احمدی عورت کا اہم کردار اور اس کی ذمہ داریاں
معاشرے میں عورت کا کردار
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ یوکے ۲۰۰۶ءکے موقع پر احمدی مسلمان عورتوں کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشادفرمایا: ’’عورت کو ہمارے دین نے گھر کا نگران اور خاوند کے گھر کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی ہے۔ جب تک تم اللہ تعالیٰ کو نہیں پہچانو گی اور اپنی ذمہ داری نہیں سمجھوگی تمہارے ہاں سکون نہیں پیدا ہوسکتا ۔‘‘

مزید فرمایا:’’آپ احمدی عورتیں کسی قسم کے احساس کمتری کے بجائے احساس بر تری کی سوچ پیدا کریں۔ اپنی تعلیم کو کامل اور مکمل سمجھیں۔ قرآن کریم کی تعلیم پر پوری توجہ دیں اس پر کاربند ہوں تو آپ ان شاء اللہ تعالیٰ دنیا کی رہنما کا کردار ادا کریں گی۔ ورنہ اگر صرف اس دنیا کے پیچھے ہی دوڑتی رہیں تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ سب کچھ ختم ہوجائے گا اور ہاتھ ملتی رہ جائیں گی اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایسی قومیں عطا فرمائے گا جو اس کام کو آگے بڑھائیں گی۔ لیکن مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ یہ اعزاز ان پرانی نسلوں اور پرانے خاندانوں ان احمدی عورتوں کے ہاتھ میں ہی رہے گا جو مشکل وقت میں جن کو احمدیت قبول کرنے کی سعادت ملی۔ پس آپ لوگ اپنے اندر یہ احساس ذمہ داری کبھی ختم نہیں ہونے دیں گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اللہ آپ کو توفیق دے۔ پس اس نعمت عظمیٰ کی قدر کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے تاکہ آپ کا ہر قدم اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے میں آگے سے آگے بڑھتا چلاجانے والا قدم ہو اور آپ اپنے پیچھے ایسی نسل چھوڑ کر جانے والی ہوں جو اگلی نسلوں کے دلوں میں بھی اللہ کے دین کی عظمت پیدا کرنے والی ہوں۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔‘‘(جلسہ سالانہ یوکے خطاب از مستورات فرمودہ ۲۹؍ جولائی۲۰۰۶ء۔ مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۶؍جون ۲۰۱۵ء)
(ماخوذ از عائلی مسائل اور ان کا حل صفحہ ۲۰۱-۲۰۲)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ کی مرکزی ویب سائٹ۔ الاسلام ڈاٹ آرگ(alislam.org) کاتعارف



