الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
محترمہ کوثر شاہین ملک صاحبہ
لجنہ اماءاللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘ جلد۲۰۱۴ء نمبر۱ میں مکرمہ ہما امبر بلوچ صاحبہ اپنی والدہ مکرمہ کوثر شاہین صاحبہ کی یادیں بیان کرتے ہوئے تحریر کرتی ہیں کہ حضرت قاضی محبوب عالم صاحبؓ (نیلاگنبد لاہور والے) امّی جان اور میرے والد دونوں کے نانا تھے۔ شادی کے بعد ۱۹۷۴ء میں امّی جرمنی آگئیں اور یہاں جرمن زبان کا کورس کرنے کے بعدایک فرم میں چار سال تک کام کیا۔ ساتھ ہی گھریلو اور جماعتی ذمہ داریاں بھی احسن رنگ میں ادا کیں۔ ان ہی دنوںحضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ جرمنی تشریف لائے تو حضورؒ نے خصوصیت سے خواتین کی توجہ پردے کی جانب مبذول کروائی۔ اس پر امّی نے نہ صرف خود پردہ کرنا شروع کردیا بلکہ حضورؒ کی ہدایت کے مطابق تقریر اور تحریر کے ذریعے دوسروں کو بھی بارہا اس طرف توجہ دلائی۔ کئی مضامین لکھے۔ آپ بہت اچھی مقررہ تھیں۔ فَاسْتَبِقُوْاالْخَیْرَاتِ کے حوالے سے لجنہ میں تلقین عمل کرتیں تو ممبرات نہایت شوق اور جذبے سے چندوں میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتی تھیں۔
آپ کے دَورِ صدارت میںحضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے جلسہ سالانہ جرمنی ۱۹۸۸ء کے بعد لجنہ جرمنی کی عاملہ میٹنگ میںجلسے کے دوران ڈسپلن پر خوشنودی کا اظہارفرمایا تو ایک عاملہ ممبر نے حضورؒ سے درخواست کی کہ آپ ازراہ شفقت ہمارے سر پر ہاتھ پھیردیں۔ اس پر حضورؒ مسکرائے اور امّی کے سر پر ہاتھ پھیر کر انہیں فرمایا کہ اب آپ باقی سب کے سروں پر ہاتھ پھیر دیں۔
امی کا ناصرات کے ساتھ بھی ایک خاص تعلق تھا۔ لوگوں کے دکھ سکھ میں شامل ہوتیں۔ کوشش کرتیں کہ ہر ایک آپس میں صلح اور امن سے رہے۔ آپ کی گھریلو زندگی بھی اس بات کی گواہ تھی۔ آپ عبادت گزار اور نیک خاتون تھیں۔ نماز جمعہ پابندی کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کرتیں۔ لجنہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘ کا آغاز آپ کے دورِ صدارت میں ہوا۔
آپ جماعتی میٹنگز کی یا دوسروں کی ذاتی بات کسی دوسرے کو کبھی نہیں بتاتی تھیں، اگر مَیں کبھی اس حوالے سے پوچھتی بھی تو کہتی تھیں یہ امانت میں خیا نت ہوگی۔
امی بہت مہمان نوازتھیں،اگر کوئی تھوڑی سی دیر کے لیے بھی ہمارے گھر آتا تو آپ مو سم کے مطابق ضرور کچھ کھانے پینے کے لیے پیش کرتی تھیں۔ آپ بچوں سے بہت پیار کرتیں لیکن اُن کی تربیت کا بھی خیال رکھتیں۔ میری ایک بیٹی نے مجھے بتایاکہ ایک رات میں اُن کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی تو مَیں نے اُن سے کہا کہ آپ ماما سے کہیں کہ مَیں سوگئی ہوں۔ اس پر انہوں نے کہایہ تو ایک جھوٹ ہوگا، یہ تو مَیں نہیں کہہ سکتی۔
