ایک خاتون، ایک ادارہ: آپا امۃاللطیف خورشید صاحبہ
حضرت میاں فضل محمدؓ (ہرسیاں والے)کی پوتی، حضرت حکیم اللہ بخش مدرسؓ (دربان ڈیوڑھی حضرت اماں جانؓ )کی نواسی، ہمارے پیارے والدین مکرم میاں عبد الرحیم دیانت درویش قادیان اور مکرمہ آمنہ بیگم کی پہلی اولاد ہماری بڑی بہن مکرمہ امۃ اللطیف خورشید کا ذکر خیر کرنا مقصود ہے جنہیں سب آپا لطیف کہتے تھے۔
محترمہ آپا جان کی پیدائش اس روز ہوئی جس روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک جلیل القدر صحابی حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب ؓکی وفات ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سرخ چھینٹوں والا نشان ۱۰؍جولائی۱۸۸۵ء کو رونما ہوا تھا جس کے واحد عینی گواہ ،حضرت منشی عبد اللہ سنوریؓ نے حضرت اقدسؑ سے وہ یادگار کُرتا تبرک کے لیے مانگ لیا۔ ان کی درخواست پر حضرت اقدسؑ نے وہ کُرتا اس شرط پر حضرت منشی صاحبؓ کو مرحمت فرمایا کہ یہ کرتا ان کی وفات کے وقت ان کے ساتھ ہی دفنا دیا جائے۔ ۶؍اکتوبر۱۹۲۷ء کو حضرت منشی صاحبؓ کی وفات ہوئی اور ۷؍اکتوبر کو وہ قیمتی یادگار کُرتا ان کے ساتھ ہی دفن کیا جانا تھا۔ چنانچہ اس دن قادیان کے بہت سے احباب و خواتین نے اس تبرک کی زیارت کی۔ اباجان بھی زیارت کرنے والوں میں موجود تھے مگر امی جان اسی دن پہلی بچی کی پیدائش کی وجہ سے وہ تبرک دیکھنے نہیں جا سکتی تھیں ۔چنانچہ اباجان وہ کُرتا ان کو دکھانے کے لیے مانگ کر گھر لے آئے۔ ماں اور بچی کے لیے یہ ایک بابرکت واقعہ تھا۔
آپا کو ہوش سنبھالتے ہی گھر میں ایک فعال وجود پایا۔ مجھ سے سولہ سال بڑی تھیں۔ بچپن میں وہ مجھے بہت ہی بڑی لگتی تھیں۔ اس وقت ان کا رعب ان کی شفقت پر حاوی تھا۔ بڑے ہوئے تو شفقت اوررعب ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ کچھ اور بڑے ہوئے تو شفقت رعب پر غالب نظر آئی۔ اب دل سے ممنون ہوکر آپا کا ہر احسان یاد کرتی ہوں۔ اباجان قادیان میں درویش ہو گئے۔ بڑی بیٹی ہونے کی وجہ سے امی جان کی مشیر اور دست راست تھیں۔ گھر بار کےسارے معاملات آپا کے مشورے سے طے ہوتے۔ اس لیے ان کا کہنا ماننا اور انہیں خوش رکھنا بہت ضروری ہوتا، ان کے پاس ویٹو پاور تھی تینوں بھائی اور چاروں بہنیں ان کی ہدایات پر عمل کرتے۔ ہماری تعلیم وتربیت بھی آپ اپنی ذمہ داری سمجھتیں۔ ہم سب بہنوں نے کپڑوں کی کٹائی و سلائی آپا سے سیکھی۔ قینچی کیسے چلانی ہے، سوئی کیسے پکڑنی ہے، اون سلائیاں، کروشیااورکڑہائی سارے ہنر آپا سے سیکھے۔آپا کھانا پکانے کی بھی ماہر تھیں۔ اٹھتےبیٹھتے کئی نئی ترکیبیں اور آزمودہ ٹپس سکھا دیتیں۔ کوئی کام بگڑ جاتا تو ان کے پاس سنوارنے کے لیے مشورے بھی ہوتے۔ گھر میں، لجنہ ہال میں، کسی جلسے یا اجتماع میں کیسے اٹھنا بیٹھنا ہے کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا بغیر کسی وقفے کے ہماری تربیت جاری رہتی۔آپا نے بعض دفعہ گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کپڑوں کی سلائی کا کام کیا۔ بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھائی۔ جمع جوڑ اور قرض لے کر ربوہ دارالرحمت وسطی کے وسط میں ایک کنال زمین خریدی جس پر بعد میں سادہ سا مکان بنا۔ اس مکان کا نام ’راحت منزل ‘ رکھا گیا۔ یہ حقیقی راحت کا سامان بنا۔ اس میں ہمارے داداجانؓ بھی رہے۔ اسی میں رہتے ہوئے بفضل خدا سب بہن بھائیوں نےاعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ بڑے بھائی مکرم عبدالمجید نیاز اور مکرم عبد الباسط صاحب شاہد نے جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کی۔ اسی گھر میں سب کی شادیاں ہوئیں۔
