خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 27؍فروری 2026ء
اے میرے چچا !مَیں یہ نہیں کہتا کہ آپ اپنی قوم کو چھوڑ دیں اور میرا ساتھ دیں۔ آپ بیشک میرا ساتھ چھوڑ دیں اور اپنی قوم کے ساتھ مل جائیں۔ لیکن مجھے خدائے وَحْدَہُ لاشریک کی قَسم ہے کہ اگر سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کر کھڑا کر دیں تب بھی میں خداتعالیٰ کی توحید کا وعظ کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔ میں اپنے کام میں لگا رہوں گا جب تک خد ا مجھے موت دے (ارشاد نبویﷺ)
تمام انبیاء دنیا میں توحید کے قیام کے لیے آئے اور انہوں نے اپنی قوموں کو اس کی تعلیم دی لیکن بدقسمتی سے اکثریت نے اس توحید کو چھوڑ دیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی پیغام کو لے کے آئے، اسی کام کو جاری رکھنے کے لیے آئے اور اسی توحید کی روح کو ہی اپنے ماننے والوں میں پیدا کرنے کے لیے آئے اور اس بارے میں جو مقام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے وہ کسی اَور کا نہیں
آپؐ نے توحید کو ماننے کی اگر تلقین کی تو اللہ تعالیٰ سے علم پا کر توحید کو قبول کرنے کے دلائل دیے۔ آپؐ نے شرک کے خلاف اگر جہاد کیا تو بغیر دلیل کے نہیں بلکہ شرک کی برائی سمجھائی اور اس کو سمجھا کر اس کے خلاف نفرت پیدا کی اور آپؐ کے ماننے والوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ توحید کی تعلیم اور شرک سے نفرت ان کے رگ و ریشہ میں بس گئی ہے
آپؐ کی یہ تعلیم جس نے آپؐ کے ماننے والوں پر اثر کیا اس لیے پُر اثر تھی کہ خود آپؐ کا ہر قول و فعل اس کی حقیقی تصویر تھا اور اس بارے میں جو عظیم تعلیم اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو دی اس کا آپؐ عملی نمونہ تھے
عبادت کے جو اسلوب آپؐ کو سکھائے اور جس طرح آپؐ نے توحید کے مقام کا حق ادا کرتے ہوئے عبادت کی،کسی بھی دوسرے مذہب میں اس کا عُشر عَشیر بھی نظر نہیں آتا
سورۃ اخلاص ایسا اعلان ہے جو ہر مذہب کی بگڑی ہوئی تعلیم کا ردّ کرتا ہے اور یہی تعلیم ہے جس کے اعلان سے انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب مل سکتا ہے اور اس کا سب سے اعلیٰ وارفع نمونہ ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ٰصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپؐ کی زندگی کا ہر لمحہ توحید کے قیام کے لیے گزرا
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت ایسی پاکیزہ تھی کہ توحید سے محبت آپؐ کے رگ و ریشہ میں ودیعت کی گئی تھی ۔ اور آپؐ کی طبیعت نبوت کے مقام پر فائز ہونے سے پہلے ہی شرک اور بتوں کی پرستش سے متنفر تھی
یہی ایک بڑی دلیل آنحضرت ؐکی نبوت پر ہے کہ آپ ایک ایسے زمانہ میں مبعوث اور تشریف فرما ہوئے جبکہ زمانہ نہایت درجہ کی ظلمت میں پڑا ہوا تھا اور طبعاً ایک عظیم الشان مصلح کا خواستگار تھا اور پھر آپ نے ایسے وقت میں دنیا سے انتقال فرمایا جب کہ لاکھوں انسان شرک اور بُت پرستی کو چھوڑ کر توحید اور راہ راست اختیار کر چکے تھے۔ اور درحقیقت یہ کامل اصلاح آپ ہی سے مخصوص تھی کہ آپ نے ایک قوم وحشی سیرت اور بہائم خصلت کو انسانی عادات سکھلائے
’’آج صفحۂ دنیامیں وہ شے کہ جس کانام توحید ہے بجز امت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اَور کسی فرقہ میں نہیں پائی جاتی اور بجز قرآن شریف کے اور کسی کتاب کا نشان نہیں ملتا کہ جو کروڑہا مخلوقات کو وحدانیتِ الٰہی پر قائم کرتی ہو اور کمال تعظیم سے اس سچے خدا کی طرف رہبر ہو‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کو ماننے والوں کا کام ہے کہ توحید کی حقیقت کو سمجھیں اور اس کے لیے اپنے اندر خاص تبدیلیاں پیدا کریں۔ یہ عبادت کا خاص مہینہ ہے رمضان کا ۔اس میں خاص طور پر اس کی کوشش ہونی چاہیے اور اس کے لیے دعا کرنی چاہیے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام زندگی میں جس طرح توحید کے قیام کے لیے کوشش کی اگر ہمیں آپؐ سے محبت کا دعویٰ ہے تو ہمیں اس کے لیے خاص کوشش کرنی پڑے گی
توحید کے قیام کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کی طرف سے ہر قسم کے ظلم و زیادتی کو برداشت کیا اور یہی روح آپؐ نے اپنے صحابہؓ میں بھی پیدا فرمائی۔ انہوں نے اپنی گردنیں کٹوائیں جس کا نتیجہ یہ تھا کہ انہوں نے اَحد اَحد کا اعلان کرتے ہوئے ظلم برداشت کیا اور اپنی جانیں قربان کیں
ہمارا کام ہے کہ توحید کا اعلان کرتے رہیں اور جہاں اس توحید کے پیغام کو پہنچائیں وہاں اپنی روحانی اور اخلاقی حالتوں میں بھی ایک واضح تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کریں تبھی ہم حقیقی توحید کے ماننے والے اور خدا تعالیٰ کے حکموںپر چلنے والے کہلا سکتے ہیں۔
توحید الٰہی کے قیام کے حوالے سے آنحضرتﷺ کی سیرت مبارکہ کا دلنشین اور ایمان افروز تذکرہ
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 27؍فروری 2026ء بمطابق 27؍تبلیغ 1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
تمام انبیاء دنیا میں توحید کے قیام کے لیے آئے اور انہوں نے اپنی قوموں کو اس کی تعلیم دی لیکن بدقسمتی سے اکثریت نے اس توحید کو چھوڑ دیا ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی پیغام کو لے کے آئے، اسی کام کو جاری رکھنے کے لیے آئے اور اسی توحید کی روح کو ہی اپنے ماننے والوں میں پیدا کرنے کے لیے آئے اور اس بارے میں جو مقام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے وہ کسی اَور کا نہیں۔