ہم دو بہن بھائی ہیں اور ہمارے درمیان چار سال کا فرق ہے۔ امی جان نے ہمیں بڑے صبر و تحمل سے پالا۔ ہماری تربیت ہمیشہ اپنا اعلیٰ نمونہ دکھاکر کی۔ ہم دونوں کے ساتھ ہمیشہ برابری کا سلوک کیا۔ جب ہم سے کوئی غلطی ہوتی تو آپ ہم سے ناراض تو ہوتیںلیکن کبھی ہمیں مارا نہیں بلکہ مایوسی کا اظہار کرتیں اور کچھ دیر کے لیے بات نہ کرتیں۔ لیکن یہ تھوڑی سی دیربھی ہمیںبہت زیادہ لگتی تھی اور ہم اپنی اصلاح کرلیتے۔ آپ کہتی تھیں کہ بچوں کو کبھی بھی مارنا نہیںچا ہیے بلکہ صبر اور پیار کے ساتھ ان کی تربیت کرنی چا ہیے۔مارنے سے بچوں پر اچھا اثر نہیں پڑتا اور ان میں ضد آ جاتی ہے۔
میرے شوہر مکرم ڈاکٹر محمد سرفراز بلوچ صاحب کہتے ہیں کہ مرحومہ بہت علمی شخصیت تھیں جس کا اظہار اُن کے ساتھ علمی تبادلۂ خیال کے ذریعے اکثر ہوتا رہتا تھا جس کا عملی اظہار ان کی زندگی میں ہمیشہ جاری رہا۔ مثلاً جب اُن کی گردے کی پیوندکاری کی گئی تو مَیں نے ہسپتال جاکر اُن کو سلام کیا۔ تب وہ بےہوشی کی دوائوں کے زیراثر تھیں اس لیے میری آواز پہچان نہ سکیں اور اس حالت میں بھی ان کے منہ سے بےساختہ نکلا: ’’میرا دوپٹہ میرا دوپٹہ‘‘۔ خاکسار کے دوپٹہ دینے پر وہ دوبارہ بےہوشی کی حالت میں چلی گئیں۔ یہ حیران کُن تھا کہ ایسی حالت میں بھی ان کو اپنے پردے کی فکر تھی جس حالت میں مریضوں کو اپنے زندہ ہونے کا بھی احساس نہیں ہوتا۔گویا انہوں نے اپنی زندگی میں پردے پراتنا عمل کیا تھا کہ یہ عمل تحت الشعور کا ایک حصہ بن چکاتھا۔ اسی طرح ایک بار مجھے تعلیم کے لیے کچھ رقم کی ضرورت پڑی تو آپ نے مجھے وہ رقم قرض کے طور پر دے دی لیکن قرآنی حکم کے مطابق خاکسارسے قرضے کی تفصیلات کے بارے میں تحریری معاہدہ کیا۔ خداتعالیٰ کے احکام کی پابندی کا یہ دوسرا واقعہ بھی اثر کے لحاظ سے خاکسار کے لیے مثال ہے۔
میری بھابی بیان کرتی ہیں کہ میری امی (اُن کی ساس صاحبہ) بہت پیار اور انصاف کرنے والی خاتون تھیں۔ نکاح کے موقع پر میرا ہاتھ میرے شوہر کے ہاتھ پر رکھ کر انہیں کہا کہ وہ میرا ہاتھ آخری دم تک تھامے رکھیںاور میرے ساتھ ہمیشہ عزت سے پیش آئیں۔ یہ الفاظ ایک روایتی ساس کے نہیں بلکہ ایک ماں کے تھے۔ اسی طرح انہوں نے ساری زندگی کبھی میرے اور اپنی بیٹی کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا۔یہاں تک کہ جب بات کرتیں تب بھی ان کاانداز ہم دونوں کے لیے ایک جیسا ہوتا۔ایک مرتبہ جب وہ لندن میں میرے گھر کچھ عرصہ کے لیے رہنے کے لیے آئیں تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے ایک مہربان ماں میرے گھر آئی ہیں۔ وہ نہ صرف گھریلو کاموں میں میرا ہاتھ بٹاتی تھیں بلکہ ایک کامیاب شادی شدہ زندگی گزارنے کے لیے بہت سے مشورے بھی دیتی رہیں۔ میرے بچوں کی تربیت میں میری مدد کی۔ وہ ان کے ساتھ بہت پیار کرتی تھیں،مگر بلا وجہ ناز نخرے نہیں اٹھاتی تھیں۔ میں نے بچوں کی تربیت کے لیے جو اصول بنائے تھے بچوں سے ہمیشہ ان کی پابندی کرواتیں۔ انہوں نے اپنے پیار اور عمل سے مجھے اور میرے بچوں کو اللہ سے پیار کرنا سکھایا۔
