حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے پُر معارف ارشاد کی روشنی میں دنیا اور آخرت کی حسنات مانگنے کی نصیحت۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲۰؍مارچ ۲۰۲۶ء
٭… ایسی دنیا کماؤ، جس سے نہ صرف تمہیں فائدہ پہنچ رہا ہو، بلکہ انسانیت کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہو۔ اور دنیا میں ایسی حرکتیں نہ ہوں، جو تمہارے لیے شرم کا باعث بنیں، تمہارے خاندان اور تمہارے قریبیوں کے لیے شرم کا باعث بنیں۔ بلکہ پاک صاف زندگی ہو، نیکی اور تقویٰ پر چلنے والی زندگی ہو، اور جب ایسی زندگی ہو گی اور تم ایسی دنیا کمانے کے لیے اپنی زندگی صَرف کرو گے، تو وہ تمہیں دنیا و آخرت دونوں میں نوازے گی
٭… آج جب کہ دنیا عمومی طور پر اپنے مقاصد اور مفادات کے حصول میں پڑی ہوئی ہے، ذاتی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے، اگر قوموں کو دیکھیں تو اُنہیں صرف اپنی قوم کی فکر ہے، انسانیت کی نہیں۔ اور اِس میں پڑ کر یہ لوگ اپنی تباہی کے سامان کر رہے ہیں۔ ہمیں ایسے حالات میں الله تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی حسنات مانگنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ہمیں ایسے حالات میں اِس طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہم اپنی دنیا و آخرت سنوار سکیں اور ہر قسم کی آفات سے محفوظ رہ سکیں۔دنیا تباہی کے گڑھے میں جا رہی ہے، الله تعالیٰ ہمیں اِس سے محفوظ رکھے
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۰؍مارچ ۲۰۲۶ء بمطابق ۲۰؍امان ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۲۰؍مارچ ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
آج عید کا خطبہ بھی مَیں نے دیا ہے، اِس لیے اِس وقت مَیں مختصر خطبہ دوں گا، اِس کے لیے مَیں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک اقتباس لیا ہے۔جس کی طرف ہمیں ہمیشہ توجہ دینی چاہیے۔
آپؑ فرماتے ہیں کہ مومن کےتعلقات دنیا کے ساتھ جس قدر وسیع ہوں وہ اُس کے مراتبِ عالیہ کا موجب ہوتے ہیں کیونکہ اُس کا نصب العین دین ہوتا ہے ۔
اس تناظر میں حضورِ انور نے فرمایا کہ دنیا کے ساتھ تعلقات بھی اِس لیے اچھے ہوتے ہیں کہ مقصد اُن کا دین ہو،یہ مومن کی نشانی ہے۔
فرمایا: اور دنیا، اُس کا مال و جاہ دین کا خادم ہوتا ہے۔ پس اصل بات یہ ہے کہ دنیا مقصود بالذّات نہ ہو ، بلکہ حصولِ دنیا میں اصل غرض دین ہو ۔
حضورِ انور نے اس اَمر پر زور دیتے ہوئے تصریح فرمائی کہ دنیا بھی کماؤ، تو غرض یہ ہونی چاہیے کہ ہمارا دین بہتر ہو، ہم نے دین کی خدمت کرنی ہے۔ دنیا بھی کمانی ہے، تو دین کی بہتری کے لیے نہ کہ غلط کام کر کے اپنی دنیا و آخرت بگاڑنے کے لیےبلکہ اپنی آخرت سنوانے کے لیے اور اپنا دین سنوارنے کے لیے ہمیں دنیا کمانی چاہیے۔
فرمایا کہ اور ایسے طور پر دنیا کو حاصل کیا جاوے کہ وہ دین کی خادم ہو۔ جیسے انسان کسی جگہ سے دوسری جگہ جانے کے واسطے سفر کےلیے سواری اور زادِ راہ کو ساتھ لیتا ہےتو اُس کی اصل غرض منزلِ مقصود پر پہنچنا ہوتی ہےنہ خود سواری اور راستے کی ضروریات۔
اس مثال کی وضاحت کرتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ یہ ساری چیزیں جو ہم ساتھ لیتے ہیں سفر میں، آسانیاں پیدا کرنے کے لیے، اُس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ آرام سے سفر کَٹ جائے اور ہم منزلِ مقصود پر پہنچ جائیں نہ یہ کہ اُن سے ہم سفر میں لُطف انداز ہوں۔
