ہر احمدی قیام امن کے لئے جد و جہد کرے(قسط دوم۔ آخری)
۱۹۳۲ء میں حضورؓ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپؓ نے ملک سے فتنہ و فساد کی روح کو مٹانے اور امن شکن تحریکات کا مقابلہ کرنے کی طرف احباب جماعت کو توجہ دلائی۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
امن کا قیام ہمیشہ ہی ضروری ہوتا ہے خواہ اپنی حکومت ہو خواہ کسی غیر کی حکومت۔ اور اس معاملے میں ہمیں ہر حکومت کی مدد کے لیے تیار رہنا چاہیئے
[گذشتہ سے پیوستہ]گزشتہ سالوں میں جب کانگرس زوروں پر تھی اس وقت میں نے اپنی جماعت کے دوستوں سے کہا تھا کہ وہ اس تحریک کا مقابلہ کریں اور یہ میں نے اسی لئے کہا تھا کہ میرے نزدیک ملک کا امن نہایت ضروری چیز ہے اور فتنہ و فساد کو مٹانا مومنوں کا فرض ہے۔ اسی طرح جب میں نے بعض سیاسی معاملات میں دخل دینا شروع کیا تو اس لئے نہیں کہ وہ سیاسی تھے بلکہ اس لئے کہ میں انہیں دین کا جزو سمجھتا تھا۔ میں نے دیکھا جب میں نے سیاسیات میں حصہ لینا شروع کیا تو جماعت کے کئی دوست بھی اس پر معترض ہوئے اور بعض دوسرے لوگ خیال کرتے تھے کہ مجھے سیاسیات سے واقفیت ہی کیا ہو سکتی ہے۔ مجھے یاد ہے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ایک دوست کے متعلق سنایا۔ وہ اب تو احمدی ہو چکے ہیں لیکن اس وقت غیر احمدی تھے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ میں نے بھی سیاسیات میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے تو کہنے لگے میں نہیں سمجھ سکتا ریل سے بارہ میل کے فاصلے پر رہنے والا ایک شخص سیاسیات سے واقف ہی کسی طرح ہو سکتا ہے (اس وقت قادیان میں ریل نہ آئی تھی) لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے آہستہ آہستہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ اپنے تو علیحدہ رہے غیر بھی اس امر کو محسوس کر رہے ہیں کہ میں سیاست سمجھتا ہوں۔ اوریہ اس لئے کہ میں سیاست کو دینی نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ چونکہ اسلام کے اصول نهایت پکے ہیں اس لئے جب میں اسلام کے اصول کے ماتحت کسی علم کو دیکھتا ہوں تو اس کا سمجھنا میرے لئے نہایت آسان ہوجاتا ہے۔
کوئی علم ہو خواہ وہ فلسفہ ہو یا علم النفس ہو یا سیاست ہو میں اس پر جب بھی غور کروں گا ہمیشہ صحیح نتیجہ پر پہنچوں گا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کا کوئی علم ایسا نہیں جس کے اصول کو میں نہ سمجھتا ہوں۔ بغیر اس کے کہ میں نے ان علوم کی کتابیں پڑھی ہوں مجھے خدا تعالیٰ نے ان کے متعلق علم دیا ہے اور چونکہ میں قرآن کے ماتحت ان علوم کو دیکھتا ہوں اس لئے ہمیشہ صحیح نتیجہ پر پہنچتا ہوں اور کبھی ایک دفعہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے اپنی رائے کو تبدیل نہیں کرنا پڑا۔ بسااوقات ایسا ہوا ہے کہ ان علوم کو جاننے والوں سے میری گفتگو ہوئی اور گفتگو کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ کا مطالعہ اس علم میں نہایت وسیع معلوم ہوتا ہے۔ حالانکہ میں نے اس علم کے متعلق ایک کتاب بھی نہیں پڑھی تھی۔ غرض میں نے قرآن مجید کے ماتحت ہر علم کو دیکھا اور اس کی وجہ سے اب مجھے قرآن مجید سے باہر کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ سوائے ان تفاسیر کے جو آنحضرت ﷺ یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے کیں۔ اور وہ بھی قرآن کا ایک حصہ ہی ہیں اس سے باہر نہیں۔ اگر چہ پھر بھی کئی باتیں ایسی ہیں جو ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آئیں جن کا مجھ سے زیاہ عرفان تھا انہیں ان کا علم تھا۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام نے فرمایا
