آبنائے ہرمز: عالمی تجارت، توانائی اورایران امریکہ کشیدگی میں اس کا کردار
آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) دنیا کی اہم ترین اور حسّاس سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ خلیجِ فارس کو خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے اور جغرافیائی لحاظ سے ایران اور سلطنت عمان کے درمیان واقع ہے۔ اپنی تنگی کے باوجود یہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جس کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی مصنوعات دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچاتے ہیں۔
یہ گزرگاہ ایک طرف ایران جبکہ دوسری طرف عرب ریاستوں، خصوصاً متحدہ عرب امارات اور عمان کے درمیان واقع ہے۔ اس کے تنگ ترین مقام پر ایران اور عمان کے درمیان صرف تقریباً اکیس میل کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔ اس میں دو اہم شپنگ لینز(آبی گزرگاہ) ہیں اور ہر ایک کی چوڑائی تقریباً دو میل ہے، جو اسے دنیا کی حساس ترین بحری گزرگاہوں میں شامل کرتی ہے۔ اگرچہ یہ راستہ تنگ ہے، لیکن اس کی گہرائی اور ساخت ایسی ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ٹینکرز بھی بآسانی یہاں سے گزر جاتے ہیں۔
آبنائے ہرمز تاریخی اعتبار سے بھی ایک اہم تجارتی راستہ رہا ہے۔ قدیم زمانے میں عرب، فارسی اور ہندوستانی تاجر حضرات اسی راستے سے مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کرتے تھے۔ قرونِ وسطیٰ میں اس علاقے پر مختلف طاقتوں کا اثر رہا ہے، جن میں عرب حکمرانوں، فارسی سلطنت اور پرتگالی شامل تھے۔ پرتگالیوں نے سولہویں صدی میں اس پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ بحری تجارت پر قبضہ کیا جا سکے، مگر بعد میں یہ علاقہ دوبارہ مقامی اور علاقائی طاقتوں کے زیرِ اثر آگیا۔
انیسویں اور بیسویں صدی میں خلیجِ فارس کے ممالک میں تیل کی دریافت کے بعد آبنائے ہرمز کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی۔ اب یہ صرف ایک تجارتی راستہ نہیں رہا بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل کا سب سے بڑا ذریعہ بھی بن گیا۔ آج دنیا کے کل تیل کا تقریباً پانچواں حصہ، یعنی روزانہ قریب بیس ملین بیرل تیل، اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ اس کے علاوہ مائع قدرتی گیس (LNG) کی بڑی مقدار بھی اسی راستے کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔
چین، جاپان، بھارت اور جنوبی کوریا جیسے صنعتی ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے اس راستے پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے یہ گزرگاہ بند ہو جائے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشت اور صنعتوں پر پڑتے ہیں۔ یہاں تک کہ عام صارفین، مثلاً گاڑیوں کے لیے پٹرول استعمال کرنے والے افراد بھی اس کے اثرات محسوس کرتے ہیں، کیونکہ پٹرول کی قیمت کا بڑا حصہ خام تیل کی قیمت سے وابستہ ہوتا ہے۔
آبنائے ہرمز کو عالمی سطح پر ایک “چوک پوائنٹ” کہا جاتا ہے، یعنی ایسا تنگ مقام جہاں سے گزرے بغیر بحری تجارت ممکن نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے یہ گزرگاہ عالمی سیاست اور عسکری حکمت عملی میں بھی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ایران اس کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اس پر خاص اثر رکھتا ہے، جبکہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک بھی یہاں اپنی بحری موجودگی برقرار رکھتے ہیں تاکہ تیل کی ترسیل محفوظ رہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی میں آبنائے ہرمز نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ یہ دنیا کی سب سے اسٹریٹیجک سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ جب بھی ایران اور امریکہ کے تعلقات خراب ہوتے ہیں تو یہ گزرگاہ عالمی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔ ایران کئی بار یہ دھمکی دے چکا ہے کہ وہ اس راستے کو بند کر سکتا ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اسے ہر صورت کھلا رکھنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اس کشیدگی کے باعث نہ صرف خطے میں فوجی تناؤ بڑھتا ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی بے یقینی پیدا ہو جاتی ہے۔
حالیہ حالات میں، اگرچہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں ہے، لیکن یہاں جہازوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ پچھلے ہفتے کے دوران اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد معمول سے بہت کم رہی، اور بعض دنوں میں صرف چند جہاز ہی گزر سکے۔ سیکیورٹی خدشات، حملوں کے خطرات اور علاقائی کشیدگی کی وجہ سے کئی بین الاقوامی کمپنیوں نے اس راستے کو استعمال کرنے میں احتیاط برتی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور تیل کی قیمتوں کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اکثر اوقات یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا آبنائے ہرمز کو واقعی بند کیا جا سکتا ہے؟ ایران کے پاس بحری بارودی سرنگیں، کروز میزائل، ساحلی دفاعی نظام اور تیز رفتار حملہ آور کشتیاں موجود ہیں جن کے ذریعے وہ اس گزرگاہ کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اسے مکمل طور پر بند کرنا آسان نہیں، کیونکہ عالمی طاقتیں فوری کارروائی کرکے اسے دوبارہ کھولنے کی کوشش کریں گی۔ مزید یہ کہ آبنائے ہرمز کی بندش کو عالمی سطح پر ایک جنگی اقدام (Act of War) تصوّر کیا جائے گا، جس کے سنگین سیاسی اور عسکری نتائج نکل سکتے ہیں۔ اسی لیے تمام بڑی طاقتیں اس علاقے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔
ماحولیاتی لحاظ سے بھی یہ گزرگاہ اہم ہے۔ روزانہ بڑی تعداد میں تیل کے ٹینکرز کی آمد و رفت کے باعث سمندری آلودگی کا خطرہ رہتا ہے۔ کسی حادثے کی صورت میں سمندری حیات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے بین الاقوامی سطح پر حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ آبنائے ہرمز ایک تنگ مگر انتہائی اہم عالمی گزرگاہ ہے جس کی جغرافیائی حیثیت، تاریخی کردار، اقتصادی اہمیت اور سیاسی و عسکری حسّاسیت اسے دنیا کے اہم ترین مقامات میں شامل کرتی ہے۔ آج کے دور میں عالمی توانائی کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے اس کی سلامتی اور کھلا رہنا پوری دنیا کے مفاد میں ہے، تاہم حالیہ کشیدگی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پوری دنیا پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ (ابو الفارس محمود)
مزید پڑھیں: روحانی وابل