آپا کا رشتہ لاہور کے مکرم شیخ خورشید احمد صاحب سے طے ہوا جو الفضل کے اسسٹنٹ ایڈیٹر تھے۔ شیخ صاحب حضرت خان فرزند علی خانؓ کے نواسے تھے محترم بابو سلامت علی اور مکرمہ حبیب النساء آف بھاٹی گیٹ لاہورکی اکلوتی اولاد تھے۔ ان کی والدہ محترمہ صرف چوبیس سال کی عمر میں وفات پاگئی تھیں۔ ۲۷ اکتوبر ۱۹۵۰ء کوحضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ربوہ میں نکاح پڑھایا۔ ایک سال بعد ۱۵؍اکتوبر ۱۹۵۱ء کو تقریب رختصانہ منعقد ہوئی جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ اور دیگر جلیل القدر بزرگ شامل ہوئے۔
نافع الناس وجود: آپا اپنی پچانوے سال کی زندگی اپنے سے زیادہ دوسروں کے لیے جیتی رہیں۔ اپنے میکے، سسرال، خاندان اور جماعت کے لیے ایک نافع الناس، ہر دلعزیز وجود تھیں۔ ان کی ہمہ جہتی مصروفیات کا اندازہ لگائیے۔ ایک دفعہ آپا سے ملنے ڈیٹرائٹ سے ابوڈ آف پیس ٹورانٹو گئی۔ جسے ہم ’آپا کی بلڈنگ‘ کہتے تھے۔ کچھ گھنٹوں کا قیام تھا ۔ اس دوران آپا کے فون کی گھنٹی مسلسل بجتی رہی۔ پہلو سے لگی بیٹھی تھی اس لیے اندازہ ہورہا تھا کہ کیا باتیں ہو رہی ہیں۔ ایک خاتون نے پوچھا بیٹے کا نکاح ہے، چھوہاروں کی کتنی تھیلیاں بناؤں اور ان میں کیا کیا ڈالنا ہے۔ آپا نے چیزوں کی تفصیل کے ساتھ کون سی چیز کہاں سے اچھی ملے گی وغیرہ بھی سمجھا دیا۔ دوسرا فون تھا۔ بیٹی کے بچہ ہوا ہے، پنجیری کیسے بنانی ہے، آپا نے ساری اشیاء ان کی مقدار اور بنانے کی ترکیب بتا دی۔ ایک فون پر کسی نے بتایا کہ کوئی نئی فیملی آئی ہے فوری طور پر گھر کے سامان کی ضرورت ہے۔ آپا کا جوش وجذبہ دیدنی تھا، نووارد کے گھر کے افراد کی تعداد اور عمریں پوچھ کر اٹیچی کھول کھول کر افراد کی مناسبت سے بہت سا سامان نکالا۔ انہیں یہ بھی پتا تھا کہ کون سی خاتون کیا سامان دے سکتی ہے۔ دو چار فون کالز سے چند منٹوں میں کسی کا گھر بھر دیا۔ میں نے پوچھا آپا یہ کوئی آپ کے جاننے والے ہیں۔ جواب نفی میں تھا۔ خدمت خلق کا جذبہ سب کام کرارہا تھا۔ ایک فون تھا، کوئی خاتون اپنے نئے پرانے کپڑے بھیج رہی تھیں کہ کسی ضرورت مند کو دے دیں۔ کسی نے قرض دینا تھا، ادھار مانگ رہی تھی۔ کوئی کسی لڑکی کا رشتہ پوچھ رہی تھی، کوئی اپنی تقریب میں مدعو کرکےتقریر کی درخواست کر رہی تھی۔ ایک خاتون کے گھر دس مہمان آنے والے تھے انہیں معلوم کرنا تھا کہ کتنے کپ چاول پکائیں، آپا نے ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ مرغی کا گوشت جلدی گل جاتا ہے اس لیے ثابت گرم مسالہ، پیاز، لہسن ادرک کی الگ سے یخنی بنا لینا، اچھی خوشبو آئے گی۔ آپا نے اپنے مزاج کے مطابق خدمت انسانیت کے طریق ڈھونڈ لیے تھے۔ یہ نہیں کہ وہ میری میزبانی سے غافل تھیں۔ سب رشتے داروں سے کہا ہوا تھا کہ سہ پہر کھانا ان کے گھر ہوگا تاکہ یہ خاکسار گھر گھر جانے میں وقت نہ لگائے بلکہ ایک ہی جگہ سب سے مل لے۔ کھانے کا آرڈر بھی دے چکی تھیں جو وقت پر گرما گرم پہنچ گیا۔ کھانے کی تعریف کی تو علم ہوا کہ آپا کی بتائی ہوئی کھانے کی تراکیب سے یہ ذائقہ آیا ہے۔ یہ ہمہ جہتی مصروفیات شب و روز جاری رہتیں۔