طب کے تمام اصول قرآن مجید میں بیان کئے گئے ہیں اور دنیا کی تمام امراض کا علاج قرآن مجید میں موجود ہے۔
ہو سکتا ہے مجھے اس طرح قرآن مجید پر غور کرنے کا موقع ہی نہ ملا ہو اور ممکن ہے میرا عرفان ابھی تک اس حد تک نہ پہنچا ہو۔ مگر بہرحال اپنا عرفان اور اپنے بڑوں کا تجربہ ملا کر میں کہہ سکتا ہوں کہ
قرآن مجید سے باہر ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔
غرض میں نے سیاسی امور میں جب بھی دخل دیا ہے قرآن مجید کے ماتحت دیا ہے۔ اس لئے مجھے کبھی بھی اپنی رائے بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ بسا اوقات ایسا تاریک وقت آیا کہ لوگوں نے کہا اب نہایت نازک گھڑی ہے اور بسااوقات مجھے دوستوں نے کہا کہ اب آپ کو اپنی رائے بدل لینی چاہئے مگر معاً خد اتعالیٰ ایسے سامان پیدا کرتا رہا کہ مجھے اپنی رائے میں تبدیلی کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے میں نے خطبہ جمعہ میں ذکر کیا تھا کہ مجھے کشمیر کے معاملات میں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ کام کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ جب میں نے یہ خطبہ پڑھا تو اس کے تیسرے ہی دن کشمیر میں خطرناک فساد برپا ہو گیا۔ اور یوں معلوم ہوتا تھا گویا ہماری تمام تدبیروں کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ اور جتنا کام اب تک کیا گیا ہے وہ سب خراب ہو جائے گا۔ لیکن میں سمجھتا تھا اس میں بھی اللہ تعالیٰ کا ہاتھ کام کر رہا ہے۔ چنانچہ ایک مہینہ تک سخت تاریک حالات رہنے کے بعد معاً حالات بدل گئے اور یوں حالت ہو گئی کہ گویا فساد ہوا ہی نہیں تھا۔ کشمیر میں جس وقت حالات خراب ہوئے میں نے اس وقت دوستوں سے کہہ دیا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہے، میرے لئے بھی اور دوستوں کے لئے بھی۔ میرے لئے ان معنوں میں کہ آیا میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں یا نہیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو رہا ہے اور دوستوں کے لئے اس لحاظ سے کہ ان کی ایمانی کیفیت کا اظہار ہو جائے۔
غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی ساری عمر امن شکن تحریکات کے سدّ باب کی کوشش فرماتے رہے اور ہمیشہ ملکی امن کو ضروری قرار دیتے رہے۔ میں نے بھی دوستوں کو ہمیشہ کانگرس کی تحریکات کے متعلق یا جو بھی فساد کی تحریکیں ہوں یہ نصیحت کی ہے کہ ان سے بچیں اور نہ صرف ہمارے دوستوں کو ان تحریکات میں مبتلاء ہونے سے بچنا چاہئے بلکہ ان کا پورے استقلال کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہئے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے دوستوں میں یہ نقص ہے کہ وہ بات کو جلدی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ابھی مجھے یہ مضمون سمجھانے کے لئے اتنی لمبی تمہید بیان کرنی پڑی ہے۔ جو میرے اصل مضمون سے بھی زیادہ ہوگی اور میں دیکھتا ہوں کہ ابھی ہمارے دوستوں کو اس امر سے واقفیت نہیں کہ دین و دنیا کا میدان مخلوط ہے۔ ایک ہی وقت میں ایک چیز جو ساری کی ساری دنیا ہوتی ہے دوسرے وقت میں ساری کی ساری دین ہوجاتی ہے۔ مگر پھر بھی کئی دوست ایسے ہیں جو اس لئے ان امور میں دلچسپی نہیں لیتے کہ وہ خیال کرتے ہیں یہ دنیوی کام ہیں ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ اپنے آپ کو اَور لوگوں سے کچھ کچھ بالا سمجھتے ہیں۔ ان کی مثال بالکل ان نمبرداروں کی سی ہوتی ہے جن کا ذکر حضرت خلیفہ اولؓ فرمایا کرتے تھے۔ مجھےآپ کا یہ لطیفہ ہمیشہ یاد آتا ہے۔ آپ جب کبھی زیادہ بیمار ہوتے تو فرماتے دوست تشریف لے جائیں اس پر ایک تہائی لوگ چلے جاتے اور باقی بیٹھے رہتے۔ تھوڑی دیر کے بعد آپ پھر فرماتے دوست تشریف لے جا ئیں اس پر ایک تہائی اَور چلے جاتے۔ جب آپ دیکھتے اب بھی بعض لوگ بیٹھے ہیں تو پھر آپ فرماتے اب نمبردار بھی چلے جائیں۔ مطلب یہ کہ ایسے لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ہم مخاطب نہیں وہ گویا اپنے آپ کو نمبردار قرار دیتے ہیں۔ مجھے اس نظارہ کے دیکھنے کا اس طرح موقع مل جاتا کہ جب آپ فرماتے دوست اٹھ کر چلے جائیں اور میں بھی اٹھتا تو آپ فرماتے آپ بیٹھے رہیں میرا مطلب آپ سے نہیں۔ اس لئے مجھے کئی دفعہ آپ سے یہ فقرہ سننے کا موقع مل گیا۔ تو بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ہر خطبہ ہر لیکچر اور ہر وعظ کے متعلق خیال کرتے ہیں کہ نمبرداروں کے لئے نہیں۔ حالانکہ
خطبہ سب کے لئے ہوتا ہے۔ پس ہر ایک کو یہ سمجھنا چاہئے کہ میں ہی اس کا اصل مخاطب ہوں۔
میں دیکھتا ہوں ہمارے ملک کا امن ایک لمبے عرصہ سے اس طرح برباد ہو رہا ہے کہ میں جب بھی اس پر غور کرتا ہوں مجھے اپنے ملک کا نہایت ہی تاریک مستقبل نظر آتا ہے۔ ایک طرف میں کانگرس کو دیکھتا ہوں کہ اس کے اصول اتنے خطرناک اور فساد پیدا کرنے والے ہیں کہ اگر ہم انہیں مان لیں تو بجائے دنیا میں امن قائم ہونے کے فتنہ و فساد پھیل جائے۔ دوسری طرف میں ان لوگوں کو دیکھتا ہوں جو گورنمنٹ کے خیر خواہ کہلاتے ہیں کہ وہ حد درجہ کے لالچی، دنیا دار، خود غرض اور قوم فروش ہیں۔ اِلَّا مَا شَاءَ اللّٰہ میں کسی قوم کے تمام افراد کو ایسا نہیں سمجھتا۔ اس کے مقابلہ میں مَیں کانگرس کے ایک طبقہ کو دیکھتا ہوں کہ اس میں ایثار، قربانی اور سچا اخلاص پایا جاتا ہے۔ بے شک کانگرسیوں کے اصول سے مجھے اختلاف ہے لیکن اگر میرے سامنے ذاتی دوستی کا سوال ہو تو میں ایک کانگرسی کو گورنمنٹ کے خوشامدی پر ترجیح دوں گا۔ کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ گورنمنٹ کے خیر خواہ کہلانے والے حد درجہ کے خود غرض، لالچی اور نفس پرست واقع ہوئے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں مجھے جن کانگرسیوں سے ملنے کا موقع ملا ہے میں نے دیکھا ہے کہ ہندوؤں میں زیادہ اور مسلمانوں میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو یقیناً خیر خواہی اور سچے دل سے اپنے ملک کے لئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اور گو وہ غلط اصول پر قائم ہیں مگر ان کے دل میں ملکی ہمدردی موجزن ہے۔ مگر صحیح اصول پر چلنے والے اتنے نفس پرست واقع ہوئے ہیں کہ اگر انہیں ذاتی فوائد کے لئے اپنے ہاتھوں سے ملک کو بھی دینا پڑے تو یہ ملک کو بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔ بڑا معیار ترقی کا ان کے نزدیک یہ ہے کہ خان بہادر بن جائیں یا خان صاحب کا خطاب حاصل ہو جائے اور اگر اس میں انہیں کامیابی حاصل ہوجائے تو یوں ان کی توند پھولنا شروع ہو جائے گی کہ گویا ساری چربی ان کے پیٹ میں آگئی ہے۔ محض دغا، محض جھوٹ، محض فریب اور محض خود غرضی سے گورنمنٹ میں جھوٹی رپورٹیں لکھواتے ہیں اور اسی طرح اپنی قوم اور اپنے ملک کو فروخت کرنے کے مجرم بنتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں اگر کانگرس کی اب تک اصلاح نہیں ہوئی تو اس میں بہت کچھ دخل ان خود پرست لوگوں کا بھی ہے جو محض اپنی ذاتی عزت کے حصول کے لئے قوم اور ملک کو برباد کرنے کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اور عزت بھی کیسی صرف نام کی۔ بھلا کسی کو سر کا خطاب مل جانے سے کون سی بڑائی حاصل ہو جاتی ہے۔ حقیقتاً کچھ بھی نہیں ملتا۔ مگر نہ ملنے کے باوجود وہ ایسے خطابات کے حصول کے لئے ملک بیچنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔
