حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اسلام کے لیے خدمات(قسط دوم۔ آخری)
آپؑ کے دل میں اِسلام کی جو محبت، تڑپ اور لگن تھی اس کی وجہ سے آپؑ دن رات تڑپ کر دعائیں کرتے اور آپؑ کی دلی خواہش یہی تھی کہ اسلام ترقی کرے اور دنیا اسلام کے جھنڈے تلے اکٹھی ہو
[تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۲۳؍مارچ ۲۰۲۶ء]آپؑ فرماتے ہیں اس مولیٰ کریم کا اس وجہ سے بھی شکر کرتا ہوں کہ اس نے ایمانی جوش اسلام کی اشاعت میں مجھ کو اس قدر بخشا ہے کہ اگر اس راہ میں مجھے اپنی جاں بھی فدا کرنی پڑے تو میرے پر یہ کام بفضلِ تعالیٰ کچھ بھاری نہیں… اسی کے فضل سے مجھ کو یہ عاشقانہ روح ملی ہے کہ دکھ اٹھا کر بھی اس کے دین کے لیے خدمت بجا لاؤں اور اسلامی مہمات کو بشوق و صدق تمام سر انجام دوں۔ اس کام پر اس نے آپ مجھے مامور کیا ہے۔ اب کسی کے کہنے سے رک نہیں سکتا …اور چاہتا ہوں کہ میری ساری زندگی اسی خدمت میں صر ف ہو اور درحقیقت خوش اور مبارک زندگی وہی زندگی ہے جو الٰہی دین کی خدمت اور اشاعت میں بسر ہو۔ (ماخوذ از آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۳۵۔۳۶)
ملائکہ کے بارے میں لوگوں کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے آپؑ نے فرمایا۔ انسان کی علمی اور دینی ترقی کے لیے ملائکہ کا وجود ضروری ہے۔ کارخانۂ عالم کے چلانے کے لیے ملائکہ کا کام قوانین کو صحیح طور پر چلانا ہے۔ ملائکہ پاک ہوتے ہیں۔ انہیں جو کچھ خداتعالیٰ کہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ ان کا کام انسانوں کے دلوں میں نیک تحریکات پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اور انسان اِن سے تعلقات پیدا کرکے روحانی علوم میں ترقی کرسکتا ہے۔(حضرت مسیح موعود کے کارنامےتقریر حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمدخلیفۃ المسیح الثانیؓ،جلسہ سالانہ ۱۹۲۷ء،انوار العلوم جلد ۱۰، صفحہ ۱۶۰، ۱۶۳)
خلق عظیم میں کوئی نبی آنحضرتﷺ کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ فرمایا:جو اخلاق فاضلہ حضرت خاتم الانبیاءﷺ کا قرآن شریف میں ذکر ہے وہ حضرت موسیٰ سے ہزارہا درجہ بڑھ کر ہےکیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ تمام ان اخلاق فاضلہ کا جامع ہے جو نبیوں میں متفرق طو ر پر پائےجاتے تھے۔ اور نیز آنحضرتﷺ کے حق میں فرمایا اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ تُو خلق عظیم پر ہے اور عظیم کے لفظ کے ساتھ جس چیز کی تعریف کی جائے وہ عرب کے محاورہ میں اس چیز کے انتہائے کمال کی طرف اشارہ ہوتا ہے…۔ ایسا ہی اس آیت کا مفہوم ہے کہ جہاں تک اخلاق فاضلہ و شمائل حسنہ نفس انسانی کو حاصل ہو سکتے ہیں وہ تمام اخلاقِ کاملہ تامہ نفس محمدی میں موجود ہیں۔ سو یہ تعریف ایسی اعلیٰ درجے کی ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو دوسری جگہ آنحضرتﷺ کے حق میں فرمایا وَکَانَ فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا یعنی تیرے پر خداکا سب سے زیادہ فضل ہے اور کوئی نبی تیرے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہی تعریف بطور پیشگوئی زبور باب ۴۵ میں آنحضرتﷺ کی شان میں موجود ہے جیسا کہ فرمایا کہ خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تجھے معطر کیا۔ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن، جلد ۱، صفحہ ۶۰۶)