آپا کا رشتہ داروں سے حسن سلوک بے مثال تھا۔ میل ملاقات وسیع تھی۔ جاننے والوں کی تعداد تو اَن گنت تھی۔ وہ کئی حوالوں سے یاد کی جاتی ہیں۔ سینکڑوں بچوں کو قرآن پاک پڑھایا تھا جن کے ساتھ ان کے خاندانوں سمیت تعلق رہا، بےشمار رشتے اور شادیاں کرائی تھیں جو ملتے ملاتے رہتے۔ قادیان، ربوہ اور کینیڈا کی ممبرات لجنہ سے مراسم بن گئے تھے، اڑوس پڑوس والے بھی کسی نہ کسی عنوان ان کے حلقۂ احباب میں شامل تھے۔ پھر مصباح کے قارئین ان کو تحریر کے حوالے سے جانتے تھے۔ اباجان کی وفات کے بعد امی جان ان کے سب جاننے والوں سے محبت کا مسلسل تعلق رکھنا بھی آپ اپنا فرض سمجھتیں۔ سب سے پیار سے ملنا اور ان کے مزاج کے مطابق بات کرنا آپا ہی کا کام تھا۔ کئی سوشل ورکرز کو بیٹیاں بنایا ہوا تھا۔ آپ کا دروازہ مہمانوں کے لیے کھلا رہتا۔ دستر خوان بھی لگا رہتا۔ تحفے تحائف بھی خوب دیتیں۔ وسیع تعلقات سے تبلیغ کا موقع بھی ملتا۔ وہ ایک خاتون ایک ادارہ تھیں۔
آپا کی خیر خواہی سب کے لیے عام تھی مگر مجھے لگتا ہے آپا سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتی تھیں۔ میرا رشتہ کرانے میں بھی آپا کا ہاتھ تھا۔ اپنی بچپن کی سہیلی کے بھائی ناصر صاحب سے رشتہ کراکے ان کو بھی اپنا ممنون احسان بنا لیا تھا۔ بات ہمارے رشتے سے آگے بڑھی جب ہماری بیٹی امۃ المصور بڑی ہوئی تو اس کو اپنے بیٹے زاہد کے لیے مانگ لیا۔ اس شادی سے دوہرا رشتہ بن گیا بہن بھی اور سمدھن بھی۔
ہماری دلچسپیاں بھی ایک سی تھیں۔ آپا اورہمارے دلہا بھائی دونوں کو پڑھنے پڑھانے اور لکھنے لکھانے سے دلچسپی تھی۔ نادر و نایاب کتابیں اور تازہ اخبارات ان کے گھر پڑھنے کے لیے مل جاتے۔ ان کو مبارک ہستیوں کی انمول تحریروں کی قدرو قیمت کا اندازہ تھا اور سنبھال کر رکھنے کا سلیقہ بھی تھا۔ ہجرت کے معاً بعد حضرت چھوٹی آپا ؒ کے تحریر کردہ خطوط، جو اب تاریخ کی زینت ہیں،نہ جانے کیسے جان سے لگا کر رکھے ہوں گے۔ ان کے پاس خاندان حضرت اقدسؑ اور آپؑ کے اصحاب کے نادر خطوط ا ور تصاویر محفوظ تھیں جو شوق سے دکھاتیں۔ یہ نادر کاغذات پہلے البم میں لگوائے پھر سکین کرواکے کمپیوٹر میں بھی محفوظ کرایا۔ ایک کاپی حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت اقدس میں ارسال کی تاکہ شعبہ آرکائیو میں محفوظ ہوجائے۔ ان تبرکات کی تفصیل اپنے مہمانوں کو سناتے نہ تھکتی تھیں۔ یہ وصف دراصل اباجان سے ورثے میں ملا تھا اباجان بھی تحریروں کو ضائع نہ کرتے۔ ہم سب بچوں کے پہلے سے آخری خط تک ان کے پاس ترتیب سے رکھے ہوئےتھے۔
آپا کے کاغذات سے میں نے بہت فائدہ اٹھایا خاندان کی تاریخ ’زندہ درخت‘لکھنے کے لیے بہت سا مواد آپا کے محفوظ کاغذات سے ملا۔ آپاکا مطالعہ وسیع اورحافظہ اچھا تھا جماعت کے تاریخی واقعات از بر تھے۔ ہمیں جب بھی کوئی معلومات درکار ہوتیں یا کسی واقعہ کی تصدیق کی ضرورت ہوتی اس چلتی پھرتی تاریخ سے پوچھ لیتے۔ اٹکل سے بات نہیں کرتی تھیں باقاعدہ حوالہ اور درست الفاظ میں بیان کرتیں۔ اپنے اور شیخ صاحب کے خاندان کے حالات جمع کرکے رکھے تھے کتاب لکھنا چاہتی تھیں۔ کئی دفعہ شروع بھی کی مکمل نہ ہوسکی۔ پھر چھوٹی بہن عزیزہ امۃ الشکور ارشد نے کچھ نوٹس لکھے۔ بالآخر کاغذات کا بستہ لا کر میرے حوالے کردیا۔ ان سے دو کتابیں تیار ہوئیں ایک ’مضامین خورشید‘ کے نام سے مکرم شیخ صاحب کےالفضل میں مطبوعہ مضامین کا انتخاب جو چھپ چکا ہے اور دوسری کتاب ’سب کچھ تری عطا ہے‘ کے نام سے شیخ صاحب اور آپا کےخاندان کے حالات اور خدمات پر مشتمل ہے۔ آپا کو جب کوئی بات یاد آتی کسی کاغذ پر نوٹ کرلیتیں۔ میں نے ہر کاغذ کے ہر حاشیہ اور کناروں تک سے یادداشتیں نوٹ کیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ انہیں میری کاوش پر اعتماد تھا اور کام ان کی حیات میں مکمل ہوگیا تھا۔دونوں کتب امیر جماعت احمدیہ کینیڈا مکرم ملک لال خان صاحب کو دکھائیں تو آپ نے بہت پیارا نوٹ لکھا جو بطور پیش لفظ کتاب میں شامل ہے: ’اس کتاب کو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سُنتا ہے اور ان کی اولاد در اولاد کو حسنات دنیا اور حسنات آخرت سے نوازتا ہے۔میرے پیارے دوست مکرم لئیق احمد خورشید صاحب اور ا ن کے بہن بھائی سب کتنے خوش قسمت ہیں کہ انہیں احمدیت کے ابتدائی دور کے بزرگان کی دو تین نسلوں کی دعائیں ملی ہیں۔ اللہ ان سب کو اپنے بزرگوں کی اعلیٰ روایت کو زندہ رکھنے اور ان کی دعاؤں کے حقیقی مورد بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین‘
