کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

نوافل کو قرب الٰہی کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے

بعض اہل اللہ تو نوافل کے طور پر اکثر روزے رکھتے رہتے ہیں اور ان میں مجاہدہ کرتے ہیں۔ ہاں دائمی روزے رکھنا منع ہیں۔یعنی ایسا نہیں چاہیئے کہ آدمی ہمیشہ روزے ہی رکھتا رہے بلکہ ایسا کرنا چاہیئے کہ نفلی روزہ کبھی رکھے اور کبھی چھوڑ دے۔

(ملفوظات جلد ۹صفحہ ۴۳۳، ایڈیشن ۱۹۸۴ء)

نادان انسان بعض وقت عدم قبول دعا سے مرتد ہو جاتا ہے۔ صحیح بخاری میں حدیث موجود ہے کہ نوافل سے مومن میرا مقرّب ہوجاتا ہے۔

ایک فرائض ہوتے ہیں دوسرے نوافل۔ یعنی ایک تو وہ احکام ہیں جو بطور حقِ واجب کے ہیں اور نوافل وہ ہیں جو زائد از فرائض ہیں اور وہ اس لئے ہیں کہ تا فرائض میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہو تو نوافل سے پوری ہو جاوے۔

لوگوں نے نوافل صرف نماز ہی کے نوافل سمجھے ہوئے ہیں۔ نہیں۔ یہ بات نہیں ہے۔ ہر فعل کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں۔

انسان زکوٰۃ دیتا ہے تو کبھی زکوٰۃ کے سوا بھی دے۔ رمضان میں روزے رکھتا ہے کبھی اس کے سوا بھی رکھے۔ قرض لے تو کچھ ساتھ زائد دے۔ کیونکہ اس نے مروّت کی ہے۔

نوافل متمِّم فرائض ہوتے ہیں۔ نفل کے وقت دل میں ایک خشوع اور خوف ہوتا ہے کہ فرائض میں جو قصور ہوا ہے وہ اب پورا ہو جائے۔ یہی وہ راز ہے جو نوافل کو قرب الٰہی کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے گویا خشوع اور تذلّل اور انقطاع کی حالت اس میں پیدا ہوتی ہے اور اسی لئے تقرب کی وجہ میں اَیّامِ بیض کے روزے۔ شوّال کے چھ روزے یہ سب نوافل ہیں۔

پس یاد رکھو کہ خدا سے محبتِ تام نفل ہی کے ذریعہ ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ پھر میں ایسے مقرب اور مومن بندوں کی نظر ہو جاتا ہوں یعنی جہاں میرا منشاء ہوتا ہے۔ وہیں ان کی نظر پڑتی ہے۔

(ملفوظات جلد ۲صفحہ ۱۹۸-۱۹۹، ایڈیشن۱۹۸۴ء)

مزید پڑھیں: رونا دھونا اور صدقات فردِ قرارداد جرم کو بھی ردّی کردیتے ہیں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button