مصائب اور تکالیف میں صبرواستقلال، توکل علی اللہ اور فنا فی اللہ کا جو بلند ترین مرتبہ آنحضرتﷺ کو عطاہوا تھا اس میں دوسرا کوئی نبی شریک نہیں تھا۔ اس ضمن میں آپؑ فرماتے ہیں:آنحضرتﷺ اعلیٰ درجہ کے یک رنگ اور صاف باطن اور خدا کے لیے جانباز اور خلقت کے بیم و امید سے بالکل منہ پھیرنے والے اور محض خدا پر توکل کرنے والے تھے کہ جنہوں نے خدا کی خواہش اور مرضی میں محو اور فنا ہو کر اس بات کی کچھ بھی پروا نہ کی کہ توحید کی منادی کرنے سے کیا کیا بلا میرے سر پر آوے گی اور مشرکوں کے ہاتھ سے کیا کچھ دکھ اور درد اٹھانا ہوگا بلکہ تمام شدتوں اور سختیوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارا کرکے اپنے مولیٰ کا حکم بجا لائے اور جو جو شرط مجاہدہ اور وعظ و نصیحت کی ہوتی ہے وہ سب پوری کی اور کسی ڈرانے والے کو کچھ حقیقت نہ سمجھا۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مواضعاتِ خطرات اور پھر کوئی ایسا خدا پر توکل کرکے کھلا کھلا شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا اور اس قدر دشمن اور پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں۔ (براہین احمدیہ، حصہ دوم، روحانی خزائن جلد۱،صفحہ ۱۱۱۔۱۱۲)
حضرت مسیح موعودؑ آنحضرتﷺ کی شان اور بزرگی کا ذکر کرتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں:’’کیا یہ حیرت انگیز ماجرا نہیں کہ ایک بےزر، بےزور، بیکس، امی، یتیم، تنہا،غریب ایسے زمانہ میں کہ جس میں ہر ایک قوم پوری پوری طاقت مالی اور فوجی اور علمی رکھتی تھی ایسی روشن تعلیم لایا کہ اپنی براہین قاطعہ اور حجج واضحہ سے سب کی زبان بند کردی اور بڑے بڑے لوگوں کی جو حکیم بنے پھرتے تھے اور فیلسوف کہلاتے تھے فاش غلطیاں نکالیں اور پھر باوجود بیکسی اورغریبی کے زور بھی ایسا دکھایا کہ بادشاہوں کو تختوں سے گرادیا اور انہیں تختوں پر غریبوں کو بٹھایا اگر یہ خدا کی تائید نہیں تھی تو اور کیا تھی۔ کیا تمام دنیا پر عقل اور علم اور طاقت اور زور میں غالب آجانا بغیر تائید الٰہی کے بھی ہوا کرتا ہے۔ خیال کرنا چاہیے کہ جب آنحضرتﷺ نے پہلے پہل مکے کے لوگوں میں منادی کی کہ میں نبی ہوں اس وقت ان کے ہمراہ کون تھا اور کس بادشاہ کا خزانہ ان کے قبضے میں آگیا تھا کہ جس پر اعتماد کرکے ساری دنیا سے مقابلہ کرنے کی ٹھہر گئی یا کون سی فوج اکٹھی کر لی تھی کہ جس پر بھروسہ کر کے تمام بادشاہوں کے حملوں سے امن ہوگیا تھا۔ ہمارے مخالف بھی جانتے ہیں کہ اس وقت آنحضرتﷺ زمین پر اکیلے اور بیکس اور بےسامان تھے صرف ان کے ساتھ خدا تھا جس نے ان کو ایک بڑے مطلب کے لیے پیدا کیا تھا۔‘‘(براہین احمدیہ، حصہ دوم، روحانی خزائن جلد۱، صفحہ ۱۱۹۔۱۲۰)
انبیاء کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ کہ نبی بھیجنے کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔ نبی اس لیے آتا ہے کہ خدا کے کلام پر عمل کرکے لوگوں کو دکھائے اور ان کے لیے کامل نمونہ بنے نبی کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ جو لفظوں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم ہو وہ اپنے عمل سے لوگوں کو سکھائے۔ آپؑ نے حضرت مسیح ناصریؑ کی ذات کے بارے میں جو مختلف اقوام میں غلط خیالات تھےاور وہ جن غلط فہمیوں میں مبتلا تھے وہ دور کیے جس میں ان کی پیدائش اور زندہ آسمان کی طرف اٹھانا تھا۔