یورپ (رپورٹس)

لجنہ اماءاللہ جارجیا کا دوسرا نیشنل پیس سمپوزیم ۲۰۲۶ء

مکرمہ ہبة الحئی سعدیہ عطاء صاحبہ نیشنل سیکرٹری تبلیغ لجنہ اماءاللہ جارجیا تحریر کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے لجنہ اماءاللہ جارجیا کا دوسرا نیشنل پیس سمپوزیم ’’خواتین اور بین المذاہب ہم آہنگی ‘‘ کے مرکزی موضوع پر مورخہ ۸؍فروری ۲۰۲۶ء کو تبلیسی، جارجیا کے ہوٹل میں منعقد ہوا۔

ممبرات لجنہ اماء اللہ جارجیا نے ۷۰؍شرکاء کا خیرمقدم کیا جن میں ۵۶؍غیر از جماعت مہمان شامل تھے۔ یہ مہمان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور پیشوں سے تعلق رکھتے تھے جن میں مختلف مذاہب کے راہنما، جرمن اور قطری سفارت خانوں کے نمائندگان، صحافی، سیاستدان، ماہرین تعلیم، فلاحی اداروں کے نمائندگان اور مقامی کمیونٹی کے افراد شامل تھے۔ مہمانوں کو اسلامی نمائش کا دورہ کروایا گیا اور انہیں جماعتی کتب کے سٹال سے جارجین، انگریزی، روسی اور عربی زبانوں میں لٹریچر دیکھنے کا موقع بھی ملا۔

تقریب کا آغاز شام تقریباً ساڑھے چار بجے تلاوت قرآن کریم و ترجمہ سے ہوا۔ اس کے بعد جماعت احمدیہ اور لجنہ اماء اللہ کا مختصر تعارف پیش کیا گیا اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی عالمی سطح پر امن کے لیے کی جانے والی کوششوں پر مشتمل ایک مختصر ویڈیو دکھائی گئی۔

تقریب میں انٹرنیشنل ویمنز ایسوسی ایشن کی صدر مکرمہ ماریہ فشر صاحبہ کے پیغام خیرمقدم، جارجیا کی ایوینجیلیکل بیپٹسٹ چرچ کی بشپ رسودان گوتسیریدزے کے پیغام اور جرمن سفارت خانے کی ثقافتی اتاشی ربیکا لنہوفکے کلمات کے بعد ان پینل مقررین کی تقاریر اس شام کی خاص بات تھی: محترمہ پادری ایرینا سولی صاحبہ (ایوینجیلیکل لوتھرن چرچ جارجیا)، محترمہ ایلونہ لیوینٹس صاحبہ، پروگریسو جوڈازم سنٹر جارجیا، ڈاکٹر تمار گردزیلیدزے، پروفیسر برائے مذہبیات، الیا اسٹیٹ یونیورسٹی جارجیا اور محترمہ خولہ مریم ہیوبش صاحبہ، جماعت احمدیہ کی ممبر اور جرمن مسلم صحافی۔

ایک مختصر تاثراتی نشست کے بعد عشائیہ پیش کیا گیا۔ عشائیہ کے دوران مہمانوں کو باہمی گفتگو، خیالات کے تبادلے اور سوالات پوچھنے کا موقع ملا۔ گفتگو کے دوران جن موضوعات پر زیادہ سوالات ہوئے ان میں یہ سوال شامل تھے: کیا مسلمان خواتین کے لیے پردہ لازمی ہے؟ اسلام میں مرد و عورت کی مساوات، کیا ایسے پروگراموں کے ذریعے امن قائم کیا جا سکتا ہے؟ مسیح ہندوستان میں، حضر ت مسیح موعودؑ کا تعارف، لجنہ اماء اللہ جیسی تنظیم کی کیا ضرورت ہے اور کیا اسلام دیگر مذاہب کو رد کرتا ہے؟

خصوصی شکریہ لجنہ اماء اللہ جرمنی کا جنہوں نے تین لجنہ ممبرات پر مشتمل وفد بھیج کر سمپوزیم کے انعقاد میں مدد فراہم کی۔

مہمانان کے تاثرات: Mrs. Maya Rizhvadze نے کہا:’’بطور جارجین مسلمان خاتون، یہ سمپوزیم میرے لیے بہت حوصلہ افزا تھا۔ اس سمپوزیم نے مختلف مذاہب کے درمیان پُل بنانے کا عملی نمونہ پیش کیا۔‘‘ Mrs. Natia Kodiashvili نے کہا:’’یہ میرا پہلا سمپوزیم ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ بہت اہم ہے کیونکہ ہمیں امن کی ضرورت ہے۔‘‘ Mrs. Nestan Ananidze، جو جارجین انسانی حقوق کی وکیل ہیں، نے کہا: ’’تقاریر متاثر کن تھیں اور میرے لیے یہ ایک محفوظ ماحول تھا جہاں ہم اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے تھے۔‘‘Mrs. Ilona Levinets، مقررہ، نے کہا:’’میں یہاں جارجیا کی پیس synagogue کی رکن ہوں۔ آج کا ماحول بہت خوشگوار تھا اور گھر جیسا محسوس ہو رہا تھا۔ ہر ایک کو اظہار کا موقع ملا۔ ‘‘Dr. Tamar Grdzelidze نے کہا:’’مختلف مذاہب کی خواتین کو اکٹھا دیکھنا دلچسپ اور حوصلہ افزا تھا۔ یہ بھی درست ہے کہ مردوں کی عدم موجودگی میں خواتین کو اظہار کی زیادہ آزادی ملتی ہے۔‘‘Mrs. Maria Fischer نے کہا:’’مجھے یہ بات پسند آئی کہ قرآن کریم کے ان حصوں کی وضاحت کی گئی جو عام طور پر دوسروں کے لیے واضح نہیں ہوتے۔ میں اس بات کی قدر کرتی ہوں کہ خواتین کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ میں چند سال قبل جنرل پیس سمپوزیم میں بھی شریک ہوئی تھی، مگر یہ مختلف تھا کیونکہ یہ خواتین کے لیے خواتین نے منعقد کیا تھا۔ ‘‘

اللہ تعالیٰ لجنہ اماء اللہ جارجیا کو اسلام کی اشاعت میں کامیابی عطا فرمائے اور لوگوں کے دل اسلام کی خوبصورت تعلیمات کے لیے کھول دے۔ آمین

(رپورٹ:ہارون احمد عطاء۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ مالی کے ریجن کیتا (Kita) میں گیارھویں ریجنل جلسہ سالانہ کا بابرکت انعقاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button