وہ بھی ایک عورت تھی جس کا نام عائشہ ؓتھا(حصہ اول)
(منصورہ طاہر بلوچ ۔ عمرکوٹ)
اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور قدرت سے انسان کو بےشمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ جہاں اس نے مرد کو مختلف صلاحیتیں اور مواقع عطا فرمائے ہیں وہاں عورت کو بھی بے شمار خوبیوں اور نعمتوں سے مالا مال فرمایا ہے۔ اسلام کی تعلیمات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ عزت، علم اور ترقی کے مواقع صرف مردوں تک محدود نہیں بلکہ عورت کو بھی برابر کا حق حاصل ہے۔
جس طرح مرد اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے اسی طرح عورت بھی علم حاصل کرکے نہ صرف اپنی ذات بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح اور ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ علم حاصل کرنا مرد اور عورت دونوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے۔
اگر ہم قرونِ اولیٰ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ جس طرح مردوں نے میدانِ جنگ میں بہادری اور شجاعت کا مظاہرہ کیا اسی طرح عورتوں نے بھی نہایت جرأت اور استقامت کے ساتھ جنگوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے زخمیوں کی خدمت کی، لشکروں کی مدد کی اور بعض مواقع پر دشمن کا مقابلہ بھی کیا۔
یہ تمام واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عورت بھی معاشرے کا ایک مضبوط اور باوقار ستون ہے۔ اگر اسے تعلیم اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ مرد کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر اور ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔ لیکن تعلیم میں صرف دنیاوی تعلیم اور بڑی بڑی ڈگریاں نہ ہوں بلکہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اپنے دورِ خلافت میں جماعتِ احمدیہ کے ہر شعبہ کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنے کی ہر طرح سے سعی فرمائی۔ آپؓ نے خصوصاً عورتوں کی تعلیم و تربیت، حقوق اور ترقی کےلیے بےپناہ جدوجہد کی۔ اپنے باون سالہ دورِ خلافت میں تقریر ، تحریر اور عملی اقدامات کے ذریعے ساری طاقتیں صرف کر ڈالیں کہ کس طرح احمدی عورت معاشرے کا پچاس فیصدی حصہ یعنی عورتیں ترقی کریں۔
دینی علم حاصل کرنا جس طرح ایک مرد کےلیے ضروری ہے اسی طرح ایک عورت کےلیے بھی اَز حد ضروری ہے۔
حضرت مصلح موعودؓ عورتوں کو دینی تعلیم کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں: اس کے بعد میں تمہیں توجہ دلاتا ہوں کہ سب سے ضروری تعلیم دینی تعلیم ہے۔ کس طرح سمجھاؤں کہ تمہیں اس طرف توجہ پیدا ہو۔ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کا مامور آیا اور اُس نے چالیس سال تک متواتر خدا کی باتیں سنا کر ایسی خشیتِ اِلٰہی پیدا کی کہ مردوں میں سے کئی نے غوث، قطب، ولی، صدیق اور صلحاء کا درجہ حاصل کیا۔ ان میں سے کئی ہیں جو اپنے رُتبے کے لحاظ سے کوئی تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور کوئی عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور کوئی علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوئی زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوئی طلحہ ہے۔ تم میں سے بھی اکثر کو اس نے مخاطب کیا اور انہیں خدا کی باتیں سنائیں اور ان کی بھی اسی طرح تربیت کی مگر تب بھی وہ اس رُتبہ کو حاصل نہ کر سکیں۔ اس کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم میں ایک صدیقی وجود کو کھڑا کیا مگر اس سے بھی وہ رنگ پیدا نہ ہوا۔ پھر خدا نے مجھ کو اس مقام پر کھڑا کیا۔ اور پندرہ سال سے متواتر درس اور اکثر وعظ، نصائح اور لیکچروں میں دین کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور ہمیشہ یہی میری کوشش رہی ہے کہ عورتیں ترقی پائیں مگر پھر بھی ان میں وہ روح پیدا نہ ہو سکی جس کی مجھے خواہش تھی اور کوئی عورت تم میں اس قابل نظر نہیں آتی جو کسی وقت تمہاری لیڈری اور رہنمائی کر سکے۔ افسوس وہ کون سی کوشش ہے جس سے مَیں تمہیں بیدار کروں۔ دنیا میں ایک آگ لگی ہوئی ہے مگر تم خواب غفلت میں سوتی ہو۔ (الازھار لذوات الخمار صفحہ ۲۲۴)