پچھلی ہی دفعہ جب میں شملہ گیا تو مجھے ایک سر کے متعلق بتایا گیا کہ اسے سر کا خطاب کس طرح ملا۔ ایک مسودہ قانون تھا جس کے متعلق گورنمنٹ چاہتی تھی کہ پاس ہو جائے مگر ممبروں میں سے اکثر اس کے مخالف تھے۔ گورنمنٹ نے اپنے ساتھ ممبر ملانے کی بہت کوشش کی مگر دو ممبر پھر بھی زیادہ رہے۔ ایک شخص نے گورنمنٹ سے کہا کہ میں اس میں مدد دیتا ہوں۔ ایک تو اس کا اپنا ہی عزیز تھا اس پر زور دیا اور اس نے ووٹ گورنمنٹ کو دے دیا۔ صرف ایک ممبر رہ گیا۔ جس دن یہ مسودہ پیش ہونا تھا اس دن چالاکی سے اس نے اس ممبر سے کہا کہ آپ ہماری موٹر پر ہی وہاں تشریف لے جائیں۔ وہ سوار ہو گئے۔ اس نے اپنے موٹر ڈرائیور کو سکھلا دیا تھا کہ نئی اور پرانی دہلی کے درمیان موٹر کو اس طرح خراب کردینا کہ موٹر بالکل چل نہ سکے۔ چنانچہ موٹر ڈرائیور نے ایسا ہی کیا۔ موٹر کا ایک پرزہ توڑ دیا۔ اور پھر وہاں گھنٹہ بھر درست کرنے کے بہانے سے ٹھہرا رہا۔ وہ ممبر بہتیرا شور مچاتا اور برا بھلا کہتا رہا مگر اس نے اس طرح اسے روکے رکھا یہاں تک کہ وقت گزر گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس ممبر کی غیر حاضری کی وجہ سے حکومت جیت گئی۔ اب حکومت کو کیا پتہ ہے کہ کس طرح کوشش کی گئی۔ اسے اس صلہ میں کہ مسودہ پاس کرانے میں اس شخص نے گورنمنٹ کی مدد کی تھی اسے سر کا خطاب دے دیا۔ ایسی باتوں کو سن کر کون شخص برداشت کر سکتا ہے کہ وہ ایسے نفس پرست لوگوں میں شامل ہو۔ پس میں سمجھتا ہوں کہ گورنمنٹ کے طرف داروں میں ایسے لوگ ہیں جو حد درجہ کے لالچی اور خود غرض ہیں اور پھر وہ نکمے ہیں۔ ان کا کام سوائے اس کے کچھ نہیں کہ گھر بیٹھ کر ریزولیوشنر پاس کر دیں۔ اس کے مقابلہ میں کانگرسی نہایت نمایاں کام کر رہے ہیں۔ اور کانگرسیوں پر ہی منحصر نہیں ایک وقت میں خلافتیوں نے بھی اپنے رنگ میں بڑے ایثار سے کام کیا ہے۔ پس کا نگرسی اگرچہ ایثار سے کام لے رہے ہیں اور ملک کی محبت کی وجہ سے کام کر رہے ہیں لیکن ان کے اصول نہایت خطرناک ہیں اور اگر ان اصولوں کو دنیا میں رائج کیا جائے تو کبھی امن قائم نہ ہو سکے۔ غرض یہ دو جہنم ہیں جن میں ہمارا ملک پھنسا ہوا ہے۔ ایک طرف تو وہ خود پسند ، خود غرض اور نفس پرست لوگ ہیں کہ اگر انہیں ذاتی اقتدار حاصل ہو جائے تو یہی ان کی زندگی کا منتہیٰ ہوتا ہے۔ پھر چاہے ملک جہنم میں جائے اس کی انہیں پرواہ نہیں رہتی۔ اور دوسری طرف کانگرس کی تحریک ہے۔ گو کانگرسی ایثار سے کام لے رہے ہیں مگر ان کے اصول ایسے ہیں کہ اگر ان کو مان لیا جائے تو بھی ملک جہنم کا نمونہ بن جائے۔ پس یہ دو جہنمیں ہیں جن میں اس وقت ہمارا ملک مبتلاء ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان دونوں کا مقابلہ کریں۔ ایک طرف
ہمارے اندر ایسا ایثار قربانی اور ملکی محبت کا مادہ ہونا چاہئے
جو کانگرسیوں سے بھی بڑھ کر ہو۔ اور دوسری طرف
ہمارے اصول وفاداری ایسے پختہ بنیادوں پر قائم ہوں کہ وہ ہر قسم کے خوشامدی لوگوں کے اصول سے بلند تر ہوں۔
ہمیں گورنمنٹ کے ان خوشامدیوں سے شدید نفرت ہونی چاہئے۔ اور ہمیں کانگرس کے اصول سے بھی شدید نفرت ہونی چاہئے۔
ہمارا معیار اس قدر بلند ہونا چاہئے کہ ہم کسی خدمت کے بدلہ میں کسی معاوضہ کے طلب گار نہ ہوں۔
اور اپنے ملک کو بدامنی سے بچانے کے لئے کانگرسیوں سے بڑھ کر ایثار اور قربانی سے کام کریں۔
