متفرق مضامین

وقفِ عارضی کی اہمیت و برکات

(ظہیر احمد طاہر۔ جرمنی)

میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اپنی جماعت کو نصیحت کروں اور یہ بات پہنچادوں آئندہ ہر ایک کا اختیار ہے کہ وہ اِسے سُنے یا نہ سُنے ! اگر کوئی نجات چاہتا ہے اور حیات طیبہ یا ابدی زندگی کا طلب گار ہے تو وہ اللہ کے لیے اپنی زندگی وقف کرے اور ہر ایک اس کوشش اور فکر میں لگ جاوے کہ وہ اس درجہ اور مرتبہ کو حاصل کرے کہ کہہ سکے کہ میری زندگی، میری موت، میری قربانیاں، میری نمازیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور حضرت ابراہیم کی طرح اس کی روح بول اٹھے : اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ (البقرہ:۱۳۲) جب تک انسان خدا میں کھویا نہیں جاتا، خدا میں ہوکر نہیں مرتا وہ نئی زندگی پا نہیں سکتا۔ (حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام)

اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہؐ کو خیر امت کا لقب عطا فرمایا ہے یعنی اس امت کے افراد نوع انسان کے لیے فائدہ مند اور نفع رساں وجود کی طرح ہیں۔ ان کے ذریعے اچھی باتیںظاہر ہوتی ہیں۔ خیراور بھلائی فروغ پاتی ہے۔ وہ بُری باتوں سے دور رہتے ہیںاور اپنے دائرہ کار اور اپنے ماحول میں انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے: کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡھَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ (آل عمران:۱۱۱) تم بہترین امت ہو جو تمام انسانوں کے فائدہ کے لیے نکالی گئی ہو۔ تم اچھی باتوں کا حکم دیتے ہو اور بُری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔

اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کے افراد کو انفرادی اور اجتماعی ہر دو رنگ میںاصلاح معاشرہ کی ذمہ داری سونپی ہے تاکہ وہ ہمہ وقت اس ذمہ داری کو پیش نظر رکھیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے: وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَیَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَیَنۡھَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ۔(آل عمران:۱۰۵) اور چاہیے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو۔ وہ بھلائی کی طرف بلاتے رہیں اور اچھی باتوں کی تعلیم دیں اور بری باتوں سے روکیں۔ اور یہی ہیں وہ جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میںجماعت احمدیہ کے افراد کے لیے خدمت دین اور خدمت انسانیت کی کئی راہیں کھول رکھی ہیں تاکہ وہ خدمت کے ان مواقع کواُس کا انعام جانیں اور ان سے بھرپورفائدہ اٹھائیں۔ پس یہ ہر ممبر جماعت پر منحصر ہے کہ وہ خدمت کے ان مواقع سے کس قدر فائدہ اٹھاتا اور اپنی آخرت کے لیے زادِ راہ جمع کرتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ خدمت کے ان مواقع کو معمولی جاننے کی بجائے ان سے بھر پور فائدہ اٹھایا جائے۔ خدمت کی انہی راہوں میں سے ایک اہم راہ وقف عارضی کی تحریک ہے۔ وقف عارضی وہ بابرکت تحریک ہے جسے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے جاری فرمایاہے۔ اس تحریک کا اوّلین مقصدافراد جماعت کی تعلیم وتربیت اور اُن کے اندر خدمت دین کا جذبہ پیدا کرنا ہے تاکہ اس ذریعہ سے وہ بیدار ہوں اور وہ اسلام احمدیت کی ترقی اور ترویج واشاعت میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔ اکثر افراد جماعت کے دل میں وقف زندگی کی خواہش موجزن رہتی ہے لیکن وہ دیگر ذمہ داریوں کے باعث مستقل طورپر اپنی زندگی وقف نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے افراد کو تحریک وقف عارضی کے ذریعہ یہ موقع مہیا فرمادیا ہے کہ وہ اس ذریعہ سے اپنے فطری جذبے کی تسکین کرسکیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام وقف زندگی کی اہمیت اور اس کی برکات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’میں چونکہ خود تجربہ کار ہوں اور تجربہ کر چکا ہوں اور اس وقف کے لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ جوش عطا فرمایا ہے کہ اگر مجھے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ اس وقف میں کوئی ثواب اور فائدہ نہیں ہے بلکہ تکلیف اور دکھ ہوگا۔ تب بھی میں اسلام کی خدمت سے رک نہیں سکتا، اس لیے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اپنی جماعت کو نصیحت کروں اور یہ بات پہنچادوں آئندہ ہر ایک کا اختیار ہے کہ وہ اِسے سُنے یا نہ سُنے ! اگر کوئی نجات چاہتا ہے اور حیات طیبہ یا ابدی زندگی کا طلب گار ہے تو وہ اللہ کے لیے اپنی زندگی وقف کرے اور ہر ایک اس کوشش اور فکر میں لگ جاوے کہ وہ اس درجہ اور مرتبہ کو حاصل کرے کہ کہہ سکے کہ میری زندگی، میری موت، میری قربانیاں، میری نمازیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور حضرت ابراہیم کی طرح اس کی روح بول اٹھے: اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ (البقرہ:۱۳۲)جب تک انسان خدا میں کھویا نہیں جاتا، خدا میں ہوکر نہیں مرتا وہ نئی زندگی پانہیں سکتا۔ ‘‘(ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۵۰۲۔ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