آپؐ نے توحید کو ماننے کی اگر تلقین کی تو اللہ تعالیٰ سے علم پا کر توحید کو قبول کرنے کے دلائل دیے۔ آپؐ نے شرک کے خلاف اگر جہاد کیا تو بغیر دلیل کے نہیں بلکہ شرک کی برائی سمجھائی اور اس کو سمجھا کر اس کے خلاف نفرت پیدا کی اور آپؐ کے ماننے والوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ توحید کی تعلیم اور شرک سے نفرت ان کے رگ و ریشہ میں بس گئی ہے۔
یہ اس لیے کہ جو تعلیم اللہ تعالیٰ نے آپؐ پر اتاری وہ اس قدر جامع اور پُر اثر تھی کہ اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ کوئی اس کی گہرائی تو سمجھ لے اور پھر اس سے دور ہو سکے۔
آپؐ کی یہ تعلیم جس نے آپؐ کے ماننے والوں پر اثر کیا اس لیے پُر اثر تھی کہ خود آپؐ کا ہر قول و فعل اس کی حقیقی تصویر تھا اور اس بارے میں جو عظیم تعلیم اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو دی اس کا آپؐ عملی نمونہ تھے۔
آپؐ کو فکر تھی تو اس کی کہ جس طرح دوسری قوموں نے اپنے انبیاء کو سجدے کی جگہ بنا لیا ہے مسلم اُمّہ میں بھی یہ خوفناک گناہ پیدا نہ ہو جائے اور آپؐ نے اس سے پناہ مانگی کہ آپؐ کو خدا تعالیٰ کے مقابلے پر کبھی لایا جائے اور اس کی آپؐ نے اُمّت کو نصیحت بھی فرمائی کہ مجھے کبھی شرک کا ذریعہ نہ بنانا۔
(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحہ 54، مسند ابی ہریرۃ حدیث 7352، عالم الکتب بیروت 1998ء)
تمہاری نظر کبھی خدا تعالیٰ کے علاوہ کسی اَور پر نہ پڑے۔ گذشتہ خطبات میں مَیں نے محبتِ الٰہی کا ذکر کیا یا عبادت کا ذکر کیا ہے اس میں جو باتیں بیان کی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جس واقعہ کو بھی اس حوالے سے پیش کیا وہ توحید کی طرف ہی راہنمائی کرتا تھا یا اس میں آپؐ کی توحید کے قیام کے لیے ایک جوش نظر آتا تھا، ایک تڑپ نظر آتی تھی اور یہ جہاں آپؐ کے توحید کے قیام کے لیے اعلیٰ ترین مقام اور آپ کی پاک فطرت کی عکاسی کرتا ہے جو بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی بنائی وہاں آپؐ پر اللہ تعالیٰ کی اتری ہوئی تعلیم جو کامل تعلیم ہے اس سے بھی ہمیں اس کی گہرائی کا علم ہوتا ہے۔
قرآن کریم میں بار بار مختلف پہلوؤں سے ہمیں توحید کی تعلیم دی گئی ہے
جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورہ انبیاء میں فرماتا ہے:
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْہِ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ۔(الانبیاء: 26)
اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر ہم اس کی طرف وحی کرتے تھے کہ یقیناً میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری ہی عبادت کرو ۔
اور پھر
عبادت کے جو اسلوب آپؐ کو سکھائے اور جس طرح آپؐ نے توحید کے مقام کا حق ادا کرتے ہوئے عبادت کی،کسی بھی دوسرے مذہب میں اس کا عشر عشیر بھی نظر نہیں آتا۔
پھر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:
قُلۡ اِنِّیۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰہَ مُخۡلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ (الزمر:12)
تُو کہہ دے کہ مجھے تو حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے کروں۔
پس جب ایک حقیقی مسلمان بھی یہ پڑھے گا تو وہ بھی یہ اعلان کرے گا کہ میں نے خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی ہے اور توحیدِ خالص کے قیام کی کوشش کرنی ہے اور اس اسوہ پر چلنا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعلان کے ساتھ قائم فرمایا جس کا قرآن شریف نے حکم دیا۔ اگر ہم خالص توحید کے قیام کے ساتھ اپنی عبادتوں کے معیار قائم کریں گے تو ایک انقلاب لانے والے بن سکتے ہیں ورنہ تو باتیں ہیں اور تب ہی ہم حقیقی موحد بھی کہلانے والے ہوں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاعْبُدُوا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِہٖ شَـيْـــًٔـا (النساء : 37)
اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ
ایک اَور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاِلٰـہُكُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ۔ (البقرۃ: 164)
اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے کوئی معبود نہیں مگر وہی رحمان اور رحیم۔
پھر قرآن کریم کے آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی توحید کے قیام کا اعلان فرماتا ہے کہ
قُلْ ہُوَاللّٰہُ اَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ ۔ وَلَمْ يَكُنْ لَّہٗ كُفُوًا اَحَدٌ ۔ (الاخلاص: 2-5)
تُو کہہ دے کہ وہ اللہ ایک ہی ہے۔اللہ بے احتیاج ہے۔نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔ اور اس کا کبھی کوئی ہمسر نہیں ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے یہاں ہر قسم کے شرک کے ردّ کا اعلان فرمایا ہےاور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اس کا اعلان دنیا میں کر دو۔ پس جب آپؐ کے ماننے والے بھی یہ پڑھیں تو ہمارا بھی فرض ہے کہ اس خالص توحید کا اعلان کریں جس کا اس سورۃ میں اعلان کیا گیا ہے اور بہت ساری دوسری جگہوں پہ اعلان کیا گیا ہے۔ اور اپنے قول و فعل سے دنیا کو یہ بتائیں کہ اللہ تعالیٰ ہی واحد ہے اور ہر چیز سے بےاحتیاج ہے بلکہ ہر چیز اس کی محتاج ہے۔ نہ وہ کسی کا باپ ہے، نہ بیٹا اور اس جیسا کوئی بھی ہو ہی نہیں سکتا۔