اس کے علاوہ مردوں کو زندہ کرنا تھا۔ آپ نے ان سوالات کے جواب بڑی دلیل سے دیے اور آپ نے تاریخ سے ثابت کیا کہ آپ صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور زندہ اتارے گئے کشمیر آئے اور وہاں آکر فوت ہوئے۔ آپ نے اس غلط خیال کی بھی تردید فرمائی کہ حضرت عیسٰی زندہ ہیں اور امت محمدیہ کی اصلاح کریں گے اس میں ہمارے نبی کی ہتک ہے۔ (حضرت مسیح موعود کے کارنامےتقریر حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمدخلیفۃ المسیح الثانیؓ،جلسہ سالانہ ۱۹۲۷ء،انوار العلوم جلد ۱۰ )
آپؑ نے معجزات کے بارے میں لوگوں کی غلط فہمیوں کو دور فرمایا معجزہ ایمان کے لیے ہوتا ہے اورلغو نہیں ہوتا۔ پس جو معجزہ کسی مقصد اور فائدہ پر مشتمل ہو اسی کو تسلیم کیا جا سکتاہے ورنہ اسے خد تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔
شریعت کی عظمت غیر مسلموں اور مسلمانوں میں بالکل مٹی ہوئی تھی۔ آپ کے ذریعہ سے دوبارہ قائم ہوئی۔ آپؑ نے فرمایا کہ شریعت پر عمل کرکے ہی انسان اپنا اصلی مقصد حاصل کرسکتا ہے جو کہ خداتعالیٰ کا پہچاننا ہے۔
فقہ کی اصلاح : آپؑ نے فقہ کی اصلاح کی جس میں سخت خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں آپ نے فقہ کے متعلق زریں اصول باندھا اور فرمایا شریعت کی بنیاد مندرجہ ذیل چیزوں پر ہے
۱۔قرآن کریم
۲۔سنت رسول
۳۔احادیث جو قرآن کریم اور سنت اور عقل کے خلاف نہ ہوں
آخرین کو اوّلین سے ملانے کی ذمہ داری آنحضرتﷺ کے روحانی فرزند نے صدق دل سے پوری فرمائی۔ اور اس عظیم کام کی انجام دہی کے لیے سر توڑ کوششیں کیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مختلف الہامات اور رؤیا کے ذریعہ اس طرف توجہ دلائی۔ آپؑ فرماتے ہیں اس وقت ہمارے اور بڑے کام ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ عرب میں اشاعت ہو اور دوسرے یورپ پر اتمام حجت کریں۔ عرب پر اس لیے کہ وہ اندرونی طور پر حق رکھتے ہیں ایک بہت بڑا حصہ ایسا ہوگا کہ ان کو معلوم بھی نہ ہوگا کہ خدا نے کوئی سلسلہ قائم کیا ہے اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ان کو پیغام پہنچائیں۔ ایسا ہی یورپ والے حق رکھتے ہیں کہ ان کی غلطیاں ظاہر کی جائیں کہ وہ ایک بندہ کو خدا بناکر خدا سے دور جا پڑے ہیں۔ ۱۸۹۳ء میں حضورؑ نے اپنی عربی کتاب حمامۃ البشری تالیف فرمائی اس میں خدائی بشارت اور ارشاد لکھتے ہوئے فرمایا۔ترجمہ:اور میرے رب نے عرب کی نسبت مجھے بشارت دی اور کہا ہےکہ میں ان کی خبر گیری کروں اور ٹھیک راہ بتائوں اور ان کے معاملات کودرست کروں۔۱۸۹۴ء میں آپؑ نے اپنی عربی کتاب نورالحق تحریر فرمائی میں یہ بشارت تحریر فرمائی۔ترجمہ:اورمیں دیکھتا ہوں کہ اہل مکہ خدائے قادر کے گروہ میں فوج در فوج داخل ہوجائیں گے اور یہ آسمان کے خدا کی طرف سے ہے اور زمینی لوگوں کی آنکھوں میں عجیب۔
حضورؑ نے اپنی کتاب لجۃ النور میں فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ لوگ تجھ پر ایمان لائیں گے۔ تیرے لیے دعا کریں گے آپ نے خدا داد قوت و مقدرت سے نہایت فصیح وبلیغ عربی زبان میں التبلیغ کے عنوان نے ایک خط لکھا جس میں آپ نے ہندوستان،عرب،مصر، شام، ایران،ترکی اور دیگر ممالک کے سجادہ نشینوں، زاہدوں اورصوفیوں تک پیغام حق پہنچایا۔