میرے بھا ئی نے بتایا کہ جب مَیں چوتھی کلاس میںتھا تو مجھے دوسرے مذا ہب میں بھی دلچسپی پیدا ہوئی اورمیں نے امی جان سے پو چھاکہ اسلا م کیو ں اتنا دلچسپ نہیں ہے جبکہ دوسرے مذاہب میں تو اتنے معجزات اور کئی خدا ہوتے ہیں۔ اس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے سمجھایا کہ اسلام تو ایک مکمل، معجزات سے بھرپور اور زندہ مذہب ہے جسے ہر طرح کے دلائل سے سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں میری حوصلہ افزائی کی کہ مَیں خود دوسرے مذاہب کے بارے میں تحقیق کرکے اسلام کے ساتھ موازنہ کروں اورپھر پورے یقین کے ساتھ اسلام قبول کروں نہ کہ بِلاسوچے سمجھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تم جو بھی معلومات اکٹھی کروگے ہم اُس پر ڈسکشن کریں گے اور مَیں بھی پھر اُن باتوں پر تحقیق کروں گی جن کا جواب مَیں نہیں دے سکوں گی۔
جب میں سترہ سال کا تھا توامی جان نے ایک مرتبہ مجھ سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسی بات ہے جس کے با رے میں مَیںتمہیں مکمل طور پر نہیں بتا سکی، یعنی صحیح اورغلط میںفرق، یا اچھے اور برے کی پہچا ن، جس کے مطابق تم اپنی زندگی کے فیصلے کر سکو؟ یہ بات سن کر مَیںپریشان ہو گیا اور پوچھاکہ آپ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ قیا مت کے دن اﷲتعالیٰ مجھ سے پوچھے گا کہ کیا تم نے اپنے بچوںکی صحیح تربیت کی ہے؟ اس لیے اگر تمہیں کسی د ینی یا دنیاوی بات کی سمجھ نہیں آئی تو مجھے ابھی بتا دو کیونکہ تمہارے ہر کام میںخدا تعا لیٰ کی خوشنودی شا مل ہونی چاہیے۔ مَیں نے جواب دیا کہ آپ نے اپنا فرض اچھی طرح ادا کیا ہے۔ اس پر انہوںنے کہا : تم ایک مرتبہ پھر سوچ لوکیونکہ اگر کبھی تم سے کوئی کام اسلامی تعلیم کے خلاف سرزد ہوا تو میں تمہیں اپنا بیٹا تسلیم نہیں کروں گی۔ امی کی یہ بات سن کر اس وقت تومیں بہت ڈر گیا تھا لیکن ساتھ ہی فخر بھی محسوس کررہا تھا کہ امی نے اﷲکو دنیا کی ہر چیزپر مقدّم رکھا۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ مَیں اس وقت پانچ سال کی تھی جب امی صدر لجنہ اماءاللہ جرمنی تھیں یعنی جب سے میں نے ہوش سنبھالا اور ان کی وفات تک ان کو خدمت دین میں مصروف دیکھا۔ امی نماز کی بہت پابندی کرتی تھیں۔ خواہ وہ گھر پر ہوتیں یا کسی تقریب میں،کبھی بھی نماز نہیں چھوڑتی تھیں۔ ہسپتا ل میں اپنے آخری دنوں میں بھی کمزوری کے با وجود ہمیشہ وضو کرکے نماز ادا کرتی تھیں۔ آپ کو تبلیغ کا بھی بہت شوق تھا۔ ہسپتال میں نرس کو بھی تبلیغ کیا کرتی تھیں۔ وہ کہتی تھی کہ مسز ملک کو مجھ سے زیادہ میرے دین کے بارے میں علم ہے۔
امی اپنے چندہ جات باقاعدگی سے پہلی تاریخوں میں ادا کرتیں اور یہ سلسلہ ہسپتال میں بھی جاری رہتا۔وہاں چندے کی رقم ادا کرنے کے لیے مجھے دیتی تھیں۔آپ کی وصیت کا حساب ہمیشہ مکمل ہوتاتاکہ اولاد پر کوئی بوجھ نہ پڑے۔ جب بھی کوئی آپ کا حال پوچھتا تو اپنی کینسر کی بیماری کے باوجود ہمیشہ یہی کہتیں کہ الحمدﷲمَیں ٹھیک ہوں۔