یہ ایسا اعلان ہے جو ہر مذہب کی بگڑی ہوئی تعلیم کا ردّ کرتا ہے اور یہی تعلیم ہے جس کے اعلان سے انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب مل سکتا ہے اور اس کا سب سے اعلیٰ و ارفع نمونہ ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ٰصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپؐ کی زندگی کا ہر لمحہ توحید کے قیام کے لیے گزرا
بلکہ جیسا کہ میں نے بتایا بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی توحیدِ خالص کے لیے تربیت فرمائی تھی۔ یہ چند مثالیں ہیں جو قرآن شریف سے میں نے دی ہیں ۔اس پیغام سے قرآن کریم تو بھرا پڑا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بھی کچھ واقعات پیش کرتا ہوں جس سے بچپن سے نبوت کے دعویٰ تک اور آپؐ کی زندگی میں آپؐ کی توحید کے لیے تڑپ اور اس کی کوشش کا ذکر ملتا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت ایسی پاکیزہ تھی کہ توحید سے محبت آپؐ کے رگ و ریشہ میں ودیعت کی گئی تھی ۔اور آپؐ کی طبیعت نبوت کے مقام پر فائز ہونے سے پہلے ہی شرک اور بتوں کی پرستش سے متنفر تھی ۔
چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے حضرت ام ایمنؓ بیان کرتی تھیں کہ بُوَانَہ وہ بُت تھا جس کی قریش بہت تعظیم کرتے تھے ۔اس کے پاس حاضری دے کر قربانیاں کرتے اور سال میں ایک دن وہاں اعتکاف کرتے تھے ۔ابوطالب بھی اپنی قوم کے ساتھ وہاں جاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ساتھ لے جانا چاہتے تھے مگر آپؐ انکار کر دیتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ حضور ؐکی پھوپھیاں اور ابو طالب آپؐ سے سخت ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ اے محمد !تم کیا چاہتے ہو؟ﷺکیا تم اپنی قوم کے تہوار میں شریک ہو کر ان کے اجتماع میں اضافہ نہیں کرو گے؟ بہرحال ایک دفعہ اپنی پھوپھیوں کے اصرار پر آپؐ وہاں چلے تو گئے مگر سخت خوفزدہ ہو کر واپس آ گئے اور کہا کہ مَیں نے وہاں ایک عجیب منظر دیکھا ہے۔ پھوپھیوں نے کہا کہ اتنے نیک انسان پر شیطان اثر نہیں کر سکتا۔ پوچھا آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ جونہی میں بُت کے قریب جانے لگتا تو ایک سفید پوش شخص چِلّا کر کہتا تھا کہ اے محمدؐ! پیچھے رہو اور اس بت کو مت چھوؤ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے کسی تہوار میں شرکت نہ کی اور اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ آپؐ کو ایسی مشرکانہ رسوم سے محفوظ رکھا۔
(ماخوذ ازدلائل النبوۃ بیہقی جلد 1 صفحہ 138 دار الكتب العلمية بيروت)
دعویٰ نبوت سے پہلے کی یہ بات ہے۔
بچپن میں اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ سفر شام کے دوران عیسائی راہب بَحِیْرَاءسے ملاقات ہوئی
تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ایک سوال پر فرمایا تھا کہ
مجھ سے لات اور عُزّٰی بتوں کے بارے میں مت پوچھو۔ خدا کی قسم !ان سے بڑھ کر مجھے اَور کسی چیز سے نفرت نہیں۔
(ماخوذ از دلائل النبوۃ بیہقی جلد 2 صفحہ 35 دار الكتب العلمية بيروت)
جب
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ ؓکا مال تجارت لے کر ملک شام گئے
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سامان فروخت کیا اور اس کے بدلے دوسرا سامان خریدا۔ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک آدمی کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہو گیا۔ اس آدمی نے کہا لات اور عُزّٰی کی قَسم کھاؤ ۔یعنی تب ہی تمہاری بات مانوں گا کہ یہ قَسم کھاؤ اور گواہی دو۔ تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مَیں نے کبھی بھی ان بتوں کی قَسم نہیں کھائی ۔میں ان کے پاس سے گزرتا بھی ہوں تو منہ پھیر لیتا ہوں ۔تم مجھے کہتے ہوقَسم کھاؤ۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔
( الطبقات الکبریٰ جزء 1 صفحہ 124 دار الکتب العلمیۃ بیروت)
اسی
توحید کے حاصل کرنے کے لیے آپؐ غار حرا میں بھی جاتے رہے
پہلے بھی اس کا ذکر ہو چکا ہے اور وہاں خدائے واحد کی عبادت اور توحید کی آپؐ کے دل میں تڑپ ہوتی تھی۔ اس کا نقشہ ایک جگہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے یوں کھینچا ہے کہ غار حرا مکہ کے پہاڑوں میں سے ایک مشہور پہاڑ حرا میں ہے جو مکہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے۔ آج کل اس کو جبل نور کہتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتوں سے نفرت تو تھی ہی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتوں کو پوجنے والوں اور خدائے واحد و یگانہ سے دوری اختیار کرنے والوں پر بھی افسوس کرتے تھے۔ صرف خود نہیں بلکہ لوگوں پر بھی افسوس تھا کہ کیوں بتوں کو پوجتے ہیں اور بعثت سے قبل آبادی سے دور اس غار میں عبادت کیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب چالیس برس کے ہوئے تو ایک روز جبرئیلؑ نمودار ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلی وحی نازل ہوئی جس کے ذریعے خدا تعالیٰ نے آپؐ کو مبعوث کیا۔ اس پہلی وحی کے ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو توحید باری تعالیٰ کی طرف بلانا شروع کیا اور شرک کے خلاف تعلیم دینے لگے ۔مگر شروع شروع میں آپؐ نے اپنے مشن کا کھلم کھلا اظہار نہیں فرمایا بلکہ نہایت خاموشی کے ساتھ کارروائی شروع کی اور صرف اپنے ملنے والوں کے حلقے تک اپنی تعلیم کو محدود رکھا۔