التبلیغ میں آخر میں آپؑ نے آنحضرتﷺ کی شان میں قصیدہ تحریر فرمایا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے معجزانہ طور پر سکھائی جانے والی فصیح و بلیغ زبان میں نہایت مو ثر رنگ میں اپنی عربی تالیفات کے ذریعہ عربوں میں تبلیغ کا فرض ادا کیاو ہاں اس کے لیے دیگر ذرائع بھی اختیار کیے ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
فونو گراف کے ذریعہ عربی میں تبلیغی تقریر کرنے کی تجویز پر کسی وجہ سے عمل نہ ہوسکا لیکن اس بیان سے حضورؑ اور آپ کے صحابہؓ کے دلوں میں عربوں تک خدا کے مسیح اور مہدی کی آواز پہنچانے کی تڑپ کا اندازہ ضرور ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ مصر میں جماعت کی تبلیغ کے لیے ایک احمدی کو حج پر جاتے ہوئے دین کی تبلیغ کی طرف توجہ دلائی گئی۔ اسی طرح قادیان میں آ نے والے عربوں کو بھی خداتعالیٰ کی توفیق سے تبلیغ کی گئی۔
محض خدا کے فضل سے عربوں کی آ مد اور ان میں تبلیغ کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور حضور کی عربی کتب کی انٹرنیٹ پر فراہمی کے علاوہ کئی اردو کتب کے عربی تراجم بھی میسّر ہیں۔ایک چینل دن رات تبلیغی پروگرام میں مصروف ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہندوستا ن میں اسلام کی تبلیغ خدا کی تا ئیدو نصرت سے ایسے رنگ میں فرمائی اور عیسائیوں کے منادوں اور پادریوں کا مقابلہ کیا کہ انہیں پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا۔آپ کا پیغام یورپ اور امریکہ میں پہنچنا شروع ہو گیا۔اور آپ ہندوستانی نبی کے نام سے یاد کیے جانے لگے۔آپ کی اس ترقی اور شہرت کو دیکھتے ہوئے اسلام کے ساتھ بغض اور عنادرکھنے والے ایک شخص الیگزنڈر ڈوئی نے بھی آپ کے ساتھ میدان مقابلہ میں اپنی قسمت آزمانے کی ٹھانی اس مقابلہ اور اس کے نتیجہ میں یورپ و امریکہ میں اسلام و احمدیت کی فتح کی گونج پھیل گئی۔جان الیگز نڈرڈوئی کو اسلام سے سخت عداوت تھی اور اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا تھا اورلوگوں کی توجہ عیسائی عقائد اور اپنی طرف کرنا چاہتا تھا۔ ڈوئی نے۱۸۹۶ء میں ایک نئے فرقے کی بنیاد رکھی جس کا نام کرسچن کیتھولک چرچ رکھا۔ ۱۸۹۸ء یا۱۹۰۰ء میں اس نے پیغمبر ی کا دعویٰ کیا اور اس فرقہ کو کرسچن کیتھولک چرچ کا نام دیا۔ وہ اپنےاخبارات میں آنحضرتﷺ کی بہت مخالفت کرتا تھا اور اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے کوشش کرتا تھا۔
حضور کو ڈاکٹر ڈوئی کے دعاوی کا علم ہوا تو آپ نے اس کو ایک چٹھی لکھی جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات اور سری نگر کشمیر میں ان کی قبر کا ذکر کرتے ہوئے اسے مباہلہ کا چیلنج دیا۔ با ر باراصرار کرنے پر ڈوئی نے اس چیلنج کا جواب نہ دیا اور پھر ستمبر اور دسمبر کے اخبارات میں اس نے لکھا کہ ہندوستان میں ایک بیوقوف محمدی مسیح ہے جو مجھے بار بار لکھتا ہے کہ مسیح یسوع کی قبر کشمیر میں ہے اور لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں اس کا کوئی جواب نہیں دیتا مگر کیا تم خیال کرتے ہو میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دوں گا اگر میں اپنا ان پر پاؤں رکھوں تو میں ان کو کچل کر مار ڈالوں حضورؑ کو جب اس کی بےباکی کا علم ہوا تو آپ نے خدا تعالیٰ کی عدالت میں اس مقدمہ میں کامیابی کے لیے متضرعانہ دعاؤں میں مزید اضافہ کردیا۔ آپؑ نے۲۳؍اگست۱۹۰۳ء کے اشتہار میں لکھا۔