از افاضاتِ خلفائے احمدیت

ہماری ساری زندگی رمضان میں زندگی کی طرح بسر ہونی چاہیے

(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ یکم ستمبر۱۹۴۴ء)

۱۹۴۴ء میں حضورؓ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپؓ نے احباب جماعت کو رمضان سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنے اندرمسلسل قربانی کی روح اجاگر کرنے کی تلقین فرمائی۔قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)

ہمیں ہر رمضان سے یہ سبق حاصل کرنا چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح سال میں رمضان کا ایک مہینہ ہر مسلمان پر روزے رکھنا فرض ہے ہمارے لیے سارا سال ہی رمضان ہے۔ ہمارے لیے صرف ایک مہینہ ہی روزوں کا مہینہ نہیں بلکہ بارہ مہینے ہی روزوں کے مہینے ہیں۔ جب تک اسلام دوبارہ دنیا میں پھیل نہ جائے اور جب تک تمام دنیا کے لوگ اسلام میں داخل نہ ہو جائیں اُس وقت تک ہماری جماعت کے لیے صرف سال میں ایک مہینہ ہی روزوں کا مہینہ نہیں بلکہ سال میں بارہ مہینے ہی روزوں کے مہینے ہیں

تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

… یہ مہینہ رمضان کا ہے اور رمضان کا مہینہ اپنے اندر یہ خصوصیت رکھتا ہے کہ قرآن کریم رمضان کے مہینہ میں اُترنا شروع ہوا اور اِس نسبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اِس کو ہمارے لیے روزوں کا مہینہ قرار دیا ہے۔ روزے کیا ہوتے ہیں؟ ان میں انسان کا عام طریقِ زندگی تہہ و بالا ہو جاتا ہے۔ بہت سی ایسی چیزیں جو انسان کے لیے جائز ہوتی ہیں ناجائز ہوجاتی ہیں۔بلکہ بعض دفعہ انسان کی ضروری اورپسندیدہ چیزیں بعض وقتوں میں اُس کے لیے ممنوع، بعض وقتوں میں اُس کے لیے مکروہ اور بعض وقتوں میں ناجائز ہو جاتی ہیں۔گویا ضروری اور جائز کے مقابلہ میں ان چیزوں کو غیر ضروری اور ناجائز کی صورت حاصل ہو جاتی ہے۔

اس میں ہمیں یہ سبق دیا گیا ہے کہ جب کبھی خدا کی طرف سے کوئی پیغام دنیا میں آتا ہے تو اُس زمانے میں اُس کلام کے ماننے والوں کو اپنی زندگی کے عام دستور کو تہہ و بالا کرنا پڑتا ہے۔

قرآن مجید کے نزول کے مہینہ کو ہمیشہ کے لیے روزوں کا مہینہ قرار دے کر اِس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ خدا کے کلام کے نازل ہونے کے بعد انسانی زندگی کا عام دستورالعمل قائم نہیں رہ سکتا۔ کبھی بھی کوئی پیغامِ الٰہی دنیا میں نہیں آیا جس کے نازل ہونے کے بعد انسانی زندگیوں کا دستور اور قاعدہ اُسی طرح قائم رہا ہو جس طرح کہ اُس پیغامِ الٰہی کے نازل ہونے سے پہلے تھا۔ جس طرح روزوں کے مہینہ میں انسان کو جائز ضرورتوں اور جائز چیزوں کو بعض وقتوں میں ترک کرنا پڑتا ہے اِسی طرح انبیاء کی بعثت کے ایام میں اُن پر ایمان لانے والوں کو جائز رزق سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ کچھ تو دشمن کی کارروائیوں کی وجہ سے اور کچھ خود نظامِ سلسلہ کی پابندی کی وجہ سے۔ کچھ تو دشمن ایمان لانے والوں کا بائیکاٹ کرکے اور اُن کی تجارتوں کو نقصان پہنچا کر اُن کے جائز اموال سے اُن کو محروم کر دیتا ہے اور اُن پر قسم قسم کے مظالم توڑ کر اُن کی زندگی کے دستور کو تہہ و بالا کر دیتا ہے اور کچھ نظامِ سلسلہ کے ماتحت جہاد کے لیے، اشاعتِ دین کے لیے، تبلیغ کے لیے اور تعلیم کے لیے اُن پر چندے لگا دیے جاتے ہیں۔

غرض دو طرف سے ان کے اموال کی لُوٹ شروع ہوجاتی ہے۔ خدا کی طرف سے بطور ٹیکس کے اور دشمن کی طرف سے بطور تعذیب کے۔ گویا وہ زمانہ ان کے لیے روزوں کا زمانہ ہوتا ہے۔ رمضان کے روزے تو سال میں ایک مہینہ ہوتے ہیں مگر وہ ساری عمر ہی روزے رکھتے ہیں۔ اور

