متفرق مضامین

حقیقی عید منانے کا طریق اور نماز عید سے قبل فطرانہ کی ادائیگی

ادائیگی عید سے قبل فطرانہ یا عید فنڈ ادا کیا جاتا ہے۔

فطرانہ کی تعریف:وہ امدادی رقم جو کہ ایک مسلمان اپنے غریب مسلمان کو نماز عید سے پہلے دیتے ہیں تا کہ وہ بھی عید کی خوشیاں منا سکیں۔

ادائیگی فطرانہ:فطرانہ ہر مسلمان مرد و عورت و بچہ پر فرض ہے، بچہ چاہے ایک دن کا ہی کیوں نہ ہو۔

فطرانہ رمضان کے داخل ہوتے ہی ہر مسلمان پر واجب ہوجاتا ہے۔ تاہم اس کی ادائیگی عید کی نمازسے قبل یکم شوال تک ضروری ہے۔ بہتر یہی سمجھا جاتا ہے کہ غرباء کو عید کی تیاری کے ليے پہلے( دوران رمضان) فطرانہ دے دیا جائے تا کہ وہ عید کی خوشیوں میں برابر کے شریک ہو سکیں۔ حضرت ابن عمرؓ کے متعلق آتا ہے کہ آپ عید سے ایک یا دو دن قبل فطرانہ ادا فرماتے تھے۔

فطرانہ کی شرح:فطرانہ کے طور پر ہر فرد پر ایک صاع کھجور یا ان کے برابر قیمت ادا کرنی مقرر ہے۔ صاع عربوں میں ماپ کا ایک پیمانہ ہے جس میں د و رِطل ہوتے ہیں۔ اس طرح ایک صاع میں کل آٹھ پاؤنڈ ہوئے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول خداﷺ نے صدقۃ الفطر ایک صاعکھجور یا جَو ہر آزاد و غلام، ہرمرد و عورت اور ہرچھوٹے بڑے مسلمان پر فرض فرمایا تھا اورحکم دیا تھا کہ لوگوں کے عید کی نماز کے ليے جانے سے پہلے یہ ادا کیا جائے۔

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ جو، کھجور، منقہ وغیرہ کا ایک صاع صدقۃ ا لفطر میں ہر کس کی طرف سے دیا جاتا تھا۔

ہماری جماعت میں حالات کے مطابق گندم کی جوقیمت ہو اس لحاظ سے ایک صاع یعنی قریباً دو سیر گندم کی قیمت کا انداز ہ کر کے رقم معین کر دی جاتی ہے۔ اور اس کی ادائیگی کا اعلان کر دیا جاتاہے۔

عید کے معانی:عید کے لفظی معانی بار بار لوٹ کر آنے والی کے ہیں۔ اسلام میں اس لفظ کو یوم الفطر اور یوم الاضحی کے ليے استعمال کیا جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ یہ دن کھانے پینے اور خوشی منانے کا دن ہے۔ عام محاورے میں بھی یہ لفظ مستعمل ہے جیسے کہتے ہیں آج تو عید کرا دی یا عید ہو گئی وغیرہ۔

مومن ہر سال دو عیدیں مناتے ہیں۔ اس میں خدا تعالیٰ نے انسان کو نفس اور مال کی قربانی کی طرف متوجہ کیا ہے اور پھر ان قربانیوں کے بعد خوشیوں کے اظہار کا بھی خدا کی طرف سے حکم ہے کیونکہ یہ عیدیں خدا کے حکم سے منائی جاتی ہیں۔

عید الفطر کا آغاز:عید الفطر کو میٹھی عید کہا جاتا ہے۔ بعض لوگ سویاں والی عید بھی کہتے ہیں۔ یہ عید رمضان المبارک کے روزوں کے بعد یکم شوال کو منائی جاتی ہے۔

ماہ رمضان کے گزرنے پر یکم شوال کو روزوں کی برکات حاصل کرنے کی توفیق پانے کی خوشی میں عیدالفطر منائی جاتی ہے۔ نماز عید کا اجتماع ایک رنگ میں مسلمانوں کی ثقافت اور دینی عظمت کا مظہر ہوتا ہے۔ اس ليے مرد وعورت اوربچے سب اس میں شامل ہوتے ہیں۔