اب تک ڈوئی نے میری درخواست مباہلہ کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس لیے میں آج کی تا ریخ سے جو ۲۳؍اگست ۱۹۰۳ء ہے اس کو پورے سات ماہ کی مہلت دیتا ہوں اگر وہ اس مہلت میں میرے مقابلہ پر آ گیا اور جس طورسے مقابلہ کرنے کی تجویز کو پورے طور پر منظور کرکے مَیں نے اخبار میں عام اشتہار دیا ہے۔ تو جلد تر دنیا دیکھے گی کہ مقابلہ کا انجام کیا ہوتا ہے۔ پس یقین سمجھو کہ اس کے صحیفوں پر جلد تر آفت آنے والی ہے کیونکہ ان دونوں صورتوں میں ضرور ایک صورت اس کو پکڑے گی۔پھر خدائی تقدیر نے کام دکھایا۔ کیونکہ مامور زمانہ آچکا تھا اب دنیا خصوصاً امریکہ اور یورپ میں اسلام کی صداقت ظاہر ہونے کا وقت آگیا تھا اس کو یکم اکتوبر ۱۹۰۵ء کو فالج کا حملہ ہوا اور پھر۱۹؍دسمبر۱۹۰۵ء کو دوبارہ فالج کا حملہ ہوا اس کے رشتے دار جدا ہوگئے اس کے ساتھیوں نے اپنا نیا لیڈر چن لیا۔ڈوئی بیماری سے نڈھال ہوتا چلا گیا۔آخر مامور زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی سے ۹؍مارچ۱۹۰۷ء کو اس جہان سے رخصت ہوا۔ حضور نے ۲۰؍ فروری ۱۹۰۷ء کو ہی ڈوئی کی موت سے قبل ایک اشتہار کے ذریعہ اس نشان کے پورا ہونے کے بارے میں لوگوں کو بتا دیا۔ ڈوئی کی موت سے جہاں کسر صلیب کا نشان پورا ہوا وہاں اسلام کی صداقت ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ یورپ و امریکہ میں اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کی بنیاد پڑگئی۔ (ہفت روزہ بدر قادیان۲۲۔۲۹؍دسمبر۲۰۱۶ء حضرت مسیح موعود اورخدمت اسلام)
آپؑ کو اس بات کی بڑی خواہش رہتی تھی کہ عیسائی ممالک میں اسلام کی تبلیغ کی جاوے اور آپ کی بعثت کی غرضوں میں سے ایک بڑی غرض یہی تھی کہ صلیبی مذہب کے زور کو توڑ کر اس کی جگہ اسلام کو قائم کیا جائے۔
الغرض آپ کو مسیح پرستی کے خلاف بہت جوش تھا۔ اور آپ کو خدا نے الہاموں اور خوابوں کے ذریعہ بشارت بھی دی تھی کہ جلد یا بدیر آپ کی لائی ہوئی روشنی سے یورپ منور ہوگا۔ اس غرض کے لیے آپؑ نے۱۹۰۲ء میں ایک رسالہ کی بنیاد رکھی تا کہ اس کے ذریعہ سے مغربی ممالک میں مسیحیت کے خلاف اور اسلام کے حق میں مہم جاری کر سکیں آ پ مضامین لکھواتے اور پھر ان کا ترجمہ انگریزی میں کراکے رسالے میں چھپواتے۔ آپ کی خاص توجہ کی برکت سے اس رسالہ نے حیرت انگیز رنگ میں ترقی کی اور بہت ہی تھوڑے عرصے میں عیسائی علمی دنیا میں اپنا سکہ جمالیا۔ یورپین اور امریکن علماء نے آپ کے مضامین کی تعریف میں پرجوش ریویو لکھے اور آپ کے دلائل کی قوت کو تسلیم کیا۔
آپؑ نے اسلام کی تائید اور مسیحیت اور دوسرے مذاہب کی تردید میں ایسے ایسے زبردست مضامین لکھے کہ علمی دنیا میں ایک ہلچل مچ گئی اور رسالہ نے اپنے آپ کو صحیح معنوں میں The Review of Religionثابت کیا۔الغرض حضرت مسیح موعود ؑکی زیر قیادت اس رسالہ نے کسر صلیب اورفتح اسلام میں نمایاں حصہ لیا۔
۱۸۹۵ء میں آپؑ نے ایک عظیم الشان تحقیق کا اعلان فرمایا جو سکھ مذہب کے بانی حضرت بابانانک صاحب کے متعلق تھی۔آپؑ نے باوا صاحب کے متعلق یہ ثابت کیا کہ گووہ ہندئوں کے گھر میں پیدا ہوئے۔ مگر دراصل وہ ایک پاکباز مسلمان ولی تھے جنہوں نے ہندوؤں کے مذہب سے بیزار ہوکر بالآخر اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپؑ نے ثابت کیا کہ وہ کوئی نئی شریعت نہیں لائے تھے بلکہ وہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور قرآن ہی کی شریعت پر ایمان لائے تھے اور مسلمانوں کی طرح باقاعدہ نماز پڑھتے تھے اور سارے اسلامی احکام کے پابند تھے۔ انہوں نے مکہ کا سفر اختیار کر کے بیت اللہ کا حج بھی کیا اور جو متبرک چولہ آپ کی یادگار چلا آتا ہے وہ بھی آپ کو مسلمان ثابت کرتا ہے کیونکہ اس میں جا بجا کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات درج ہیں۔
