جماعت احمدیہ انڈونیشیا کے جلسہ سالانہ ۲۰۲۵ء کا کامیاب انعقاد
٭…حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جلسہ سالانہ کے موقع پر خصوصی ایمان افروز پیغام
٭… ملک بھر سے احباب جماعت اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی شرکت
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ انڈونیشیا کو شہر تانگرنگ میں مورخہ ۵تا۷؍دسمبر۲۰۲۵ء کو اپنا جلسہ سالانہ ۲۰۲۵ء منعقد کرنے کی توفیق ملی۔
جلسہ کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم اور نظم سے ہوا جس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جلسہ سالانہ کے موقع پر ارسال کردہ خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ افتتاحی اجلاس میں مکرم زکی فردوس شہید (ایس۔ ٹی، ایم۔ ٹی) صاحب امیر جماعت احمدیہ انڈونیشیا نے تقریر کی۔

افتتاحی تقریب کے دوران آچے، شمالی سماٹرا اور مغربی سماٹرا میں حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان قدرتی آفات میں ۸۳۶؍افراد جاں بحق، ۵۱۸؍لاپتہ، ۲؍ہزار ۷۰۰؍سے زائد زخمی جبکہ ۳۷؍لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔ امیرِ صاحب نے جماعت احمدیہ کے افراد کو متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی تلقین کی اور بتایا کہ جماعت کے فلاحی ادارے ہیومینٹی فرسٹ کی جانب سے امدادی مراکز قائم کر دیے گئے ہیں۔ یکجہتی کے اظہار کے طور پر مغربی سماٹرا میں جلسہ سالانہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔
تقریب کے دوران حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے جلسہ سالانہ یوکے ۲۰۱۰ءکے پیغام کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں فرمایا تھا کہ ’’محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں‘‘ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ عملی خدمت اور انسانیت سے محبت کا پیغام ہے۔
افتتاحی تقریب کے اختتام پر دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ جلسہ سالانہ کو بابرکت بنائے اور یہ جلسہ ملک و قوم کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا ذریعہ ثابت ہو۔
پہلے دن مکرم معرزالدین شاہد صاحب مبلغ سلسلہ نے ’’بیعت کی حقیقت اور جماعتی اتحاد‘‘ پر اور مکرم فضل محمد صاحب مبلغ سلسلہ نے ’’نبی کریم ﷺ اور صحابہؓ کے طرزِ عمل کی روشنی میں اختلافات کے حل‘‘ کے موضوعات پر تقاریر کیں۔

اس کے بعد ملکی سطح کی مختلف سرکاری و سماجی شخصیات نے مذہبی رواداری، قومی ہم آہنگی اور امن کے فروغ پر اظہارخیال کیا۔ مقررین نے جماعت احمدیہ کی سماجی خدمات اور پرامن کردار کو سراہا۔
دوسرے دن ہونے والے اجلاس میں مکرم عارف رحمان حکیم صاحب مبلغ سلسلہ نے ’’رسول کریم ﷺ کے اسوۂ عفو و درگزر‘‘، مکرم خالد محمود احمد صاحب مبلغ سلسلہ نے ’’اطاعتِ خلافت-جماعتی ترقی کا ذریعہ‘‘ اور مکرم ناصر احمد طاہر صاحب مبلغ سلسلہ نے ’’بامقصد مکالمہ اور مثبت ابلاغ کی اہمیت‘‘ کے موضوعات پر تقاریر کیں۔
تیسرے دن کے اجلاس میں مختلف مذاہب اور سماجی اداروں کی نمائندہ شخصیات نے اپنے تاثرات پیش کیے اور جماعت احمدیہ کے امن پسند کردار کو سراہا۔
اختتامی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے مکرم امیر صاحب نے قربانی، اتحاد اور بیعت کی تجدید کی طرف شاملین جلسہ کی توجہ دلائی اور اختتامی دعا کروائی۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس جلسہ سالانہ میں ۲۰؍ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے۔ قومی سطح پر یہ جلسہ ۲۲؍مقامات پر منعقد کیا گیا جبکہ مغربی سماٹرا میں قدرتی آفات کے باعث ایک مقام پر جلسہ منسوخ کر دیا گیا۔
(رپورٹ:احسان قمر الزمان۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے جلسہ سالانہ انڈونیشیا ۲۰۲۵ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام کا اردو مفہوم
پیارے احباب جماعت احمدیہ انڈونیشیا،
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے بہت خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت انڈونیشیا اپنا جلسہ سالانہ ۶،۵و۷؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو منعقد کر رہی ہے اور یہ کہ آپ اس بابرکت تقریب میں شرکت کرنے کے لیے ملک بھر کے مختلف سینٹرز میں اکٹھے ہوئے ہیں۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس جلسےکو کامیاب کرےاور آپ سب بےشمار برکات حاصل کریں اور اس جلسہ سے حقیقی طور پر ہر لحاظ سے فائدہ اٹھائیں۔
یہ بات اہم ہے کہ یہ آپ کا صد سالہ جوبلی سال ہے۔ اس لیے جب آپ اپنی خوشی اور مسرت کا اظہار کریں تو اللہ تعالیٰ کی بےشمار نعمتوں پر بھی لازمی غور کریں۔ سادہ آغاز سے جماعت احمدیہ انڈونیشیا نے گذشتہ ۱۰۰؍سال میں مسلسل ترقی کی منازل طے کی ہیں۔
