یا شافی کہنے کی برکت
قبولیت دعا کا معجزہ
ڈاکٹر مجھے سن کر Good luck کہتے۔ اس کا ہر دفعہ Good luck کہنا میری دعاؤں میں اَور جوش ڈال دیتا
(سیدہ ثناء احمد۔ یوکے)
میری زندگی کی یہ کہانی اللہ تعالیٰ پر ایمان سے یقین تک کا سفر ہے۔ مجھ پر ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کا یہ فضل رہا کہ جب بھی مانگا اللہ نے دیا اور اگر نہیں ملا تو اس سے بڑھ کر ملا جو مانگا۔ الحمدلله یہ اپریل ۲۰۲۰ء کی بات ہے۔ گھر پر اپنی فیملی کے ساتھ کھانا کھایا اور جب اٹھی تو اس زور سے چکر آیا کہ سامنے بالکل اندھیرا محسوس ہوا اور زمین گویا گھومتی ہوئی معلوم ہوئی۔
ایمرجنسی میں ہاسپٹل پہنچی ان دنوں COVID کے دن تھے اس لیے میرے ساتھ کسی کو بھی ہسپتال رہنے کی اجازت نہ تھی۔ البتہ ڈاکٹرز میرے میاں سید فاروق احمد سفیر کے ساتھ فون پر تفصیلات بتاتے، اور ایک کے بعد ایک کئی ٹیسٹ وغیرہ کرتے رہے۔
میں پانچ دن ہسپتال میں رہی اور جب فارغ ہوئی تو ڈاکٹر نے فون پر میرے میاں کو بتایا کہ یہ بیماری ہے اور یہ دوائیاں ہیں جنہیں زندگی بھر باقاعدگی سے لینا ضروری ہے۔ یہ دوائیاں کافی Strong تھیں اور ان کے Side effects بھی بہت زیادہ تھے۔
گھر آئی بچوں کو دیکھا اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اب بہتر ہوں۔ اس کے بعد تقریباً ایک ہفتہ تک روز ڈاکٹر کا فون آتا رہا جو میری طبیعت کا پوچھتے اور دوائی پر خاص زور دیتے۔ یہ دوائی دن میں ۳ بار لینے کے لیے کہا گیا تھا اس سے پہلے چونکہ مجھے دوائی لینے کی عادت نہیں تھی۔ اس لیے شروع میں ایک دفعہ صرف صبح کی دوائی کھانا بھول گئی بس پھر سے کمزوری، نڈھال اور پھر ایمر جنسی میں ہسپتال پہنچ گئی وہاں مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ میں اپنے پاس اپنے میاں کو محسوس کر سکتی تھی اور ڈاکٹرز کی آوازیں سن سکتی تھی کہ آنکھیں کھولیں۔ کافی دیر بعد ہوش آئی تو مجھے ڈرپس لگی ہوئی تھیں۔ مجھے ۴۸ گھنٹے ہسپتال میں رکھا اور بتایا کہ میری حالت کے پیش نظر یہ دوائیاں لازمی ہیں۔ ان کا ناغہ کرنا شدید نقصان حتیٰ کہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ اس دن مجھے اور میرے میاں کو اس دوائی کی اہمیت کا پتا چلا۔ اب میں دوائی باقاعدگی سے لیتی اور فون پر timer لگا کر دوائی وقت پر کھاتی۔ میں جب بھی دوائی لیتی تو مجھے میرے ابو جان یاد آتے جو ہمیشہ دوائی پر ’’اللّٰه شافی اللّٰہ کافی‘‘ پڑھ کر دیتے تھے۔ اب میں بھی ہمیشہ یہی دعا پڑھ کر دوائی کھاتی اور ساتھ یہ بھی کہتی کہ اے اللہ جب تو شافی ہے تو اس دوائی کی کیا ضرورت؟ شاید ہی کوئی ایسا دن ہو جس دن میں نے دوائی کے ساتھ یہ نہ کہا ہو۔
ایک دن میں نے اپنی بیماری کا ذکر ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر سے کیا انہوں نے مجھے ہو میو پیتھک کی دوائی تو نہ دی البتہ یہ کہا کہ جس طرح زندہ رہنے کے لیے پانی کی ضرورت ہے اس طرح مجھے زندہ رہنے کے لیے اس دوائی کی ضرورت ہے جو میں باقاعدگی سے لے رہی ہو ں۔
