مکتوب

مکتوب مشرقِ بعید(مارچ ۲۰۲۶ء)

(محمد فاتح ملک)

مشرقِ بعید کے تازہ حالات و واقعات کا خلاصہ

جاپان کی وزیرِاعظم کا امریکہ کا دورہ

جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم Sanae Takaichi کا حالیہ دورہ امریکہ (۱۸ تا ۲۱؍مارچ ۲۰۲۶ء) عالمی منظر نامے پر انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تفصیلی ملاقات کی جس میں دفاع، معیشت اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر اہم گفتگو ہوئی۔ یہ دورہ خاص طور پر اس لیے اہم تھا کیونکہ امریکہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں اپنے اتحادیوں سے تعاون کا مطالبہ کر رہا تھا جس نے اس ملاقات کو مزید حساس بنا دیا۔

ملاقات میں سب سے اہم موضوع سیکیورٹی تعاون رہا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے جاپان پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں زیادہ کردار ادا کرے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے۔ تاہم جاپان نے اپنے آئینی اور قانونی تقاضوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ محدود حد تک ہی فوجی تعاون فراہم کر سکتا ہے۔ وزیرِاعظم تاکائیچی نے کشیدگی کم کرنے (de-escalation) پر زور دیا اور جنگ کے پھیلاؤ کے خلاف موقف اختیار کیا۔

اس ملاقات کے دوران اقتصادی میدان میں بھی کافی پیش رفت ہوئی۔ جاپان نے امریکہ میں تقریباً ۷۳؍ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جس میں توانائی، نیوکلیئر ری ایکٹرز اور گیس منصوبے شامل ہیں۔ اسی طرح دونوں ممالک نے نایاب معدنیات اور اہم وسائل میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ نیز چین پر انحصار کم کرنے کے لیے سپلائی چین کو مضبوط بنانے کا منصوبہ بنایا گیا۔

یہ دورہ خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری تنازع کے باعث نمایاں رہا۔ امریکہ نے جاپان سے فوجی تعاون کا مطالبہ کیا جاپان نے اس پر مزید وقت مانگا لیکن جاپان نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ جنگ میں براہِ راست شامل نہیں ہوگا لیکن توانائی کی سپلائی اور عالمی استحکام کے لیے سفارتی کردار ادا کرے گا۔

چین، جاپان اور آسٹریلیا کا آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے اپنے جہاز بھیجنے سے انکار

آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) اس وقت عالمی سیاست اور معیشت کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے اتحادی ممالک سے اس اہم بحری گزرگاہ میں فوجی تعاون کی درخواست کی گئی، تاہم کئی بڑے ایشیائی و پیسیفک ممالک نے براہِ راست فوجی شرکت سے انکار کر دیا۔ چین نے واضح کیا کہ وہ خطے میں فوجی مداخلت کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔ چین نے زور دیا کہ کشیدگی کو کم کیا جائے اور تمام فریقین مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کریں۔ آسٹریلیا، جو امریکہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے، نے بھی محتاط حکمتِ عملی اپنائی۔ آسٹریلیا نے براہِ راست بحری جہاز بھیجنے کے بجائے صورتحال کا جائزہ لینے اور سفارتی تعاون پر توجہ دینے کا اعلان کیا۔ تاہم جنوبی کوریا کی حکومت نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تعاون کرنے کی پیش کش کی ہے۔ البتہ جنوبی کوریا کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ براہِ راست جنگی کارروائیوں میں حصہ لینے سے گریز کرے گا۔ اور یہ شمولیت زیادہ تر دفاعی، نگرانی اور لاجسٹک نوعیت کی ہوگی۔

جنوبی کوریا میں ایندھن کی قیمتوں پر حد مقرر

جنوبی کوریا کی حکومت نے ملک میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے تقریباً ۳۰؍سال بعد پہلی بار براہِ راست مداخلت کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر حد (Price Cap) مقرر کر دی ہے۔ یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی (خصوصاً ایران اور امریکہ۔اسرائیل تنازع) کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔ جنوبی کوریا میں آخری بار ۱۹۹۷ء میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مارکیٹ کے حوالے (Liberalize) کر دیا گیا تھا۔ اب تقریباً ۲۹؍سال بعد پہلی بار حکومت نے ’’پیٹرولیم بزنس ایکٹ‘‘ کے تحت اپنے ہنگامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے براہِ راست قیمتیں مقرر کی ہیں۔