وقف عارضی ایک الہٰی تحریک: حقیقت یہ ہے کہ وقف عارضی ایک الہٰی تحریک ہے جو قرآن کریم کے نور کو دنیا میں پھیلانے کے لیے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ قلب پر القا کی گئی۔ حضور رحمہ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ ایک خطبہ جمعہ میں وقف عارضی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ایک دن جب میری آنکھ کھلی تو میں بہت دعاؤں میں مصروف تھا۔ اس وقت عالم بیداری میں میں نے دیکھا کہ جس طرح بجلی چمکتی ہے اور زمین کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک روشن کردیتی ہے اسی طرح ایک نور ظاہر ہوا اور اس نے زمین کو ایک کنارے سے لے کر دوسرے کنارے تک ڈھانپ لیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ اس نور کا ایک حصہ جیسے جمع ہورہا ہے۔ پھر اس نے الفاظ کا جامہ پہنا اور ایک پُر شوکت آواز فضا میں گونجی جو اُس نور سے ہی بنی ہوئی تھی اور وہ یہ تھی۔ ’’بُشۡرٰی لَکُمْ‘‘یہ ایک بڑی بشارت تھی لیکن اس کا ظاہر کرنا ضروری نہ تھا۔ ہاں دل میں ایک خلش تھی اور خواہش تھی کہ جس نور کو میں نے زمین کو ڈھانپتے ہوئے دیکھا ہے۔ جس نے ایک سرے سے دوسرے سرے تک زمین کو منور کردیا ہے۔ اس کی تعبیر بھی اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے مجھے سمجھائے۔ چنانچہ وہ ہمارا خدا جو بڑا ہی فضل کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے اس نے خود اس کی تعبیر اس طرح سمجھائی کہ گزشتہ پیر کے دن میں ظہر کی نماز پڑھا رہا تھا۔ اور تیسری رکعت کے قیام میں تھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ کسی غیبی طاقت نے مجھے اپنے تصرف میں لے لیا ہے اور اس وقت مجھے یہ تفہیم ہوئی کہ جو نور میں نے اس دن دیکھا تھا وہ قرآن کا نور ہے جو تعلیم القرآن اور عارضی وقف کی سکیم کے ماتحت دنیا میں پھیلایاجارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مہم میں برکت ڈالے گا۔ اور انوار قرآن اسی طرح زمین پرمحیط ہوجائیں گے جس طرح اس نور کو میں نے زمین پر محیط ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ فَالۡحَمۡدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی متعدد بار خود قرآن کو اور قرآنی وحی کو نور کے لفظ سے یاد کیا ہے اور مجھے بتایا گیا کہ وہ نور جو تمہیں دکھایا گیا یہی نورہے۔ (خطبہ جمعہ ۵؍اگست ۱۹۶۶ء۔ خطباتِ ناصر جلد اوّل صفحہ۳۵۱۔۳۵۲)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ تحریک وقف عارضی کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں جماعت کو یہ تحریک کرتا ہوں کہ وہ دوست جن کو اللہ تعالیٰ توفیق دے سال میں دو ہفتہ سے چھ ہفتہ تک کا عرصہ دین کی خدمت کے لیے وقف کریں، اور انہیں جماعت کے مختلف کاموں کے لیے جس جس جگہ بھجوایا جائے، وہاں وہ اپنے خرچ پر جائیں اور ان کے وقف شدہ عرصہ میں سے جس قدر عرصہ انہیں وہاں رکھا جائے اپنے خرچ پر رہیں، اور جو کام ان کے سپرد کیا جائے، انہیں بجالانے کی پوری کوشش کریں۔ (خطبہ جمعہ ۱۸؍مارچ ۱۹۶۶ء۔ خطبات ناصر جلد اوّل صفحہ۱۸۲۔۱۸۳)