عموماً عیدالفطر والے دن خواتین گھروں میں صبح کے وقت سویاں بناتی ہیں اور ہمسایوں، رشتہ داروں کے گھروں میں دی جاتی ہیں۔عموماً یہ میٹھا بچے دینے جاتے ہیں اور جس گھر میٹھا دینے جاتے ہیں وہ عیدی کے طور پر کچھ رقم بچوں کو دیتے ہیں۔

عید کی نماز:اچھے کھانے، خوبصورت کپڑے اورکھیل کود تو ظاہری خوشی کے اظہارکے طریقے ہیں۔ ایک مسلمان کی حقیقی خوشی اور سچی عید تو یہ ہے کہ اس کاخدا اس سے راضی ہوجائے۔ اس ليے ایک مہینے کے روزے رکھنے کے بعد عید کے روز مسلمان خدا تعالیٰ کے شکرانے کے طورپر دو رکعت نماز عید بھی ادا کرتے ہیں۔ عید کی دو رکعت نماز کسی بھی کھلے میدان یا عیدگاہ میں زوالِ شمس سے پہلے پڑھی جاتی ہے۔ حسب ضرورت عید کی نماز جامع مسجد میں پڑھی جا سکتی ہے۔ عید کی نماز باجماعت ہی پڑھی جا سکتی ہے اکیلے جائز نہیں۔(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۳۰؍جنوری ۱۹۹۸ء تا۵؍فروری ۱۹۹۸ء)

عید کی خوشی: حضرت امّ عطیہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ ہمیں ارشاد فرماتے تھے کہ ہم عیدین کے دن سب لوگ عورتیں، بچے عید پر جائیں۔ یہاں تک کہ حائضہ عورتوں کو بھی عید اور اس کی دعامیں شامل ہونے کاحکم ہوتا البتہ وہ نمازمیں شامل نہیں ہوتی تھیں۔ بلکہ اتنا تاکیدی ارشاد اس بارے میں فرمایا کہ اگر کسی لڑکی کے پاس اوڑھنی نہ ہو تو وہ کسی سہیلی سے مانگ لے اورعید پر ضرور جائے۔ (بخاری و مسلم، کتاب العیدین)(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۳۰؍جنوری ۱۹۹۸ء تا۵؍فروری ۱۹۹۸ء)

آنحضرتﷺ کا عید منانے کا طریقہ:عید کے اس بابرکت تہوارکے ليے بھی آنحضرت ﷺ نے آداب سکھائے اور ہدایات دیں۔ عید کے دن آنحضرت ﷺ خاص صفائی کا اہتمام فرماتے۔ غسل فرماتے، مسواک اورخوشبو کا استعمال کرتے اور صاف ستھرا لباس زیب تن فرماتے۔ اگر میسر ہو تو نئے کپڑے پہنتے۔ مسلمانوں کے اس قومی و مذہبی تہوارمیں شمولیت کے ليے آنحضرت ﷺ خاص تحریک فرماتے تھے۔

آنحضرت ﷺ عیدالفطر کے روز صبح کچھ طاق عدد میں کھجوریں تناول فرما کر عید پر جاتے تھے۔ البتہ عیدالاضحی کے دن آپ قربانی کے گوشت سے کھانا شروع کرتے تھے۔ آپؐ کا معمول تھا کہ ایک راستے سے عیدگاہ تشریف لاتے اور دوسرے راستے سے واپس تشریف لے جاتے تاکہ مسلمانوں کے تہوار کی عظمت لوگوں پرظاہر ہو اورباہم ملاقات اورخوشی کے زیادہ مواقع میسر آ ئیں اوردونوں راستوں پر آباد لوگ آپؐ کی برکت حاصل کر سکیں۔

