از افاضاتِ خلفائے احمدیت

عید انہی کی ہےجنہوں نےاپنے فرائض مفوّضہ کو پورا کیا

(خطبہ عید سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۱۸؍ مئی ۱۹۲۳ء بمقام باغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ قادیان)

۱۹۲۳ء میں حضورؓ نے قادیان میں یہ خطبہ عید الفطر ارشاد فرمایا۔ آپؓ نے احباب جماعت کو عید کی حقیقت اور اس حوالے سے انہیں اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ۔عید الفطر کی مناسبت سے قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)

اگر ہم عید چاہتے ہیں تو دنیا میں ہدایت پھیلائیں، خدا سے جو دُور ہیں ان کو قریب کریں، سچے راستہ پر لائیں، ورنہ ہمارے لئے عید نہیں۔ سچی عید خدا کے قرب میں ہے اور خدا کا قرب خدا کے بندوں کو اس کے قریب کرنے سے ملتا ہے

تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

عید کا دن جو مسلمانوں میں خوشی کا دن شمار کیا جاتا ہے اس کے متعلق قابل غور بات یہ ہے کہ ہم اس دن کیوں خوش ہوتے ہیں؟ یہی دن بعینہٖ اپنے تمام حالات کے ساتھ جس طرح ہم پر آیا ہے اسی طرح ہندوؤں، عیسائیوں اور سکھوں پر چڑھا ہے۔ مثلاً یہ نہیں کہ ہم پر یہ دن ٹھنڈا ہو ہندوؤں پر گرم ہو، یا مثلاً ہمارے لئے سورج چڑھنے اور اُترنے میں فرق پڑگیا ہو، دن رات چھوٹے بڑے ہوگئے ہوں، ان میں سے کوئی فرق نہیں۔ جس طرح ان کے لئے ہے اسی طرح ہمارے لئے ہے۔ پس جب یہ دن سب کے لئے برابر ہے تو وجہ کیا ہے کہ ہم خوش ہیں اور وہ نہیں۔ ہمارا بچہ بچہ خوش ہے، ہماری عورتیں خوش ہیں، ہمارے مرد خوش ہیں لیکن اس کے مقابلہ میں ہندوؤں کے مرد اور بچے اس دن کو معمولی طورطریق پر گذارتے ہیں۔ یہی حال اس دن سکھوں کا ہے اور اس دن کا اثر ان لوگوں کے اعمال پر، حرکات و سکنات پر کچھ بھی نہیں۔ ہمارے لئے آج کا دن جانے والی اور آنے والی کل کی نسبت اہم ہے۔ کل ہمارے بچوں اور عورتوں اور مردوں نے نئے لباس نہ پہنے تھے اور کل کے لئے بھی تیاری نہیں کریں گے مگر آج کرتے ہیں۔

پھر ہم دیکھتے ہیں ہندوؤں اور عیسائیوں کی جو عیدیں ہوتی ہیں ان کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ہندوؤں کی دیوالی ہوتی ہے اور ہولی ہوتی ہے ان کا ہم پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ہمارے ہاں وہی چراغ جلتے ہیں جو عام طو رپر جلا کرتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں وہ غریب ہندو جس کو روزانہ جلانے کے لئے بھی تیل نہ ملتا ہو دیوالی کے دن ضرور چراغ جلاتا ہے۔ غرض مسلمانوں کی عید ہندوؤں اور عیسائیوں پر مؤثر نہیں اور ہندوؤں کے تہوار مسلمانوں عیسائیوں کے لئے اثر انداز نہیں اور عیسائیوں کی عید مسلمانوں اور ہندوؤں کے لئے پُر اثر نہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ خوش ہونے کی وجہ کیا ہے؟ اگر ہم اس بات پر غور کریں تو اپنی زندگی کو اپنے تصرف کے نیچے لا سکتے ہیں۔ عید کا دن اپنے ظاہری سامانوں سے عید نہیں ہے،کپڑوں سے عید نہیں کیونکہ کپڑے ہندو، عیسائی بھی بناتے ہیں۔ کھانوں سے عید نہیں کھانے دوسرے بھی کھا سکتے ہیں اور خود مسلمان بھی دوسرے دن پکا سکتے ہیں مگر اس دن چہل پہل ہوتی ہے۔

اگر کھانوں، کپڑوں ہی سے عید ہو تو ہندوؤں، عیسائیوں کے لئے بھی ہو سکتی ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے لئے ہے ان کے لئے نہیں۔