اسی طرح حضور رحمہ اللہ نے وقف عارضی کرنے والوں کی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے فرمایا: بڑے بڑے کام جو ان دوستوں کو کرنے پڑیں گے ان میں سے ایک تو قرآن کریم ناظرہ پڑھنے اور قرآن کریم باترجمہ پڑھنے کی جو مہم جماعت میں جاری کی گئی ہے اس کی انہیں نگرانی کرنا ہوگی اور اسے منظم کرنا ہوگا دوسرے بہت سی جماعتوں کے متعلق ایسی شکایتیں بھی آتی رہتی ہیں کہ ان میں سے بعض دوست ایمانی لحاظ سے یا جماعتی کاموں کے لحاظ سے اتنے چست نہیں جتنا ایک احمدی کو ہونا چاہیے ان دوستوں سے ایسے احباب کی اصلاح اور تربیت کاکام بھی لیاجائے گاکہ وہ ایسی جماعتوں کے سست اور غافل افراد کو چست کرنے کی کوشش کریں۔ (خطبہ جمعہ ۱۸؍مارچ ۱۹۶۶ء۔ خطبات ناصر جلد اوّل صفحہ۱۸۳) حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ۱۵؍اگست ۱۹۶۹ء کے خطبہ جمعہ میں تمام احمدیوں کو نصیحت فرمائی کہ وہ اپنے دینی بھائیوں اور خود اپنے نفس کواس تحریک میں شامل کرنے کی تلقین کرتے رہا کریں تاکہ اس تحریک کے فیوض وبرکات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جائے۔ حضور رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پس مربیوں کو بھی چاہیے اور عام عہدیداروں کو بھی چاہیے بلکہ ہر احمدی کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو بھی اور اپنے بھائی کو بھی یہ تلقین کرے کہ وہ وقف عارضی میں شامل ہو۔ اس میں شک نہیں کہ یہ ایک قربانی کی راہ ہے اور یہ راہ تنگ ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ قربانی کی راہوں پر چلے بغیر ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل نہیں کرسکتے۔ (خطبہ جمعہ ۱۵؍اگست ۱۹۶۹ء۔ خطباتِ ناصر جلد دوم صفحہ۸۰۶)

وقف عارضی کی برکات:اس تحریک کے نتیجہ میں ابتدائی طور پر جومثبت تبدیلیاں ظاہر ہوئیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جوبرکات ظاہر ہوئیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک خطبہ جمعہ میں ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس تحریک میں حصہ لینے والے ان پڑھ تھے یا کم پڑھے ہوئے تھے یا بڑے عالم تھے۔ چھوٹی عمر کے تھے یا بڑی عمر کے، اللہ تعالیٰ نے ان پر قطع نظر ان کی عمر، علم اور تجربہ کے (کہ اس لحاظ سے ان میں بڑا ہی تفاوت تھا) اپنے فضل کے نزول میں کوئی فرق نہیں کیا۔ اس عرصہ میں ان سب پر اللہ تعالیٰ کا ایک جیسا فضل ہوتا رہا۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے اور اس کے فضل سے ننانوے فیصدی واقفین عارضی نے بہت ہی اچھا کام کیا۔ ان میں سے ہر ایک کا دل اس احساس سے لبریز تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس عرصہ میں اس پر اتنے فضل نازل کئے ہیں کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتااور اس کے دل میں یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ خدا کرے اسے آئندہ بھی اس وقف عارضی کی تحریک میں حصہ لینے کی توفیق ملتی رہے۔ اور بعض جماعتوں نے تو یہ محسوس کیا کہ گویا انہوں نے نئے سرے سے ایک احمدی کی زندگی اور اس کی برکات حاصل کی ہیں۔ ان کی غفلتیں ان سے دور ہوگئی ہیں اوار ان میں ایک نئی روح پیدا ہوگی۔ان میں سے بہتوں نے تہجد کی نماز پڑھنی شروع کردی۔ اور جو بچے تھے انہوں نے اپنی عمر کے مطابق بڑے جوش اور اخلاص کے ساتھ قرآن کریم، نماز یا نماز کا ترجمہ اور دوسرے مسائل سیکھنے شروع کیے۔ غرض واقفین عارضی کے جانے کی وجہ سے ساری جماعت میں ایک نئی زندگی ایک نئی روح پیدا ہوگئی۔ (خطبات ناصر جلد اوّل صفحہ۴۰۸۔ خطبہ جمعہ ۲۳؍ستمبر ۱۹۶۶ء)

اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ذریعہ: اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے آپ کو وقف کرنا ایک بہت بڑا انعام اور سعادت ہے۔ جو لوگ اُس کی راہ میں اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں اورجس قدر خلوص، محبت، وفا اوردلی جذبوں کے ساتھ اُسے نبھاتے ہیں۔ وہ اُسی قدر اللہ تعالیٰ کی رضا کا موجب بنتے اور برکات سے حصہ پاتے ہیں۔ وقف عارضی کرنے والے احباب و خواتین بھی اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں بھی اپنی زندگی کے چند ایام اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس وقف کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اپنے اوپر نازل ہوتا دیکھتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خود واقفین عارضی نے یہ محسوس کیا کہ اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑے فضل نازل کئے۔ بڑی برکتیں نازل کیں۔ ان میں سے بعض اپنا عرصہ پورا کرنے کے بعد واپس آکر مجھے ملے تو ہر فقرہ کے بعد ان کی زبان سے یہ نکلتا تھاکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے بڑے نمونے دیکھے ہیں۔ ان کے منہ سے اور ان کی زبان سے خود بخود اس قسم کے فقرے نکل رہے تھے اور یہ حقیقت ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل اور برکت سے کیا ہے نہ کہ ہماری کسی خوبی کے نتیجہ میں۔ (خطبات ناصر جلد اوّل صفحہ ۲۰۸۔ خطبہ جمعہ ۲۳؍ستمبر ۱۹۶۶ء)

باہمی تعلقات میں اضافے کا ذریعہ:وقف عارضی کے نتیجہ میں احباب جن جماعتوں میں جاتے ہیں وہاں کے احباب کے ساتھ اُن کے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور بھائی چارے میں اضافہ ہوتا ہے۔ تعلقات کی اس مضبوطی کی بنا پر باہمی تعاون کا جذبہ فروغ پاتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وقف عارضی کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ باہمی تعلقات بڑھیں اور وہ عظیم کام جو خدا تعالیٰ اس وقت جماعت احمدیہ سے لینا چاہتا ہے یعنی یہ کہ نوع انسان کو ایک خاندان کی طرح بنادیا جائے اس میں ہماری کوشش بھی شامل ہوویسے تو یہ خدا کا آسمانوں پر فیصلہ ہے زمین پر تو وہ جاری ہوگا لیکن ہمیں ثواب پہنچانے کی خاطر اللہ تعالیٰ نے خود ہی اپنے فضل اور رحمت سے ہمارے لیے بہت سی راہیں کھول دی ہیں۔ (خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ۲۲۔ خطبہ جمعہ ۲۸؍جنوری ۱۹۷۷ء)

اصلاح نفس کا ذریعہ:وقف عارضی کے نتیجہ میں وقف کرنے والاعبادات اور دعاؤں کی طرف خاص توجہ دیتا ہے۔ وہ اپنے علم میں اضافہ کے لیے بھی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح اُسے اپنی کمزوریاں دور کرنے کا موقع ملتا ہے گویا وہ اس دوران اپنے نفس کی اصلاح کی طرف خاص طورپر متوجہ ہوتا ہے تاکہ دوسروں کے لیے ٹھوکر کا باعث نہ بنے۔ حضور رحمہ اللہ تعالیٰ وقف عارضی کی چند برکات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: تحریک وقف عارضی کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ جو لوگ وقف عارضی پر جاتے ہیں ان کو اپنے نفس کا بعض پہلوؤں سے محاسبہ کرنا پڑتا ہے۔ جانے سے قبل انہیں اپنی بعض کمزوریوں کی طرف توجہ ہوجاتی ہے اور دعاؤں کی طرف ان کی توجہ مائل ہوجاتی ہے یعنی وقف عارضی پر جانے کی جو تیاری ہے اس کا بڑا حصہ یہ ہے کہ وہ دعاؤں کی طرف متوجہ ہوتے اور اپنی دینی معلومات میں اضافہ کرتے اور انہیں تازہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جانے سے پہلے کتب کا زیادہ مطالعہ کرتے ہیں اور کچھ کتب اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں اور اپنی غفلتوں اور کمزوریوں پر نگاہ رکھتے ہوئے انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے اندر یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ دوسری جگہ جائیں تو لوگوں کے لیے ایک نیک نمونہ بنیں اور ان کے لیے ٹھوکر کا باعث نہ بنیں۔ چنانچہ ہمارے وقف عارضی کے وفود نے دعاؤں کی برکات سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ۲۳۔ خطبہ جمعہ ۲۸؍جنوری ۱۹۷۷ء)