ا ب ہر ۳ سے ۶ ماہ بعد میرا ہسپتال میں چیک اَپ ہونے لگا۔ جس میں ڈاکٹر میرا Blood test لیتے، کچھ سوالات کرتے اور فارم پر ٹک کرتے اور ساتھ دوائی جاری رکھنے کا کہتے۔ میں ہر دفعہ بیماری کی بہتری کا پوچھتی تو ڈاکٹرز کہتے کہ میری بیماری مستقل نوعیت کی ہے۔ ایک دفعہ مسکرا کر کہا کہ ’’مسز احمد آپ دوائی کے بغیر شاید ۲۴ گھنٹے تو گزارلیں لیکن ۴۸ گھنٹے ممکن نہیں۔ فکر نہ کریں آپ اس دوائی کے ساتھ ساری زندگی اچھی گزار سکتی ہیں۔‘‘
ہر اپائنٹمنٹ میں میں ڈاکٹر کو اللہ کے بارے بتاتی اور کہتی کہ میرا دعا پر بڑا یقین ہے۔ ڈاکٹر مجھے سن کر Good luck کہتے۔ اس کا ہر دفعہ Good luck کہنا میری دعاؤں میں اَور جوش ڈال دیتا۔ میں اپنے بچوں کو بھی ان اپائنٹمنٹس کے بارے میں تفصیل سے بتاتی کہ ڈاکٹر دوائی پر زور دیتے ہیں لیکن مجھے آرام دعا سے ملتا ہے۔
سچ پوچھیں تو میری یہ بیماری زندگی میں ایک roller Coaster کی طرح تھی۔ کبھی دوائی دیکھتی تو اللہ کا شکر ادا کرتی ہے کہ بیماری ہے تو علاج بھی ہے۔ کبھی اپنے چار چھوٹے بچوں کی طرف دیکھتی تو اکثر جذباتی ہو جاتی اور کہتی اے اللہ! تُو جانتا ہے کہ میں نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ گھر میں خوشی کا ماحول رکھوں۔ میں نے کبھی نہیں یہ سوچا کہ میرے بچے مجھے بستر پر کمزور پڑا دیکھیں۔ اے اللہ! تُو مجھے طاقت دے کہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کر سکوں اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر سکوں۔
ایک دن بےچینی میں، میں نے پیارے حضور حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں خط لکھا جس میں اپنی بیماری کا ذکر کیا۔ میری بیماری کچھ پیچیدہ تھی۔ بیماری کے علاوہ خون کی کمی، شدید سر کا درد اور کئی کئی دن تک چکر آنا بھی شامل تھا، اس لیے پیارے حضور کی خدمت میں خط لکھتے ہوئے مجھے کچھ سمجھ نہ آیا کہ بیماری کس طرح مختصر الفاظ میں بیان کرو ں لہٰذا میں نے ڈاکٹر کی رپورٹس اپنے خط کے ساتھ بھیج دیں۔ کچھ دنوں بعد مجھے خط موصول ہوا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں آپ کا خط موصول ہوا۔ حضور انور نے آپ کے لیے شفائے کاملہ و عاجلہ اور فعّال زندگی کے لیے دعا کی ہے۔ آپ کے لیے منسلک ہو میو پیتھک نسخہ عطا ہوا ہے لیکن اپنی دوائی ساتھ جاری رکھیں۔
اس خط سے مجھے بہت تسلی ہوئی۔ اب میں نے ساتھ ہومیو پیتھک کی دوائیاں کھانی شروع کر دیں۔ لیکن وہی، دوائی کھانے سے پہلے دعا پڑھتی اور اب کبھی یہ بھی کہتی کہ اللہ یہ تیری اچھی آزمائش ہے پہلے دن میں صرف تین بار دوائی کھاتی تھی اور اب روزانہ چھ سے آٹھ دوائیاں کھاتی ہو ں۔ اےاللہ !تُو تو شافی ہے اور یہاں میری دوائیاں بڑھتی جاتی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ میری بیماری میں میرا جسم تھک چکا تھا میں خود کو بہت سست اور کمزور محسوس کرتی تھی۔ لیکن میں نےاپنے اللہ سے ایک خوبصورت تعلق میں ایسا ذہنی سکون، ایسی لذت اور ایسی تسکین پائی جو شاید میں لفظوں میں بیان نہ کرسکوں۔ اس تعلق کے آگے یہ بیماری بے معنی تھی۔ مجھے اللہ سے باتیں کرنے اور دعا میں مزا آنے لگا۔ میں نے شدت سے اللہ کو اپنے بہت قریب محسوس کیا۔ الحمد للّٰه الحمد للّٰه