فرمایا: اِسی طرح پر انسان دنیا کو حاصل کرے مگر دین کا خادم سمجھ کر۔
حضورِ انور نے بیان کیا کہ الله تعالیٰ نے جو یہ دعا سکھائی ہے کہ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّفِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ کہ اَے الله! ہمیں دنیا کی حسنات سے بھی نواز اَور آخرت کی حسنات سے بھی نواز۔
آپؑ فرماتے ہیں کہ الله تعالیٰ نے جو یہ دعا تعلیم فرمائی ہے کہ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃًاِس میں بھی دنیا کو مقدّم کیا ہے، لیکن کس دنیا کو؟
فرمایا: حَسَنَۃُ الدُّنْیَاکو کہ جوآخرت میں حسنات کا موجب ہو جاوے۔
اسی ضمن میں حضورِ انور نے توجہ دلاتے ہوئےفرمایا کہ ایسی دنیاجس کو حاصل کر کے آخرت میں بھی فائدہ ہو۔ ایسی دنیا کی چیزیں ملیں جو آخرت کی حسنات کا موجب ہو جائیں، نہ یہ کہ ہمیں آخرت میں شرمساری کا سامنا کرنا پڑے۔ بالکل جب دنیا میں پڑ جائیں گے، تو شرمساری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آپؑ فرماتے ہیں کہ اِس دعا کی تعلیم سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ مومن کو دنیا کے حصول میں حَسنَاتُ الْاٰخِرَہ کا خیال رکھنا چاہیے اور ساتھ ہی حَسَنَۃُ الدُّنْیَا کے لفظ میں اُن تمام بہترین ذرائع حصولِ دنیا کا ذکر آ گیا ہے جو ایک مومن مسلمان کو حصولِ دنیا کےلیے اختیار کرنے چاہئیں۔ دنیا کو ہر ایسے طریق سے حاصل کرو جس کے اختیار کرنے سے بھلائی اور خُوبی ہی ہو، نہ وہ طریق جو کسی دوسرے بنی نوع انسان کی تکلیف رسائی کا موجب ہو، نہ ہم جنسوں میں کسی عار و شرم کا باعث ہو۔ ایسی دنیا بےشک حَسَنَۃُ الْاٰخِرَہ کا موجب ہو گی۔
حضورِ انور نے اسی حوالے سے توجہ دلائی کہ
ایسی دنیا کماؤ، جس سے نہ صرف تمہیں فائدہ پہنچ رہا ہو، بلکہ انسانیت کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہو۔ اور دنیا میں ایسی حرکتیں نہ ہوں، جو تمہارے لیے شرم کا باعث بنیں، تمہارے خاندان اور تمہارے قریبیوں کے لیے شرم کا باعث بنیں۔ بلکہ پاک صاف زندگی ہو، نیکی اور تقویٰ پر چلنے والی زندگی ہو، اور جب ایسی زندگی ہو گی اور تم ایسی دنیا کمانے کے لیے اپنی زندگی صَرف کرو گے، تو وہ تمہیں دنیا و آخرت دونوں میں نوازے گی۔
خطبے کے آخر میں حضورِ انور نے فرمایا کہ پس
آج جب کہ دنیا عمومی طور پر اپنے مقاصد اور مفادات کے حصول میں پڑی ہوئی ہے، ذاتی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے، اگر قوموں کو دیکھیں تو اُنہیں صرف اپنی قوم کی فکر ہے، انسانیت کی نہیں۔ اور اِس میں پڑ کر یہ لوگ اپنی تباہی کے سامان کر رہے ہیں۔ ہمیں ایسے حالات میں الله تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی حسنات مانگنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ہمیں ایسے حالات میں اِس طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہم اپنی دنیا و آخرت سنوار سکیں اور ہر قسم کی آفات سے محفوظ رہ سکیں۔دنیا تباہی کے گڑھے میں جا رہی ہے، جیسا کہ مَیں نے کہا، الله تعالیٰ ہمیں اِس سے محفوظ رکھے۔
الله تعالیٰ کرے کہ ہمیں اپنے اعمال بھی بہتر کرنے کی توفیق ملے اور اِس لحاظ سے دعائیں کرنے کی بھی توفیق ملے، جیسا کہ ابھی (عید کے)خطبے میں بھی مَیں نے کہا تھا کہ الله تعالیٰ ہمیں حقیقت میں اِن حسنات کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور بہترین دعاؤں کی توفیق عطا فرمائے اور اُنہیں قبول بھی فرمائے۔
٭…٭…٭
