اعمال صالحہ میں کسی قسم کا فسادنہیں ہوتا
اگرچہ عام نظر میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے بھی قائل ہیں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی زبان سے تصدیق کرتے ہیں۔ بظاہر نمازیں بھی پڑھتے ہیں روزے بھی رکھتے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ روحانیت بالکل نہیں رہی اور دوسری طرف اُن اعمالِ صالحہ کے مخالف کام کرنا ہی شہادت دیتا ہے کہ وہ اعمال اعمالِ صالحہ کے رنگ میں نہیں کئے جاتے بلکہ رسم اور عادت کے طور پر کئے جاتے ہیں کیو نکہ ان میں اخلاص اور روحانیت کا شمہ بھی نہیں ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ان اعمالِ صالحہ کے برکات اور انوار ساتھ نہیں ہیں۔ خوب یادرکھو کہ جب تک سچے دل سے اور روحانیت کے ساتھ یہ اعمال نہ ہوں کچھ فائدہ نہ ہو گا اور یہ اعمال کام نہ آئیں گے۔ اعمال صالحہ اُسی وقت اعمال صالحہ کہلاتے ہیں جب ان میں کسی قسم کا فسادنہ ہو۔ صلاح کی ضد فساد ہے صالح وہ ہے جو فساد سے مبرّا منزّہ ہو جن کی نمازوں میں فساد ہے اور نفسانی اغراض چھپے ہوئے ہیں ان کی نمازیں اللہ تعالیٰ کے واسطے ہرگز نہیں ہیں اور وہ زمین سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی ہیں کیونکہ ان میں اخلاص کی روح نہیں اور روحانیت سے خالی ہیں ۔
(ملفوظات جلد۵صفحہ۳۶۲ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
مزید پڑھیں: دنیا میں اپنے آپ کو کچھ سمجھنا بھی تکبّر ہے