لجنہ اماء اللہ کی خدمات: آپا کی زندگی کا محور لجنہ اماء اللہ کی خدمت تھا۔ قادیان کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک وجود نے ابد الآباد تک برکتوں سے بھر دیا ہے۔ اس کا روح پرور ماحول رگ و پے میں للّٰہی محبت بھر دیتا گھرکے شب و روز کا معمول بھی دلوں میں دینداری راسخ کرنے والا تھا۔ امی جان بچوں کوساتھ لے کر نماز جمعہ، درس، اجلاس اور جلسوں پر باقاعدگی سے جاتیں دینی علوم دل میں رچ بس جاتے۔ اباجان صبح نماز فجر اور تلاوتِ کلام پاک کے بعد قرآنِ کریم، احادیث مبارکہ اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درس دیتے۔ بچوں کو چھوٹے چھوٹے مضامین لکھ کر تقریر کی مشق بھی کراتے۔ آپا نے پہلی تقریر جلسہ تحریک جدید میں ۱۲سال کی عمر میں کی تھی اسی جلسہ میں بھائی جان عبد المجیدنیاز نے ۹؍سال کی عمر میں تقریر کی۔ اس جلسے کی رپورٹ روزنامہ الفضل قادیان ۲۷؍جولائی ۱۹۳۹ء میں شائع ہوئی۔
آپا خاندان میں پہلی لڑکی تھیں جنہوں نے مڈل پاس کیا پھر جامعہ نصرت میں دینی تعلیم حاصل کی۔ پرائیویٹ تیاری کرکے ادیب عالم پاس کیا۔
۱۹۴۰ء میں ۱۳؍برس کی عمر میں حضرت سیدہ اُمِّ ناصرؓ کے برآمدے میں ہونے والے مجلس عاملہ کے اجلاس میں اپنے حلقے کی جنرل سیکرٹری کی حیثیت سےرپورٹ پڑھنے سے لجنہ کے کام کا آغاز ہوا۔ آپا کو قادیان، لاہور اور ربوہ میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ، حضرت اماں جانؓ، حضرت مرزا بشیر احمدؓ قمرالانبیاء، حضرت سیدہ اُمِّ داؤدؓ، حضرت چھوٹی آپاؒ، مکرمہ سیدہ نصیرہ بیگم، مکرمہ صاحبزادی محمودہ بیگم، مکرمہ سیدہ بشریٰ بیگم اور حضرت سیدہ مہر آپا بیگم جیسی شفیق ہستیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔
تقسیم بر صغیر کے وقت بڑے درد ناک حالات میں ہجرت کرنی پڑی۔ ۲۹ستمبر ۱۹۴۷ء کو لاہور پاکستان پہنچے۔ لاہور کی عارضی قیام گاہ رتن باغ میں حضرت سیدہ چھوٹی آپا جان نے آپا کو منتظمہ مقرر فرمایا۔ اس طرح پاکستان آتے ہی کام شروع ہوگیا۔ مہاجرین کی آمد اور دیگر سب کاموں کی روزانہ رپورٹ حضورؓکی خدمت میں پیش کی جاتی تھی۔ آپؓ رپورٹ ملاحظہ فرما کر تفصیلی ہدایات مرحمت فرماتے ۔ آپا کو حلقہ رتن باغ لاہور کی جنرل سیکرٹری بھی مقرر کیا گیا۔ لاہور میں ایک جلسہ مصلح موعود میں، جس کی صدارت حضرت صاحبزادی نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ نے فرمائی، آپا کو مضمون پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ الفضل کی ۳؍مارچ ۱۹۴۹ء کی اشاعت میں اس جلسے کی رپورٹ میں لکھا ہے: ’’امۃ اللطیف صاحبہ بنت عبدالرحیم صاحب درویش قادیان نے مضمون سنایا اور واضح کیا کہ کس طرح ہمارے آقا مشکل سے مشکل ترین پیش آمدہ حالات کا ایک غیرمتزلزل چٹان کی طرح مقابلہ کرتے۔‘‘
۱۲؍اپریل ۱۹۴۹ء کو لاہور سے تازہ بستی ربوہ میں منتقل ہوگئے۔ یہاں ایک دارالخواتین میں قیام تھا۔ امی جان اور آپا کو اس کے انتظام پر مقرر کیا گیا۔ اسی سال پہلا جلسہ سالانہ ہوا جس میں آپا کو ’’ہماری ہجرت اور موجودہ حالات میں ہماری ذمہ داریاں‘‘ پرتقریرکرنے کا موقع ملا۔ آپ نے اس جلسہ میں بطور انچارج دفتر ناظمہ ڈیوٹی بھی دی۔
