متفرق مضامین

چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۱۰)

(امۃالباری ناصر)

۷۸۔یہ لکھا تھا اس میں بخطِّ جَلی

کہ اللہ ہے اِک اور محمدؐ نبی

بخط جلی ba khatt-e-jali: موٹے حروف میں In bold letters

اس چولے پر بڑے بڑے حروف میں یہ لکھا تھا کہ اللہ ایک ہے اور محمدﷺ اس کے نبی ہیں۔

۷۸۔ہوا حکم پہن اس کو اے نیک مرد!

اتر جائے گی اس سے وہ ساری گرد

گرد اترنا gard utarnaa: ملال دور ہونا Get rid of apprehensions۔ چولہ ظاہر ہونے کے ساتھ یہ حکم ہوا کہ اے نیک مرد اس کو پہن لے تیرا سب رنج اور ملال دُور ہوجائے گا۔

۸۰۔جو پوشیدہ رکھنے کی تھی اِک خطا

یہ کفّارہ اس کا ہے اے باوفا!

پوشیدہ posheeda: چھپا ہوا، Hidden

خطا khataa: غلطی Error, fault, mistake

کفارہ kaffaarah: گناہ یا خطا کا بدلہ ,redemption Atonement, expiation of sins

باوفا baa Wafaa: ساتھ نبھانے والا Faithful۔ اے وفادار شخص تمہیں ملال تھا کہ تم نے حق کو پوشیدہ رکھ کر غلطی کی ہے اب اس کا بدلہ اس طرح اتار سکتا ہے کہ یہ چولہ پہن کر گھوم پھر تاکہ خوب اعلان ہوجائے کہ تم نے سچے دین اسلام کو مان لیا ہے۔

۸۱۔یہ ممکن ہے کشفی ہو یہ ماجرا

دکھایا گیا ہو بہ حُکمِ خدا

کشف kashf: نظارۂ غیب، وہ درجہ جس پر پہنچ کر غیب کے اسرار کھل جائیں۔ Vision (It may all be a vision shown to him by God)

maajraa ماجرا: کیفیت، سرگزشت، جو واقعہ ہوا Incident event۔ whatever transpired or occured, state, condition story

بہ حکم خدا ba hukm-e-Khuda: اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ,According the command of God۔ یہ چولہ کہاں سے آیا ؟ ہو سکتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر کشفی طور پر گروجی کو دکھایا گیا ہو

۸۲۔پھر اُس طرز پر یہ بنایا گیا

بحکم خدا پھر لکھایا گیا

طرز tarz: طریق Style , manner

بحکم خدا ba hukm-e-Khuda: اللہ تعالیٰ کے فرماان سے ,Through God’s order

پھر آپؑ نے اسی طرز پر چولہ بنوا کر اس پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ سب تحریر کروایا ہو۔

۸۳۔مگر یہ بھی ممکن ہے اَے پختہ کار

کہ خود غیب سے ہو یہ سب کاروبار

پختہ کار pukhta kaar: سمجھدار، عقلمند Shrewd

غیب ghaib: جسے دیکھا نہ جا سکے ، اوجھل unseen

کاروبارkaarobaar: کام، سرگرمی، معاملہ Work, function, affair

مگر اے عقلمند آدمی یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سارا سامان اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا گیا ہو جو ہماری مادی آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔

۸۴۔کہ پردے میں قادر کے اسرار ہیں

کہ عقلیں وہاں ہیچ و بےکار ہیں

اسرار asraar: (سِرّ کی جمع) راز، پوشیدہ بات Divine secrets, mystery

ہیچ haich: بیکار، ناقابلِ ذکر، نہ ہونے کے برابرInsignificant, worthless

اللہ تبارک تعالیٰ اپنی قدرت سے ایسے عجائب کام کرتا ہے جس کے بھید انسان اپنی عقل سے نہیں پا سکتا۔ عقلیں وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتیں۔ اس کے اسرار روحانی آنکھ سے ہی دیکھے اور سمجھے جا سکتے ہیں۔

۸۵۔تو یک قطرہ داری ز عقل و خِرد

مگر قدرتش بحرِ بے حدّ و عد

تویک قطرہ داری زعقل وخرد too yak qatrah daari ze’aql-o-khirad: تیرے پاس تو عقل اور دانائی کا ایک قطرہ ہے۔ You hold only a drop of wisdom and intellect

مگر قدرتش بحر بے حد و عد magar qudratash behr-e-be had-o-›ad: مگر خدا کی قدرت بے پایاں سمندر ہے جس کی کوئی حد ہے نہ کنارہ

But His might is like an ocean without limits and bounds

اللہ تعالیٰ کی طاقتوں اور بندے کی طاقت میں سمندر اور قطرے کی نسبت ہے۔ انسان ایک قطرے جتنی سمجھ بوجھ رکھتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت و دانائی اور قدرتیں ایسے سمندر کی طرح ہے جس کا کوئی کنارہ ہوتا ہے نہ حد۔

مزید پڑھیں: چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۹)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button