شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
معروف اور غیرمعروف کی تعریف
بعض دفعہ بعض لوگ معروف فیصلہ یا معروف احکامات کی اطاعت کے چکر میں پڑ کر خود بھی نظام سے ہٹ گئے ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی خراب کر رہے ہوتے ہیں اورماحول میں بعض قباحتیں بھی پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ ان پر واضح ہو کہ خودبخود معروف اور غیر معروف فیصلوں کی تعریف میں نہ پڑیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ایک اور غلطی ہے وہ طاعت در معروف کے سمجھنے میں ہے کہ جن کاموں کو ہم معروف نہیں سمجھتے اس میں طاعت نہ کریں گے۔ یہ لفظ نبی کریم ﷺ کے لئے بھی آیا ہے وَلَا یَعۡصِیۡنَکَ فِیۡ مَعۡرُوۡفٍ (الممتحنہ:۱۳) اب کیا ایسے لوگوں نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے عیوب کی بھی کوئی فہرست بنالی ہے۔ اسی طرح حضرت صاحب نے بھی شرائط بیعت میں طاعت درمعروف لکھا ہے۔اس میں ایک سر ہے۔ میں تم میں سے کسی پر ہرگز بدظن نہیں۔ میں نے اس لئے ان باتوں کو کھولا تاتم میں سے کسی کو اندر ہی اندر دھوکہ نہ لگ جائے‘‘۔(خطبات نور صفحہ ۴۲۰-۴۲۱)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام یَاۡمُرُہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ کی تفسیر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔’’یہ نبی ان باتوں کے لئے حکم دیتا ہے جو خلاف عقل نہیں ہیں۔ اور ان باتوں سے منع کرتا ہے جن سے عقل بھی منع کرتی ہے اور پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور ناپاک کو حرام ٹھیراتا ہے۔ اور قوموں کے سر پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جس کے نیچے وہ دبی ہوئی تھیں۔ اور ان گردنوں کے طوقوں سے وہ رہائی بخشتا ہے جن کی وجہ سے گردنیں سیدھی نہیں ہوسکتی تھیں۔پس جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے اور اپنی شمولیت کے ساتھ اس کو قوت دیں گے اور اس کی مدد کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جو اس کے ساتھ اتارا گیا وہ دنیا اور آخرت کی مشکلات سے نجات پائیں گے‘‘۔(براہین احمدیہ۔ حصہ پنجم۔روحانی خزائن۔ جلد۲۱۔ صفحہ۴۲۰)
پس جب نبی اللہ تعالیٰ کے احکامات سے پرے نہیں ہٹتا تو خلیفہ بھی جو نبی کے بعد اس کے مشن کو چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنین کی ایک جماعت کے ذریعہ مقرر کردہ ہوتا ہے۔ وہ بھی اسی تعلیم کو، انہیں احکامات کو آگے چلاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کے ذریعہ ہم تک پہنچائے اوراس زمانے میں آنحضرتﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وضاحت کرکے ہمیں بتائے۔ تواب اسی نظام خلافت کے مطابق جو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جماعت میں قائم ہوچکا ہے اور انشاء اللہ قیامت تک قائم رہے گا۔ ان میں شریعت اور عقل کے مطابق ہی فیصلے ہوتے رہے ہیں او ر انشاء اللہ ہوتے رہیں گے اور یہی معروف فیصلے ہیں۔