جس طرح روزوں کے مہینہ میں جائز چیزوں کو بعض وقتوں میں چھوڑنا پڑتا ہے اِسی طرح انبیاء کی بعثت کے ایام میں جائز چیزوں اور جائز ضرورتوں اور جائز خواہشوں کو یا تو خدا کے دین کی خاطر اور یا دشمن کی تعذیب کے ماتحت چھوڑنا پڑتا ہے۔

ہمارے ملک کا محاورہ ہے کہ اِتنی تکلیف پہنچی کہ ‘‘نیند حرام ہوگئی’’۔روزوں میں بھی نیند حرام ہوجاتی ہے، کچھ تو سحری کے وقت کھانا پکانے کے لیے اُٹھنا پڑتا ہے اور کچھ تہجد اور دعا کے لیے۔ جس کی وجہ سے نیند کا ایک حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اِسی طرح انبیاء کی بعثت کے زمانہ میں اُن پر ایمان لانے والوں پر قسم قسم کے مصائب کی وجہ سے نیند حرام ہوجاتی ہے۔ گویا اُن کو ساری عمر روزوں کی زندگی میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ جس طرح رمضان میں تہجد اور دعاؤں پر زور دیا جاتا ہے اِسی طرح

انبیاء کے زمانہ میں مومنوں کی جماعت کو خصوصیت سے دعائیں کرنی پڑتی ہیں کیونکہ جو کام اُن کے سپرد ہوتا ہے وہ انسانی طاقت سے بالا ہوتا ہے۔کسی نبی کی قوم نہیں جس نے اپنی طاقت اور اپنی قوت سے فتح حاصل کی ہو۔ ہر نبی کے زمانہ میں دعاؤں اور التجاؤں سے فتح حاصل ہوتی ہے۔

اور اگر وہ پورے طور پر اپنے فرض کو سمجھیں اور انبیاء کی بعثت کی غرض کو جانیں تو یقیناً اُن پر راتوں کی نیند حرام ہو جاتی ہے۔ تہجد پڑھتے ہیں، رات کو اٹھ اٹھ کر دعائیں کرتے ہیں اور گڑگڑا کر اور آہ وزاری سے خدا کے حضور فریاد کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اُن کی کمزوریوں کو ڈھانپ لے اور اپنے فضل سے انہیں کامیاب فرمائے۔

اگر کوئی قوم ایسا نہیں کرتی اور سمجھتی ہے کہ صرف چندے دے کر یا صرف اپنی طاقت سے کام لے کر بغیر دعاؤں کے، بغیر راتوں کو اٹھ اٹھ کر آہ و زاری کرنے کے اور بغیر نمازیں اور تہجد پڑھنے کے کامیاب ہوسکتی ہے تو وہ دنیا کی بدترین احمق قوم ہوگی۔

اِسی طرح رمضان کے مہینہ میں ایک وقت میں مرد و عورت کے تعلقات بھی حرام ہوجاتے ہیں۔ یہ چیز بھی نبیوں کے زمانہ میں پائی جاتی ہے۔ اُس زمانہ میں ایمان لانے والوں کو اپنے عزیزوں سے تعلقات منقطع کرنے پڑتے ہیں، کبھی ان کے مخالف ہونے کی وجہ سے اُن کو چھوڑنا پڑتا ہے اور کبھی سلسلۂ حقّہ کی ضرورتوں کے ماتحت دور دراز ملکوں میں تبلیغ کے لیے جانے کی وجہ سے اُن سے الگ ہونا پڑتا ہے۔ گویا کبھی کفر کی بناء پر اُن سے قطع تعلق کرنا پڑتا ہے اور کبھی ایمان کی بناء پر ان سے الگ ہونا پڑتا ہے۔

پس رمضان کا مہینہ جہاں انفرادی طور پر ایک فرد کے ایمان اور اخلاص کے لیے آزمائش کا مہینہ ہے اور ہر زمانہ میں قیامت تک کے لیے آزمائش کے سامان اپنے اندر رکھتا ہے وہاں انبیاء کی جماعت کے لیے بھی سبق اور ہدایت ہے جس پر عمل کرنے سے ہی وہ جماعت کامیاب ہوسکتی ہے۔ اگر وہ جماعت اپنے جائز امور اور جائز ضرورتوں کو خدا کے لیے قربان کرنے کے لیے تیار نہیں تو اُس جماعت کا کوئی فرد صرف یہ کہہ کر کہ حرام چیزیں اُس کے لیے حرام ہیں اور ناجائز چیزوں کو وہ ناجائز سمجھتا ہے کسی صورت میں بھی جماعت کے لیے مفید وجود ثابت نہیں ہوسکتا۔