آپا نے لجنہ اماء اللہ مرکزیہ میں کئی شعبوں میں کام کیا سب سے نمایاں اور طویل دورانیہ اٹھارہ سال کا شعبہ اشاعت میں خدمات کا ہے۔ حضرت چھوٹی آپا کے قرب اور راہنمائی میں کتب کی تیاری کی توفیق ملی۔ خاص طور پر تاریخ لجنہ اماءاللہ کے لیے تحقیق کرنے والے گروپ کی لیڈر تھیں۔ تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم جلد لکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ( تاریخ احمدیت جلد ۲۸ صفحہ ۱۳۲) آپ اس کی ناشر بھی تھیں۔ الازہار لذوات الخمار کا دوسرا ایڈیشن۔ المصابیح۔ یادِمحمود۔ تربیتی نصاب برائے لجنہ اماء اللہ مرکزیہ۔ قواعد و ضوابط لجنہ اماءاللہ۔ سالانہ کارروائی رپورٹ مجالس لجنہ اماء اللہ شائع کروائیں۔ ان کے علاوہ راہ ایمان، مختصر تاریخ احمدیت اور جوئے شیریں کی تیاری میں اپنے میاں کی معاونت کی۔ آٹھ سال مصباح کی ایڈیٹر رہیں۔
ربوہ کےزمانہ کی خوشگوار یادیں: راحت منزل میں ہمارے ساتھ بڑے بھائی جان عبدالمجید نیاز کا خاندان رہتا تھا باقی زمین کے ایک چوتھائی حصے پر آپا نے مکان بنایا اور دوسرے چوتھائی حصے پر بھائی جان مکرم عبدالباسط شاہد نے۔ گھروں کی درمیانی دیواروں میں کھڑکیاں تھیں۔ اس طرح مل جل کر رہنا بہت اچھا لگتا۔ شام کو مل بیٹھتے۔جب چھوٹے تھے تو لجنہ اور ناصرات کی سرگرمیاں جاری رہتیں۔ امی جان اور ہم پانچ بہنیں کسی نہ کسی خدمت پر متعین تھیں ہمارا گھر لجنہ کا ایک چھوٹا سا دفتر نظر آتا۔ کوئی تقریر کی تیاری میں مصروف، کوئی امتحان کی تیاری میں مگن، کوئی ناصرات کا جھنڈا بنا رہی ہے کوئی دوپٹے رنگ رہی ہے۔ کہیں ترانوں کے لیے آواز ملانے کی مشق ہورہی ہے اجتماع اور جلسوں کی رونقیں گھر میں اتر آتیں۔ عیدین پر بھی اسی طرح رونق لگتی۔ ہنسی مذاق کھیل کود اور کام ساتھ ساتھ چلتا۔ صحن میں تاروں کی چھاؤں میں سونا اور کہکشاں کا نظارہ یاد ہے بارش ہونے پر بستر اٹھا کر اندر بھاگنا اس وقت مشکل لگتا تھا اب یاد آتا ہے۔ جب بڑے ہوئے تو سب کے بچے بچیاں بھی رونق بڑھانے لگے۔ جلسہ سالانہ اور شادی بیاہ کے دنوں میں مل جل کر رونق لگتی سادے زمانے تھے مہندی شادی کی تقریبات بھی سادگی سے گھر کے صحن میں ہوجاتیں۔ آپا کے گھر مردوں اور ہماری طرف عورتوں کے لیے چارپائیاں اور کرسیاں بچھ جاتیں۔ اسی طرح کی یادوں کا حسین سرمایہ ساتھ لے کر چڑیوں کا چمبا اڑ گیا۔
کینیڈا ہجرت: حالات نے رخ بدلا۔ ربوہ میں دونوں میاں بیوی کا رہنا بوجوہ مشکل ہو گیا تو کینیڈاہجرت کرنی پڑی ۱۹۸۶ء میں کینیڈا آنے سے ایک ہفتہ پہلے ربوہ میں ضلع کی صدور کی شوریٰ کے موقع پر حضرت سیدہ چھوٹی آپا ؒنے آپا کی خدمات کا ذکر کرکے دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔ ٹورانٹو میں عزیز رشتہ داروں اور لجنہ کی ممبرات نے بہت محبت سے استقبال کیا۔ مسجد آنا جانا شروع کیاتو احمدی خاندانوں سے تعارف اور تعلقات بڑھے۔ لجنہ کینیڈا کی صدر لجنہ مکرمہ عطیہ شریف صاحبہ نے استقبالیہ دیا۔ مرکزی عاملہ میں بطور اعزازی ممبر شامل کیا گیا۔ آپا کی رہائش ابوڈ آف پیس میں تھی جسے لوگ احمدیہ بلڈنگ بھی کہتے تھے۔ میں اس بلڈنگ میں رہی تو نہیں لیکن آپا کے تعلقات کی وسعت اور حسنِ انتظام کا بارہا مشاہدہ کیا۔ دو واقعات کا ذکر کروں گی۔