اگر کسی وقت خلیفہ وقت کسی غلطی یا غلط فہمی کی وجہ سے کوئی ایسا فیصلہ کردیتا ہے جس سے نقصان پہنچنے کا احتمال ہو تو اللہ تعالیٰ خود ایسے سامان پیدا فرمادے گا کہ اس کے بدنتائج نہیں نکلیں گے۔اس بارہ میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:’’یہ تو ہوسکتا ہے کہ ذاتی معاملات میں خلیفۂ وقت سے کوئی غلطی ہوجائے۔ لیکن ان معاملات میں جن پر جماعت کی روحانی اور جسمانی ترقی کا انحصار ہواگر اس سے کوئی غلطی سرزد بھی ہوتو اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کی حفاظت فرماتا ہے اور کسی نہ کسی رنگ میں اسے اس غلطی پر مطلع کردیتا ہے۔صوفیاء کی اصطلاح میں اسے عصمت صغریٰ کہا جاتا ہے۔ گویا انبیاء کو تو عصمت کبریٰ حاصل ہوتی ہے لیکن خلفاء کو عصمت صغریٰ حاصل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے کوئی ایسی اہم غلطی نہیں ہونے دیتا جو جماعت کے لئے تباہی کا موجب ہو۔ ان کے فیصلوں میں جزئی اور معمولی غلطیاں ہوسکتی ہیں مگر انجام کار نتیجہ یہی ہوگا کہ اسلام کو غلبہ حاصل ہوگا اور اس کے مخالفوں کو شکست ہوگی۔گویا بوجہ اس کے کہ ان کو عصمت صغریٰ حاصل ہوگی خداتعالیٰ کی پالیسی بھی وہی ہوگی جو ان کی ہوگی۔ بے شک بولنے والے وہ ہوں گے ،زبانیں انہی کی حرکت کریں گی ،ہاتھ انہی کے چلیں گے۔ دماغ انہی کا کام کرے گا، مگر ان سب کے پیچھے خدا تعالیٰ کا اپنا ہاتھ ہوگا۔ ان سے جزئیات میں معمولی غلطیاں ہوسکتی ہیں۔ بعض دفعہ ان کے مشیر بھی ان کو غلط مشورہ دے سکتے ہیں لیکن ان درمیانی روکوں سے گزر کر کامیابی انہی کو حاصل ہوگی۔ اورجب تمام کڑیاں مل کر زنجیر بنے گی تو وہ صحیح ہوگی اور ایسی مضبوط ہوگی کہ کوئی طاقت اسے توڑ نہیں سکے گی‘‘۔(تفسیر کبیر۔ جلد ۶۔ صفحہ ۳۷۶-۳۷۷)
تواس سے واضح ہوگیا کہ غیرمعروف وہ ہے جوواضح طورپر اللہ تعالیٰ کے احکامات اور شریعت کے احکامات کی خلاف ورزی ہے جیساکہ اس حدیث سے ظاہر ہے۔حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے ایک لشکر روانہ فرمایا اوراس پرایک شخص کو حاکم مقرر کیا تاکہ لوگ اس کی بات سنیں اورا س کی اطاعت کریں۔ اس شخص نے آگ جلوائی اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ آگ میں کود جائیں۔ بعض لوگوں نے اس کی بات نہ مانی اور کہا کہ ہم تو آگ سے بچنے کے لئے مسلمان ہوئے ہیں۔لیکن کچھ افراد آگ میں کودنے کے لئے تیارہو گئے۔آنحضرت ﷺ کو جب اس بات کا علم ہوا تو آپ ؐ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس میں کود جاتے تو ہمیشہ آگ میں ہی رہتے۔نیزفرمایا :اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے رنگ میں کوئی اطاعت واجب نہیں۔ اطاعت صرف معروف امورمیں ضروری ہے۔(سنن ابو داؤد۔ کتاب الجہاد۔ باب فی الطّاعۃ)