پس معلوم ہوا کہ عید کپڑوں اور کھانوں سے نہیں بلکہ کپڑے عید کے لئے ہیں اور کھانے عید کے لئے ہیں۔

عید کی وجہ سے لوگ ہنستے اور بولتے ہیں۔ جس جگہ لاش پڑی ہو وہاں اگر کوئی شخص ہنسے تو اس سے عید نہیں بن سکتی۔اس دن عمدہ کپڑے میت والے کے گھر میں پہنو، یا اچھے کھانے پکا کر بھیج دو تو ان کی عید نہیں ہو جائے گی کیونکہ یہ مسنون طریق ہے کہ جس دن کسی مسلمان کے گھر میں میت ہو جائے تو دوسرے مسلمان ان کے گھر میں کھانا بھیجتے ہیں۔ (جامع ترمذی ابواب الجنائز باب ماجاء فی الطعام یضع لاھل المیت)کیونکہ وہ صدمہ کی وجہ سے کھانا نہیں پکا سکتے۔ اگر ایسا نہ ہو تو بچے وغیرہ بھوکے رہیں۔ پس ایسی حالت میں اس گھر کے لئے عید نہیں۔ اگر کھانے پینے سے عید ہوتی تو سب کی ایک عید ہوتی مگر حقیقت یہ ہے کہ سب کی نہیں۔ ہم امراء کو دیکھتے ہیں کہ ان کے پاس عموماً اتنے زائد اور اچھے کپڑے ہوتے ہیں کہ وہ عید پر کوئی خاص اہتمام نہیں کرتے۔ پس معلوم ہوا کہ

عید کے دن خوش ہونے کی وجہ کھانوں اور کپڑوں کے علاوہ کوئی اَور چیز ہوتی ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ چونکہ رمضان کے بعد آتی ہے اس لئے ہم خوش ہوتے ہیں کہ روزے ختم ہوگئے اس لئے خوشی ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ کس نے مجبور کیا تھا کہ روزے رکھتے، نہ رکھتے۔ خدا کی طرف سے جبر کے سامان نہیں کہ فرشتے پکڑ کر کسی سے کوئی کام کرائیں۔ پس عید اس لئے بھی نہیں کہ روزے ختم ہوگئے کیونکہ روزے رکھنے کے لئے کوئی جبر بھی نہ تھا ۔پس اس لئے بھی خوشی نہیں کہ ایک بوجھ اُتر گیا۔ ہاں

عید کے معنی یہ ہیں کہ ہمارا ایک کام اور فرض تھا ہم نے اس کو پورا کر دیا۔

لڑکا امتحان دینے جاتا ہے پاس ہو جاتا ہے خوش ہوتا ہے۔ شادی ہوتی ہے تو شادی کی غرض اولاد ہے۔ جب اولاد ہو تو انسان خوش ہوتا ہے کیونکہ عورت مرد کے ملنے کا نتیجہ اولاد ہے۔پس اگر خوشی ہے تو اس لئے کہ کام کر لیا۔ ورنہ بہت ہیں جنہوں نے کپڑے نہیں بدلے۔ کئی ہیں جنہوں نے کھانے نہیں کھائے۔ اگر عید ہے تو اس کی کہ ہم نے اپنے فرض کو ادا کرلیا اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔

اگر کہو کہ وہ بھی خوش ہیں جنہوں نے روزے نہیں رکھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کے کئی قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ تھوڑے سے تعلق سے بھی ایک رنگ پیدا ہو جاتا ہے اور کامل مشارکت سے ہم رنگ ہو جاتے ہیں۔ اگر ایک شخص کے ہاں اولاد ہو جو ہمارا دوست ہے تو ہم خوش ہوتے ہیں۔ دوستوں کی خوشی اپنی خوشی ہوتی ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ہم خوش ہوں تو خاموش آدمی بھی خوش ہو جاتا ہے پس ان کی چونکہ اسلام کے نام میں مشارکت ہے اس لئے وہ لوگ جو جان کر بھی روزہ نہیں رکھتے وہ اس رسمی مشارکت کے باعث خوشی میں خوش ہوتے ہیں۔علاوہ ازیںوہ لوگ جو رسماً رکھتے ہیں وہ ان رسوم کے پابند ہیں جو ماں باپ کو کرتا دیکھتے ہیں۔

