حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے پُر معارف ارشادات کی روشنی میں توحیدِ الٰہی کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۳؍اپریل ۲۰۲۶ء
٭… آج صفحہ دنیا میں وہ شے کہ جس کا نام توحید ہے بجز امّت آنحضرتﷺکے اور کسی فرقے میں پائی نہیں جاتی اور بجز قرآن شریف کے کسی اور کتاب کا نشان نہیں ملتا جو کروڑہا مخلوقات کو وحدانیتِ الٰہی پر قائم کرتی ہو اور کمال تعظیم سے اس سچے خدا کی طرف راہبر ہو۔ ہر ایک قوم نے اپنا اپنا مصنوعی خدا بنالیا ہے اور مسلمانوں کا وہی خدا ہے جو قدیم سے لازوال اور غیرمبدّل اور اپنی ازلی صفتوں میں ایسا ہی ہے جو پہلے تھا
٭… آنحضرتﷺکا ایسی عام گمراہی کے وقت مبعوث ہوناکہ جب خود حالت موجودہ زمانے کی خود ایک بزرگ معالج اور مصلح کو چاہتی تھی اورہدایتِ ربانی کی کمال ضرورت تھی ایسے میں آپؐ کاظہور فرماکر ایک عالَم کوتوحید اور اعمالِ صالحہ سے منوّر کرنا اور شرک اور مخلوق پرستی کا جو امّ الشرور ہے قلع قمع کرنا اس بات پرصاف دلیل ہے کہ آنحضرتﷺ خدا کے سچے رسول ہیں اور آپؐ سب رسولوں سے افضل ہیں
٭… اس زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق آپؐ کے عاشقِ صادق کو خدا تعالیٰ نے توحید کے قیام کے لیے مامور کیا۔ اس زمانے میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ جو مسیح موعود اور مہدی معہود ہیں آپؐ کی تعلیم اور سنت کا عملی نمونہ تھے اور آپؑ کا دل ہی اپنے آقاﷺ کی اتباع میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے پھیلانے کے لیے ایک درد سے بھرا ہوا تھا
٭…توحید پر قائم کرنے کے لیے ہمیں جس حد تک کوشش ممکن ہو وہ کرنی چاہیے
٭… مکرم خواجہ ظفر احمد صاحب سابق امیر جماعت احمدیہ ضلع سیالکوٹ حال مقیم امریکہ اور مکرم ازرا گو علی صاحب آف بورکینا فاسو کی وفات پر مرحومین کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۳؍اپریل ۲۰۲۶ء بمطابق ۳؍شہادت ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۳؍اپریل ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
آنحضرتﷺ کے دنیا میں توحید کے قیام کے لیے درد،کوشش اور جرأت اور شرک کے ہر پہلو کے مقابل پر ایک مضبوط چٹان کی طرح کھڑے ہوجانے اور ہر قوم کے شرکیہ خیالات کے خلاف کھڑا ہوجانے اور حق گوئی کے بارے میں ہم پہلے پڑھتے رہے ہیں۔
اس حوالے سے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ خیال کرنا چاہیےکہ کس استقلال سے آنحضرتﷺ اپنے دعویٰ نبوت پر باوجود پیدا ہوجانے ہزاروں خطرات اور کھڑے ہوجانے لاکھوں معاندوں اورمزاحموں اور ڈرانے والوں کے، اوّل سے اخیر دم تک ثابت اور قائم رہے۔
فرمایا کہ پھر صاف گوئی اس قدر کہ توحید کا وعظ کرکے سب قوموں اور سارے فرقوں اور سارے جہان کے لوگوں کو جو شرک میں ڈوبے ہوئے تھےمخالف بنالیا… سوچنا چاہیے کہ آنحضرتﷺکا یک لخت ہر ایک خویش و بیگانہ سے بگاڑ لینااور صرف توحید کو جو ان دنوں میں اس سے زیادہ کوئی نفرتی چیز نہ تھی اور جس کے باعث صدہا مشکلیں پڑتی جاتی تھیں بلکہ جان سے مارے جانا نظرآتا تھا۔مضبوط پکڑلینا یہ کس مصلحتِ دنیوی کا تقاضہ تھا۔
فرمایا کہ ما سوا اس کے جب عاقل آدمی ان حالات پر غور کرے کہ وہ زمانہ کہ جس میں آنحضرتﷺ مبعوث ہوئے حقیقت میں ایسا زمانہ تھا کہ جس کی حالتِ موجودہ ایک بزرگ اور عظیم القدر مصلح ربانی اور ہادی آسمانی کی اشد محتاج تھی اور جو جو تعلیم دی گئی وہ بھی واقع میں سچی اور پاک تھی جس کی نہایت ضرورت تھی۔
حضورؑ فرماتے ہیں کہ توحید جو مدار نجات کا ہے کس کتاب کے ذریعہ سے دنیا میں سب سے زیادہ شائع ہوئی…