جیسے جیسے آپ آگے بڑھ رہے ہیںآپ کو اپنی ذمہ داریوں پر خاص توجہ دینی چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ جہاں صد سالہ سنگ میل تک پہنچنا آپ کے لیے خوشی کا باعث ہے وہاں یہ آپ کے کندھوں پر ذمہ داری کا ایک بھاری بوجھ بھی ڈالتا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اس سنگ میل تک پہنچنے کے بعد آپ آرام سے بیٹھ جائیں۔ بلکہ جیسے ہی جماعت احمدیہ انڈونیشیا اپنی دوسری صدی میں داخل ہو رہی ہے، یہ ہر احمدی مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس کی مسلسل ترقی اور پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے پوری لگن اور اخلاص کے ساتھ کوشش کرے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ جلسہ کو لوگوں کا محض ایک عام اجتماع نہ سمجھیں بلکہ آپؑ نے فرمایا کہ یہ ایک ایسی تقریب ہے جس کی بنیاد خالصۃً منشائے الٰہی پر ہے تاکہ اسلام کی اشاعت اور ہمارے پیارے نبی آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی ترویج کی جا سکے۔
اس حوالہ سے آپؑ فرماتے ہیں: ’’اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمۂ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے ليے قومیں طیارکی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات اَنہونی نہیں۔‘‘(اشتہار ۲۷؍ دسمبر ۱۸۹۲ء مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۳۶۱ ایڈیشن ۲۰۱۹ء)
آپ کو جماعت کے مختلف علماء کی تقاریر غور سے سننی چاہئیں۔ یاد رکھیں کہ مقررین اپنی تقاریر بہت محنت سے تیار کرتے ہیں اس لیے انہیں توجہ سے سننا ضروری ہے۔ یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا محض فضل ہے کہ ہمارے علماء تحقیق کرتے ہیں اور اپنی تقاریر کی بنیاد نہ صرف کلام الٰہی یعنی قرآن کریم اور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور سنت پر رکھتے ہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روشن بیانات پر بھی رکھتے ہیں اور وہ حکمت و علم ہمیں پیش کرتے ہیں۔
چنانچہ آپ کو اپنی تعلیمات اور عقائد کے بارے میں مزید علم اور فہم حاصل کرنے کے لیے جلسہ کی کارروائیوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس طرح اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہیے اور اپنے روحانی و اخلاقی معیار کو بلند کرنا چاہیے۔ اس جلسہ کو آپ کے تقویٰ کے معیار میں اضافے کا باعث بننا چاہیے اور آپ کے دلوں میں اللہ کا حقیقی خوف پیدا کرنا چاہیے۔ درحقیقت آپ کا واحد مقصد ہمارے خالق اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو جلسہ میں شرکت بےمقصد اور بے فائدہ ہوگی۔
آپ کو تمام شرائط بیعت کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ یہ شرائط آپ کی زندگی کی راہنما ہونی چاہئیں اور اگر آپ ان کے مطابق عمل کریں گے توآپ دنیا میں حقیقی روحانی انقلاب لانے والے ہوسکتے ہیں۔ ہر ایک شرط بیعت اپنے اندر بے انتہا حکمتیں رکھتی ہے۔ ایک احمدی مسلمان کو اپنے ایمان کو زندہ رکھنے کے لیے تمام شرائط بیعت پر ہر وقت غور کرتے رہنا چاہیے۔ صرف خود احتسابی اور روزمرہ کے اعمال و افعال کا باقاعدگی سے جائزہ لے کر ہی آپ اپنی بیعت کے تقاضوں کو پورا کرسکتے ہیں۔
میں آپ کو تلقین کرتا ہوں کہ خلافت احمدیہ کے الٰہی نظام سے ہمیشہ وفادار رہیں اور خلیفۃ المسیح کے ساتھ ایک مضبوط تعلق قائم کرنے کی کوشش کریں۔ آج اسلام کا احیاء نو اور عالمی امن کا قیام صرف نظام خلافت سے وابستہ رہ کر ہی مکمل کیا جاسکتا ہے۔ آپ کو ایم ٹی اے کثرت سے دیکھنا چاہیے اور خطبات جمعہ نیز دیگر تقریبات اور مواقع پر میرے خطابات باقاعدگی سے سننے چاہئیں۔ یہ آپ کو خلافت کے ساتھ مستقل تعلق قائم کرنے والا بنائے گا اور آپ کے ایمان کو مزین اور مزید مضبوط کرے گا۔
میں آپ کو تبلیغ کے حوالے سے آپ کی ذمہ داریوں کی بھی یاد دلانا چاہتا ہوں جو ہر احمدی کے لیے ضروری ہے اور آپ سب کو چاہیے کہ تبلیغ کے پروگراموں اور سرگرمیوں میں مکمل طور پر شامل ہوں، دانشمندی سے تبلیغ کریں اور اسلام احمدیت کا پرامن اور محبت بھرا پیغام انڈونیشیا کے تمام لوگوں تک پہنچائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آخر میں میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو عظیم کامیابی سے نوازے اور آپ سب کو اس قابل بنائے کہ آپ اپنی زندگیوں میں مزید تقویٰ، نیک رویے، اچھے اعمال اور اسلام احمدیت اور انسانیت کی خدمت کی جانب ایک حقیقی تبدیلی لاسکیں۔ اللہ ہمیشہ آپ کو محفوظ اور اپنے حفظ و امان میں رکھے اور آپ سب پر رحم کرے۔