اس کی مثال اس بچے کی ہے جس کی ماں مرگئی اور وہ اس کو سویا ہوا سمجھ کر تھپڑ مارتا ہے اور کہتا ہے ماں بولتی کیوں نہیں حالانکہ وہ ماں خاموش نہیں ہوتی بلکہ مر گئی ہوتی ہے۔ اسی طرح

وہ لوگ جو رسمی طور پر خوش ہوتے ہیں بے خبری سے خوش ہوتے ہیں ورنہ یہ موقع ان کے لئے ماتم کا ہوتا ہے کہ فیل ہوگئے۔

جس طرح فیل شدہ طالب علم کے لئے خوش ہونے کا مقام نہیں ہوتا جیسے مُردہ ماں کے بچے کے لئے ہنسنے کا مقام نہیں ہوتا اسی طرح ان لوگوں کے لئے خوشی کی جگہ نہیں جو عید مناتے ہیں مگر انہوں نے اپنا مقصد پورا نہیں کیا ہوتا۔ پس

عید انہی کی ہے جنہوں نے اپنے فرائض مفوّضہ کو پورا کیا۔

چونکہ روزے بھی ایک فرض ہیں (البقرۃ : ۱۸۴) اس لئے مسلمان خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے اس فرض کو ادا کر دیا۔

مگر میں پوچھتا ہوں کہ کیا ہمارے لئے ایک فرض صرف روزوں کا رکھنا ہی تھا؟ اگر نہیں تو پھر ہمیں ان کی طرف توجہ کرنی چاہئے کیونکہ ان فرائض کے ادا کرنے کے بعد جو عیدیں ہیں وہ کبھی ختم ہی نہیں ہوتیں۔

یہ عید تو ایسی ہے کہ آج آئی اور آج ہی چلی جائے گی۔ وہ عید آکر نہ جائے گی غرباء اپنے کپڑے سنبھال کر رکھیں گے مگر اس عید کا لباس کبھی میلا اور پرانا نہ ہوگا۔

یہ عید عارضی ہے وہ عیدیں مستقل ہوں گی۔

ہاں یہ عید اُس عید کے لئے بطور نشان کے ہے۔ جیسے دُکاندار نمونہ کے طورپر دکھاتا ہے۔ اس عید میں یقین نہیں ہوتا کہ ہم اپنے جس فرض کو ادا کر چکے ہیں وہ مقبول بھی ہوا ہے کہ نہیں لیکن ان فرائض کے ادا کرنے کے بعد جو عید آتی ہے وہ یقینی ہوتی ہے۔ اس کے بعد کوئی مصیبت نہیں، کوئی ننگا اور بھوکا رہنا نہیں بلکہ اگر وہ خدمتیں مقبول ہو جائیں تو ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِاَعۡیُنٍۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ۔ (السجدہ: ۱۸) کوئی انسان نہیں جانتا کہ کون سے سامان راحت اس کے لئے مہیا کئے گئے ہیں اور تو اور محمد رسول اللہ ﷺ بھی نہیں جانتے کہ ان کے لئے کون سے راحت کے سامان اللہ تعالیٰ نے مخفی رکھے ہیں۔(صحیح بخاری کتاب التفسیر سورۃ التنزیل السجدۃ فلا تعلم نفس مااخفی) پھر جب انسان ان امور میں کامیاب ہوتا ہے تب اس کو حقیقی عید ملتی ہے۔ یہ عید تو ایسی ہے جیسے نمونہ اور چاشنی ہوتی ہے کہ انسان کو محسوس ہو جائے کہ خوشی کی گھڑیاں کیسی ہوتی ہیں۔

جب حقیقی عید ملتی ہے تو اس کے بعد انسان کے لئے نہ بھوک ہے نہ ننگا ہونا ہے نہ کمزوری ہے نہ کوئی اور خطرہ ہے۔ پس ہمیں اس عید کو سمجھنا چاہئے اور چاہئے کہ اس عید کے لئے تیار ہو جائیں۔ اگر اس کے لئے تیار نہیں تو بے سود ہے۔

فوجوں میں کرتب کرائے جاتے ہیں، گھوڑے پر چڑھنا سکھایا جاتا ہے، گولی چلانی سکھائی جاتی ہے ان کی غرض یہ ہے کہ سپاہی میدان میں کام کر سکے اگر میدان میں کام نہ کیا جائے تو پھر کرتبوں وغیرہ کا سیکھنا بے سود ہے۔