عید کے دن کھیل او ر ورزشی مقابلے بھی ہوتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ عید کے موقع پر اہل حبشہ ڈھال اور برچھی سے اپنے کھیل اورمہارت کے فن دکھاتے۔ شاید میں نے آنحضرتؐ سے کہا یا آپؐ نے خود فرمایا کہ کیا ان کے کھیل کرتب دیکھنا چاہتی ہو؟ میں نے کہا ہاں! تب آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا اس طرح کہ میرا رخسار آپ کے رخسار کے ساتھ تھا۔ آپؐ کھیلنے والوں کا خوب حوصلہ بڑھاتے رہے۔ پھر میں خود ہی تھک گئی تو آپؐ نے مجھے فرمایا بس کافی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا اچھا تو جاؤ۔(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۳۰؍جنوری ۱۹۹۸ء تا ۵؍فروری ۱۹۹۸ء)

جماعت احمدیہ کی حقیقی عید:ہماری حقیقی عید اور سچی خوشی اس بات میں ہے کہ ساری دنیا ہمارے ساتھ مل کر خدا تعالیٰ کی تکبیر اور تحمید کے گیت گائے۔ پس اے خدا تو ہمیں اپنی آنکھوں سے وہ دن دکھا کہ ساری دنیا تیری تکبیر اور توحید اورحمد کے ترانوں سے گونجنے لگے۔ ہمارے پیارے امام ایدہ اللہ کی زیر قیادت ہم سب کو اس عظیم الشان عالمی مہم کے سلسلہ میں اپنے فرائض کی بطریق احسن بجا آوری کی توفیق بخش۔ لوگوں کے دلوں پر خود الہام فرما کہ وہ سچائی کو دیکھیں اور اسے قبول کریں۔ لَاالٰہَ اِلاَّ اللّٰہ وَحْدَہٗ لا شَرِیْکَ لَہٗ۔ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر۔(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۳۰؍جنوری ۱۹۹۸ء تا۵؍فروری ۱۹۹۸ء)

جہاں تک جماعت احمدیہ مسلمہ کا تعلق ہے تو ہماری عید کی خوشی اس وجہ سے ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے یہ توفیق بخشی کہ اُس کے حکم سے، اُس کی رضا کی خاطر روزے رکھیں۔ اس ليے آ ج ہمارا افطار کرنا بھی اُسی کے حکم کے تابع ہے۔ ہماری حقیقی خوشی خدا کے حکموں کی اطاعت و فرمانبرداری میں مضمر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عید کی خوشی میں ہم بعض دیگر مسلمانوں کی طرح فضول، لغو اور بیہودہ ناچ گانے کی مجالس یا پُرتعیش دعوتوں میں منہمک نہیں ہوتے بلکہ جیسا کہ خداتعالیٰ کا منشاء ہے ہماری توجہ خدا کی تکبیر و تحمید اور اس کے ذکر اور شکر کی طرف پہلے سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں مومنین سے ایسی ہی خوشی منانے کی توقع رکھی گئی ہے۔ چنانچہ جہاں رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم دیا گیا اور روزے سے متعلق مختلف احکامات بیان فرمائے گئے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰٮکُمۡ وَلَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ (البقرہ:۱۸۶) یعنی اس حکم کی غرض یہ ہے کہ تم ایک مقررہ عِدّت کو پورا کرو اور اس بات پر اللہ کی بڑائی کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی ہے اور تا کہ تم شکر کرو۔

ناراضگیاں ترک کردو:قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں صلح کے متعلق بہت سے احکامات ہیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ ’’لڑائی جھگڑوں میں کئی کئی مہینے بلکہ سالوں ناراضگیاں چلتی ہیں۔ لیکن ایک مومن کے ليے یہ حکم ہے کہ اس کو صلح کرنے میں جلدی کرنی چاہيے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے ليے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے۔ یعنی بول چال بند رکھے۔ بعض دفعہ حیرت ہوتی ہے یہ باتیں سن کر کہ قریبی رشتہ دار آپس میں بعض دفعہ مہینوں ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے اور جس بات پر لڑائی یا رنجش ہو وہ بالکل معمولی سی بات ہوتی ہے تو ایسے لوگوں کو ہمیشہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سامنے رکھنا چاہيے کہ اول تو لڑنا ہی نہیں ہے۔ اگر کوئی لڑائی ہو بھی گئی ہے، کوئی وجہ بن بھی گئی ہے تو تین دن سے زیادہ حکم نہیں ہے کہ کوئی مومن دوسرے مومن سے بات نہ کرے۔ ‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۷؍ستمبر۲۰۰۴ء)