جاپان کا قومی تیل کے ذخائر استعمال کرنے کا اعلان

جاپان کی حکومت نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار سپلائی میں کمی کے خدشے کے پیش نظر اپنے قومی تزویراتی ذخائر (National Strategic Reserves) سے تیل نکالنے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ جاپان تقریباً۸۰؍ملین بیرل (جو کہ ۳۰؍دن کی ملکی کھپت کے برابر ہے) تیل مرحلہ وار مارکیٹ میں لائے گا۔ جاپان اپنی ضرورت کا ۹۰؍فیصد سے زائد تیل مشرق وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث سپلائی معطل ہونے کا خطرہ ہے، جس کی وجہ سے پیٹرول کی قیمتیں جاپان میں ۱۹۰؍ین فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہیں۔ یہ جاپان کی تاریخ میں سب سے بڑا ذخیرہ استعمال کرنے کا فیصلہ ہے۔ حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے سبسڈی بھی دی ہے۔

فلپائن: عارضی طور پر فوسل فیول پر انحصار

فلپائن نے بھی توانائی بحران کے باعث غیر معمولی فیصلے کیے ہیں جن میں حکومت نے عارضی طور پر کم معیار (زیادہ آلودگی والے) ایندھن کے استعمال کی اجازت دے دی ہے تاکہ سپلائی برقرار رہے۔ پرانی گاڑیوں، بجلی گھروں اور جہاز رانی میں اس ایندھن کا استعمال کیا جائے گا۔ ملک نے قومی توانائی ایمرجنسی بھی نافذ کر دی ہے تاکہ فوری اقدامات کیے جا سکیں۔حکومت اضافی تیل خریدنے اور متبادل ذرائع (جیسے روس سے تیل) تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ فلپائن کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں توانائی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے وقتی طور پر فوسل فیول پر انحصار ناگزیر ہے۔ فلپائن کی انرجی سیکرٹری شارون گیرن کے مطابق، قطر کے ’رأس لفان‘ (Ras Laffan) ایل این جی مرکز پر حملوں اور سپلائی میں خلل کے باعث گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ حکومت نے بجلی کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے یکم اپریل سے مقامی اور انڈونیشیا سے درآمد شدہ کوئلے (Coal) کا استعمال بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ عوام پر بجلی کے مہنگے بلوں کا بوجھ کم کیا جا سکے۔

چین کا ایک ہی دن میں خلا میں دس سیٹلائیٹ کا کامیاب لانچ

چین نے ۲۲؍مارچ ۲۰۲۶ کو Smart Dragon-3راکٹ کے ذریعے دس سیٹلائٹس خلا میں بھیجے۔ یہ راکٹ مشرقی صوبے شینڈونگ کے ساحل کے قریب سمندر سے لانچ کیا گیا۔ تمام سیٹلائٹس کامیابی کے ساتھ اپنے مقررہ مدار میں پہنچ گئے۔ اس مشن کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ راکٹ کو زمین کے بجائے سمندر میں موجود لانچ پلیٹ فارم (ship) سے بھیجا گیا ہے۔ یہ سیٹلائٹس دراصل CentiSpace نیٹ ورک کا حصہ ہیں، جو ایک جدید سیٹلائٹ سسٹم ہے۔ یہ سیٹلائٹس نیویگیشن اور پوزیشننگ خدمات فراہم کریں گے، نیز زمین کے قریب مدار (Low Earth Orbit) میں کام کریں گے۔ ان کا مقصد GPS جیسے عالمی نظاموں کو بہتر بنانا ہے۔ ان سیٹلائٹس کو ’بیجنگ فیوچر نیویگیشن ٹیکنالوجی‘ نے تیار کیا ہے، جو مستقبل میں زمین پر موجود سگنلز کو مزید بہتر بنانے میں مدد دیں گے۔ یہ سال ۲۰۲۶ء میں چین کا اب تک کا ۱۷واں کامیاب خلائی مشن تھا۔ چین کی جانب سے ایک ہی مشن میں ۱۰؍سیٹلائٹس کی لانچ نہ صرف تکنیکی کامیابی ہے بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ملک مستقبل میں خلائی میدان میں بڑی طاقت بننے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