ہماری چھوٹی بیٹی کا رشتہ بریمپٹن میں ہوا ہم ۲۰۰۲ء میں پہلی دفعہ کراچی سے کینیڈا آئے۔ آپا نے بلڈنگ کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرانے اور دس دن تک سب کے کھانے پینے کا انتظام کیا اور شادی بیاہ کی تقریب کے لیے کھانے پکوانے، ہال بک کرانے اور سجاوٹ وغیرہ میں مفید مشورے دیے جس سے ہمیں بہت سہولت رہی، دوسرے آپ میرے آنے پر بڑے اہتمام سے شعری نشست کا انتظام کرواتیں۔ رنگا رنگ سٹیج اور پر شوق با ذوق شاعرات اور سامعات کو دیکھ اور سن کر بہت اچھا محسوس ہوتا۔ بہت سی پرانی جاننے والی بہنوں سے ملاقات ہوتی اور بہت سے نئے چاہنے والے ملتے۔ یہاں آپا ایک مرکزی شخصیت تھیں۔ شاید ہی وہاں کا کوئی باسی ایسا ہو جس سے آپ نے حسن سلوک نہ کیا ہو اور وہ آپ کو یاد نہ کرتا ہو۔
جستہ جستہ: آپا کو خدا کے فضل سے بزرگان دین سے ملاقاتوں کے متعدد مواقع ملے جن کا شیریں ذکر ان کو بہت مرغوب تھا۔
۱۔ حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں حاضر ہونے کے بہت مواقع ملے۔ ابھی چھوٹی تھیں کہ ایک روز امی جان نے آپا کے ہاتھ ساگ اور مکئی کی روٹی (جوکہ پنجاب کی خاص سوغات سمجھتی جاتی ہے) حضورؓ کو بھجوائی جو آپؓ نے پسند فرمائی اور آپا کا لمبا قد دیکھ کر فرمایا: ’’ لڑکیاں کڑوی بیل (Vine) کی طرح بڑی جلدی بڑھ جاتی ہیں۔‘‘ نہ معلوم حضورؓ نے اس سے قبل کب دیکھا ہوگا جو آپ نے نوٹ فرمایا کہ پہلے چھوٹی لگتی تھی، جلدی قد نکالا ہے۔
۲۔ ایک رات دو بجے کے قریب حضرت چھوٹی آپا کسی ضروری کام سے رتن باغ میں آپا کے رہائشی حصہ میں تشریف لائیں اُس وقت آپا کی آنکھیں سُرخ اور سوجی ہوئی تھیں۔ آنکھوں میں در د بھی بہت تھا۔ آپ یہ حالت دیکھ کر اُسی وقت حضورؓ کے پاس لے گئیں۔ اُس وقت بھی حضورؓ جماعت کے کاموں میں مصروف تھے۔ آپؓ نے اُٹھ کر ایک سفید رنگ کا سفوف آنکھوں میں ڈالنے کے لیے دیا۔ دُعا بھی کی اللہ کے فضل سے صبح تک آرام آگیا۔
۳۔ ایک دن حضورؓ کے بلانے پر آپؓ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو وہاں مکرم مولانا جلال الدین شمس صاحب بھی موجود تھے۔ حضورؓ نے مکرم شمس صاحب کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’یہاں ربوہ میں امۃ اللطیف دارالخواتین کی منتظم ہیں۔ یہ اب میرے ساتھ لاہور جارہی ہے۔ وہاں پر مستورات کی رہائش گاہ کانقشہ تیار کرے گی اور چرخے لائے گی تاکہ عورتیں فارغ وقت میں چرخے کاتیں۔ اس کی عد م موجودگی میں اس کی والدہ (اہلیہ میاں عبد الرحیم صاحب درویش قادیان) نگران ہوں گی۔‘‘
آپا جب کام کرکے واپس آئیں تو امیر مقامی محترم سید زین العابدین ولی اللہ شاہؓ بہت خوش ہوئے اور فرمایا: ’’جو لوگ خدا کی راہ میں کام کریں وہ مشکلات کی پرواہ نہیں کیا کرتے۔‘‘ (خلاصہ از تاریخ لجنہ اماء اللہ جلد دوم صفحہ۱۰۸، ۱۰۹)
۴۔ آپا ۱۹۵۳ء میں پہلے بیٹے لئیق احمد کو لے کر حضورؓ کی ملاقات کےلیے حاضر ہوئیں۔ اس دن حضرت سیدہ مہر آپا کی باری تھی۔جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز کے لیے مسجد گئیں تو حضرت چھوٹی آپا سے ملاقات ہوئی آپ نے فرمایا کہ مہرآپا نے بتایا ہے کہ تمہارا بیٹا بہت پیارا ہے۔ میرے پاس اسے ضرور لانا۔ چنانچہ شام کو بیٹےکو لےکر حاضر ہوئیں اس وقت حضورؓ بھی وہیں تشریف فرما تھے۔ حضرت چھوٹی آپا نے فرمایا کہ دیکھیں لطیف کا بچہ کتنا پیارا ہے۔ حضورؓنے فرمایا ہاں میں نے اسے صبح دیکھا ہے۔
