کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

وہ ایک تمہارا امام ہو گا جو تم سے ہی ہو گا

امام محمد اسمٰعیل بخاری رحمہ اللہ نے اس بارہ میں اشارہ تک بھی نہیں کیا کہ یہ مسیح آنے والا در حقیقت اور سچ مچ وہی پہلا مسیح ہو گا بلکہ انہوں نے دو حدیثیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایسی لکھی ہیں جنہوں نے فیصلہ کر دیا ہے کہ مسیح اوّل اَور ہےاور مسیح ثانی اَور ہے اور کیونکہ ایک حدیث کا مضمون یہ ہے کہ ابن مریم تم میں اُترے گا اور پھربیان کے طور پر کھول دیا ہے کہ وہ ایک تمہارا امام ہو گا جو تم میں سے ہی ہوگا ۔ پس ان لفظوں پرخوب غور کرنی چاہیے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لفظ ابن مریم کی تصریح میں فرماتے ہیں کہ وہ ایک تمہارا امام ہو گا جو تم سے ہی ہو گا اور تم میں سے ہی پیدا ہو گا گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وہم کو دفع کرنے کے لئے جو ابن مریم کے لفظ سے دلوں میں گذرسکتاتھا مابعد کے لفظوں میں بطور تشریح فرمادیا کہ اُس کو سچ مچ ابن مریم ہی نہ سمجھ لو بل هوامامکم منکم اور دوسری حدیث جو اس بات کا فیصلہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ مسیح اول کا حلیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اور طرح کا فرمایا ہے اور مسیح ثانی کا حلیہ اور طور کا ذکر کیا ہے جواس عاجز کے حلیہ سے بالکل مطابق ہے۔ اب سوچنا چاہیے کہ ان دونوں حلیوں میں تناقض صریح ہونا کیا اس بات پر پختہ دلیل نہیں ہے کہ در حقیقت مسیح اول اَور ہے اور مسیح ثانی اَور۔

ایک اَور بات قابل توجہ یہ ہے کہ ہمارے علماء کی ضد تو اس بات پر ہے کہ ابن مریم کےاُترنے کے بارہ میں جو حدیث ہے اس کو حقیقت پر حمل کرنا چاہیے لیکن ان کے بعض عقلمندوںسے جب اس حدیث کے معنے پوچھے جائیں کہ ابن مریم اُترے گا اور صلیب کو توڑے گا اورخنزیر کو قتل کرے گا تو ابن مریم کے لفظ کو تو حقیقت پر ہی حمل رکھتے ہیں اور صلیب اور خنزیر کےبارہ میں کچھ دبی زبان سے ہماری طرح استعارہ اور مجاز سے کام لینا شروع کر دیتے ہیں ۔ پس وہ لوگ اپنی اس کارروائی سے خود ملزم ٹھہرتے ہیں کیونکہ اس صورت میں اُن پر یہ حجت واردہوتی ہے کہ ان تین لفظوں میں سے جو ابن مریم کا اُترنا اور صلیب کا توڑنا اور خنزیروں کاقتل کرنا ہے دو لفظوں کی نسبت تو تم آپ ہی قائل ہو گئے کہ بطور استعارہ ان سے اور معنے مرادہیں تو پھر یہ تیسراکلمہ جو ابن مریم کا اُترنا ہے کیوں اس میں بھی بطور استعارہ کوئی اَور شخص مرادنہیں ؟ اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا ان خیالات مجموعہ تناقضات پر جمے رہنا طریق عقلمندی وفرزانگی ہے یا وہ معارف قریب بفهم و مطابق عقل ہیں جو اس عاجز پر کھولے گئے ہیں۔

( ازالہ اَوہام حصہ اول، روحانی خزائن جلد۳ صفحہ۱۲۴-۱۲۵)

مزید پڑھیں: اپریل فول بُری رسم ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button