کلامِ امام علیہ الصلوٰۃ والسلام

جھوٹ بولنے والوں کا اِعتبار کم ہو جاتا ہے

حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’قرآن شریف نے جھوٹ کو بھی ایک نَجَاست اور رِجْس قرار دیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا ہے۔ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ(الحج:31)۔ دیکھو یہاں جھوٹ کو بُت کے مُقَابِل رکھا ہے۔اور حقیقت میں جھوٹ بھی ایک بُت ہی ہے ورنہ کیوں سچائی کو چھوڑ کر دوسری طرف جاتا ہے۔ جیسے بُت کے نیچے کوئی حقیقت نہیں ہوتی اُسی طرح جھوٹ کے نیچے بَجُزْ مُلَمَّعسازی کے اَور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جھوٹ بولنے والوں کا اِعتبار یہاں تک کم ہوجاتا ہے کہ اگر وہ سچ کہیں تب بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ اس میں بھی کچھ جھوٹ کی مِلاوَٹ نہ ہو۔ اگر جھوٹ بولنے والے چاہیں کہ ہمارا جھوٹ کم ہو جائے تو جلدی سے دُور نہیں ہوتا۔مُدَّت تک رِیَاضَت کریں تب جا کر سچ بولنے کی عادت اُن کو ہو گی۔‘‘

(ملفوظات جلد 3صفحہ 350۔ ایڈیشن 1984ء مطبوعہ انگلستان)

(مشکل الفاظ کے معنی: مُلَمَّع سازی: بناوٹ،دکھاوا، ریاکاری۔ اِعْتِبار: یقین، بھروسہ۔ رِیَاضَت: محنت مشقت،کوشش)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button