ہمارا مقصد کیا ہے؟ اس کے متعلق قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے دو مقصد ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلا مقصد یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضاء اور قرب اور وصل ہمیں مل جائے۔(کتاب البریہ از روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۳۹۴،۳۹۳ حاشیہ) اگراس مقصد میں کامیاب ہوجائیں تو یہ بڑی کامیابی اور حقیقی عید ہے۔

انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ انسان چاروں طرف سے منقطع ہو کر میرے ہو جائیں، باقی باتوںپر لات ماردیں، خدا کے لئے مال و جان کو قربان کریں،رشتہ داروں کو چھوڑ دیں، خیالات ووطن، اولاد، امیدوں اور اُمنگوں کو قربان کریں تو حقیقی عید دیکھیں گے اور یہی راز ہے جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ۔ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۔(الفجر: ۳۰، ۳۱) خدا کے بندوں میں داخل ہو جاؤ اور خدا کی جنت میں داخل ہو جاؤ۔

دوسرا مقصد بنی نوع پر شفقت ہے(ملفوظات جلد ۸ صفحہ ۲۷۷)اس کے کئی حصّے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہم ان تک وہ باتیں پہنچائیں جن کے بغیر ان کی حالت موت سے بدتر ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کو خدا تک پہنچائیں اور صحیح راستہ پر لے آئیں اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔اگر ہم بھوکے کو روٹی دیتے ہیں تو اس کے ایک وقت کی تکلیف دور ہو جاتی ہے لیکن اگر ہدایت دیں تو وہ دونوں جہان میں کام آئے گی۔ اگر ننگے کو کپڑا دیں تو کچھ دیر کے لئے اس کا کچھ ستر ڈھک جائے گا۔ اگر تقویٰ کا لباس دیںاور خدا کے دین میں داخل کریں تو وہ ہمیشہ کے لئے ننگا ہونے سے محفوظ ہو جائے گا۔ پس

خدا کے بندوں پر بڑی شفقت یہ ہے کہ ہم ان کو خدا تک پہنچائیں یہ شفقت کا بڑا مقام ہے۔ اگر ہم خدا کی مخلوق کا تعلق خدا سے کردیں تو حقیقی عید ہے۔ اس کے بعد کوئی اور دن نہیں۔

ہمیں چاہئے کہ اس سچی عید کے لئے اور ان مقاصد کے لئے کام کریں۔اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی فکر کریں اور دنیا کو ہدایت دینے کے لئے جدو جہد کریں۔ جب تک ساری دنیا ہدایت نہ پالے سانس نہ لیں۔ کوئی کہے مجھے کیا فائدہ ہے کہ دنیا ہدایت پائے۔ تو میں کہتا ہوں اگر کوئی فائدہ نہ ہو تو یہ کیا کم ہے کہ ہم تمام دنیا کو ہدایت پر جمع کئے بغیر عید کو ہی نہیں دیکھ سکتے۔ جب تک لوگوں کے دُکھوں کو دُور نہ کریں اللہ تعالیٰ عیدنہیں دیا کرتا۔ اگر ایک بچہ مررہا ہو اور اس کے بچنے کی امید ہو۔ لوگ خوش نہیں ہوتے۔ اسی طرح جب تک امید ہے عید نہیں منا سکتے۔ ہاں اگر ان سے بالکل مایوس ہو جائے تو پھر لوگ سمجھ جائیںگے ان کے قلوب پر مہر لگ جائے تو گویا وہ مر جاتے ہیں تو مرنے والوں کے بعد بھی عید ہو سکتی ہے۔ اگر ہم عید چاہتے ہیں تو دنیا میں ہدایت پھیلائیں، خدا سے جو دُور ہیں ان کو قریب کریں، سچے راستہ پر لائیں، ورنہ ہمارے لئے عید نہیں۔

سچی عید خدا کے قرب میں ہے اور خدا کا قرب خدا کے بندوں کو اس کے قریب کرنے سے ملتا ہے۔ اس مقصد میں کامیابی کے بعد جو سورج چڑھتا ہے وہ غروب نہیں ہوتا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے۔ ہمارے مقاصد پورے کرے۔ ہم حقیقی عید کو دیکھیں جس کے لئے یہ عیدیں بطور نشان مقرر ہوئی ہیں۔

(الفضل ۲۸؍ مئی ۱۹۲۳ء)

مزید پڑھیں:ہماری ساری زندگی رمضان میں زندگی کی طرح بسر ہونی چاہیے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button