(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ صفحہ 117، 120) (فرہنگ سیرت صفحہ 101)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ ’’ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اظہار سچائی کے لئے ایک مجدد اعظم تھے جو گُم گَشْتَہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے۔ اِس فخر میں ہمارے نبی صلعم کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپ کے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی۔ جس قوم میں آپ ظاہر ہوئے آپ فوت نہ ہوئے جب تک کہ اس تمام قوم نے شرک کا چولہ اتار کر توحید کا جامہ نہ پہن لیا اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ لوگ اعلیٰ مراتبِ ایمان کو پہنچ گئے اور وہ کام صدق اور وفا اور یقین کے ان سے ظاہر ہوئے کہ جس کی نظیر دنیا کے کسی حصہ میں پائی نہیں جاتی۔ یہ کامیابی اور اس قدر کامیابی کسی نبی کو بجز آنحضرت صلعم کے نصیب نہیں ہوئی۔
یہی ایک بڑی دلیل آنحضرت ؐکی نبوت پر ہے کہ آپ ایک ایسے زمانہ میں مبعوث اور تشریف فرما ہوئے جبکہ زمانہ نہایت درجہ کی ظلمت میں پڑا ہوا تھا اور طبعاً ایک عظیم الشان مصلح کا خواستگار تھا اور پھر آپ نے ایسے وقت میں دنیا سے انتقال فرمایا جب کہ لاکھوں انسان شرک اور بُت پرستی کو چھوڑ کر توحید اور راہ راست اختیار کر چکے تھے۔ اور درحقیقت یہ کامل اصلاح آپ ہی سے مخصوص تھی کہ آپ نے ایک قوم وحشی سیرت اور بہائم خصلت کو انسانی عادات سکھلائے
یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ بہائم کو انسان بنایا ’’جانوروں کو انسان بنایا‘‘ اور پھر انسانوں سے تعلیم یافتہ انسان بنایا اور پھر تعلیم یافتہ انسانوں سے باخدا انسان بنایا اور روحانیت کی کیفیت ان میں پھونک دی اور سچے خدا کے ساتھ ان کا تعلق پیدا کر دیا۔ وہ خدا کی راہ میں بکریوں کی طرح ذبح کیے گئے اور چیونٹیوں کی طرح پیروں میں کچلے گئے مگر ایمان کو ہاتھ سے نہ دیا بلکہ ہر ایک مصیبت میں آگے قدم بڑھایا۔ پس
بلاشبہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روحانیت قائم کرنے کے لحاظ سے آدم ثانی تھے بلکہ حقیقی آدم وہی تھے جن کے ذریعہ اور طفیل سے تمام انسانی فضائل کمال کو پہنچے اور تمام نیک قوتیں اپنے اپنے کام میں لگ گئیں اور کوئی شاخ فطرت انسانی کی بے بار وبر نہ رہی اور ختم نبوت آپ پر نہ صرف زمانہ کے تاخر کی وجہ سے ہوا بلکہ اس وجہ سے بھی کہ تمام کمالات نبوت آپ پر ختم ہو گئے۔‘‘
(لیکچرسیالکوٹ، روحانی خز ائن جلد 20صفحہ 206۔207)
پھر آپؑ ایک جگہ فرماتے ہیں:’’الٰہی تیرا ہزار ہزار شکر کہ تُو نے ہم کو اپنی پہچان کا آپ راہ بتایا اور اپنی پاک کتابوں کو نازل کرکے فکر اور عقل کی غلطیوں اور خطاؤں سے بچایا اور درود اور سلام حضرت سید الرسل محمد مصطفیٰؐ اور ان کی آل و اصحاب پر کہ جس سے خدا نے ایک عالَمِ گُم گَشْتَہ کو سیدھی راہ پر چلایا۔ وہ مربی اور نفع رسان کہ جو بھولی ہوئی خلقت کو پھر راہ راست پر لایا۔ وہ محسن اور صاحب احسان کہ جس نے لوگوں کو شرک اور بتوں کی بلا سے چھوڑایا۔ وہ نور اور نور افشان کہ جس نے توحید کی روشنی کو دنیا میں پھیلایا۔ وہ حکیم اور معالج زمان کہ جس نے بگڑے ہوئے دلوں کا راستی پر قدم جمایا۔ وہ کریم اور کرامت نشان کہ جس نے مُردوں کو زندگی کا پانی پلایا۔ وہ رحیم اور مہربان کہ جس نے امت کے لیے غم کھایا اور درد اٹھایا۔ وہ شجاع اور پہلوان جو ہم کو موت کے منہ سے نکال کر لایا۔ وہ حلیم اور بے نفس انسان کہ جس نے بندگی میں سرجھکایا اور اپنی ہستی کو خاک سے ملایا۔ وہ کامل موحد اور بحر عرفان کہ جس کو صرف خدا کا جلال بھایا اور غیر کو اپنی نظر سے گرایا۔ وہ معجزہ قدرت رحمٰن کہ جو امّی ہوکر سب پر علوم حقانی میں غالب آیا اور ہریک قوم کو غلطیوں اور خطاؤں کاملزم ٹھہرایا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ اول ،روحانی خزائن جلد 1صفحہ17)
پھر آپؑ ایک جگہ فرماتے ہیں :
’’آج صفحۂ دنیامیں وہ شے کہ جس کانام توحید ہے بجز امت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اَور کسی فرقہ میں نہیں پائی جاتی اور بجز قرآن شریف کے اَور کسی کتاب کا نشان نہیں ملتا کہ جو کروڑہا مخلوقات کو وحدانیت الٰہی پر قائم کرتی ہو اور کمال تعظیم سے اس سچے خدا کی طرف رہبر ہو۔
ہریک قوم نے اپنا اپنا مصنوعی خدا بنالیا اور مسلمانوں کا خدا وہی ہے جو قدیم سے لازوال اور غیرمبدّل اور اپنی ازلی صفتوں میں ایسا ہی ہے جو پہلے تھا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ دوم ، روحانی خزائن جلد 1صفحہ118،117)
لیکن
افسوس کہ آج اُمّت محمدیہ بھی اس توحید کے اعزاز کو بھولتی جا رہی ہے اور حقیقی توحید ان میں نہیں رہی جس کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے دی اور جس کی درد سے ہدایت اور تلقین ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔
توحیدِ خالص کو بھولنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی صفات پر بھی وہ خالص ایمان نہیں رہا جو ایک مسلمان کا خاصہ ہونا چاہیے ۔ایسے میں
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کو ماننے والوں کا کام ہے کہ توحید کی حقیقت کو سمجھیں اور اس کے لیے اپنے اندر خاص تبدیلیاں پیدا کریں۔ یہ عبادت کا خاص مہینہ ہے رمضان کا ۔اس میں خاص طور پر اس کی کوشش ہونی چاہیے اور اس کے لیے دعا کرنی چاہیے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام زندگی میں جس طرح توحید کے قیام کے لیے کوشش کی اگر ہمیں آپؐ سے محبت کا دعویٰ ہے تو ہمیں اس کے لیے خاص کوشش کرنی پڑے گی۔
اللہ تعالیٰ کے حکم سے
توحید کے قیام کے لیے کس طرح آپؐ نے کوشش فرمائی اور اس کے لیے تکالیف بھی اٹھائیں۔
اس کو حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ
’’قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے ۔ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ۔ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تُو دنیا کے کونے کونے کے لوگوں کو ڈرا لیکن پہلے اپنے عزیزوں کو ڈرا۔ اس لیے کہ ان کا تجھ پر دہرا حق ہے ۔ایک حق تو یہ ہے کہ باقی دنیا کی طرح یہ بھی تباہ ہو رہے ہیں اور ایک حق یہ ہے کہ یہ تیرے رشتہ دار ہیں اور ان کے باپ دادوں نے تیرے ساتھ کبھی حسن سلوک کیا تھا۔ انگریزی میں بھی مثل مشہور ہے کہ Charity begins at homeیعنی صدقہ و خیرات پہلے گھر سے شروع ہوتا ہے۔ اسی طرح وعظ و نصیحت کا سلسلہ بھی ہمیشہ گھر سے ہی شروع ہونا چاہیے ۔چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی اس طرح تعمیل کی کہ آپؐ مکہ کے دستور کے مطابق کوہ صفا پر کھڑے ہو گئے اور آپ نے مختلف قبائل کو نام لے لے کر بلانا شروع کیا۔ پہلے آپؐ نے آل غالب کو بلایا اور وہ مسجد حرام سے نکل کر کوہِ صفا کے دامن میں آ گئے۔ اس وقت ابولہب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آلِ غالب تو آگئے ہیں آپ نے جو کچھ کہنا ہے کہہ دیں مگر آپؐ نے ابو لہب کی بات کی طرف کوئی توجہ نہ کی اور لوئی قبیلہ کے افراد کو آپؐ نے آواز دی۔ وہ پہنچ گئے تو ابو لہب نے پھر کہا کہ اب تو لوئی قبیلہ بھی آ گیا ہے اب تو آپ بتائیں کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی اس کی بات کو درخورِ اعتناء نہ سمجھا اور آل مرّہ کو آواز دی۔ چنانچہ وہ بھی آگئے۔ پھر آپؐ نے آلِ کِلاب اور آلِ قُصَیّ کو بلایا یہاں تک کہ سب لوگ جمع ہو گئے اور جو لوگ خود نہ آ سکے انہوں نے اپنا ایلچی بھیج دیا تاکہ وہ معلوم کر کے انہیں اطلاع دے کہ آج انہیں کس غرض کے لیے جمع کیا گیا ہے۔ جب مکہ کے تمام قبائل قریش سمیت جمع ہو گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خطاب شروع کیا اور فرمایا دیکھو اگر میں تم سے یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بہت بڑا لشکر جمع ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری اس بات کو مانو گے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ ہم آپ کی بات ضرور مانیں گے کیونکہ ہم نے ہمیشہ آپ کو راست باز پایا ہے ’’سچا پایا ہے۔‘‘ مکہ کے حالات سے باخبر لوگ جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مطالبہ درحقیقت ایسا ہی تھا جیسے کسی ناممکن چیز کو ممکن تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا جائے کیونکہ مکہ کے لوگوں کے جانور وادی میں چرا کرتے تھے اور وہ ایسا علاقہ ہے کہ اس میں کسی لشکر کاچھپ رہنا ناممکنات میں سے ہے مگر ان لوگوں پر آپؐ کی راست بازی کا اس قدر اثر تھا کہ انہوں نے کہا خواہ ہماری آنکھیں اس بات کو تسلیم نہ کریں ہم آپ کی بات کو ضرور مانیں گے کیونکہ آپ کی راستبازی ہمارے نزدیک مسلّم ہے۔ جب انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یک زبان ہو کر اپنے اس یقین اور اعتماد کا اظہار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لو سنو! مَیں تمہیں ایک اہم خبر سناتا ہوں اور وہ خبر یہ ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ پس مَیں تمہیں کہتا ہوں کہ تم اگر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہنا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو ۔آپؐ کا یہ کہنا تھا کہ ابولہب جوش سے کہنے لگا کہ تَبًّا لَکَ سَائِرَ الْاَیَّامِ اَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا۔یعنینعوذباللہ تجھ پر ہلاکت ہو ۔اتنی سی بات کے لیے تو نے ہمیں اکٹھا کیا تھا اور اسی طرح دوسرے لوگ ہنسی مذاق کرتے اور تمسخر اڑاتے ہوئے منتشر ہو گئے۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد 9 صفحہ 582-583، ایڈیشن 2023ء)
لیکن اس استہزااور مخالفت نے آپؐ کو توحید کے قیام کے لیے کوشش کرنے سے نہیں روکا۔ مسلسل آپؐ اسی کوشش میں رہے۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ استہزاہوا ۔پھر آپؐ کی مخالفت بھی بڑھ گئی۔ مخالفت کی تاریخ کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے تاریخی کتب کی رو سے اس طرح بیان کیا ہے کہ