پھر ایک روایت میں آتا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ جھگڑالو ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتاپس ہر احمدی کو چاہيے کہ تقویٰ اختیار کرے اور خداتعالیٰ کا پسندیدہ بننے کی کوشش کرے۔ آپس کے جھگڑوں اور لڑائیوں اور فسادوں کو ختم کریں۔ مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ ایک طرف تو ایمان لانے کا دعویٰ ہو اور دوسری طرف اپنے بھائی کے گناہ نہ بخشتا ہو۔ اس کی غلطیاں نہ معاف کر سکتا ہو۔ کیونکہ ایسے لوگ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ ترین شخص ہوں گے۔ (بخاری کتاب التفسیر باب وھو الد الخصام)

پھر کیوں نہ ہم اس خوشی کے دن اپنی رنجشوں کو ختم کرکے خدا تعالیٰ کا فیض پانے والے بنیں۔ ناراضگیاں ختم کرنے میں پہل کریں؟ بہت سی لڑائیوں کے پیچھے کوئی خاص وجہ ہوتی ہی نہیں بلکہ نسل در نسل چلتی جا رہی ہوتی ہیں اور بہت سی لڑائیاں صرف اس ليے چل رہی ہوتی ہیں کہ دلوں کے کینے دور نہیں ہوتے۔ پس صلح کرنے کی ضرورت ہے، دلوں کو صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ليے ہر ایک کو کینوں سے اپنے آپ کو صاف کرنا چاہيے۔

ناراضگیاں بھی لغویات ہیں:تو جیسا کہ میں [حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ]پہلے بھی خطبوں میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں، آپؑ نے یہاں بھی فرمایا کہ لغویات سے پرہیز کرو گے تو صلح کی بنیاد پڑے گی۔ کیونکہ یہ لغویات جو ہیں، یہ گناہ کی باتیں جو ہیں یہی باتیں ہیں جو صلح سے دور کرتی ہیں اور لڑائیوں کے قریب لاتی ہیں۔

اللہ جلشانہ یہ تعلیم فرماتا ہے وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ(الانفال:۱)، وَالصُّلْحُ خَیْرٌ (النسآء:۱۲۹)، وَاِنْ جَنَحُوْا للسِّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا(الانفال:۶۲)، وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ھَوْنًا (الفرقان:۶۴)، وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا (الفرقان:۷۳)، اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَاالَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(حٰمٓ السجدۃ: ۳۵)۔ یعنی آپس میں صلح کاری اختیار کرو، صلح میں خیر ہے۔ جب وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھک جاؤ۔ خدا کے نیک بندے صلح کاری کے ساتھ زمین پر چلتے ہیں اور اگر کوئی لغو بات کسی سے سنیں یا جنگ کا مقدمہ اور لڑائی کی تمہید ہو توبزرگانہ طور پر طرح دے کر چلے جاتے ہیں یعنی بچ کر نکل جاتے ہیں اور ادنیٰ ادنیٰ بات پر لڑنا نہیں شروع کر دیتے۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی۔ روحانی خزائن جلد۱۰صفحہ ۳۴۸-۳۴۹)(ماخوذ از خطبہ جمعہ ۱۷؍ستمبر ۲۰۰۴ء)

لہٰذا کوشش کریں کہ اس خوشی کے موقع پر دل بڑے کریں اور تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں۔ اور سلام میں پہل کریں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہی عید کی حقیقی خوشیاں حاصل کرنے والے ہوں گے۔

یاد رکھیں کہ صرف پیسہ نہ ہونا یا ضروریات زندگی کا پورا نہ ہونا ہی غربت میں نہیں آتا۔ بلکہ رحمی رشتوں کے ہوتے ہوئے ان سے دور رہنا بھی غربت کا ہی حصہ ہے۔ عید تو اپنے غریب بہن بھائیوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے کا نام ہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم ان احکامات پر عمل پیرا ہونے والے ہوں۔ آمین ثم آمین

(آمنہ نورین۔ جماعت میشیڈے، جرمنی)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button