آج صفحہ دنیا میں وہ شے کہ جس کا نام توحید ہے بجز امّت آنحضرتﷺکے اور کسی فرقے میں پائی نہیں جاتی اور بجز قرآن شریف کے کسی اور کتاب کا نشان نہیں ملتا جو کروڑہا مخلوقات کو وحدانیتِ الٰہی پر قائم کرتی ہو اور کمال تعظیم سے اس سچے خدا کی طرف راہبر ہو۔ ہر ایک قوم نے اپنا اپنا مصنوعی خدا بنالیا ہے اور مسلمانوں کا وہی خدا ہے جو قدیم سے لازوال اور غیرمبدّل اور اپنی ازلی صفتوں میں ایسا ہی ہے جو پہلے تھا۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ اس زمانے میں مبعوث ہوئے تھے کہ جب تمام دنیا میں شرک اور گمراہی اور مخلوق پرستی پھیل چکی تھی اور تمام لوگوں نے اصولِ حقہ کو چھوڑ دیا تھا اور صراطِ مستقیم کو بھول بھلا کر ہر یک فرقے نے الگ الگ بدعتوں کا راستہ لے لیا تھا۔ عرب میں بُت پرستی کا نہایت زور تھا۔ فارس میں آتش پرستی کا بازار گرم تھا، ہند میں علاوہ بت پرستی کے اور ہزارہا طرح کی مخلوق پرستی پھیل گئی تھی۔ پس
آنحضرتﷺکا ایسی عام گمراہی کے وقت مبعوث ہوناکہ جب خود حالت موجودہ زمانے کی خود ایک بزرگ معالج اور مصلح کو چاہتی تھی اورہدایتِ ربانی کی کمال ضرورت تھی ایسے میں آپؐ کاظہور فرماکر ایک عالَم کوتوحید اور اعمالِ صالحہ سے منوّر کرنا اور شرک اور مخلوق پرستی کا جو امّ الشرور ہے قلع قمع کرنا اس بات پرصاف دلیل ہے کہ آنحضرتﷺ خدا کے سچے رسول ہیں اور آپؐ سب رسولوں سے افضل ہیں۔
فرمایا:جب لوگ خدا کا رستہ بھول جاتے ہیں اور خدا اور توحید پرستی کو چھوڑ دیتے ہیں تو خداوند تعالیٰ اپنی طرف سے کسی بندے کو بصیرتِ کامل عطا فرماکر اور اپنے کلام اور الہام سے مشرف کرکے بنی آدم کی ہدایت کے لیے بھیجتا ہے کہ تا جس قدر بگاڑ ہوگیا ہے اس کی اصلاح کرے اور اس میں اصل حقیقت یہ ہے کہ پروردگار جو قیوم عالَم کا ہے اورجو دنیا کو قائم رکھنے والا ہے اور بقا اور وجود عالم کا اسی کے سہارے ہے اور آسرے سے ہے کسی اپنے فیضان رسانی کی صفت کو خلقت سے دریغ نہیں کرتا اور نہ بیکاراور معطل چھوڑتا ہے بلکہ ہر یک صفت اس کی اپنے موقعے پر فی الفور ظہور پذیر ہوجاتی ہے۔
حضورِانور نے فرمایا کہ پھر
اس زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق آپؐ کے عاشقِ صادق کو خدا تعالیٰ نے توحید کے قیام کے لیے مامور کیا۔ اس زمانے میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ جو مسیح موعود اور مہدی معہود ہیں آپؐ کی تعلیم اور سنت کا عملی نمونہ تھے اور آپؑ کا دل ہی اپنے آقاﷺ کی اتباع میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے پھیلانے کے لیے ایک درد سے بھرا ہوا تھا۔
چنانچہ ہمیں آپؑ کی تحریرات اور آپؑ کی عملی زندگی میں اس کی بہت سی مثالیں نظر آتی ہیں جن میں سے چند ایک مَیں پیش کرتا ہوں۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا ہمارے ساتھ بھی عجیب معاملہ ہے ہمارا یہ الہام کہ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ تَوْحِیْدِیْ وَ تَفْرِیْدِیْ ایک نئی طرز کا الہام ہے۔ ہم نے اب سے پہلے کسی الہامی عبارت میں اس قسم کے الفاظ نہیں دیکھے۔ اس کے معنی جو ہمارے خیال میں آتے ہیں کہ ایسا شخص بمنزلة توحیدہی ہوتا ہے جو ایسے وقت میں مامور ہو کہ جب دنیا میں توحیدِ الٰہی کی انتہائی ہتک کی گئی ہو اور نہایت ہی حقارت سے دیکھا جاتا ہو۔ایسا شخص مجسم توحید ہی ہوتا ہے۔
شرک اور اس کی باریک اقسام کا ذکر کرتے ہوئے حضورؑ فرماتے ہیں یہ بھی چاہیے کہ ہر ایک قسم کے شرک سے پرہیز ہو، نہ سورج نہ چاند ،نہ آسمان کے ستارے، نہ ہوا نہ آگ، نہ پانی، نہ کوئی اور زمین کی چیز معبود ٹھہرائی جائے اور نہ دنیا کے اسباب کو ایسی عزّت دی جائے اور ایسا ان پر بھروسہ کیا جائےجو گویا وہ خد اکے شریک ہیں، اور نہ اپنی ہمت اور کوشش کو کوئی چیز سمجھا جائے کہ یہ بھی شرک کی قسموں میں سےقسم ہے بلکہ سب کچھ کرکے یہ سمجھا جائے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا اور نہ اپنے علم پر کوئی غرور کیا جائے اور نہ اپنے عمل پر ناز بلکہ اپنے تئیں فی الحقیقت جاہل سمجھیں اور کاہل سمجھیں اور خدا تعالیٰ کے آستانے پر ہر ایک وقت روح گری رہے۔ انسان کا علم کسی معلم کا محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر اُس کا علم کسی کا محتاج نہیں ہے۔
