مکتوب

مکتوبِ ایشیا (فروری تا مارچ ۲۰۲۶ء)

(ابو سدید)

بَرّ اعظم ایشیا کے تازہ حالات و واقعات کا خلاصہ

غزہ امن بورڈ ا کا پہلاجلاس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت واشنگٹن میں ہونے والا غزہ امن بورڈ کا پہلا اجلاس ۱۹؍فروری کو منعقد ہوا۔اس پلیٹ فارم کی کامیابی کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ آیا یہ واقعی ایک متوازن اور منصفانہ نقطۂ  نظر اختیار کرتا ہے یا نہیں؟

غزہ امن بورڈ کے اس پہلے اجلاس میں ۴۷؍ممالک کے نمائندگان شریک ہوئے جنہیں مخاطب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے آٹھ جنگیں رکوائیں، نویں جنگ خاتمے کے قریب ہے۔ ان میں بہت مشکل جنگیں بھی شامل تھیں۔ ان کے بقول ہم جو کر رہے ہیں وہ امن کے لیے ہے اس لیے اسے بورڈ آف پیس کا نام دیا ہے۔ پائیدار امن کے لیے یہ اہم فورم ہے۔ دنیا میں امن سے زیادہ کوئی اہم چیز نہیں۔ ہم غزہ کے لوگوں کے لیے بھی روشن مستقبل چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کا قائم کردہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کے معاملات پر بھی نظر رکھے گا تاکہ وہ درست طریقے سے کام کرے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ حماس ہتھیار چھوڑ دے گی اور غزہ اب مزید انتہاء پسندی کا گڑھ نہیں بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ غزہ میں فوجی اڈہ بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔وزیر اعظم پاکستان نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں امن ہمارا مشن ہے۔ تنازعات کے حل کے لیے صدر ٹرمپ کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے جنوبی ایشیا کو بڑی تباہی سے بچایا۔ دعا ہے کہ غزہ میں پائیدار امن کے حصول میں کامیابی حاصل ہو۔ اُن کا کہنا تھا کہ آزاد، خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے اور یہ فلسطینیوں کا حق ہے۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوںکو ان کا حق دیا جائے اور غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بند ہونی چاہئیں۔ جنگ بندی محض کاغذی معاہدہ نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کی ضمانت ہونی چاہیے۔ غزہ کے نہتے شہریوں پر جاری مظالم نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہزاروں بے گناہ جانوں کا ضیاع اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی اس امر کی متقاضی ہے کہ عالمی طاقتیں وقتی سیاسی مفادات سے بالا تر ہو کر انصاف پر مبنی حل کی طرف پیش قدمی کریں۔ غزہ امن بورڈ کا کوئی متبادل نہیں اور یہی فورم خطے میں استحکام لا سکتا ہے۔

یہ تمام پیش رفت بظاہر تو سفارتی کامیابی کی عکاس ہے، مگر اس کے پس منظر میں پوشیدہ تقاضوں اور ممکنہ دباؤ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ کی یہ خواہش کہ غزہ میں ایک نیا سکیورٹی ڈھانچہ قائم کیا جائے اور حماس کو اسرائیلی فوجوں کے انخلا سے پہلے غیر مسلح کر دیا جائے، خطّے میں طاقت کے توازن کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔ اگر اسرائیلی افواج کی موجودگی برقرار رہتی ہے اور فلسطینیوں کو مکمل خودمختاری نہیں ملتی تو یہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ غزہ امن بورڈ کو اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ اقوام متحدہ ہی وہ عالمی فورم ہے جس کے چارٹر اور قراردادیں بین الاقوامی قانون کی بنیاد ہیں۔ متعدد مغربی یورپی ممالک نے اس نئے بورڈ میں شرکت سے گریز کیا ہے، جو اس امر کی علامت ہے کہ عالمی سطح پر اس کی قانونی اور اخلاقی حیثیت پر سوالات موجود ہیں۔