اب میرا چھ ماہ بعد ہسپتال میں چیک اپ ہوا تو میں نے ڈاکٹر کو پیارے حضور کی دعا اور ہومیوپیتھک کی دوائی کا بتایا۔ ڈاکٹر نے میرے روٹین کے ٹیسٹ کیے اور بتایا کہ میرے ٹیسٹ میں معمولی سی بہتری ہوئی ہے۔ میرے دل نے فوراً کہا یہ اللہ کا فضل اور پیارے حضور کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ میں نے ڈاکٹر سے کہا اب میں دوائی میں کمی یا تبدیلی کر سکتی ہوں؟ ڈاکٹر نے کہاں ہاں تھوڑی سی دوائی میں کمی کر لیتے ہیں۔ یہ میری بیماری کے چار سال میں پہلی دفعہ ہوا تھا جو میرے لیے کسی معجزے سے کم نہ تھا ۔ الحمد للّٰه الحمد للّٰہ۔ ذالک فضل اللّٰه
دن گزرتے گئے اور میں دوائیاں کھاتی رہی اور اب اپنی اگلی اپائنٹمنٹ کا شدت سے انتظار کرنے لگی۔ میری اگلی اپائنٹمنٹ میں ڈاکٹر نے بتایا کہ رپورٹس میں مزید بہتری ہوئی ہے۔ میرا وہی سوال مطلب دوائی میں کمی ؟
ڈاکٹر نے کہا یہ بہتری کیسے ہوئی ہے اس کا میڈیکل سائنس میں میرے پاس کوئی جواب نہیں لیکن میں مزید دوائی کم نہیں کر سکتا۔ میں نے بہت کوشش کی لیکن ڈاکٹر نے یہ لکھ کر دیا کہ چونکہ میں ایک دفعہ ایمر جنسی میں ہسپتال جا چکی ہوں اور وہ حالت بہت نازک تھی اس لیے مزید risk نہیں لے سکتے۔ اور کہا I’m Sorry اس پر میرے میاں نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اور درخواست کی کہ ہم اس رپورٹس پر کسی اور ڈاکٹر کی رائے بھی لینا چاہیں گے۔ اس کے بعد ہم خوشی خوشی گھر آئے۔ اللہ کا شکر ادا کیا اور سب سے پہلے پیارے حضور کی خدمت میں خط لکھا کہ رپورٹس میں بہتری آئی ہے۔ پھر میں نے ڈاکٹر حفیظ بھٹی صاحب کو شکریہ کا بھی خط لکھا اور اپنے ڈاکٹر کے تبصرے کا ذکر کیا۔ اگلے روز میرے دیور سید عامر سفیر صاحب سے مجھے پیغام ملا کہ ڈاکٹر حفیظ صاحب نے کہا ہے کہ میں ان کو فون کروں۔ میں نے فون کیا اور ساری تفصیل بتائی۔ ڈاکٹر حفیظ بھٹی صاحب نے میری تمام دوائیوں کے نام پوچھے پھر حیرانگی سے پوچھا کہ اب سر کے درد کا کیا حال ہے؟ میں نے کہا وہ… وہ تو ایک عرصے سے ہوا ہی نہیں، مجھے تو یاد بھی نہیں۔ پھرڈاکٹر بھٹی صاحب نے کہا بچے !میں نے جو دوائی دی تھی وہ سر درد کی دوائی تھی۔ وہ آپ کی بیماری کی دوائی نہیں تھی۔ یہ جواب سن کر میں ہنسی بھی اور روئی بھی کیوں کہ آج مجھے یقین ہو گیا تھا کہ جب اللہ شافی ہے تو دوائی کی کیا ضرورت! ڈاکٹر صاحب نے مجھے بہت دعائیں دی اور کہا بے شک یہ خدا کا فضل ہے۔ اب میرے میاں مجھے ایک نئے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے۔ جس نے میری ساری رپورٹس تفصیل کے ساتھ دیکھیں اور سب سے پہلے کہا کہ جس حالت میں مجھے ۲۰۲۰ء میں ہسپتال لے جایا گیا تھا میں خوش قسمت ہوں کہ ڈاکٹرز نے وقت پر بیماری کا پتا لگایا اور علاج کیا پھر بہتری کی طرف دیکھا تو کہا یہ کیس میرے بیس سالہ تجربے میں ایک دلچسپ نوعیت کا ہے۔ پھر ڈاکٹر نے کہا اب سارے ٹیسٹ شروع سے لیتے ہیں۔ اس طرح میرے ٹیسٹ دوبارہ سے شروع ہونے لگے اور مجھے اپنے اللہ کے الشافی ہونے پر یقین بڑھتا چلا گیا۔ میں اپنی ہر appointment میں ڈاکٹر کو اپنے اللہ پر یقین کی باتیں بتاتی اور وہ ہر دفعہ کہتے کہ میں تمہارے خدا پر یقین پر خوشی محسوس کرتا ہوں۔ پھر الحمد للّٰہ ایک کے بعد ایک رپورٹس بہتری کی طرف ہونے لگی اور یوں آہستہ آہستہ میری دوائی کم ہونے لگی۔ میرے ڈاکٹر میری رپورٹس دیکھ کر کبھی کہتے کہ واقعی یہ ایک غیر معمولی تجربہ ہے اور کبھی کہتے کہ یہ ایک معمہ ہے۔ لیکن میں تمہارے لیے بہت خوش ہوں۔ آخر کار ساڑھے پانچ سال کی بیماری کے بعد وہ اسٹیج آئی جس میں مکمل دوائی چھوڑنے کو کہا گیا۔ یہ دن میرے لیے بہت ہی ایمان افروز دن تھا۔ یہ میرے اوپر اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا فضل اور پیارے حضور کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ مجھ جیسی گناہ گار اور نہایت کمزور انسان پر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے مجھے شفا دی۔
اب میں بالکل ٹھیک ہوں اور کوئی دوائی نہیں لیتی۔ الحمد للّٰه۔ ذٰلك فضل للّٰه
ڈاکٹر سے اپنی آخری ملاقات میں مَیں نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اور انہیں پھولوں کا گلدستہ، چاکلیٹ اور کتاب ’اسلامی اصولوں کی فلاسفی‘ دی۔ جسے ڈاکٹر نے خوشی سے قبول کیا اور کہا کہ میں اس کتاب کو پڑھوں گا۔ اللہ تعالیٰ میرے ڈاکٹر کے دل میں بھی اپنا نور ڈال دے۔ اور میری زندگی کا یہ تجربہ ڈاکٹر کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کا نشان بن جائے۔ اور میرا ڈاکٹر بھی حقیقی توحید کا قائل ہو جائے۔ ان شاءاللّٰه
آج بھی سوچتی ہوں تو دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتا ہے۔ بے شک بے شک اللہ آج بھی بولتا ہے، سنتا ہے، تسلی دیتا ہے اپنی موجودگی کا پتا دیتا ہے۔ بے شک وہ شہ رگ سے بھی قریب ہے۔ میری اس کہانی کے ۴ ڈاکٹر گواه ہیں میری حالت میں دوائی میں کمی یا چھوڑنا نا ممکن کی حد تک تھا۔ لیکن
غیر ممکن کو یہ ممکن میں بدل دیتی ہے
اے میرے فلسفیو! زور دعا دیکھو تو
آخر میں قارئین سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ نے مجھے شفا دی ہے تو اب پہلے سے بڑھ کر توفیق دے کہ میں اپنی ذمہ داریوں کو بہترین رنگ میں ادا کر سکوں۔ میرے بچے دنیا میں توحید کا پرچار کرنے والے بنیں، ان کی رگوں میں اللہ کی محبت بڑھتی چلی جائے۔ اور میں ایک فعّال زندگی گزاروں۔ آمین ثم آمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: روحانی وابل