نبیوں کے زمانہ میں وہی شخص دین کی حقیقی خدمت کرنے والا ہوتا ہے جو نہ صرف حرام چیزوں کو حرام سمجھ کر چھوڑ دے بلکہ بعض وقتوں میں سلسلۂ حقّہ کی صورتوں کے مطابق جائز چیزوں کو بھی اپنے اوپر حرام کرے۔

خدا تعالیٰ انبیاء کے زمانہ میں عجیب تضاد پیدا کر دیتا ہے کہ انبیاء اپنی بعثت کے زمانہ میں ایک طرف تو حرام کو حلال کردیتے ہیں جیسے خدا کا کلام کرنا، اُس کا دیدار نصیب ہونا۔ اِن چیزوں کو اُن کی بعثت سے پہلے لوگ حرام سمجھتے ہیں۔ انبیاء آکر نئے سرے سے اِن کو جائز کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف انبیاء آکر حلال کو حرام کر دیتے ہیں۔ وہی چیزیں جو بعد میں یا پہلے جائز ہوتی ہیں دین کے مطالبات کے ماتحت حرام ہو جاتی ہیں۔ ہزاروں دفعہ مومنوں کی جماعت کو کھانا پینا، اپنی جائیداد، عمدہ جذبات، خواہش اور وطن جس کی محبت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایمان کی علامتوں میں سے بیان فرمایا ہے (موضوعات ملا علی قاری صفحہ ۳۵ مطبوعہ دہلی ۱۳۱۵ھ)اِن سب چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی مومن ایسا نہ کرے تو اُس کا ایمان باطل ہو جاتا ہے۔ گویا انبیاء ایک طرف تو حرام چیزوں کو حلال کر دیتے ہیں اور جن چیزوں سے دنیا محروم ہوتی ہے وہ اُن کو نئے سرے سے لے آتے ہیں اور دوسری طرف جو چیزیں ضروری اور جائز ہوتی ہیں اُن کو حرام کرنے کا اعلان کر دیتے ہیں اور اس کے مطابق جائز حقوق اور جائز چیزوں کو دین کے مطالبات کے ماتحت چھوڑنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو وہ ایمان کی حد سے نکل جاتا ہے۔ وطن کی محبت ایمان میں شامل ہے لیکن خدا تعالیٰ بعض دفعہ ہجرت کا حکم فرماتا ہے اور وطن کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ اِسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہے۔(بخاری کتاب المظالم باب مَن قَاتَلَ دُونَ مَالِہٖ)لیکن دین کے مطالبات کے ماتحت اِس مال کو بھی چھوڑنا پڑتا ہے۔ پس جو چیز دوسرے وقت میں ایمان میں شامل ہوتی ہے نبی کے وقت میں وہی چیز دین کے مطالبات کے ماتحت حرام اور قطعی حرام ہو جاتی ہے اور اگر کوئی شخص پھر بھی اُس کو لینے کی خواہش کرے تو وہ مومن نہیں بلکہ کافر ہوجاتا ہے۔ پس انبیاء آکر کچھ تو حرام حصہ کو حلال کر دیتے ہیں اور کچھ حلال حصہ کو حرام کر دیتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہو تو کبھی حقیقی ایمان کا نمونہ قائم نہ ہوسکے۔

ہماری جماعت کے آدمی بھی بعض دفعہ لڑ پڑتے ہیں کہ ہمارا یہ حق مارا گیا اور ہمارا وہ حق نہیں ملا۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ انبیاء کے زمانہ میں حقوق تلف کرنے میں ایمان ہوتا ہے۔

جوشخص اپنا مال، اپنی دولت،اپنا آرام و آسائش، اپنے جذبات، اپنی خواہش، اپنی جائیداد، اپنے عزیز رشتہ دار اِن سب چیزوں کو خدا کے حکم کے مطابق اور دین کی ضرورت کے ماتحت قربان نہیں کرتا وہ کبھی بھی نہ سلسلہ کے لیے مفید ہوسکتا ہے اور نہ مومنوں کی جماعت میں شامل ہونے کے قابل ہے۔

ہماری جماعت کے ہر ایک فرد کو اس کی اہمیت سمجھنے اور دوسروں کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود تو کسی بات کو سمجھ لیتے ہیں مگر دوسروں کو سمجھانے میں کوتاہی کرتے ہیں۔ حالانکہ انبیاء کی جماعت کو تو دوسروں کو سمجھانے میں لگے رہنا چاہیے۔ انبیاء سے دُوری کے زمانہ میں اگر پچاس فیصدی لوگوں میں ایمان پایا جائے اور وہ دین کے مطابق زندگی بسر کرنے والے ہوں تو غنیمت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن نبیوں کے زمانہ میں تو ننانوے فیصدی لوگوں میں ایمان کا پایا جانا اور دین کے مطابق زندگی بسر کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ اگر اُس زمانہ میں ہی اُن کے اندر خرابی پیدا ہوجائے تو سلسلہ کی حفاظت نہیں ہوسکتی۔

