متفرق شعراء
’’وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم‘‘
’’وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم‘‘
ہے عطا اس کی محبت سے ہمیں اجرِ عظیم
آج بھی وہ بول کر دیتا ہے ہستی کا ثبوت
پھر یہ کیوں کہتے ہو لوگو یہ تو ہے سنت قدیم
کون ہے جو اس سے مانگے اپنی ساری حاجتیں
رحمتیں برسا رہا ہے آج بھی یہ ربِّ رحیم
اس کے احسانوں کو گننا یہ کہاں آسان ہے
فضل اپنے کر رہا ہے ہر گھڑی مولا کریم
کر رہا ہے رہنمائی آج بھی وہ ہر گھڑی
آج بھی دکھلا رہا ہے وہ صراطِ مستقیم
(درثمین احمد ۔جرمنی)