آپؑ نے اسلام کی تبلیغ اور سچا مذہب اسلام ہی ہے کے سلسلہ میں مختلف مناظرات و مباحثات میں حصہ لیا جن میں مباحثہ امرتسر، مباحثہ لدھیانہ، مباحثہ دہلی، مباحثہ ہوشیار پور شامل ہیں۔
آپؑ نے مختلف مباحثوں میں مخالفین کو بحث اور نشان نمائی کی دعوت دی بلکہ بھاری نقد انعام کا بھی اعلان فرمایا۔ مگر کوئی آپ کے ذریعہ ان مباہلات میں دیے گئے چیلنجوں کا جواب دے کر نقد انعام حاصل نہیں کرسکا۔
جلسہ مذاہب اعظم لاہور کا مقصد یہ تھا کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اپنے اپنے مذہب کے بارے میں خیالات کا اظہار کریں اس جلسہ میں حضور کا مضمون بھی پڑھا گیا۔ اس مضمون کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی آپ کو خوشخبری سنا دی تھی کہ آپ کا مضمون بالا رہے گا اور یہی ہوا۔اس مضمون میں مختلف سوالات کے جوابات دے گئے ہیں۔ جو قرآن مجید کے حوالے سے ہیں۔ ان سوالات کو اسلامی اصول کی فلاسفی کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔آج یہ لیکچر جو قرآن شریف کی جامع تفسیرہے۔ ۱۳۰؍سال گزرنے کے باوجود نہ صرف احمدیوں کو سیراب کر رہا ہے بلکہ غیر احمدی مسلمانوں کے لیے بھی مشعل راہ ہے۔
حضورؑ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس عاجزکا نام سلطان القلم رکھا اور میرے قلم کو ذوالفقار فرمایا۔ آپؑ فرماتے ہیں:یعنی اس کا وہ روشن ہاتھ جو اتمام حجت کی رو سے تلوار کی طرح چمکتا ہے پھر میں اس کو ذوالفقار کے ساتھ دیکھتا ہوں یعنی ایک زمانہ ذوالفقار کا تو وہ گزر گیا کہ جب ذوالفقار علی کرم اللہ وجہہ کے ہاتھ میں تھی مگر خدا تعالیٰ پھر ذوالفقار اس امام کو دے دے گا اس طرح پر یہ کہ اس کا چمکنے والا ہاتھ وہ کام کرے گا جو پہلے زمانہ میں ذوالفقار کرتی تھی۔ سو وہ ہاتھ ایسا ہوگا کہ گویا وہ ذوالفقار علی کرم اللہ وجہہ ہے جو پھر ظاہر ہوگئی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ امام سلطان القلم ہوگا اور اس کی قلم ذوالفقار کا کام دے گی۔یہ پیشگوئی بعینہٖ اس عاجز کے اس الہام کا ترجمہ ہے جو اس وقت سے دس برس پہلے براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے کتاب الولی ذوالفقار علی یعنی کتاب اس ولی کی ذوالفقار علی کی ہے۔ یہ اس عاجز کی طرف اشارہ ہے۔ اسی بناء پر بارہا اس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے۔(نشان آسمانی، روحانی خزائن جلد ۴صفحہ ۳۹۹)
حضورؑ نے بحیثیت سلطان القلم اپنی زندگی میں اسی سے زیادہ کتب تحریر فرمائیں جن کا احاطہ کرنا ایک مختصر اور محدود وقت میں جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعاوی آپؑ کےاپنے الفاظ میں