پھر فرمایا : تم میں سے کئی عورتیں ہیں جو کہتی ہیں کہ مردوں کی طرف داری کی جاتی ہے مگر میں پوچھتا ہوں کہ کیا خدا تعالیٰ کو بھی تم سے دشمنی ہے کہ وہ تمہاری مدد نہیں کرتا۔ کیوں خدا کے کلام کا دروازہ تم پر بند ہے اور کیوں فرشتے خدائی دربار تک تمہاری رسائی نہیں کراتے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کی صرف وجہ یہ ہے کہ تم قرآن کو قرآن کرکے نہیں پڑھتیں اور نہیں خیال کرتیں کہ اس کے اندر علم ہے فوائد ہیں، حکمت ہے بلکہ صرف خدائی کتاب سمجھ کر پڑھتی ہو کہ اس کا پڑھنا فرض ہے اس لیے اس کی معرفت کا دروازہ تم پر بند ہے۔ دیکھو قرآن خدا کی کتاب ہے اور اپنے اندر علوم رکھتا ہے۔ قرآن اس لیے نہیں کہ پڑھنے سے جنت ملے گی اور نہ پڑھنے سے دوزخ بلکہ فرمایا کہ فِیْهِ ذِكْرُكُمْ۔ اس میں تمہاری روحانی ترقی اور علوم کے سامان ہیں۔ قرآن ٹونہ نہیں۔ یہ اپنے اندر حکمت اور علوم رکھتا ہے۔ جب تک اس کی معرفت حاصل نہ کرو گی قرآن کریم تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ تم میں سے سینکڑوں ہوں گی جنہوں نے کسی نہ کسی سچائی کا اظہار کیا ہوگا۔ لیکن اگر پوچھا جائے کہ تمہارے اس علم کا ماخذ کیا ہے تو وہ ہرگز ہرگز قرآن کو پیش نہ کریں گی بلکہ ان کی معلومات کا ذریعہ کتابیں، رسائل، ناول یا کسی مصنف کی تصنیف ہوں گی اور غالباً ہماری جماعت کی عورتوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی کتاب ہوگی۔ تم میں سے کوئی ایک بھی یہ نہ کہے گی کہ میں نے فلاں بات قرآن پر غور کرنے کے نتیجہ میں معلوم کی ہے۔ کتنا بڑا اندھیر ہے کہ قرآن جو دنیا میں اپنے اندر خزانے رکھتا ہے اور سب بنی نوع انسان کےلیے یکساں ہے اُس سے تم اس قدر لا علم ہو۔ اگر قرآن کا دروازہ تم پر بند ہو تو تم سے کس بات کی توقّع ہو سکتی ہے ؟ (الازھار لذوات الخمار صفحہ ۲۲۵)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دین کے علم میں ایسا بلند مقام حاصل کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی میرا دین سیکھنا چاہتا ہے تو آدھا عائشہ سے سیکھے۔ وہ بھی تو باقی عورتوں کی طرح ہی ایک عورت تھیں اگر ہم غور کریں تو آج کی عورت کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے اور زندگی گزارنے کے لیے بے شمار سہولیات میسر ہیں جن کا اُس دَور میں تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وہ دَور تو بہت ہی سادہ دَور تھا مگر اس سادہ اور مشکل دَور میں بھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے علمِ دین حاصل کرنے میں ایسی محنت اور لگن دکھائی کہ وہ اُمت کے لیے علم و رہنمائی کا عظیم سر چشمہ بن گئیں یہی وجہ ہے کہ دین کے بڑے حصے کی راوی اور معلمہ کا مقام حاصل ہوا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دینی علم کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ایک عورت نے کس طرح ترقی کی؟ میں تمہیں ایک عورت کا واقعہ سُناتا ہوں کہ جسے صرف معمولی لکھنا پڑھنا آتا تھا۔ اس کے لکھنے کے متعلق مجھے اس وقت صحیح علم نہیں ہے لیکن یہ بات ضرور تھی کہ اُسے پڑھنا آتا تھا۔ اُس نے قرآن کو قرآن کرکے پڑھا، جنّت کی طمع اور دوزخ کے خوف سے نہیں، عادت اور دکھاوے کے طور پر نہیں بلکہ خدا کی کتاب سمجھ کر اور یہ سمجھ کر کہ اس کے اندر دنیا کے تمام علوم ہیں اسے پڑھا۔ اس کے نتیجہ میں باوجود اس کے کہ اس نے کسی کے پاس زانوئے شاگردی تہہ نہیں کیا تمام دنیا کی استاد بنی۔ وہ عورت کون تھی ؟ اُس کا نام عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھا۔
وہ بی بی فہم قرآن میں اکثر مردوں سے بڑھ گئی
اُس نے قرآن کو جیسا کہ سمجھنے کا حق تھا سمجھا۔ اُن کی صرف ایک مثال سے دنیا کے مرد شرمندہ ہیں۔ کہ وہ بایں ہمہ عقل و دانش اس فہم و فراست کو حاصل نہ کر سکے۔ وہ آیت ہے مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ۔ (الاحزاب:۴۱)یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں۔ ہاں اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ دنیا نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور ادھر چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرما دیا ہے کہ لَا نَبِیَّ بَعْدِی (جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ مراد تھی کہ میری شریعت کو منسوخ کرنے والا کوئی نبی نہ آئے گا۔) یہ امر ایسے خیال کے لوگوں کے لئے اور بھی مؤیّد ثابت ہوا اور سب نے یہ نتیجہ نکالا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ مسلمان تمام دنیا میں پھیل گئے اور انہوں نے اپنے اس خیال کی خوب اشاعت کی۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اِس قسم کی باتیں ایک مجلس میں ہو رہی تھیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے گزریں اور آپؓ نے سن کر فرمایا : ’’قُوْلُوْااِنَّهُ خَاتَمُ الْاَنبِيَاءِ وَلَاتَقُولُوْالَا نَبِىَّ بَعْدَهٗ‘‘ دیکھو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے قرآن پر غور کرنے سے کس قدر صحیح نتیجہ نکالا کہ آج اِس زمانہ کے نبی نے اس سے فائدہ اُٹھایا۔ وہ خیالات جو تیرہ سو سال سے مسلمانوں کو مغالطہ میں ڈالے ہوئے تھے اُن کو کس صفائی کے ساتھ ردّ فرمایا ہے۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قرآن پر غور کرنے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فائدہ اٹھایا اور احمدی جماعت اُن کی ممنونِ احسان ہے۔ انہوں نے ان کی مشکلات کو آسان کر دیا۔(الازھار لذوات الخمار صفحہ ۲۲۵ تا۲۲۶)(باقی آئندہ)
مزید پڑھیں: یا شافی کہنے کی برکت