ہماری ذمہ داریاں: قرآن کریم پڑھنا، پڑھانا اور دوسروں کو سکھاناہر باشعور مسلمان کی اوّلین ذمہ داری ہے۔ اس تحریک پر لبیک کہنے کے نتیجہ میں یہ ذمہ داری احسن رنگ میں ادا کی جاسکتی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جیسا کہ نور کے اس نظارہ سے جسے میں نے ساری دنیا میں پھیلتے دیکھا ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی کامیاب اشاعت اور اسلام کے غلبہ کے متعلق قرآن کریم میں اور نبی کریمﷺ کی وحی اور ارشادات میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں جو خوشخبریاں اور بشارتیں پائی جاتی ہیں ان کے پورا ہونے کا وقت قریب آگیا ہے۔ اس لیے میں پھر اپنے دوستوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم پر واحب ہے کہ ہر احمدی مرد اور ہر احمدی عورت، ہر احمدی بچہ اور ہر احمدی جوان اور ہر احمدی بوڑھا پہلے اپنے دل کو نورِ قرآن سے منور کرے۔ قرآن سیکھے، قرآن پڑھے اور قرآن کے معارف سے اپنا سینہ و دل بھر لے اور معمور کرلے۔ ایک نورِ مجسم بن جائے۔ قرآن کریم میں ایسامحو ہوجائے۔ قرآن کریم میں ایسا گم ہوجائے۔ قرآن کریم میں ایسا فنا ہوجائے کہ دیکھنے والوں کو اس کے وجود میں قرآن کریم کا ہی نور نظر آئے۔ اور پھر ایک معلم اور استاد کی حیثیت سے تمام دنیا کے سینوں کو انوارِ قرآنی سے منور کرنے میں ہمہ تن مشغول ہوجائے۔ (خطبہ جمعہ ۵؍اگست ۱۹۶۶ء۔ خطبات ناصر جلد اوّل صفحہ۳۵۶-۳۵۷)

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ارشاد مبارک ہے: ’’ بچوں کو بھی قرآن کریم پڑھنے کی عادت ڈالیں اور خود بھی پڑھیں۔ ہر گھر سے تلاوت کی آواز آنی چاہیے۔ پھر ترجمہ پڑھنے کی کوشش بھی کریں۔ اور سب ذیلی تنظیموں کو اس سلسلے میں کوشش کرنی چاہیے، خاص طور پر انصاراللہ کو کیونکہ میرے خیال میں خلافت ثالثہ کے دَور میں ان کے ذمے یہ کام لگایا گیا تھا۔ اسی لیے ان کے ہاں ایک قیادت بھی اس کے لیے ہے جو تعلیم القرآن کہلاتی ہے۔ اگر انصار پوری توجہ دیں تو ہر گھر میں باقاعدہ قرآن کریم پڑھنے اور اس کو سمجھنے کی کلاسیں لگ سکتی ہیں۔‘‘ (خطبہ فرمودہ ۲۴؍ستمبر۲۰۰۴ء۔ الفضل انٹرنیشنل ۸تا ۱۴؍اکتوبر۲۰۰۴ء صفحہ ۶) وقف عارضی کے ضمن میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ممبران عاملہ کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایاہے:اگر ہر عاملہ ممبر وقف عارضی کرے تو اعدادوشمار بہت زیادہ حوصلہ افزا ہوں گے۔ (روزنامہ الفضل انٹرنیشنل۱۲؍فروری ۲۰۲۶ء صفحہ۲)

حقیقت یہ ہے کہ ممبران جماعت اُن خوش قسمت افراد میں شامل ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دور آخرین میں خدمتِ دین اور خدمتِ انسانیت کی اہم ذمہ داری سونپی ہے۔ اس لیے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے خدمت کی ہر راہ بڑے صدق اور وفا کے ساتھ قبول کرنی چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کے ان گنت افضال کا وارث بنا جاسکے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جماعت میں ملنے والی خدمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’اللہ تعالیٰ صادق اور کاذب کو آزمانا چاہتا ہے اس وقت صدق ووفا کے دکھانے کا وقت ہے اور آخری موقعہ دیا گیا ہے۔ یہ وقت پھر ہاتھ نہ آئے گا یہ وہ وقت ہے کہ تمام نبیوں کی پیشگوئیاں یہاں آکر ختم ہوجاتی ہیں اس لیے صدق اور خدمت کا یہ آخری موقع ہے جو نوع انسان کو دیا گیا ہے اب اس کے بعد کوئی موقع نہ ہوگا بڑا ہی بدقسمت وہ ہے جو اس موقع کو کھودے۔‘‘(ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۳۸۵۔ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خدمت دین اور خدمت انسانیت کے ہر موقع سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرماتا رہے۔ آمین

مزید پڑھیں: ایک خاتون، ایک ادارہ: آپا امۃاللطیف خورشید صاحبہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button