نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۸؍فروری ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم چودھری عبدالرزاق گوندل صاحب ابن مکرم منشی مہتاب دین صاحب (آف چک نمبر 99 شمالی ضلع سرگودھا۔ حال یو کے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرم چودھری عبدالرزاق گوندل صاحب ابن مکرم منشی مہتاب دین صاحب (آف چک نمبر 99 شمالی ضلع سرگودھا۔ حال یوکے)

14؍فروری2026ء کو 94 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے گھر میں احمدیت آپ کے والد کے ذریعہ آئی جنہوں نے سیالکوٹ میں طاعون کے بارہ میں ایک پمفلٹ پڑھنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں خط لکھ کر بیعت کی سعادت حاصل کی۔ انہیں طاعون کا پھوڑابھی نکلا ہوا تھا لیکن بیعت کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رحم اور فضل سے انہیں شفا دی۔ مرحوم کوچک 99 شمالی میں مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق ملی۔ مرکزی عہدیداروں کا بہت احترام کرتے اور ان کے آنے پربڑے شوق اور جذبہ کے ساتھ خدمت کیا کرتے تھے۔آپ صوم وصلوٰۃ کے پابند،خلافت کے ساتھ گہرا عقیدت کا تعلق رکھنے والے ایک مخلص اور باوفا انسان تھے۔ لازمی چندوں کے علاوہ حسب توفیق دیگر مالی تحریکات میں بھی حصہ لیا کرتے تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں اورتین بیٹے اور بہت سے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔ مرحوم کے ایک بیٹے مکرم زاہد شفیق صاحب کئی سالوں سے جلسہ سالانہ یوکے پر بطور ناظم سمعی و بصری خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔ آپ مکرم مبشر احمد گوندل صاحب (کارکن امیر صاحب آفس یوکے) کے کزن تھے۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرم راؤ عبدالجبار خان صاحب (آف ربوہ)

19؍نومبر 2025ء کو78 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے والد مکرم راؤ عبد الرازق خان صاحب کے ذریعہ ہوا جنہوں نے خود تحقیق کر کے 1932ء میں بیعت کی تھی۔ آپ کے والد کا تعلق کا ہنورضلع روہتک سے تھا۔ پارٹیشن کے بعد آپ اپنے والد کے ساتھ پھلروان ضلع سرگودھا میں آکر آباد ہو گئے۔ 1974ء کے سخت حالات میں خاندان کی مخالفت کا بڑی جرأت اور بہادری سے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ تجارت کے سلسلہ میں چند سال بحرین میں مقیم رہے۔ اس دوران آپ کو حج بیت اللہ کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ بچوں کو ہمیشہ نظام جماعت اور خلافت سے مضبوط تعلق رکھنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، تہجد گزار،بڑے خوش مزاج، خلافت سے بے پناہ محبت رکھنے والے ایک مخلص انسان تھے۔ چندوں کی ادائیگی اور دیگر مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔خدمت خلق کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ اکثر خاموشی سے یتیموں، بیواؤں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے اور ایک بڑی رقم با قاعدگی سے یتامیٰ فنڈ میں بھی دیتے تھے۔کاروباری لین دین میں ہمیشہ جماعتی مفاد کو ترجیح دیتے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کی اہلیہ مکرمہ شاہین اکبر صاحبہ معاون صدر لجنہ اماءاللہ پاکستان کے طور پر خدمت بجالا رہی ہیں۔ آپ مکرم عبادہ اسلم قریشی صاحب (مبلغ سلسلہ بانگا بونگ کاؤنٹی، لائبیریا) کے خسر تھے۔

۲۔مکرمہ بشریٰ صدیقہ صاحبہ اہلیہ مکرم ماسٹر محمد رمضان صاحب مرحوم(ملتان)