۵۔ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمدؓ جو ناظر خدمت درویشاں ہونے کی وجہ سے ہمارے سرپرست تھے ہمارے والد کی طرح ہمارے ہر کام پر، ضرورت پر اور مشکل پرنگاہ رکھتے خواہ کوئی بڑا کام ہو یا چھوٹا۔ جس وقت بھی ضرورت پڑتی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور جب لوٹتے تو نہ صرف کام اور ضرورت پوری ہو جاتی بلکہ آپ کی ملاقات سے ایسا اطمینان اور خوشی حاصل ہوتی جو کبھی کسی اور ذریعہ سے حاصل نہیں ہو سکتی تھی، متعدد واقعات ہیں۔ ایک دفعہ ہمارے گھر کا دروازہ کھٹکا دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ حضرت میاں صاحب ہیں۔ حضرت میان صاحب نے آپا سے فرمایا کہ میں ایک کام سے آیا ہوں۔ ہماری بڑی ہمشیرہ سیدہ نواب مبارکہ بیگم کو خواب آیا ہے کہ حضرت نواب صاحب مرحوم تشریف لائے ہیں اور کچھ کھانے کی خواہش کی ہے اس لیے انہوں نے آج پلاؤ اورزردہ کی دیگیں پکوائی ہیں وہ تم کو بھجوا دی جائیں گی۔ مستحقین میں تقسیم کروا دینا۔ لیکن اس طرح نہیں کہ لوگ ہاتھوں میں تھالیاں پکڑے ہوئے لینے آئیں بلکہ ہر ایک کو ٹرے میں لگا کر بھجوانا۔
آپا کی شادی ہوئی تو اباجان قادیان سے نہیں آ سکتے تھے۔ حضرت قمر الانبیاؓ نے بنفس نفیس تشریف لاکر آپا کو رخصت کیا ۔ آپؓ کے حسن سلوک پر آپا کا مضمون حیات بشیر مرتبہ عبدالقادر صفحات ۲۳۲تا۲۳۵ میں شامل ہے۔
۶۔ ۱۹۴۲ء کا ذکر ہے حضرت سیدہ امِّ طاہرصاحبہ کے گھر کے صحن میں اجلاس ہورہا تھا۔آپا کو فرمایا: ’’جاؤ مریم صدیقہ صاحبہ کو بُلا لاؤ۔‘‘
اس دن آپا نے پہلی دفعہ حضرت چھوٹی آپا کو دیکھا۔ ا ٓپ تشریف لائیں اور بہت دھیمی آہستہ آواز میں رپورٹ پڑھ کر سنائی۔ سب سن کر خوش ہو رہےتھے اور حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔
اجلاس ختم ہوا تو ممبرات رجسٹر رپورٹ پر دستخط کررہی تھیں چھوٹی آپا نے آپا کو کہا ’’جب سب کے دستخط ہو جائیں تو پھر مجھے رجسٹر دے دینا‘‘ بعد ازاں حضرت سیدہ اُمِّ طاہر کی علالت کی وجہ سے مکرمہ سیدہ مریم صدیقہ کو ہی جنرل سیکرٹری بنا دیا گیا۔ آپا نے ۵۰ سال تک لجنہ کی خدمت کے دوران ۴۴؍سال حضرت چھوٹی آپاؒ کے زیر سایہ کام کیا آپ کی بلندآہنگ تقاریر سنیں۔ شفقتوں کا مورد رہیں، آپ کے خصائل حسنہ اور اوصاف جمیلہ کوقریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
۷۔ حضرت چھوٹی آپا بلا کی منکسرالمزاج تھیں۔ آپا دسمبر ۱۹۸۶ء میں کینیڈا آتے وقت ملنے گئیں تو آپ نے کھڑے ہوکر گلےلگا لیا اور پھر فرمایا: ’’لطیف ! جب ایک لمبے عرصہ تک اکٹھے کام کیا جائے تو بعض اوقات کوئی غلط فہمی یا ناگوار بات بھی ہوجاتی ہے،معاف کردینا۔‘‘
۸۔ حضرت چھوٹی آپا بہت وسیع الظرف تھیں تاریخ لجنہ اماء اللہ جلد اوّل کے عرض حال میں ۲۰؍د سمبر۱۹۷۰ء کو تحریر فرمایا: ’’کتابت و طباعت کے سلسلہ میں کام کاسارا بوجھ مکرم شیخ خورشید احمد صاحب نائب ایڈیٹر الفضل اور ان کی اہلیہ عزیزہ امۃ اللطیف صاحبہ سیکرٹری اشاعت لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کے ذمہ رہا۔ جنہوں نے رات دن مصروف رہ کر تمام کام سرانجام دیے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطافرمائے۔ مکرمی شیخ خورشید احمد صاحب نے مسودہ پڑھ کر بہت سے مفید مشورے دیے۔‘‘
۹۔ ۱۹۵۰ء میں صاحبزادی ناصرہ بیگم نے آپا سے اپنے پیدا ہونے والے بچے کے لیے چھوٹے چھوٹے کپڑے سلوائے۔ نومولود ہمارے خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ہوئے۔ یہ تیاری کرنا قیمتی یادگار بن گیا۔ بی بی کو سلائی کڑہائی میں بہت مہارت حاصل تھی۔نفیس ذوق کی مالک تھیں۔ پیار محبت سے سمجھا کر کام لیتیں غرباء کا بہت خیال رکھتیں۔گھر کے نوکروں سے حسن سلوک کرتیں۔وہ بھی تمیز دار اور سلجھے ہوئے تھے۔ لجنہ کے کاموں کے سلسلہ میں طویل ساتھ رہا۔ کچھ سال پہلے پاکستان جا کر خدمت میں حاضر ہوئیں۔سلام کےلیے ہاتھ بڑھایا تو آپ نے دستانے پہنےہوئے تھے۔ آپا نے عرض کیا کہ دستانے والے ہاتھ سے ہاتھ نہیں ملانا، ہاتھ سے ہاتھ ملانا ہے۔بعد میں بھی بی بی نے یہ بات یاد رکھی اور ہاتھ ملاتے وقت ازراہ شفقت دستانے اُتار دیتیں۔ الحمدللہ