حضورؑ فرماتے ہیں:’’مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افترا کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرّہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتاہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔ میرے لئے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔ اس طرح پر میرے لئے آسمان بھی بولااور زمین بھی کہ میں خلیفۃ اللّٰہ ہوں مگر پیشگوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا اس لئے جن کے دلوں پر پردے ہیں وہ قبول نہیں کرتے۔ میں جانتا ہوں کہ ضرور خدا میری تائید کرے گا جیسا کہ وہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی تائید کرتا رہا ہے۔ کوئی نہیں کہ میرے مقابل پر ٹھہر سکے کیونکہ خدا کی تائیداُن کے ساتھ نہیں۔ اور جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سےباطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔ اور میرا یہ قول کہ ’’من نیستم رسول و نیا وردہ اَم کتاب‘‘اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں۔ ہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ میں باوجود نبی اور رسول کے لفظ کے ساتھ پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بِلاواسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ۔ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسمّٰی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔ اور اس طور سے خاتم النبیین کی مہر محفوظ رہی کیونکہ میں نے انعکاسی اور ظلّی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔ اگر کوئی شخص اس وحی الٰہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مہر نہیں ٹوٹتی۔‘‘(ایک غلطی کا ازالہ،روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۱۱،۲۱۰)
ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ لاالٰہ الّا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہم بفضل و توفیق باری تعالیٰ اس عالم گذران سے کوچ کریں گے یہ ہے کہ حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیّین و خیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شُعشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتااور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغییر کر سکتا ہو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور مُلحد اور کافر ہے۔‘‘(ازالہ اوہام،روحانی خزائن جلد۳صفحہ۱۷۰،۱۶۹)
’’میں بڑے دعوے اور استقلال سے کہتا ہوں کہ مَیں سچ پر ہوں اور خدائے تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے۔ اور جہاں تک مَیں دوربین نظر سے کام لیتا ہوں، تمام دنیا اپنی سچائی کے تحت اقدام دیکھتا ہوں۔ اور قریب ہے کہ مَیں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر مَیں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔ اور آسمان پر ایک جوش اور ابال پیدا ہوا ہے جس نے ایک پتلی کی طرح اِس مشتِ خاک کو کھڑا کر دیا ہے۔ ہر یک وہ شخص جس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں عنقریب دیکھ لے گا کہ مَیں اپنی طرف سے نہیں ہوں۔ کیا وہ آنکھیں بینا ہیں جو صادق کو شناخت نہیں کر سکتیں ؟ کیا وہ بھی زندہ ہے جس کو اس آسمانی صدا کا احساس نہیں ؟ ‘‘(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳صفحہ ۴۰۳)
’’دُنیا مجھے قبول نہیں کر سکتی کیونکہ میں دنیا میں سے نہیں ہوں مگر جن کی فطرت کو اُس عالم کا حصہ دیا گیا ہے وہ مجھے قبول کرتے ہیں اور کریں گے۔جو مجھے چھوڑتا ہے وہ اُس کوچھوڑتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جو مجھ سے پیوند کرتا ہے وہ اُس سے کرتا ہے جس کی طرف سے میں آیا ہوں۔میرے ہاتھ میں ایک چراغ ہے جو شخص میرے پاس آتا ہےضرور وہ اُس روشنی سے حصہ لے گا مگر جو شخص و ہم اور بد گمانی سے دُور بھاگتا ہے وہ ظلمت میں ڈال دیا جائے گا۔اس زمانہ کا حصن حصین میں ہوں جو مجھ میں داخل ہوتا ہے وہ چوروں اور قز اقوں اور درندوں سے اپنی جان بچائے گا۔‘‘(فتح اسلام،روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۴)
