حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق عمل کرنا ہے

پس اعمال صالحہ اس وقت اعمال صالحہ ہیں جب اطاعت بھی کامل ہو اور کامل اطاعت کے ساتھ بجا لائے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے بجا لائے جائیں۔ جب اپنی خواہشات کی دیواروں کو مکمل طور پر گرا دیا جائے اور صرف اور صرف ایک مقصد ہو کہ ہم نے اپنے ہر عمل کے پیچھے خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق عمل کرنا ہے۔ اور سچی فرمانبرداری یہی ہے۔ یہ نہیں کہ جہاں مفاد حاصل ہو جائے وہاں اطاعت اور فرمانبرداری کا اعلان کر دیا۔ جہاں مرضی کے مطابق کام نہ ہو وہاں شکوے شروع ہو گئے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ نظام سے بھی غیر ضروری شکوے نظام سے ہٹاتے ہیں۔ پھر دین سے بھی ہٹاتے ہیں۔ خلافت سے بھی دُور کرتے ہیں اور پھر انسان کو اللہ تعالیٰ سے بھی دُوری پیدا ہو جاتی ہے۔ ہم نے بعض لوگوں کا یہی انجام دیکھا ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

’’ہمارے غالب آنے کے ہتھیار استغفار، توبہ، دینی علوم کی واقفیت، خدا تعالیٰ کی عظمت کو مدّنظر رکھنا اور پانچوں وقت کی نمازوں کو ادا کرنا ہے۔ نماز دعا کی قبولیت کی کنجی ہے۔ جب نماز پڑھو تو اس میں دعا کرو اور غفلت نہ کرو اور ہر ایک بدی سے خواہ وہ حقوق الٰہی کے متعلق ہو خواہ حقوق العباد کے متعلق ہو بچو‘‘۔

(ملفوظات جلد 5 صفحہ303۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کی اشاعت اور غلبہ کا حصہ بنائے۔ پیغام کو پہنچانے کا اور اشاعت کے غلبہ کا حصہ بھی بنائے۔ توبہ استغفار کرتے ہوئے، دعائیں کرتے ہوئے ہم تبلیغ کے کام کو سر انجام دینے والے ہوں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد بجا لانے والے ہوں۔ یہی حقوق ہیں جو اعمال صالحہ بجا لانے کی طرف متوجہ رکھتے ہیں۔ ہمارے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہمارے پیش نظر ہو۔ اللہ تعالیٰ کے کامل فرمانبرداروں میں ہم شامل ہوں۔ اور جب ہم ان باتوں کی طرف اپنی توجہ رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق انشاء اللہ تعالیٰ، اسلام کے غلبہ کے دن بھی دیکھنے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔

(خطبہ جمعہ ۲۰؍اپریل ۲۰۱۸ء، الفضل انٹرنیشنل ۱۱؍مئی ۲۰۱۸ء )

مزید پڑھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button