’’جتنا عظیم الشان مشن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے اتنی ہی شدید آپؐ کی مخالفت ہونی چاہیے تھی کیونکہ آپؐ ایسے زمانہ میں مبعوث ہوئے تھے کہ جب تاریکی کا خاص زور تھا اور ضروری تھا کہ نور کے آنے پر تاریکی کی فوجیں اپنی انتہائی طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ سارے گذشتہ انبیاء کی نسبت آپؐ کی مخالفت سب سے زیادہ ہوئی۔ اس مخالفت کے موٹے موٹے ظاہری اسباب …‘‘میں سے ایک یہ بھی تھا کہ’’ قریش ایک پرلے درجہ کی بت پرست قوم تھی اور بتوں کی عزت و محبت ان کے دلوں میں اس قدر جمی ہوئی تھی کہ ان کے خلاف ایک لفظ بھی سننا انہیں گوارا نہ تھا۔ خانہ کعبہ جو محض اللہ تعالیٰ کی عبادت کے واسطے بنایا گیا تھا اس میں بھی ان ظالموں نے سینکڑوں بت جمع کر رکھے تھے اور اپنی تمام ضروریات کے لیے انہی بتوں کا منہ تکتے تھے۔ اب اسلام آیا تو اس کا بنیادی اصول ہی توحید باری تعالیٰ تھا اور صاف حکم تھا کہ کسی انسان یا درخت یا پتھر یا ستارے وغیرہ کے سامنے سرمت جھکاؤ بلکہ وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَھُنَّ۔ ‘‘ صرف اسی ذات کے سامنے جھکو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے۔’’پھر یہی نہیں بلکہ قریش کے بتوں کو ان کے خیال میں ہتک آمیز لفظوں میں یاد کیا جاتا تھا اور ان کو جہنم کا ایندھن قرار دیا جاتا تھا…ان باتوں نے قریش کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی اور وہ ایک جان ہو کر اسلام کو مٹانے کے واسطے اٹھ کھڑے ہوئے ۔‘‘
(سیرت خاتم النبیینؐ صفحہ 132-133)
اور بھی بہت وجوہات تھیں لیکن بہرحال یہ بڑی وجہ تھی۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں ’’ایک نبی یا رسول خدا کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے اور اس کا فرقہ لوگوں کو ایک گروہ ہونہار اور راستباز اور با ہمت اور ترقی کرنے والا دکھائی دیتا ہے تو اس کی نسبت موجودہ قوموں اور فرقوں کے دلوں میں ضرور ایک قسم کا بغض اور حسد پیدا ہو جایا کرتا ہے۔ بالخصوص ہر ایک مذہب کے علماء اور گدی نشین تو بہت ہی بغض ظاہر کرتے ہیں کیونکہ اس مرد خدا کے ظہور سے ان کی آمدنیوں اوروجاہتوں میں فرق آتا ہے۔ ان کے شاگرد اور مرید ان کے دام سے باہر نکلنا شروع کرتے ہیں کیونکہ تمام ایمانی اور اخلاقی اور علمی خوبیاں اس شخص میں پاتے ہیں جو خدا کی طرف سے پیدا ہوتا ہے۔ ‘‘مرید اپنے ان پیروں کو چھوڑ کے مردِ خدا کی طرف آتے ہیں جو نیک فطرت ہوتے ہیں ،سعید فطرت ہوتے ہیں۔ ’’لہٰذا اہل عقل اور تمیز سمجھنے لگتے ہیں کہ جو عزت بخیال علمی شرف اور تقویٰ اور پرہیزگاری کے ان عالموں کو دی گئی تھی اب وہ اس کے مستحق نہیں رہے اور جو معزز خطاب ان کو دیئے گئے تھے جیسے نجم الامة اور شمس الامة اور شیخ المشائخ وغیرہ اب وہ ان کے لیے موزوں نہیں رہے۔ سو ان وجوہ سے اہلِ عقل ان سے منہ پھیر لیتے ہیں کیونکہ وہ اپنے ایمانوں کو ضائع کرنا نہیں چاہتے۔ ‘‘جو ماننے والے ہیں ،سعید فطرت ہیں ان کا تو یہ فعل ہوتا ہے۔’’ ناچار ان نقصانوں کی وجہ سے علماء او رمشائخ کا فرقہ ہمیشہ نبیوں اور رسولوں سے حسد کرتا چلا آیا ہے۔ وجہ یہ کہ خدا کے نبیوں اور ماموروں کے وقت ان لوگوں کی سخت پردہ دری ہوتی ہے کیونکہ دراصل وہ ناقص ہوتے ہیں اور بہت ہی کم حصہ نور سے رکھتے ہیں اور ان کی دشمنی خدا کے نبیوں اور راستبازوں سے محض نفسانی ہوتی ہے۔ اور سراسر نفس کے تابع ہو کر ضرر رسانی کے منصوبے سوچتے ہیں بلکہ بسااوقات وہ اپنے دلوں میں محسوس بھی کرتے ہیں کہ وہ خدا کے ایک پاک دل بندہ کو ناحق ایذا پہنچا کر خدا کے غضب کے نیچے آگئے ہیں اور ان کے اعمال بھی جو مخالف کارستانیوں کے لیے ہر وقت ان سے سرزد ہوتے رہتے ہیں ان کے دل کی قصوروار حالت کو ان پر ظاہرکرتے رہتے ہیں مگر پھر بھی حسد کی آگ کا تیز انجن عداوت کے گڑھوں کی طرف ان کو کھینچے لیے جاتا ہے۔ یہی اسباب تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں مشرکوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کے عالموں کو نہ محض حق کے قبول کرنے سے محروم رکھابلکہ سخت عداوت پر آمادہ کر دیا۔ لہٰذا وہ اس فکر میں لگ گئے کہ کسی طرح اسلام کو صفحۂ دنیا سے مٹا دیں اور چونکہ مسلمان اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تھوڑے تھے اس لیے ان کے مخالفوں نے بباعث اس تکبر کے جو فطرتاً ایسے فرقوں کے دل اور دماغ میں جاگزیں ہوتا ہے جو اپنے تئیں دولت میں، مال میں، کثرتِ جماعت میں، عزت میں، مرتبت میں دوسرے فرقہ سے برتر خیال کرتے ہیں اُس وقت کے مسلمانوں یعنی صحابہ سے سخت دشمنی کا برتاؤ کیا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ آسمانی پودہ زمین پر قائم ہو بلکہ وہ ان راستبازوں کے ہلاک کرنے کے لیے اپنے ناخنوں تک زور لگا رہے تھے اور کوئی دقیقہ آزار رسانی کا اٹھا نہیں رکھا تھا اور ان کو خوف یہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ اس مذہب کے پیر جم جائیں اور پھر اس کی ترقی ہمارے مذہب اور قوم کی بربادی کا موجب ہو جائے۔ سو اسی خوف سے جو ان کے دلوں میں ایک رعبناک صورت میں بیٹھ گیا تھا نہایت جابرانہ اور ظالمانہ کارروائیاں ان سے ظہور میں آئیں اور انہوں نے دردناک طریقوں سے اکثر مسلمانوں کو ہلاک کیا اور ایک زمانہ دراز تک جو تیرہ برس کی مدت تھی ان کی طرف سے یہی کارروائی رہی اور نہایت بے رحمی کی طرز سے خدا کے وفادار بندے اور نوع انسان کے فخر ان شریر درندوں کی تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے کیے گئے اور یتیم بچے اور عاجز اور مسکین عورتیں کُوچوں اور گلیوں میں ذبح کیے گئے اس پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے قطعی طور پر یہ تاکید تھی کہ شر کا ہر گز مقابلہ نہ کرو۔ چنانچہ ان برگزیدہ راستبازوں نے ایسا ہی کیا۔ ان کے خُونوں سے کُوچے سرخ ہو گئے پر انہوں نے دم نہ مارا۔ وہ قربانیوں کی طرح ذبح کیے گئے پر انہوں نے آہ نہ کی۔ ‘‘