آپ قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی تعلیمات کے مطابق مثالی نمونہ قائم کرنے والی ایک بہترین احمدی مسلمان تھیں۔ شدید بیماری کے باوجود کبھی مایوس نہیں ہوئیں۔ مَیں نے آپ سے ایک مرتبہ پوچھا کہ آپ نے تو اتنی دینی خدمت کی ہے تو پھر اﷲتعالیٰ نے آپ کو اتنی بڑی بیما ری کیوں دی؟ آپ نے جواب دیا کہ یہ تو اللہ کا فضل اور جماعتی خدمت کا پھل ہے کہ مجھے زیادہ تکلیف نہیں ہے۔ ورنہ مجھے اس سے زیادہ جسمانی تکلیف بھی ہو سکتی تھی۔
۲۴؍جنوری ۲۰۱۲ء کو آپ کی وفات ہوئی۔ آپ موصیہ تھیں۔ تدفین امانتاً فرینکفرٹ میں کی گئی۔ ہماری درخواست پر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ازراہ شفقت لندن میں آپ کی نمازجنازہ غائب پڑھائی۔
………٭………٭………٭………
محترمہ کوثر شا ہین ملک سابق نیشنل صدر لجنہ اماءاللہ جرمنی کا اختصار سے ذکرخیر لجنہ اماءاللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘ جلد۲۰۱۴ء نمبر۱ میں مکرمہ نادرہ یاسمین رامہ صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
مکرمہ کوثر شاہین صاحبہ ۱۹۴۵ء میں پیدا ہوئی تھیں۔ ۲۴؍جنوری۲۰۱۲ء کو ۶۷؍سال کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی۔ آپ نے مڈل تک تعلیم لاہور سے حاصل کی۔ پھر ربوہ آگئیں اور بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے ا یم اے کیااور پھر بی ایڈکی ڈگری حاصل کی۔ ا کتوبر۱۹۷۴ء میں شادی کے بعد آپ جرمنی آگئیں۔
جرمنی آنے کے چند ماہ بعد لجنہ اماءاللہ جرمنی کی جنرل سیکرٹری بنائی گئیں اور ۱۹۸۵ء میں صدر منتخب ہوئیں اور چھ سال تک یہ خدمت سرانجام دی۔ یہ سارا دَور ایسا تھا جس میں جماعت جرمنی نے پاکستان سے آنے والے ہزاروں مہاجرین کی وجہ سے ہر پہلو سے ترقی کی۔ چنانچہ ۱۹۷۵ء میں لجنہ کے کُل ۱۱؍حلقہ جات تھے جن کی تعداد آپ کے دورِ صدارت کے اختتام تک ۱۱۴؍تک پہنچ گئی۔ آپ کے دورِ صدا رت میں حضرت سیّد ہ مریم صدیقہ صاحبہؒ (چھوٹی آپا) دو دفعہ جرمنی تشر یف لائیں اور بہت سے تربیتی اور تنظیمی امور ا نہیں سمجھائے۔ ایک بار آپ کے کام کی تعریف کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ ’’آگے کام کرنے والے بھی بناؤ۔ یہ سوچوکہ میر ے بعد ایسے لوگ ہوں جو اس کام کو میرے سے بہتر کرسکیں۔‘‘ اس نصیحت کو آپ نے ہمیشہ پیش نظر رکھا۔
آپ کو دیگر کئی اہم خدمات سرانجام دینے کی توفیق بھی ملتی رہی مثلاً ریجنل صدرلجنہ فرینکفرٹ، نیشنل سیکرٹری اشاعت لجنہ اور ہیومینٹی فرسٹ کی نیشنل معاونہ۔ جب حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے آپ کو شعبہ سمعی وبصری کے تحت آڈیو کیسٹس کی لائبریری بنانے کا ارشاد فرمایا تو آپ نے ایک بڑی ٹیم بناکر بہت محنت کرکے حضورؒ کے تمام خطبات، خطابات اور مجالس عرفان کی کیسٹس کی لائبریری بنائی اور انڈیکس تیار کروایا۔ لجنہ کے تحت جلسہ سالانہ اور اجتما عا ت کے موا قع پر ان کیسٹس کے سٹا ل بھی لگا ئے جاتے۔
آپ کا حلقۂ احباب بہت وسیع تھا۔بہت مہمان نواز اور بااخلاق تھیں۔ دوسروں کی خدمت کرکے خوشی محسوس کرتیں۔ اللہ کی ذات پر بہت توکّل تھا۔
………٭………٭………٭………
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز: عالمی تجارت، توانائی اورایران امریکہ کشیدگی میں اس کا کردار




