روحانی وابل
(محمد اشرف کاہلوں۔ آسٹریلیا)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میں وابل روحانی ہوں۔ ضرورت زمانہ اس پر شاہد ناطق ہے
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بارش کے مختلف نام بیان فرمائے ہیں جو اس کی مختلف کیفیات کو ظاہر کرتے ہیں۔ مثلاً مآء، ودق ، صیب ، طلّ اور وَابِل وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ اور قدرت کاملہ سے اہل ایمان کے اعمال کے نتائج اور ثمرات کو وابل اور طل کی تمثیل سے آگہی اور شعور کو بیدار اور چوکس کیا ہے۔ سورہ بقرہ کی آیات نمبر ۲۶۵ اور ۲۶۶ میں ایمان والوں کے اعمال کے محرکات اور اسباب کو شرح و بسط سے اجاگر کیا گیا ہے۔ اول وہ اہل ایمان گروہ ہے جو اپنے اعمال صالحہ یعنی صدقات و خیرات کو مَنّ اور اذیٰ اور ریاکاری کے سبب ضائع اور اکارت کرلیتے ہیں۔ ان کی مثال ایک پتھر جس پر تراب یعنی خشک مٹی جمی ہوئی ہے۔ اور اس پر وابل یعنی بکثرت تیز بارش بڑے قطرات والی پڑتی ہے۔ وہ مٹی بہا لے جاتی ہے اور پتھر صاف نکل آتا ہے۔ یہ اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر کامل حسن ظن نہیں رکھتے۔

دوسرا اہل ایمان کا طبقہ ہے جو خدا تعالیٰ پر اور یوم الحساب پر کامل یقین رکھتا ہے۔ اس کے صدقات و خیرات کا مقصد وحید محض ابتغاء مرضات اللہ اور مضبوطی قوم ہے۔ ان کے اعمال حسنہ کے مثمر بثمرات اس مثال میں بیان ہوا ہے کہ ان کی ربوہ جیسی زمین میں باغ مثل جنت ہے۔ اس پر وابل مانند بارش جب برستی ہے تو باغ کے پودے سرسبز وشاداب اور خوشنما اور دل کو لبھاتے ہیں۔ اور آنکھوں کے لیے سرور بخش ہیں۔ برگ و بار سے لدے ہوئے ہیں۔ اور بڑھا چڑھا کر پھل دیتے ہیں۔ جب وابل نہ برسے اسے طل یعنی شبنم و اوس ہی کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت بصیر اسے احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ربا سے مشتق ربوہ ہے۔ ربا اونچی زمین اور ایسی زمین جس میں با ثمر باغ نشو ونما پا سکیں۔ اسے وابل نقصان دہ نہ ہو۔ پس ربوہ، باغ،وابل اور طل باہم لازم وملزوم ہیں۔ اہل کامل ایمان بڑی رقوم صدقات و خیرات اور راہ مولا میں دینے والے وابل سے ثواب و اجر پائیں گے اسی طرح غربا صورت طل ثمرات حسنہ سے یکساں حصہ حاصل کریں گے۔ خدائے بصیر کی نگاہ میں ہے کہ یہ مومن کن حالات میں ہمہ قسم کی قربانیاں فی سبیل اللہ دے رہے ہیں۔ یہ ایک ظاہر ی وابل اور طل ہے۔ لیکن ظاہری وابل کے مقابل اور متوازی باطنی وابل بھی ہے۔ کیونکہ ہر پہلو کے دو رُخ ہوتے ہیں ایک ظاہری اور دوسرا اندرونی ہوتا ہے۔ ضرورتِ زمانہ کے مطابق زمین پر روحانی وابل برستی ہے۔ تاکہ سعید اور شقی روحیں مابہ الامتیاز ہوں۔ کشت قلب کس کی زرخیز جنت نما اور کونسی ویران و بیابان اور دشت پرخار ہے۔ لنعم قیل۔
باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست
درباغ لالہ رویدو در شورہ بوم خس
یعنی بارش فطرتاً پاکیزہ ہے۔ باغ میں لالہ پیدا ہوتا ہے اور شورہ زمین میں جھاڑیاں وغیرہ۔
حضرت امام آخرالزماں مسیح موعود علیہ السلام بھی عین چودھویں صدی ہجری میں مبعوث ہوئے ہیں اور یہ غلبہ دجالیت اور ضعف اسلام کا زمانہ تھا۔ دین حق پر طاغوتی قوتیں اپنے تمام وسائل حرب سے لیس ہوکر اسلام کے خلاف نبردآزما تھیں۔ تیر و تبر برسائے جا رہے تھے۔ خدائے عزوجل کا یہ بطل جلیل مذہبی جنگ میں مدّ مقابل کو ببانگ دہل چیلنج دے رہا تھا۔ فتح نصیب جرنیل نے مخالفین دین اسلام کو پس پا ہی نہ کیا بلکہ دندان شکن شکست فاش دی۔ جلسہ مذاہب عالم لاہور منعقدہ ۱۸۹۶ء میں الہام الٰہی ’’مضمون بالا رہا‘‘ آپؑ کی صداقت اور حقانیت کا منہ بولتا ثبوت آفتاب تاب کی طرح ہے۔ آپؑ نے مخالفین حق کو چیلنج پر چیلنج دیے کثیر رقم بطور انعام کا اعلان کیا۔ کوئی مردمیدان بن کر سامنے نہ آیا۔
آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہرچند
ہر مخالف کو مقابل پہ بلایا ہم نے
اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مختلف النوع صفاتی اسماء سے نوازا۔ آپؑ نے برموقعہ عیدالاضحی ۱۱؍اپریل ۱۹۰۰ء کو اپنے فصیح و بلیغ خطبہ الہامیہ میں اپنے بعض صفاتی ناموں کا ذکر فرمایا ہے کہ ’’فانا ذالک النور۔ والمجدد المامور۔ والعبدمنصور۔ والمہدی المعھود۔ والمسیح الموعود۔‘‘ ترجمہ۔ سو مَیں وہ نور ہوں اور مجدد ہوں جو خدا تعالیٰ کے حکم سے آیا ہے اور بندہ مددیافتہ ہوں اور وہ مہدی ہوں جس کا آنا مقرر ہو چکا تھا اور وہ مسیح ہوں جس کے آنے کا وعدہ تھا۔ (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶صفحہ۵۱،۵۰)
اسی طرح اسی خطبہ الہامیہ میں فرمایا ہے کہ ’’وانا کوکب یمانی۔ و وابل روحانی۔ (خطبہ الہامیہ ،روحانی خزائن جلد ۱۶صفحہ ۶۱) ترجمہ:مَیں یمانی ستارہ ہوں اور روحانی بارش ہوں۔ کوکب یمانی سے کیا مراد ہے؟کوکب درخشندہ ستارہ ہے۔ یمانی خیروبرکت والا ہے۔ یعنی کوکب ایک بابرکت اور خیر وبھلائی والا درخشندہ ستارہ ہے۔ خانہ کعبہ بیت اللہ کے ایک کونہ کا نام رکن یمانی ہے۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جانب یمن واقع ہے اس لیے رکن یمانی کہلاتا ہے۔ مگر روحانی طور پر اس کی حقیقت اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتی ہے جس میں آنحضرت خیر الوریٰ اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے میں فرمایا کہ رکن یمانی اور حجر اسود کا چھونا گناہوں کے مٹانے کا سبب ہے۔ (مسند احمد )کوکب یمانی کو مذہبی اصطلاح کے لحاظ سے ایک مقدس وجود تصوّر کیا جاتا ہے جس کے چھونے سے گناہ دھل اور صاف ہوجاتے ہیں۔ اس کا جسم اور کپڑے اورپس خوردہ اکل وشرب باعث شفائے امراض جسمانی اور روحانی بنتا ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدائے قدوس عزوجل نے الہاماً بتایا:’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ‘‘ کوکب کی درخشندگی اس کی روحانی قوّت جاذبہ ہوتی ہے جو اپنی مقناطیسی قوّت سے سعید روحوں کو کشاں کشاں اپنی جانب مائل کرتی ہےاور اپنے ہالہ میں لے لیتی ہے اور صیقل کرتی ہے۔ بیعت توبہ بھی اسی کا ہی مفہوم ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت اور حقانیت کے ایک نشان آسمانی ستارہ ذوالسنین کے ظہور کا حدیث نبوی میں ذکر ہے کہ مہدی کے خروج سے قبل مشرق سے ستارہ نکلے گا جس کی چمکتی دم ہو گی۔ ۱۸۸۲ء میں افق عالم کے شش جہات میں ظاہر ہوا۔ ہوسکتا ہے آپ کا اشارہ اسی جانب ہو۔ کوکب یمانی کے ساتھ ہی فرمایا کہ وابل روحانی یعنی روحانی بارش ہوں۔
سورہ بقرہ آیت ۲۶۶ میں ربوہ یعنی اونچی زرخیز زمین، جنت یعنی باغ،وابل اور طل کا ذکر ہے۔ یہ چاروں باہمی لازم وملزوم ہیں۔ روحانی طور پر ربوہ مومن کا دل ہے۔ ایمانیات یعنی عقائد باغ ہیں جو کشت دل میں اگائے ہوتے ہیں۔ اعمال صالحہ وہ روحانی بارش ہے جو باغ کی نمو اور سرسبزی و شادابی کا باعث بنتی اور اسے برگ و بر لاتی ہے۔ روحانی باغ دیدہ و دل کو لبھاتا اور تسکین و راحت دیتا ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ فرمایا ہے کہ میں روحانی بارش ہوں جو مومنوں کی بالیدگی اور نشوونما کرتا ہوں۔ کیونکہ میرا چشمہ اور منبع مبداء فیوض رب العالمین، الرحمن، الرحیم اور مالک یوم الدین ہے۔ اسی سے تمہیں سیراب کرتا ہوں۔