مجھے تعجب آتا ہے ابھی تک ہماری جماعت میں یہ بلندی پیدا نہیں ہوئی۔ کئی لوگ ہیں جو لکھ دیتے ہیں فلاں موقع پر میں نے گورنمنٹ کا فلاں کام کیا تھا۔ اب مجھے ضرورت ہے ، میرا فلاں کام کرا دیا جائے۔ مجھے اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس نے گویا میرے مونہہ پر چپیڑ مار دی۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ سوائے کسی ذاتی فائدہ کی تمنا کے ہم کیوں کام نہیں کر سکتے۔ کشمیر کی تحریک میں ہی پندرہ بیس غیر احمدیوں کی طرف سے خط آچکے ہیں کہ اب کشمیر کا کام ہو چکا ہے ہمارے لئے ملازمت کے حصول کی کوشش کریں۔ یہ نہایت ہی افسوسناک بات ہے اور یہی ہندوستانیوں میں نقص ہے کہ اول تو وہ کام نہیں کرتے اور جب کرتے ہیں تو معاً خیال آجاتا ہے کہ ہمیں کچھ اس کے بدلہ میں ملنا چاہئے۔ حالانکہ میرے نزدیک اگر ہم کوئی کام اس لئے کرتے ہیں کہ ہمیں اس کے بدلے میں کچھ ملے گا تو اس کام کے کرنے سے ڈوب مرنا بہتر ہے۔ پس ہمارا مقصد بلند ہونا چاہئے اور ہمارا کام یہ ہونا چاہئے کہ ایک طرف تو کانگرس کے امن شکن اصولوں کا مقابلہ کریں اور دوسری طرف گورنمنٹ کے خوشامدیوں سے شدید نفرت رکھیں۔
آج کل بم بازی اور قتل و غارت کے اکثر واقعات ہورہے ہیں اور بلاوجہ لوگوں کا خون بہایا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ اتنی عجیب بات ہے کہ میں بعض دفعہ حیران ہو جاتا ہوں اور سوچا کرتا ہوں کہ ایک انسان دوسرے انسان کو کس طرح قتل کر سکتا ہے۔ بسااوقات کئی کئی منٹ میں نے اس امر پر غور کیا ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کو کس طرح قتل کر سکتا ہے۔ اور اگر دنیا میں انسانوں کے قتل کے واقعات نہ ہوتے تو یقیناً میں ان لوگوں میں سے ہوتا جو یہ کہتے کہ ایک انسان کا دوسرے انسان کو قتل کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ جس طرح ایک اور ایک کا پچیس ماننا ناممکن ہوتا ہے اس طرح میں اس امر کو باور نہ کر سکتا۔ کیونکہ انسانی جان کوئی معمولی چیز نہیں۔ اگر ان الفاظ کو دیکھا جائے جو قرآن مجید نے استعمال فرمائے ہیں تو ان کے ماتحت انسان اللہ تعالیٰ کے ظہور کے لئے بنایا گیا ہے۔ پس اس صورت میں ایک انسان کو مارنے کے کیا معنی ہوئے۔ یہی کہ خدائی صفات کے ظہور کو مٹا دیا جائے۔ تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جس شخص کو تم نے مارا وہ ڈاکو یا بدمعاش تھا۔ کیونکہ ہم ہزاروں ڈاکوؤں اور بدمعاشوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ بعد میں نیک ہو جاتے ہیں۔ پس
ایک انسان دوسرے انسان کو قتل کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ ہاں اگر عالم الغیب ہستی کا حکم ہو تو وہ دوسری بات ہے۔
کیونکہ وہ کسی شخص کی زندگی اور موت کے فوائد بہت زیادہ سمجھتا ہے۔ پس میں نے تو اس امر پر بارہا غور کیا ہے مگر میری سمجھ میں کبھی نہیں آیا کہ ایک انسان دوسرے انسان کو کس طرح مار سکتا ہے۔ اور اگر فی الواقعہ دنیا میں قتل کے واقعات نہ ہوتے تو میں یہی سمجھتا کہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ایک انسان دوسرے انسان کو قتل کر سکتا ہے۔ لیکن اس فعل کی برائی اَور بھی زیادہ گھناؤنی ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص ہزاروں میل سے آیا ہو وہ ایک ملک کی خدمت کے لئے اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں سے جدا ہو کر آیا ہو اور پھر اسے اچانک ہلاک کر دیا جائے۔ حکام کو قتل کرنے والوں کی طرف سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انگریز انصاف نہیں کرتے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ انصاف کرنے کی کوشش کرتے ، غریبوں کی خبر گیری کرتے اور قحط کے ایام میں ہر طرح کی آسائش بہم پہنچانے کا انتظام کرتے ہیں۔ مگر باوجود اس کے ایک عورت یا مرد اٹھتا ہے اور وہ گولی سے حاکم کو مار دیتا ہے۔ اس قسم کا قتل میری سمجھ میں کبھی آیا ہی نہیں اور اگر میری قلبی کیفیات کا اندازہ لگایا جائے تو میرے نزدیک تو ایسا فعل شیطان سے سرزد ہونا بھی مشکل ہے۔ مگر نہ معلوم وہ لوگ شیطان سے بھی بڑے ہو گئے یا ان کو کیا ہو گیا کہ انہیں اس قسم کے افعال پر دلیری ہوتی چلی جارہی ہے۔ پھر ان جرائم کیوجہ سے نتیجہ بھی خراب ہی نکلتا ہے۔ تم کسی کو ایک جرم کی اجازت دے دو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کے جرم بڑھتے ہی چلے جائیں گے۔ ایک شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے کہ گوشت کی لذت گوشت کھا کر تم نہیں بھول سکتے بلکہ گوشت ترک کرکے بھول سکتے ہو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سارے کانگرس والے ایسا کرتے ہیں مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ کانگرس والوں اور ان لوگوں میں واسطہ ضرور ہے جو اس قسم کے افعال کرتے ہیں۔ اور جہاں میں نے یہ کہا ہے کہ میں جن کانگرسیوں سے ملا انہیں ملک کے لئے قربانی کرنے والا دیکھا وہاں میں اس قدر ایزاد کرنا چاہتا ہوں کہ گورنمنٹ کے معاملہ میں میں نے ان کو نہایت سنگدل پایا۔ اور میں نے دیکھا کہ انگریزوں کے مارے جانے سے وہ نہایت ہی خوش ہوتے ہیں اور خصوصاً د شمن کے مرنے پر۔ اور اس کے لئے وہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ لڑائی میں دشمن کو مارنا کون سا جرم ہے حالانکہ لڑائی میں تو ہم دشمن کو بھی موقع دیتے ہیں کہ وہ ہمیں مارے۔ مگر یہاں تو تاریکی اور بے خبری کے عالم میں دوسرے پر حملہ کیا جاتا ہے۔ پس یہ نہایت ہی افسوسناک طرزِ عمل ہے۔ پھر میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ بدقسمتی سے گورنمنٹ کو یہ خیال لاحق ہو گیا ہے کہ اس نے کانگرس کی تحریک کو دبا دیا ہے۔ مجھے تعجب آتا ہے کہ ایسی منظم اور دانا گورنمنٹ کو یہ خیال کیونکر ہو گیا۔ جبکہ حقیقت ہے کہ نہ صرف کانگرس کی تحریک کمزور نہیں ہوئی بلکہ وہ پہلے سے مضبوط ہو گئی ہے۔ کسی جماعت کی مضبوطی اس کی تنظیم پر منحصر ہوتی ہے اور کانگرس کی تنظیم اب پہلے سے بہت زیادہ ہے۔ پہلے اگر صرف شہری لوگ منظم تھے تو اب اندر ہی اندر دیہاتیوں کو بھی منظم کر رہے ہیں اور اگر آج نہیں تو کل گورنمنٹ کو محسوس ہوگا کہ کانگرس دبی نہیں بلکہ اور زیادہ قوت پکڑ گئی ہے۔ پس یہ تیسرا خطرہ اور فتنہ ہے جو اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ ایک تو کانگرسیوں کا گروہ ہے جو ایثار اور قربانی کا مادہ رکھنے کے باوجود غلط راستے پر گامزن ہے۔ دوسری خوشامدیوں کی جماعت ہے جو صحیح راستہ پر ہونے کے باوجود ملک سے غداری کر رہی ہے۔ اور ایک خطرہ اس گورنمنٹ کی طرف سے ہے جسے خدا نے امن کا ذمہ دار قرار دیا ہے کہ وہ خیال کرتی ہے اس نے اپنے آرڈیننسوں کے زور سے اس تحریک کو کچل دیا اور اس بڑھتے ہوئے فتنے کو دبا دیا ہے۔ حالانکہ چور کے لئے اگر ایک کھڑکی بند کر دی گئی تھی تو اب وہ دوسری کھڑکی کی راہ سے اندر داخل ہو گیا ہے۔ حکومت نے کانگرس کے لئے ایک دروازے کو بند کر دیا اور خیال کر لیا کہ اب کانگرس اندر داخل نہیں ہو سکتی حالانکہ دوسرے دروازے کھلے ہیں اور وہ ان کے ذریعہ اندر داخل ہو رہی ہے۔