’’میں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوںکہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔میں بنی نوع سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر۔میں صرف ان باطل عقائد کا دشمن ہوں جن سے سچائی کا خون ہوتا ہے۔انسان کی ہمدردی میرا فرض ہے اور جھوٹ اور شرک اور ظلم اور ہرایک بد عملی اور نا انصافی اور بداخلاقی سے بیزاری میرا اصول۔‘‘(اربعین نمبر ۱،روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۴۴)
آپؑ کے دل میں اِسلام کی جو محبت، تڑپ اور لگن تھی اس کی وجہ سے آپؑ دن رات تڑپ کر دعائیں کرتے اور آپؑ کی دلی خواہش یہی تھی کہ اسلام ترقی کرے اور دنیا اسلام کے جھنڈے تلے اکٹھی ہو۔ اس کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیعت لینے کا حکم دیا اور آپ کو ایک جماعت عطا کی گئی اس موقع پر آپؑ نے فرمایا:’’میں اس جگہ ایک اور پیغام بھی خلق اللہ کو عموماً اور اپنے بھائی مسلمانوں کو خصوصاً پہنچاتا ہوں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان اور سچی ایمانی پاکیزگی اور محبت مولیٰ کا راہ سیکھنے کے لئے اور گندی زیست اور کاہلانہ اور غدارانہ زندگی کے چھوڑنے کے لئے مجھ سے بیعت کریں۔پس جو لوگ اپنے نفسوں میں کسی قدر یہ طاقت پاتے ہیں انہیں لازم ہے کہ میری طرف آویں کہ میں ان کا غم خوار ہوں گا اور ان کا بار ہلکا کرنے کے لئے کوشش کروں گا اور خدا تعالیٰ میری دعا اور میری توجہ میں ان کے لئے برکت دے گا بشرطیکہ وہ ربّانی شرائط پر چلنے کے لئے بدل و جان طیار ہوں گے یہ ربّانی حکم ہے جو آج میں نےپہنچا دیا ہے۔‘‘(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ۲۰۵)
آپؑ نے یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کو اعلان بیعت فرمایا اور ۱۲؍ جنوری ۱۸۸۹ءکے اشتہار تکمیل تبلیغ میں آپؑ نے شرائط بیعت درج فرمائیں۔آپؑ نے اپنی ساری زندگی اسلام کی تبلیغ، خدمت، توحید اور نبی پاک ﷺ کی تعلیمات کو پھیلانے میں گزار دی۔یہ پیارا وجود جو اپنی جماعت کے لیے فکر اور درد رکھتا تھا اور ہر لمحہ اپنی پیاری جماعت کے لیے دعائیں کرتا تھا۔ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو اس دنیا فانی سے اپنی ساری ذمہ داریاں احسن طریقے سے پوری کرتے ہوئے اپنے پیارے خدا کے حضور حاضر ہوگیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو آپ کے بلانے کے بعد ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ خلافت کی صورت میں عطا فرمایا اور جماعت کو پھر ایک ہاتھ پر جوڑ دیا اور ایک لڑی میں پرو دیا۔ پس ہمیں چاہیے کہ ہم خلافت کی اس رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور اسلام کے ہر اس تقاضا کو پورا کرنے کی ہر دم کوشش کریں جس کا ہمارے پیارے خدا اور پیارے نبی ﷺ نے حکم دیا۔ خدا کرے کہ ہم خدا کو راضی کرنے والے ہوں اور خدا ہم سے راضی ہو۔ آمین ثم آمین
(بنت رحمان)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز: عالمی تجارت، توانائی اورایران امریکہ کشیدگی میں اس کا کردار