اس حدیث کی مزید وضاحت حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت سے ملتی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے علقمہ بن مُجزّز کو ایک غزوہ کے لئے روانہ کیا جب وہ اپنے غزوہ کی مقررہ جگہ کے قریب پہنچے یا ابھی وہ رستہ ہی میں تھے کہ ان سے فوج کے ایک دستہ نے اجازت طلب کی۔ چنانچہ انہوں نے ان کو اجازت دے دی اور ان پر عبد اللہ بن حذافہ بن قیس السھمی کو امیر مقرر کردیا۔ میں بھی اس کے ساتھ غزوہ پر جانے والوں میں سے تھا۔ پس جب کہ ابھی وہ رستہ میں ہی تھے تو ان لوگوں نے آگ سینکنے یا کھانا پکانے کے لئے آگ جلائی تو عبد اللہ نے (جن کی طبیعت مزاحیہ تھی)کہا کیا تم پر میری بات سن کر اس کی اطاعت فرض نہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ؟ اس پر عبد اللہ بن حذافہؓ نے کہا: کیا میں تم کو جو بھی حکم دوں گا تم اس کو بجالائو گے؟ انہوں نے کہا۔ہاں ہم بجالائیں گے۔ اس پر عبد اللہ بن حذافہؓ نے کہا میں تمہیں تاکیداً کہتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود پڑو۔ اس پرکچھ لوگ کھڑے ہوکر آگ میں کودنے کی تیاری کرنے لگے۔پھر جب عبداللہ بن حذافہ نے دیکھا کہ یہ تو سچ مچ آگ میں کودنے لگے ہیں تو عبد اللہ بن حذافہ ؓ نے کہا اپنے آپ کو (آگ میں ڈالنے سے)روکو۔
پھر جب ہم اس غزوہ سے واپس آگئے تو صحابہؓ نے اس واقعہ کا ذکر نبی ﷺ سے کردیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’امراء میں سے جو شخص تم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کا حکم دے اس کی اطاعت نہ کرو‘‘۔(سنن ابن ماجہ۔کتاب الجھاد۔باب لاطاعۃ فی معصیۃ اللّہ)
تو ایک تو اس حدیث سے یہ واضح ہو گیا کہ نہ ماننے کا فیصلہ بھی فرد واحد کا نہیں تھا۔ کچھ لوگ آگ میں کودنے کو تیار تھے کہ ہر حالت میں امیر کی اطاعت کا حکم ہے ، انہوں نے سناہواتھااور یہ سمجھے کہ یہی اسلامی تعلیم ہے کہ ہر صورت میں، ہر حالت میں، ہر شکل میں امیر کی اطاعت کرنی ہے لیکن بعض صحابہ جو ا حکام الٰہی کا زیادہ فہم رکھتے تھے، آنحضرتﷺ کی صحبت سے زیادہ فیضیاب تھے، انہوں نے انکار کیا۔نتیجۃً مشورہ کے بعد کسی نے اس پرعمل نہ کیا کیونکہ یہ خودکشی ہے اورخودکشی واضح طورپر اسلام میں حرام ہے۔ دوسرے عبد اللہ بن حذافہ جو ان کے لیڈر تھے جب انہوں نے بعض لوگوں کی سنجیدگی دیکھی تو ان کو بھی فکر پیدا ہوئی اور انہوں نے بھی روکا کہ یہ تو مذاق تھا۔ اس واقعہ کے بعد آنحضرت ﷺنے وضاحت فرما کر معروف کا اصول واضح فرما دیا کہ کیا معروف ہے اور کیا غیر معروف ہے۔ واضح ہو کہ نبی یا خلیفہ ٔوقت کبھی مذاق میں بھی یہ بات نہیں کرسکتا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی واضح حکم کی خلاف ورزی تم امیر کی طرف سے دیکھو تو پھر اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو۔ اور اب اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت راشدہ کا قیام ہوچکا ہے تو خلیفہ وقت تک پہنچو۔ اس کا فیصلہ ہمیشہ معروف فیصلہ ہی ہوگا،اللہ اور رسول کے احکام کے مطابق ہی ہوگا۔تو جیساکہ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ تمہیں خوشخبری ہو کہ اب تم ہمیشہ معروف فیصلوں کے نیچے ہی ہو۔
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۱۷۰تا۱۷۶)
مزید پڑھیں: اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق عمل کرنا ہے