میں نے دیکھا ہے ہر سال گورنمنٹ کے کچھ افسر کانگرسی ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ آج کل افسروں کا اکثر حصہ ایسا ہے جو کانگرسی ہے۔ اور وہ اپنے عہدوں اور رسوخ کے زور سے کانگرس کی مدد کررہے ہیں۔ مجسٹریٹ ، پولیس والے دفاتر کے کارکن غرض ہر محکمہ میں کانگرس کے حامی موجود ہیں۔ اور اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ گورنمنٹ کا کوئی راز ایسا نہیں ہوتا جو گانگرسیوں کو معلوم نہ ہو۔ وارنٹ گرفتاری نکلتے ہیں تو ان کی تعمیل ہونے سے قبل ہی اطلاع ہو جاتی ہے کہ فلاں شخص کی گرفتاری کے لئے حکم نکل رہا ہے۔
مجھے ایک شخص نے سنایا کہ جب پولیس والے اپنے زعم میں بے خبری کے عالم میں وارنٹ لے کر آرہے ہوتے ہیں تو ہم پہلے ہی ہار پہنا کر اس شخص کو بٹھا رکھتے ہیں جس کی گرفتاری کا وارنٹ ہوتا ہے تاکہ بتادیں کہ ہمیں پہلے سے گرفتاری کا علم تھا۔ ان حالات میں ہماری جماعت کی ذمہ داریاں بہت ہی بڑھ جاتی ہیں۔ میں نصیحت کرتا ہوں کہ جس جس صوبہ میں اس قسم کے واقعات ہوں ان کا مقابلہ کیا جائے یعنی اس فتنہ انگیزی کی روح کا مقابلہ کیا جائے۔ ورنہ ہمیں کسی کی ذات سے کوئی رنجش نہیں ہونی چاہئے۔ میں نے کہا ہے کانگرسی ملک کے لئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ان میں بہت سے مخلص کارکن ہیں۔ جب میں شملہ گیا تو مجھے کانگرس کے ایک پریذیڈنٹ سے جن کا نام مجھے یاد نہیں رہا ملنے کا موقع ملا۔ میں نے دیکھا کہ وہ نہایت خاموش طبیعت کے اور سچے آدمی ہیں۔ ان سے لوگ ہنسی مذاق بھی کرتے مگر انہیں پتہ ہی نہ ہوتا کہ لوگ کیا کہتے ہیں۔ ایسے انسان سے مل کر کام کرنا یا اس سے ذاتی دوستی پیدا کرنا نہایت ہی پر لطف بات ہے۔ پس میں اگر کانگرسیوں کے مقابلہ کے لئے کہتا ہوں تو کانگرسی اصول کے لحاظ سے ورنہ دوستی کے لحاظ سے میں انہیں بہت بہتر سمجھتا ہوں۔ اور ان کی ذات سے دشمنی رکھنا غلط سمجھتا ہوں۔ نہ انگریز ہمارے سگے بھائی ہیں نہ کانگرسی سوتیلے بھائی بلکہ دونوں ہمارے بھائی ہیں۔
انسانی لحاظ سے ایک ہندو ایک انگریز میں فرق ہی کیا ہے۔ سوائے اس کے کہ ایک انگریز ہے اور ایک ہندو۔ پس دونوں ہمارے بھائی ہیں اور میرے دل میں ہر قوم کے اچھے لوگوں کے لئے عزت ہے چاہے وہ مسلمان ہوں یا ہندو یا انگریز۔ ہاں جو لوگ غلط طریق اختیار کریں ہم ایسے لوگوں کے اس طریق کو بُرا کہیں گے۔
پس ہمارا کام یہ ہونا چاہئے کہ ہم پیار ، محبت اور استقلال کے ساتھ ان خلافِ آئین تحریکوں کا مقابلہ کریں۔
میں اپنی جماعت کے تمام افراد کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ جہاں کہیں ہوں انارکسٹوں کی تحریک کی نگرانی رکھیں اور یہ کبھی خیال نہ کریں کہ اس کے بدلہ میں گورنمنٹ سے انہیں کیا ملے گا۔ میں تو جب کسی مونہہ سے ایسی بات سنتا ہوں مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ میری کمر ٹوٹ گئی۔ دراصل یہ ہمارا اپنا کام ہے۔ گورنمنٹ نے ملک سے فتنہ و فساد کو روکنے کی ذمہ داری خود اپنے اوپر لی ہے اور ہم پر فتنہ و فساد کے روکنے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ڈالی ہے۔ گورنمنٹ نے تو اس فرض کو اپنے سر یوں لے لیا جیسے پنجابی زبان میں کہتے ہیں ’’آپے میں رَجی پُجی آپے میرے بچے جیون۔‘‘ مگر ہم نے تو خود بخود اس فرض کو نہیں اٹھایا بلکہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک نبی مبعوث کیا اور اس نے کہا کہ تمہارے یہ یہ فرائض ہیں۔ پس جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کام ہمارے سپرد ہوا ہے تو ہمیں کسی انعام کا طالب ہو کر اسے سرانجام دینے کا خیال بھی نہیں کرنا چاہئے۔ اور ابھی تو ہندوستان میں ہی ہمیں اس فتنہ کے مقابلہ کے لئے تیاری کرنی ہے پھر نہ معلوم کسی وقت انگلستان ، امریکہ ، چین اور جاپان میں فسادات ہوں اور ہمیں وہاں بھی ان کے مٹانے کی سعی کرنی پڑے۔ مگر پہلے گھر والوں کا حق ہوتا ہے۔ پھر جوں جوں اللہ تعالیٰ توفیق دیتا جائے ، ہمار ا دائرۂ عمل بھی وسیع ہوتا چلا جائے گا۔ پس میں جماعت کو پورے زور سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خلافِ امن تحریکات کی خبر گیری کریں اور وقتاً فوقتاً مجھے اطلاعات بھیجتے رہیں۔ گورنمنٹ کو تو یہ غلطی لگی ہوئی ہے کہ وہ خیال کرتی ہے اس نے اس فتنہ کو دبا دیا ہے۔ حالانکہ پہلے یہ ظاہر میں فتنہ تھا اب پوشیدگی میں لوگوں کے اخلاق اور ملک کے امن کو برباد کررہا ہے اور پوشیده فتنه زیاده خطرناک ہوتا ہے۔
فتنہ کی مثال پھوڑے کی سی ہوتی ہے اور اندر کا پھوڑا بہت زیادہ مہلک ہوتا ہے۔ کیونکہ پتہ نہیں ہوتا کہ اس کا زہر دل کی طرف چلا جائے یا جگر کی طرف۔
پس ہمارا فرض ہے کہ ہم ان خطرات کا مقابلہ کریں لیکن ہمار ا مقابلہ امن کے ساتھ ہونا چاہئے جیسے کشمیر کی تحریک میں ہوا میں نے آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے مقابلہ کی تحریک کی۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی۔ ورنہ میں یہاں بیٹھا ہوا کیا کر سکتا تھا۔ اگر لیڈروں کے دل خونریزی کی طرف مائل ہوجاتے تو میں کچھ بھی نہ کر سکتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں بھی وہی تحریک پیدا کردی جو میرے دل میں اٹھی۔ پس نیک نیتی کے ساتھ امن کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اس تحریک کا مقابلہ کرو۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ گورنمنٹ سے ہماری رشتہ داری ہے۔ ہم وقت پر اس کی غلطیوں سے بھی اسے آگاہ کرتے ہیں۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ انگریز نہیں کوئی بھی حکومت ہو اگر کانگرس کا طریقِ عمل اختیار کیا جائے تو ہر حکومت کے لئے سخت مشکلات پیش آئیں گی۔ اور اس کے علاوہ ہمارے لئے تبلیغ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ میں اپنی جماعت کے تمام دوستوں کو خواہ وہ یو پی کے ہوں یا بنگال کے، پنجاب کے ہوں یا مدراس کے، بہار کے ہوں یا بمبئی وغیرہ کے نصیحت کرتا ہوں کہ
ان کا فرض ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے مشن کے مطابق دنیا میں امن قائم کرنے کی کوشش کریں۔
محض لیکچروں میں زبانی اس امر کے کہنے کا کیا فائدہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام دنیا میں امن کا پیغام لے کر آئے تھے۔ اثر محض باتوں سے نہیں ہوتا بلکہ کام سے ہوتا ہے۔ اگر تم اپنی جانوں کو، اپنے مالوں کو اور اپنی عزیز سے عزیز متاع کو امن کے قیام کے لئے قربان کر دو تو لوگ کہیں گے یہ جو کچھ کہتے ہیں دکھاوے کے لئے نہیں کہتے بلکہ اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیتے ہیں۔
میں امید کرتا ہوں کہ اس خطبہ کی اشاعت پر تمام جماعت اس فتنہ و فساد کی روک تھام کے لئے منظم کوشش عمل میں لائے گی۔ میں نے ایک سکیم بھی تجویز کی ہے جس کے ماتحت پچیس سال تک کے تمام نوجوانوں کو منظم کیا جائے گا۔ اور اس پر پہلے قادیان میں عمل شروع ہوگا اور بیرونی جماعتوں میں بعد میں۔ لیکن علاوہ اس تنظیم کے ہماری جماعت کے ہر فرد کو حکومت کی اس معاملہ میں مدد کرنی چاہئے کیونکہ امن کا قیام ہمیشہ ہی ضروری ہوتا ہے خواہ اپنی حکومت ہو خواہ کسی غیر کی حکومت۔ اور اس معاملہ میں ہمیں ہر حکومت کی مدد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
(الفضل ٧؍جولائی ۱۹۳۲ء)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ہر احمدی قیامِ امن کے لئے جدوجہد کرے(قسط اول)