جنوبی کوریا میں آٹو فیکٹری میں ہولناک آگ

جنوبی کوریا کے شہر ڈیجون میں مارچ ۲۰۲۶ء کے دوران ایک آٹو پارٹس فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آگ نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ حادثہ حالیہ برسوں میں جنوبی کوریا کی بدترین صنعتی آتشزدگیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔یہ آگ ۲۰؍مارچ کو ایک کار پارٹس بنانے والی فیکٹری میں اچانک بھڑک اٹھی۔فیکٹری میں اس وقت تقریباً ۱۷۰ مزدور موجود تھے۔ آگ تیزی سے پھیلی اور پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ لگنے سے پہلے دھماکے کی آواز بھی سنی گئی۔ حکام کے مطابق اس حادثے میں اب تک ۱۴؍افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ۶۰؍سے زائد زخمی ہیں۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ فیکٹری میں موجود مشینی تیل (Grease) اور بڑی مقدار میں موجود سوڈیم (Sodium) نے آگ کو تیزی سے پھیلانے میں ایندھن کا کام کیا۔ سوڈیم کی موجودگی کی وجہ سے فائر فائٹرز کو آگ بجھانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ یہ مادہ پانی کے ساتھ مل کر مزید دھماکہ خیز ہو جاتا ہے۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ تیسری منزل پر موجود کارکنوں کو باہر نکلنے کا موقع نہ مل سکا، جبکہ کچھ لوگوں نے جان بچانے کے لیے کھڑکیوں سے چھلانگیں لگا دیں۔ جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے حادثے کے مقام کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔ انہوں نے ملک میں صنعتی تحفظ کے قوانین کو مزید سخت کرنے کا حکم دیا ہے۔ کمپنی کے سی ای او سون جو-ہوان نے اس المناک حادثے پر معذرت کرتے ہوئے تحقیقات میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔اس آگ کے نتیجے میں ہنڈائی اور کیا کی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے۔ انجن والوز کی فراہمی میں تعطل کی وجہ سے سانتا فے (Santa Fe) اور کیا کارنیول (Kia Carnival) جیسے مشہور ماڈلز کی پیداوار رکنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے عالمی مارکیٹ میں گاڑیوں کی ترسیل میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث جنوبی کوریا ، چین ، ہانگ کانگ، سنگاپور، جاپان اور آسٹریلیا کی سٹاک ایکس چینجز میں مندی

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی بحران نے مارچ ۲۰۲۶ء میں مشرق بعید کی مالیاتی منڈیوں کو شدید متاثر کیا، جس کے نتیجے میں جنوبی کوریا، چین، ہانگ کانگ، سنگاپور، جاپان اور آسٹریلیا کی سٹاک ایکسچینجزمیں نمایاں مندی دیکھنے میں آئی۔ ماہرین کے مطابق یہ مندی بنیادی طور پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے، سرمایہ کاروں کے خوف اور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ ہے۔جنوبی کوریا کی مارکیٹ مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ کوریائی اسٹاک انڈیکس (KOSPI) میں مارچ کے دوران ۸فیصد سے ۱۲فیصد تک کی بڑی مندی دیکھی گئی۔عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کے ڈر سے Samsung اور SK Hynix جیسی بڑی کمپنیوں کے شیئرز میں تیزی سے کمی آئی۔ جنوبی کوریا اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مکمل طور پر درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے، اس لیے مارکیٹ نے شدید ردِعمل دیا۔

جاپان کی اسٹاک مارکیٹ Nikkei میں بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل رہا۔ مارچ کے وسط تک نکی انڈیکس میں ۳فیصد سے ۵فیصد تک کی یومیہ گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ ٹویوٹا اور ہونڈا جیسی آٹو موبائل کمپنیوں کے شیئرز گرے کیونکہ خام مال کی قیمتیں بڑھنے اور شپنگ کے اخراجات میں اضافے کی توقع ہے۔ ین (Yen) کی قدر میں اتار چڑھاؤ نے بھی مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا۔

چین کی بڑی سٹاک مارکیٹس جیسے CSI 300 Index میں تقریباً ۲فیصد کمی دیکھی گئی تاہم حکومتی سپورٹ اور ذخائر کی وجہ سے مندی کا یہ اثر کم رہا۔ مگر عالمی دباؤ اور برآمدات پر اثرات واضح رہے۔

اسی طرح ہانگ کانگ کی Hang Seng Index میں ۳سے ۴فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔

سنگاپور جو کہ ایشیا کا اہم مالیاتی مرکز ہے، وہاں بھی مندی کے اثرات نمایاں رہے۔ سنگاپور کے بڑے بینکوں (DBS, UOB) کے شیئرز میں ۲.۵ فیصد تک کی کمی آئی۔بلند شرح سود اور عالمی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (REITs) پر منفی اثر پڑا۔

یہی حال آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، تھالی لینڈ اور فلپائن کی منڈیوں کا بھی رہا۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: مکتوب جنوبی امریکہ(فروری۲۰۲۶ء)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button