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 4تا5)
کفار مکہ نے آپؐ کو توحید کا پیغام پھیلانا چھوڑنے کے لیے ڈرایا بھی اور لالچ بھی دیا لیکن آپؐ کا یہی جواب تھا کہ یہی تو میری زندگی کا مقصد ہے کہ توحید کو دنیا میں قائم کروں اس لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے۔
اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ لکھا کہ ’’جب مخالفت تیز ہوگئی اور اِدھر سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ نے اصرارسے مکہ والوں کو خدا تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچانا شروع کیاکہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا خدا ایک ہے اس کے سِوا کوئی اور معبود نہیں۔ جس قدر نبی گذرے ہیں سب ہی اس کی توحید کا اقرار کیا کرتے تھے اور اپنے ہم قوموں کو بھی اِسی تعلیم کی طرف بلایا کرتے تھے۔ تم خدا ئے واحد پر ایمان لاؤ ،اِن پتھروں کے بتوں کو چھوڑ دو کہ یہ بالکل بے کار ہیں اور ان میں کوئی طاقت نہیں۔ اے مکہ والو! کیا تم دیکھتے نہیں کہ ان کے سامنے جو نذرو نیاز رکھی جاتی ہے اگر اس پر مکھیوں کا جھرمٹ آ بیٹھے تو وہ ان مکھیوں کو اڑانے کی بھی طاقت نہیں رکھتے،اگر کوئی ان پر حملہ کرے تو وہ اپنی حفاظت نہیں کرسکتے، ‘‘اگر کوئی ان سے سوال کرے تو وہ جواب نہیں دے سکتے۔ ’’اگر کوئی ان سے مدد مانگے تو وہ اس کی مدد نہیں کرسکتے ۔ مگر خدائے واحد تو مانگنے والوں کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ سوال کرنے والوں کو جواب دیتا ہے۔ مدد مانگنے والوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو زیر کرتا ہے اور اپنے عبادت گذار بندوں کو اعلیٰ ترقیات بخشتا ہے۔ اس سے روشنی آتی ہے جو اس کے پرستاروں کے دلوں کو منور کردیتی ہے۔ پھر تم کیوں ایسے خدا کو چھوڑ کر بے جان بتوں کے آگے جھکتے ہو اور اپنی عمر ضائع کررہے ہو۔ تم دیکھتے نہیں کہ خدا تعالیٰ کی توحید کو چھوڑ کر تمہارے خیالات بھی گندے اور دل بھی تاریک ہوگئے ہیں۔ تم قسم قسم کی وہمی تعلیموں میں مبتلا ہو۔‘‘ وہم دلوں میں اس لیے پیدا ہو رہے ہیں کہ توحید کو چھوڑ دیا ہے۔ ’’حلال وحرام کی تم میں تمیز نہیں رہی۔ اچھے اور بُرے میں تم امتیاز نہیں کرسکتے۔ اپنی ماؤں کی بے حرمتی کرتے ہو۔ اپنی بہنوں اور بیٹیوں پر ظلم کرتے ہو اور ان کے حق انہیں نہیں دیتے۔ اپنی بیویوں سے تمہارا سلوک اچھا نہیں۔ یتامیٰ کے حق مارتے ہو اور بیواؤں سے بُرا سلوک کرتے ہو۔ غریبوں اور کمزوروں پر ظلم کرتے ہو اور دوسروں کے حق مار کر اپنی بڑائی قائم کرنا چاہتے ہو۔ جھوٹ اور فریب سے تم کو عار نہیں۔ چوری اور ڈاکہ سے تم کو نفرت نہیں۔ جوا اور شراب تمہارا شغل ہے۔ حصولِ علم اور قومی خدمت کی طرف تمہاری توجہ نہیں۔ خدائے واحد کی طرف سے کب تک غافل رہوگے۔ آؤ اور اپنی اصلاح کرو اور ظلم چھوڑ دو۔‘‘ یہ برائیاں تمہارے اندر پیدا ہو گئی ہیں ان کی اصلاح کرو۔
آج بھی جو ان برائیوں کے حامل ہیں وہ توحید سے دوری کی وجہ سے ہیں۔ جن قوموں میں بھی یہ برائیاں ہیں اگر ایک آدھ اچھائی ہے بھی تو بہت ساری ان برائیوں میں سےجو میں نے پڑھی ہیں ان میں پائی جاتی ہیں ۔اور اس کی وجہ یہی ہے کہ توحید سے دور ہیں اور بدقسمتی سے بعض مسلمانوں کا بھی یہی حال ہے۔
پھر آپؓ نے فرمایا کہ خدا کا قرب پانے کے لیے طریقہ یہ ہے کہ’’ ہر حق دار کو اس کا حق دو۔‘‘ بڑی ضروری چیز ہے۔ ’’خدا نے اگر مال دیا ہے تو ملک و قوم کی خدمت اور کمزوروں اور غریبوں کی ترقی کے لیے اسے خرچ کرو۔ عورتوں کی عزت کرو اور ان کے حق ادا کرو۔ یتیموں کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھو اور ان کی خبر گیری کو اعلیٰ درجہ کی نیکی سمجھو۔ بیواؤں کا سہارا بنو۔ نیکیوں اور تقویٰ کو قائم کرو۔ انصاف اور عدل ہی نہیں بلکہ رحم اور احسان کو اپنا شعار بناؤ۔‘‘ صرف انصاف نہیں بلکہ رحم بھی ہونا چاہیے۔ احسان بھی ہونا چاہیے ۔یہ ایک مومن کی تعلیم ہے۔ ’’اس دنیا میں تمہارا آنا بیکار نہ جانا چاہیے۔ اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑو تا دائمی نیکی کا بیج بویا جائے۔ حق لینے میں نہیں بلکہ قربانی اور ایثار میں اصل عزت ہے۔‘‘ صرف حق لینے کی کوشش نہ کرو۔ قربانی اور ایثار بھی ضروری ہے۔ ’’پس تم قربانی کرو، خدا کے قریب ہو۔ خدا کے بندوں کے مقابل پر ایثار کا نمونہ دکھاؤ تاخدا تعالیٰ کے ہاں تمہارا حق قائم ہو۔‘‘
یہ وہ نشانیاں ہیں جوحقیقی توحید پر قائم ہونے والے کے لیے ہیں۔ ’’بے شک ہم کمزور ہیں مگر ہماری کمزوری کو نہ دیکھو۔ ‘‘یہ بھی آپؐ نے اعلان فرمایا۔ ’’آسمان پر سچائی کی حکومت کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے عدل کا ترازو رکھا جائے گا اور انصاف اور رحم کی حکومت قائم کی جائے گی جس میں کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ مذہب کے معاملہ میں دخل اندازی نہ کی جائے گی۔ عورتوں اور غلاموں پر جو ظلم ہوتے رہے ہیں وہ مٹا دیئے جائیں گے اور شیطان کی حکومت کی جگہ خدائے واحد کی حکومت قائم کردی جائے گی۔