مسجد اقصیٰ ربوہ نما ہے۔ احمدیت بستان احمد ہے۔ یہ آسمانی روحانی بارش اس باغ کو اقصائے عالم میں مثمر بثمرات کررہی ہے۔ مامورین الٰہی سنت اللہ کے مطابق ان کی بعثت کے موسم آنے اور جانے کے اوقات مخصوصہ ہیں۔ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے یہود کو موسم کے حوالے سے اپنی ماموریت کا دعویٰ پیش کیا۔ فرمایا کہ کہتے ہوکہ غروب آفتاب کے وقت افق سرخ رنگ ہے موسم خوشگوار کل ہوگا۔ صبح آسمان سرخ اور سیاہی ہو تو بارش آنے والی ہے۔ آسمان کو دیکھ کر موسم کے بارہ پیشینگوئی کرتےہو۔ مگر ضرورت زمانہ میری آمد کا گواہ ہے۔ (متی۔ باب۱۶) اسی طرح آپ نےاناجیل لوقا باب ۱۲ میں یہی بات کہی ہے کہ جب پچھم سے بادل آئیں۔ کہتے ہو بارش آنے والی ہے اور باراں ہوجاتی ہے۔ جنوبی سمت کی ہوا چل رہی ہو۔ کہتے ہو۔ موسم گرم ہوگا اور ایسا ہی ہوتا ہے۔ آسمان اور زمین سے موسم کا اندازہ لگا لیتےہو۔ میرے بارہ کیوں تخمینہ نہیں لگاتے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مَیں وابل روحانی ہوں۔ ضرورتِ زمانہ اس پر شاہد ناطق ہے۔ فرمایا ہے:
مَیں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر
مَیں وہ ہوں نور خدا جس سے ہوا دن آشکار
اس وابل روحانی کی خاص خاصیت اور لذّت اور تاثیر ہے۔ خوشگوار نہر کی مانند ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:’’واماءا زلالا‘‘(خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶صفحہ۶۱)ترجمہ: اور آب شیریں ہوں۔ اس کا روحانی میٹھا پانی تولد روحانی ثانی کا سبب اور بقا کا ضامن ہے۔ احمدیت کے شجرسایہ دار کی سیرابی اس روحانی پانی سے نمو پا رہی ہے۔ جس کی شاخوں پر بیٹھے روحانی طیور تسبیح و تہلیل کے گیت الاپ رہے ہیں۔ اور ہر سال اس روحانی درخت کے نیچے ہزارہا نفوس جگہ پاکر روحانی برودت اور ٹھنڈ محسوس کرتے ہیں اور خنک چشم ہوتے ہیں۔
اس حلاوت اور مٹھاس والی روحانی بارش کا سرچشمہ رب العالمین ہے جس نے امام آخرالزماں مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث کیا ہے۔ وہ خدائے واحد و یگانہ اور ذات اقدس ہے۔ جس کی حمد و ثناء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں یوں ہے: ’’وہ مجمع ہے تمام صفات کاملہ اور مظہر ہے تمام محامد حقہ کااور سر چشمہ ہے تمام خوبیوں کا۔ اور جامع ہے تمام طاقتوں کا۔ اور مبدء ہے تمام فیضوں کا۔ اور مرجع ہے ہر ایک شئے کا۔ اور مالک ہے ہرایک ملک کا۔ اور متصف ہے ہرایک کمال سے۔ اور منزہ ہے ہرایک عیب اور ضعف سے۔ اور مخصوص ہے اس امر میں کہ زمین والے اور آسمان والے اسی کی عبادت کریں۔‘‘ (رسالہ الوصیت۔ روحانی خزائن۔ جلد۲۰۔ صفحہ ۳۱۰)
اے آوارگان دشت پرخار اور تشنہ لبو!اس وابل روحانی اور خوشگوار نہر سے روحوں کی پیاس بجھاؤ کہ تا حیات دنیوی اور اخروی جاودانی زندگی سے لطف اندوز ہو۔ اور زندگی کامطمح فکر و نظر یہی رہےکہ ’’ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ ہماری اعلی لذات ہمارے خدا میں ہیں۔‘‘ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹۔ صفحہ ۲۱)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ(حدیث نبویؐ)