انبیاء کے زمانہ کے بعد دین کی حفاظت کا وقت نہیں ہوتا بلکہ عمل کا وقت ہوتا ہے۔

لیکن

نبیوں کی بعثت کے زمانہ میں تو دین کی حفاظت کا سوال ہوتا ہے۔ پس انبیاء کے زمانہ میں نہ صرف انفرادی ایمان پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ قومی ایمان پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، دین کی ضرورتوں کے مطابق قومی قربانیاں کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور جب تک قومی رنگ میں ایمان پیدا نہ ہو اور جب تک قومی رنگ میں قربانیاں نہ کی جائیں اُس وقت تک نبی کی بعثت کی غرض پوری نہیں ہوتی۔

اور جب تک نبی کی بعثت کی غرض پوری نہ ہو اُس نبی کی قوم بری الذمہ نہیں ہوتی۔ بلکہ مجرم ٹھہرتی ہے کہ جو کام اُس کے ذمہ لگایا گیا تھا اُس کو اُس قوم نے پورا نہیں کیا۔

پس

ہمیں ہر رمضان سے یہ سبق حاصل کرنا چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح سال میں رمضان کا ایک مہینہ ہر مسلمان پر روزے رکھنا فرض ہے ہمارے لیے سارا سال ہی رمضان ہے۔ ہمارے لیے صرف ایک مہینہ ہی روزوں کا مہینہ نہیں بلکہ بارہ مہینے ہی روزوں کے مہینے ہیں۔ جب تک اسلام دوبارہ دنیا میں پھیل نہ جائے اور جب تک تمام دنیا کے لوگ اسلام میں داخل نہ ہو جائیں اُس وقت تک ہماری جماعت کے لیے صرف سال میں ایک مہینہ ہی روزوں کا مہینہ نہیں بلکہ سال میں بارہ مہینے ہی روزوں کے مہینے ہیں۔

ہماری مثال بالکل اُس بزرگ کی سی ہے جس سے کسی نے پوچھا زکوٰۃ کے متعلق کیا حکم ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ عام لوگوں کے لیے چالیس روپوؤں پر ایک روپیہ زکوٰۃ ہے اور میرے لیے چالیس رپوؤں پر اکتالیس روپے زکوٰۃ ہے۔ کیونکہ عام لوگوں کے لیے عام حکم ہے مگر میرے ساتھ خدا تعالیٰ کا یہ سلوک ہے کہ میری ساری ضرورتیں وہ خود پوری کرتا ہے اور اُس کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ مَیں تیری تمام ضرورتوں کا کفیل ہوں۔ اگر باوجود اِس کے مَیں روپیہ جمع کروں تو وہ روپیہ مَیں ناجائز حالت میں جمع کروں گا جو مجھے واپس کرنا چاہیے اور ایک روپیہ جرمانہ کا ادا کرنا چاہیے کہ باوجود خداتعالیٰ کے وعدہ کے مَیں نے اپنی ضرورتوں کے لیے خود انتظام کیا۔ یہی حال ہمارا ہے۔

لوگوں کے لیے بارہ مہینوں میں سے صرف ایک مہینہ رمضان یعنی روزوں کا ہوتا ہے مگر ہمارے لیے سارا سال ہی روزوں کا ہونا چاہیے اور ہماری ساری زندگی رمضان کی طرح بسر ہونی چاہیے۔

میرا یہ مطلب نہیں کہ سارا سال ہی روزے رکھے جائیں۔ یہ تو منع ہے کہ کوئی شخص تمام سال روزے رکھتا رہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ

ہماری جماعت کے لوگوں کے لیے اپنے نفس کو خدا کے احکام کے تابع کرکے ضروری اور جائز چیزوں کو بھی حرام اور غیر ضروری قرار دینا ہوگا۔

پس ہمارے لیے بارہ مہینے ہی رمضان ہے اور شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ(البقرہ: ۱۸۶) میں ہمیں یہ سبق دیا گیا ہے کہ انبیاء کی بعثت کے زمانہ میں ان کے ماننے والوں کے لیے بارہ مہینے ہی بلکہ ساری زندگی ہی رمضان میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ عام لوگوں کے لیے بارہ میں سے صرف ایک مہینہ روزوں کا ہوتا ہے مگر ہمارے لیے بارہ مہینوں میں سے بارہ ہی روزوں کے مہینے ہیں۔ کیونکہ جس وقت خدا کا کلام نازل ہوتا ہے تو وہ روزوں کا زمانہ ہوتا ہے۔ جس طرح کہ قرآن مجید کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ رمضان کے مہینہ میں اتارا گیا ہے۔

(الفضل۱۹؍ستمبر۱۹۴۴ء)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: رمضان المبارک کی برکات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button