جب یہ تعلیمیں بار بار مکہ والوں کو سنائی جانے لگیں اور شریف الطبع لوگوں کی رغبت اسلام کی طرف بڑھنے لگی تو ایک دن مکہ کے سردار جمع ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ آپ ہمارے رئیس ہیں اور آپ کی خاطر ہم نے آپ کے بھتیجے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کچھ نہیں کہا۔ اب وقت آگیا ہے کہ آپ کے ساتھ ہم آخری فیصلہ کریں یا تو آپ اسے سمجھائیں اور اس سے پوچھیں کہ آخر وہ ہم سے چاہتا کیا ہے ۔اگر اس کی خواہش عزت حاصل کرنے کی ہے تو ہم اسے اپنا سردار بنانے کے لیے تیار ہیں۔ اگر وہ دولت کا خواہش مند ہے تو ہم میں سے ہر شخص اپنے مال کا کچھ حصہ اس کو دینے کے لیے تیار ہے۔ اگر اسے شادی کی خواہش ہے تو مکہ کی ہرلڑکی جو اسے پسند ہو اس کا نام لے ہم اس سے اس کا بیاہ کرانے کے لیے تیا ر ہیں۔ ہم اِس کے بدلہ میں اس سے کچھ نہیں چاہتے اور کسی بات سے نہیں روکتے۔ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے بتوں کو بُرا کہنا چھوڑ دے۔ وہ بیشک کہے خدا ایک ہے مگر یہ نہ کہے کہ ہمارے بت بُرے ہیں۔ اگرو ہ اتنی بات مان لے تو ہماری اس سے صلح ہو جائے گی۔ آپ اسے سمجھائیں اور ہماری تجویز کےقبول کرنے پر آمادہ کریں۔ ورنہ پھر دو باتوں میں سے ایک ہو گی یا آپ کو اپنا بھتیجا چھوڑنا پڑے گا یا آپ کی قوم آپ کی ریاست سے انکار کر کے آپ کو چھوڑ دے گی۔ ابوطالب کے لیے یہ بات نہایت ہی شاق تھی۔ عربوں کے پاس روپیہ پیسہ تو تھوڑا ہی ہوتا تھا ان کی ساری خوشی ان کی ریاست میں ہوتی تھی۔ رؤساء قوم کے لیے زندہ رہتے تھے اور قوم رؤساء کے لیے زندہ رہتی تھی۔ یہ بات سن کر ابو طالب بیتاب ہو گئے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا اور کہا کہ اے میرے بھتیجے! میری قوم میرے پاس آئی ہے اور اس نے مجھے یہ پیغام دیا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے مجھے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر تمہارا بھتیجا ان باتوں میں سے کسی ایک بات پر بھی راضی نہ ہو تو پھر ہماری طرف سے ہر ایک قسم کی پیشکش ہو چکی ہے’’ بتا دیا ہے ہم نے کہ کیا کچھ دینے کو تیار ہیں۔ ’’اگر وہ اس پر بھی اپنے طریقہ سے باز نہیں آتا تو آپ کا کام ہے کہ اسے چھوڑ دیں اوراگر آپ اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہ ہوں تو پھر ہم لوگ آپ کی ریاست سے انکار کر کے آپ کو چھوڑ دیں گے۔ جب ابو طالب نے یہ بات کی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ‘‘ابوطالب کی آنکھوں میں۔ ’’ان کے آنسوؤں کو دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے اور آپؐ نے فرمایا :
اے میرے چچا !مَیں یہ نہیں کہتا کہ آپ اپنی قوم کو چھوڑ دیں اور میرا ساتھ دیں۔ آپ بیشک میرا ساتھ چھوڑ دیں اور اپنی قوم کے ساتھ مل جائیں۔ لیکن مجھے خدائے وَحْدَہُ لاشریک کی قَسم ہے کہ اگر سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کر کھڑا کر دیں تب بھی مَیں خد ا تعالیٰ کی توحید کا وعظ کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔ میں اپنے کام میں لگا رہوں گا جب تک خد ا مجھے موت دے ۔
آپ اپنی مصلحت کو خود سوچ لیں۔ یہ ایمان سے پُر اور یہ اخلاص سے بھر ا ہوا جواب ابو طالب کی آنکھیں کھولنے کےلیے کافی تھا۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ گو مجھے ایمان لانے کی توفیق نہیں ملی لیکن اِس ایمان کا نظارہ دیکھنے کی توفیق ملنا ہی سب دولتوں سے بڑی دولت ہے اور آپ نے کہا اے میرے بھتیجے! جا اور اپنا فرض ادا کرتا رہ۔ قوم اگر مجھے چھوڑنا چاہتی ہے تو بیشک چھوڑ دے۔ میں تجھے نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘
(دیباچہ تفسیر القرآن ۔ انوار العلوم جلد 20۔ صفحہ 199تا 202)
توحید کے قیام کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ کی طرف سے ہر قسم کے ظلم و زیادتی کو برداشت کیا اور یہی روح آپؐ نے اپنے صحابہؓ میں بھی پیدا فرمائی
جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی لکھا ہے۔
انہوں نے اپنی گردنیں کٹوائیں جس کا نتیجہ یہ تھا کہ انہوں نے اَحد اَحد کا اعلان کرتے ہوئے ظلم برداشت کیا اور اپنی جانیں قربان کیں۔
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جزء 3 صفحہ 175 ’’بلال بن رباح ‘‘ وجزء8 صفحہ 207’’سمیہ بنت خباط‘‘دارالکتب العلمیۃ بیروت)
کفار مکہ کی تمام برائیاں جن کا ذکر ابھی ہوا ہے ان کی توحید سے دوری کی وجہ سے تھیں اور شرک کی وجہ سے تھیں۔ آج بھی جن قوموں اور جن لوگوں میں یہ برائیاں ہیں جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہاوہ توحید سے دوری کی وجہ سے ہی ہیں۔ پس ایسے میں
ہمارا کام ہے کہ توحید کا اعلان کرتے رہیں اور جہاں اس توحید کے پیغام کو پہنچائیں وہاں اپنی روحانی اور اخلاقی حالتوں میں بھی ایک واضح تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کریں تبھی ہم حقیقی توحید کے ماننے والے اور خدا تعالیٰ کے حکموںپر چلنے والے کہلا سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 20؍فروری 2026ء