فرمایا :حقیقی توحید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ وہ بت ہو خواہ انسان ہو، خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر یا اپنا مکرفریب ہو منزہ سمجھنا اور اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا کوئی رازق نہ مانناکوئی معز اور مزل خیال نہ کرنا، کوئی ناصر و مددگارقرار نہ دینا، اور دوسرا یہ کہ اپنی محبت اسی سے خاص کرنا اپنی عبادت اسی سے خاص کرنااپنی امیدیں اسی سے خاص رکھنا، اپنا خوف اسی سے خاص کرنا۔ پس کوئی توحید بغیر ان تین قسموں کی تخصیص کے کامل نہیں ہوسکتی۔ اوّل یہ کہ ذات کے لحاظ سے توحید تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا، دوم صفات کے لحاظ سے توحید یعنی ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذاتِ باری کے کسی میں قرار نہ دینا۔تیسرے اپنی محبت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے توحیدیعنی محبت و غیرہ شعارِ عبودیت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرانا اور اسی میں کھوئے جانا۔
فرمایا:خدا نے قرآن کریم میں سچ فرمایا ہے کہ قریب ہے کہ اس افترا ءسے آسمان پھٹ جائے کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا جاتا ہے۔
میرا اس درد سے یہ حال ہے کہ اگر دوسرے لوگ بہشت چاہتے ہیں تو میرا بہشت یہی ہے کہ مَیں اپنی زندگی میں اس شرک سے انسانوں کو نجات پاتے اور خدا کا جلال ظاہر ہوتے ہوئے دیکھ لوں اور میری روح ہروقت دعا کرتی ہے کہ اے خدا! اگر مَیں تیری طرف سے ہوں اور تیرے فضل کا سایہ میرے ساتھ ہے تو تُو مجھے یہ دن دکھلا کہ حضرت مسیحؑ کے سرسے یہ تہمت اٹھادی جائےکہ گویا نعوذباللہ انہوں نےخدائی کا دعویٰ کیا ہے۔
ایک زمانہ گزر گیا کہ میری پنج وقت کی یہی دعائیں ہیں کہ خدا ان لوگوں کو آنکھ بخشے اور وہ اس کی وحدانیت پر ایمان لاویں اور اس کے رسول کو شناخت کرلیں اور تثلیث کے اعتقاد سے توبہ کرلیں۔
حضورِانور نے فرمایا کہ عیسائیت عملاً تو معدوم ہوتی جارہی ہے، تثلیث کا نظریہ تو صرف اب ان کا کتابی نظریہ رہ گیا ہے۔ بہت کم ہیں جو پریکٹس کرنے والے ہیں، یورپ میں خاص طور پر، افریقہ اور جنوبی امریکہ میں ابھی بھی ہیں۔ لیکن جو تثلیث کے نظریے کو چھوڑ بھی رہے ہیں وہ بھی ایک خدا کو نہیں مانتے۔ پس
توحید پر قائم کرنے کے لیے ہمیں جس حد تک کوشش ممکن ہو وہ کرنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ کرے کہ جس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا تھا اور جس توحید کی تعلیم کا آنحضرتﷺ نے اعلان فرمایا اس حقیقی توحید پر ہم عمل کرنے والے بھی ہوں اور دنیا میں پھیلانے والے بھی ہوں۔ کیونکہ دنیا کی بقا کا اب ایک یہی حل ہے۔
خطبے کے اختتام پر حضورِانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل
دو مرحومین کا ذکرِ خیر اور نمازِ جنازہ غائب پڑھانے کا اعلان فرمایا:
۱۔ مکرم خواجہ ظفر احمد صاحب سابق امیر جماعت احمدیہ ضلع سیالکوٹ حال مقیم امریکہ جو گذشتہ دنوں ۹۱؍سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
۲۔ مکرم ازرا گو علی صاحب آف بورکینا فاسو۔ مرحوم فوج میں ملازم تھے اور ڈیوٹی کے دوران دہشت گردوں کے حملے میں چالیس برس کی عمر میں شہید ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حضورِانور نے مرحومین کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے دعا کی۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: توحیدِ الٰہی کے تناظر میں سیرت نبویﷺ کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲۷؍مارچ ۲۰۲۶ء