6؍دسمبر 2025ء کو 77 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت چودھری غلام احمد صاحب رضی اللہ عنہ (ساکن تلونڈی جھنگلاں) کی پوتی تھیں۔ مرحومہ کو لمبا عرصہ اپنے حلقہ کی صدر لجنہ کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔ ساری زندگی پنجوقتہ نمازوں،تلاوتِ قرآن اور نوافل کی پابند رہیں۔ اپنی زندگی کے آخری رمضان میں قرآن کریم کے دو دور مکمل کرنے کی توفیق پائی۔ آخری وقت تک دعائیں اور سورتیں یاد کرتی رہیں۔ آپ کو خلافت سے والہانہ محبت تھی۔ آپ کو احمدیت کی وجہ سے بہت مخالفت سہنی پڑی لیکن استقامت میں کوئی لغز ش نہیں آئی اور اپنے میاں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔

۳۔مکرم محمد سلیمان بقا پوری صاحب ابن مکرم محمد اسحاق بقا پوری صاحب (ماڈل ٹاؤن لاہور)

16؍اپریل 2024ء کو69 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضر ت حکیم شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ ا ٓپ کی والدہ کے نانا تھے۔ مرحوم نے نائب زعیم اعلیٰ ماڈل ٹاؤن اورمحاصل کے علاوہ بعض اور عہدوں پر بھی خدمت کی توفیق پائی۔ آپ نما زباجماعت کے پابند، چندوں کی ادائیگی میں باقاعدہ، نرم مزاج، ہمدرد، ملنسار اور مخلص انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔

۴۔مکرمہ امۃ النصیر صاحبہ اہلیہ مکرم عابد حسین وڑائچ صاحب (ربوہ)

2؍جنوری 2026ء کو74 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکر م صوبیدار عبد الغفور خان صاحب (آف ٹوپی۔سابق درویش قادیان و افسر حفاظت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ و حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ) کی بیٹی اور مکرم صوبیدار خوشحال خان صاحب شہید کی پوتی تھیں۔ جنہوں نے ایک خواب کے ذریعہ 1914ء میں جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کے ہاتھ پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔ مرحومہ پنج وقتہ نمازوں اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، حلیم الطبع، جماعتی خدمت کے جذبہ سے سرشار، بڑی نیک دل اورمخلص خاتون تھیں۔ خلافت کے ساتھ والہانہ عقیدت کا تعلق تھا۔ بیماری کے دوران بڑے صبروشکر اور دعاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے وقت گزارا۔ آپ نے بچوں کی تربیت بڑے احسن طریق پر کی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے، تین بیٹیاں اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔ آپ کے ایک داماد مکرم منور احمد وڑائچ صاحب واقفِ زندگی ہیں اور …بطور نگران شعبہ تعمیرات خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

۵۔مکرمہ ہاجرہ بی بی صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری غلام رسول صاحب مرحوم (چک بھوڑو ضلع ننکانہ صاحب)

6؍جنوری 2026ء کو 105سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت چودھری غلام حیدر صاحب نمبردار رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار،بڑی نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ پسماندگان میں تین بیٹے، تین بیٹیاں اور پوتے پوتیاں اور نواسے اور نواسیا ں شامل ہیں۔ آپ کے پوتے مکرم باسل اسلم صاحب (مربی سلسلہ)اس وقت جرمنی میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

۶۔مکرم بشیر احمد لنگاہ صاحب ابن مکرم سردار محمد صاحب (نصرت آباد ربوه)

26؍نومبر 2025ء کو 79 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے والد کے ذریعہ ہوا۔ مرحوم 16 سال مجلس نصرت جہاں میں خدمت بجالاتے رہے۔ مسجد اور غریبوں کے لیے زمین وقف کرنے کی بھی توفیق پائی۔آپ بڑے نرم مزاج، ملنسار، شریف النفس،دینی غیرت رکھنے والےایک مخلص اور باوفا انسان تھے۔ کبڈی اور گھوڑ سواری میں مہارت رکھتے تھے۔پسماندگان میں دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button