والدین کا وقت رخصت: آپا کو گھر ساتھ ہونے کی وجہ سے امی جان کے قریب رہنے کی سعادت حاصل رہی۔ امی جان کی وفات کے وقت آپا کی عمر پچاس سال تھی اور اس سارے عرصے میں قریباً دو سال ہی امی سے الگ رہی ہوں گی۔ اس رفاقت سے جہاں آپا کو بچوں کی تربیت اور لجنہ کے کاموں کے لیے گھر سے جانے میں سہولت رہی وہاں امی جان کو بھی ہر کام میں مدد ملتی رہی۔ مجھے یاد ہے جب ۱۳؍مارچ ۱۹۷۶ء کو کراچی میں اچانک امی جان کی دل کے دورے سے وفات کی اطلاع ملی اور ہم ربوہ پہنچے تو آپا کے کمرے میں ایک پلنگ پر امی جان کو ابدی نیند سویا ہوا پایا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آپا ایک ایک لمحے کی تفصیل بتا رہی تھیں آپ کا دردناک لہجہ کبھی نہیں بھول سکتی امی جان کی زندگی کی آخری گھڑیوں میں بھی آپا کو ان کی خدمت کی توفیق ملی۔ ان کی وفات کے بعد اباجان نے سب بچوں کو یک جہت رکھنے کے لیے آپا کی اطاعت کی تلقین کی۔ آپ نے لکھا ’میری لاڈلی، دُوراندیش، معاملہ فہم،عابدہ، زاہدہ بیٹی جس کو خدا نے بڑا بنایا ہے اور دوررس عقل و فراست بھی نصیب کی ہے اور جس کی خدمات کو خلیفۂ وقت اور اہل خاندان نے بھی سراہا ہے۔ اس کی اطاعت کریں اطاعت اور ہر کام میں وہ ورثہ ہو، چندہ ہو کہ کتبہ ہو، اس سے مشورہ ہو۔ آمنہ نے آپ کو جنم ضرور دیا ہے مگر باقی ہر قسم کی قربانی اور دیکھ بھال میں جس قدر اس کا حصہ ہے میرا بھی نہیں۔ ‘
اپریل ۱۹۷۹ءمیں اباجان شدید بیمار ہو گئے۔آپا فوراً قادیان پہنچیں جس سے اباجان کو بہت خوشی ہوئی دیکھ بھال سے افاقہ ہوا دوسرے بچے اور عزیز بھی قادیان پہنچے مگر ویزے کی مجبوریوں سے زیادہ ٹھہر نہ سکتے تھے۔ آپا نے صاحبزادہ مرزا وسیم احمد سے ابا جان کو علاج کے لیے پاکستا ن لے جانے کی اجازت لے لی۔ ابا جان قادیان چھوڑنا نہیں چاہتے تھے لیکن آپا نے وعدہ کیا کہ بتوفیق الٰہی قادیان واپس پہنچائیں گی۔
پاکستان آکر اباجان سب عزیزوں سے مل کر خوش ہوئے۔ ہمارے گھرراحت منزل میں جس کمرے میں امی جان رہتی تھیں قیام تھا۔ ا با جان کہتے تھےحضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ اور تمہاری امی کی روح مجھے یہاں لے آئی ہے۔ اسی کمرے میں حضرت صا حبزادہ مرزا طاہراحمد صاحبؒ آپ سے ملنے کے لیے تشریف لائے اور محبت بھرے انداز میں ایک درویش قادیان کو پیار کیا۔
پھر ۷؍فروری ۱۹۸۰ء کو ہمارے ابا جان ہم سے ہمیشہ کے لیے رُخصت ہو کر اُس خالق حقیقی سے جا ملے جو سب سے پیارا بُلانے والا ہے۔آپا نے غیرمعمولی ہمت سے کام لے کر سارے انتظامات کیے اور اباجان کا جسد خاکی بہشتی مقبرہ قادیان پہنچا کر اپنا وعدہ پورا کیا۔ اللہ تعالیٰ ہماری آپا کو اجر عظیم سے نوازے۔
اب آپا بھی اس دنیا میں نہیں رہیں۔ بڑی بہن ہونے کی وجہ سے ہمارے دل میں ان کا ہمیشہ سے احترام تھا۔ اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جس طرح ان کا ذکر خیر کیا ہے اس سے وہ ایک تاریخی حیثیت اختیار کر گئی ہیں اور کئی گنا زیادہ عقیدت اور احترام کی حقدار ہو گئی ہیں۔ ان کی حیات اور خدمات کو محفوظ کرنا قیمتی ورثے کو محفوظ کرنے کے مترادف ہے۔ اور ہمارے لیے عاجزی کے ساتھ عزّ و شرف کا باعث ہے۔ پیارے حضور کے مبارک الفاظ میں دعا کرتی ہوں: ’’اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ ان کے درجات بلند فرمائے۔ ان کی اولاد کو ان کی نسل کو نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘ (الفضل انٹر نیشنل ۴؍مارچ۲۰۲۲ء)آمین اللّٰھم آمین۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ہماری پیاری والدہ سعیدہ بیگم صاحبہ




