا !
قوم کے ظلم سے تنگ آکے مرے پیارے آج
شور محشر ترے کوچہ میں مچایا ہم نے
پس اس زور کا شور مچاؤ اور اس قوت کے ساتھ متٰی نصرُ اللّٰہ کی آواز بلند کرو کہ آسمان سے فضل اور رحمت کے دروازے کھلنے لگیں اور ہر دروازے سے یہ آواز آئے: أَلا إِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيبٌ، أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيبٌ، أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيبٌ۔سنو سنو ! کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ اے سننے والو سنو ! کہ خدا کی مدد قریب ہے۔ اے مجھے پکارنے والو سنو کہ خدا کی مدد قریب ہے اور وہ پہنچنے والی ہے۔ (خطبات طاہر جلد ۲ صفحہ ۳۴۹)
میں اپنے مضمون کو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کی ایک دعا پر ختم کرتا ہوں جو آپؐ نے حجۃالوداع کے موقعہ پر عرفات میں کی تھی۔ حضورﷺ فرماتے ہیں:’’اے اللہ!تُومیری باتوں کو سنتاہے اور میرے حال کو دیکھتاہے۔ میری پوشیدہ باتوں اور ظاہر امور سے تو خوب واقف ہے۔ میرا کوئی بھی معاملہ تجھ پر کچھ بھی مخفی نہیں ہے۔ مَیں ایک بدحال، فقیر اور محتاج ہوں، تیری مدد اور پناہ کا طالب، سہما ہوا، اپنے گناہوں کا اقراری اور معترف ہوں۔ مَیں تجھ سے ایک عاجز مسکین کی طرح سوال کرتاہوں، تیرے حضور میں ایک گناہگارذلیل کی طرح زاری کرتا ہوں۔ ایک اندھے نابینا کی طرح خوفزدہ تجھ سے دعا کرتاہوں جس کی گردن تیرے آگے جھکی ہوئی ہے اور جس کے آنسو تیرے حضور بہ رہے ہیں۔ جس کا جسم تیرے حضور گرا پڑاہے اور تیرے لیے اس کا ناک خاک آلودہ ہے۔ اے اللہ!توُمجھے اپنے حضور دعا کرنے میں بدبخت نہ ٹھہرا دینا اور میرے ساتھ مہربانی اور رحم کا سلوک فرمانا۔ اے وہ جو سب سے بڑھ کر التجاؤں کو قبول فرماتاہے اور سب سے بہتر عطا فرمانے والاہے۔ (میری دعا قبول فرما)۔ آمین (الجامع الصغیر للسیوطی ؒ۔ جز اول صفحہ ۵۶ مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیۃ لائلپور۔ المعجم الکبیرللطبرانی جلد ۱۱ صفحہ ۱۷۴۔ مطبوعہ بیروت)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: روزہ کے طبی فوائد، عمومی مسائل اور ان کا حل



