حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

دوسروں کے عیب اور پردہ پوشی

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ جس نے اپنے مسلمان بھائی کے کسی عیب کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب کو ڈھانپ دے گا۔ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اسے ڈھانپ دے گا اور ستّاری فرمائے گا۔ اور جو اپنے کسی مسلمان بھائی کی پردہ دری کرتا ہے۔ اس کی برائیاں کرتا ہے۔ اس کی برائی کو دیکھ کر لوگوں کو بتاتا پھرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے عیب اور ننگ کو اسی طرح ظاہر کرے گا کہ اس کے گھر میں اس کو رسوا کر دے گا۔(سنن ابن ماجہ کتاب الحدود باب الستر علی المؤمن … الخ حدیث 2546)

پس یہ بڑا سخت انذار ہے۔ خوف کا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کے لئے ہمیشہ دوسروں کے عیب دیکھنے کی بجائے اپنے پر نظر رکھنی چاہئے۔ تبھی ہم اللہ تعالیٰ کے رحم اور فضل کو جذب کر سکتے ہیں۔ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اگر ہم کسی میں برائی دیکھ کر ظاہر نہیں کریں گے تو اصلاح کس طرح ہو گی۔ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر کسی کی کوئی برائی نظام جماعت کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ بن رہی ہے یا معاشرے کے ایک طبقہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے کر خراب کر رہی ہے تو پھر اصلاح کے لئے جو لوگ مقرر ہیں، امیر جماعت ہے، جماعت کے اندر صدر جماعت ہے، ان تک بات پہنچا دیں یا مجھے لکھ دیں تا کہ اصلاح کی طرف توجہ ہو۔ اللہ تعالیٰ بھی نہیں چاہتا کہ اس کی بنائی ہوئی جماعت کا نظام خراب ہو۔ وہ نہیں چاہتا کہ ایک انفرادی برائی معاشرے کی عام برائی بن جائے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ننگ ظاہر کر دیتا ہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ’’جو اس بات پر قائم رہتے ہیں اور ضد کرتے ہیں کہ جو گناہ انہوں نے کیا ہے یا غلطیاں کی ہیں ان کو پھیلانا ہے اور ظاہر بھی کرنا ہے یا کرتے چلے جانا ہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےفرمایا کہ انسان کے گناہوں اور خطاؤں کو اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے لیکن اپنی صفت کے باعث خطاکاریوں کو اس وقت تک جبتک کہ اعتدال کی حد سے نہ گزر جائے ڈھانپتا ہے۔ پس جب انسان خود ہی اپنے آپ کو ظاہر کر دے اور اعتدال کی حدوں سے باہر نکلنے لگے تو پھر اللہ تعالیٰ کی پکڑ کی صفت بھی کام کرتی ہے۔ اور پھر اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس دنیا میں بھی پکڑتا ہے اور اگلے جہان کی بھی سزا ہے۔ لیکن کسی کی برائی دیکھ کر اس کی تشہیر کرنا اس کو پھیلانا بہرحال منع ہے کیونکہ اس سے برائیاں بجائے ختم ہونے کے پھیلتی ہیں۔ اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تُو لوگوں کی کمزوریوں کے پیچھے پڑے گا تو انہیں بگاڑ دے گا۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی التجسس حدیث 4888)

کمزوریوں کے پیچھے پڑنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو جگہ جگہ بیان کرنا، تجسّس کر کے ان کی کمزوریوں کی تلاش کرنا۔ اگر انسان اس طرح کرے تو ان لوگوں کو بگاڑے گا اور معاشرے کے امن کو بھی خراب کرے گا اور پھر جب یہ باتیں جگہ جگہ لوگوں میں بیان کی جائیں تو پھر ایسے لوگ جن میں یہ برائیاں ہیں ان میں اصلاح کی بجائے ضد پیدا ہو جاتی ہے اور پھر ضد میں آ کر وہ دوسروں کو بھی اپنے جیسا بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اپنے حلقے کو وسیع کرتے جاتے ہیں۔ حجاب ختم ہو جاتا ہے۔ اور جب حجاب ختم ہو جائے تو اصلاح کا پہلو بھی ختم ہو جاتا ہے۔

(خطبہ جمعہ ۳۱؍مارچ ۲۰۱۷ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۱؍اپریل ۲۰۱۷ء)

مزید پڑھیں: ہمدریٔ خلق سے ایک حسین معاشرہ قائم ہوگا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button