چین کی سیاسی و اقتصادی پوزیشن مزید مستحکم

فروری ۲۰۲۶ء میں چین کی صورتحال عالمی سیاست، معیشت، سفارت کاری اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں خبروں کا مرکز رہی۔ اس مہینے میں چین نے اپنی نئی پالیسیوں کے تحت معیشت کو ’’اعلیٰ معیار کی ترقی‘‘ اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی طرف لے جانے پر زور دیا کیونکہ ۲۰۲۶ء سے اس کے۱۵ ویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز بھی ہوا ہے جس میں صنعت، جدت اور صنعتی تجدید کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اقتصادی لحاظ سے چین کا تجارتی اثر و رسوخ بدستور مضبوط رہا جبکہ عالمی منڈیوں میں چینی مصنوعات کی برآمدات اور صنعتی پیداوار پر بھی بحث ہوتی رہی۔ خارجہ تعلقات کے محاذ پر فروری میں چین کی سفارتی سرگرمیاں تیز رہیں، جرمنی کے چانسلر نے بیجنگ کا اہم دورہ کیا اور صدر شی جن پنگ سے تجارت، عالمی مقابلے اور اقتصادی تعاون پر مذاکرات کیے۔ اگرچہ یورپ نے صنعتی زائد پیداوار اور تجارتی عدم توازن پر خدشات بھی ظاہر کیے۔ اسی دوران چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاملات پر تناؤ برقرار رہا اور بیجنگ نے واضح کیا کہ وہ تجارتی معاہدوں کی پاسداری کر رہا ہے جبکہ مزید ٹیرف یا تحقیقات کی صورت میں اپنے مفادات کا دفاع کرے گا۔ اس ماہ میں چین نے عالمی روابط بڑھانے کے لیے ویزا پالیسی میں بھی نرمی کی اور متعدد ممالک کے شہریوں کو ۳۰؍دن تک ویزا فری داخلے کی سہولت دینے کا اعلان کیا، جس کا مقصد سیاحت، تجارت اور بین الاقوامی تبادلے کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ چین نے لاطینی امریکہ، یورپ اور دیگر خطّوں میں سرمایہ کاری اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کے ذریعے اپنا اقتصادی و سیاسی اثر مزید بڑھانے کی کوششیں جاری رکھیں۔

علاقائی اور سیکیورٹی امور میں بھی چین خبروں میں رہا، جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات اور فلپائن کے ساتھ سفارتی کشیدگی کی رپورٹس سامنے آئیں جبکہ دفاعی میدان میں نئی فوجی اور اسٹریٹجک صلاحیتوں کی ترقی سے متعلق عالمی سطح پر بحث جاری رہی۔ انفراسٹرکچر کے شعبے میں چین نے بڑے منصوبوں، خصوصاً نئی نہری اور تجارتی راہداری منصوبوں پر پیش رفت کی جو ایشیا کے ساتھ تجارت کو مزید مضبوط بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ مجموعی طور پر فروری ۲۰۲۶ء چین کے لیے معاشی اصلاحات، عالمی سفارت کاری، تجارتی مذاکرات، ویزا پالیسی میں نرمی، دفاعی پیش رفت اور عالمی اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کے حوالے سے ایک اہم اور سرگرم مہینہ ثابت ہوا، جس میں بیجنگ نے عالمی سطح پر اپنی سیاسی و اقتصادی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش جاری رکھی۔

بنگلہ دیش انتخابات ۔ بی این پی کی واضح جیت

۱۳؍فروری کو ہونے والے بنگلہ دیش کے انتخابات میں بھارت مخالف اور پاکستان نواز خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی(BNP) نے بھاری مارجن کے ساتھ کامیابی حاصل کر لی ہے۔ جبکہ بنگو بندھو شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ پابندی لگنے کے باعث انتخابی عمل میں شریک نہیں تھی اور انتخابی ماہرین کا گمان یہی تھا کہ عوامی لیگ کے ووٹرز گھروں سے نہیں نکلیں گے تاہم انتخابی عمل میں ۶۵؍فیصد ٹرن آؤٹ رہی۔ ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں تشکیل پانے والی بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے بنگلہ دیش کی پالیسی یکسر تبدیل کردی اور اس کی جانب سے پاکستان کے لیے ماحول سازگار ہوگیا۔

غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق خالدہ ضیاء کی جماعت اور اس کی اتحادی جماعتوں نے مجموعی ۲۱۲؍نشستیں لے کر واضح برتری حاصل کی ۔

بی این پی کے قائدین کا کہنا ہے کہ وہ دو تہائی سے زائد اکثریت کے ساتھ حکومت تشکیل دیں گے۔ پارٹی ترجمان کے مطابق ووٹرز کا جوش و خروش قابل دید تھا۔بی این پی کے سربراہ اور متوقع وزیراعظم طارق رحمان نے امن عامہ کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا ہے اور خواتین کی فلاح پر خصوصی توجہ دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

عالمی بینک کا معاشی مضبوطی کے لیے مشورہ

صدر عالمی بینک اجے بنگا نے پاکستان کی معاشی صورتحال اور مستقبل کے چیلنجز پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان کو اگلے دس سال میں معاشی استحکام حاصل کرنا ہے تو اسے کم از کم تین کروڑ نئی ملازمتیں پیدا کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق پاکستان میں ہر سال پچیس سے تیس لاکھ نئی ملازمتیں ناگزیر ہیں، کیونکہ نوجوان آبادی میں تیزی سے اضافے کے ساتھ اگر روزگار کے مواقع پیدا نہ کیے گئے تو بے روزگاری، بدامنی اور نقل مکانی جیسے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ عالمی بینک کے صدر نے واضح کیا کہ ہمارا ادارہ پاکستان کے ساتھ سالانہ چار ارب ڈالر کی شراکت داری جاری رکھے گا تاکہ ترقیاتی منصوبوں اور اصلاحات کو تقویت مل سکے۔ صدر عالمی بینک نے بجلی کے شعبے کو پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں نقصانات سرمایہ کاری اور مجموعی معاشی ترقی کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ عالمی بینک نے نہ صرف مسائل کی درست نشاندہی کی ہے بلکہ ان کا قابلِ عمل حل بھی بتایا ہے۔ اب یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ ان مشوروں کو سنجیدگی سے اپنائے، درست سمت میں اصلاحات کرے اور ایک ایسی معیشت کی بنیاد رکھے جہاں روزگار کے مواقع بڑھیں اور بےروزگاری کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملے

امریکہ اور اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایران کے خلاف مشترکہ جنگی کارروائی کے دوران ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت کئی اہم قائدین کو ہلاک کر دیا۔ امریکی و اسرائیلی حملوںمیں ایرانی قائدین کے علاوہ اہم عسکری قیادت کو بھی ہلاک کیا گیا ہے جس میں پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ جنرل محمد پاکپور بھی شامل ہیں۔ اس امریکی و اسرائیلی کارروائی نے مشرقِ وسطیٰ کو ایسی نئی جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے جس کے قابلِ قیاس مستقبل میں ختم ہونے کے امکانات دکھائی نہیں دیتے اور اس کے اثرات صرف اس خطّے تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب عمان کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کا سلسلہ بھی چل رہا تھا۔

اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف بڑا فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری شدہ اپنے ویڈیو بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہمارا مقصد ایرانی حکومت سے آنے والے خطرات کو ختم کرکے امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔ ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ہم ایران کے میزائل نظام اور میزائل انڈسٹری اور بحریہ تباہ کردیں گے، ہم یقینی بنائیں گے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے، امریکی واسرائیلی حملوں میں ایران کے ۳۱؍میںسے ۲۴؍صوبوں پر حملے کیے گئے۔ دارالحکومت تہران کے مضافات میں میزائل حملوں کے بعد دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ ایران کی طرف سے تصدیق کی گئی ہے کہ اس کارروائی میں دو سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سو سے زائد بچیاں بھی شامل ہیں۔ یہ بچیاں ایران کے جنوب مشرقی صوبے ہرمزگان میں واقع ایک سکول پر حملے میں فوت ہوئیں۔ اس حملے میں درجنوں بچیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ اس علاقے میں ایران کا کونارک بحری اڈا بھی موجود ہے جو ایران کے چار اہم بحری اڈوں میں سے ایک ہے۔

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی طرف سے خطّے میں موجود امریکی اڈّوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ آبنائے ہرمز کو بند کردیا گیا ہے۔ ایران نے اب تک اردن، بحرین، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اڈّوں پر میزائل داغے ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق، ایران نے متحدہ عرب امارات میں الدفرا ائیربیس اور بحرین میں بحری ائیربیس کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔ خلیجی ممالک کی طرف سے ایران کی امریکی اڈّوں پر کارروائیوں کو اپنے اوپر حملے قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں سعودی عرب اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے جبکہ پاکستان اور ترکی نے بھی اس سلسلے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایرانی فوج اس دن کے لیے تیار تھی، ایران کے خلاف ٹرمپ اور نیتن یاہو کی جنگ ناجائز اور غیرقانونی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی فوج جارح کو ایسا سبق سکھائے گی جس کا وہ حق دار ہے۔ اسرائیلی امریکی حملوں میں جو بھی شامل ہے وہ ایرانی فوج کا جائز ہدف ہے۔ ایران اپنا دفاع جاری رکھے گا۔ ایرانی مسلح افواج ہروقت تیار ہیں۔ ایران نے اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ کو ایک مراسلہ بھی بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جارحیت مکمل طور پر رکنے تک حق دفاع کو استعمال کرتے رہیں گے۔ امریکی اور اسرائیلی فوجی اڈے، تنصیبات اور اثاثے ہدف ہوں گے۔

تازہ خبروں کے مطابق ایران نے اسرائیل پر متعدد میزائل حملے کیے جس کے نتیجے میں املاک کو شدید نقصان پہنچا ۔ رپورٹس کے مطابق، تل ابیب، بیت المقدس اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بھی میزائل حملے کیے گئے جس کے بعد سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو بنکروں میں منتقل کیا گیا۔ اسی طرح، منامہ، دوحہ اور ابوظہبی میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ علاوہ ازیں، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بھی امریکی اڈّوں پر ایران کی طرف سے حملے کیے گئے۔ ایران نے ابوظہبی پر ڈرون حملوں میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب عمارت کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ابوظہبی میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب عمارت میں اسرائیلیوں کی رہائش تھی۔ اسی طرح، قبرص میں حزب اللہ نے برطانوی ائیربیس پر ڈرون حملہ کر دیا۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button