حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭… پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل کے تنازع کے خاتمے کے لیے ایک دو مرحلوں پر مشتمل امن منصوبہ پیش کیا ہے جو امریکہ اور ایران کو بھجوا دیا گیا ہے۔ اس میں فوری جنگ بندی اور بعد ازاں جامع معاہدہ شامل ہے جس سے آبنائے ہرمز کھلنے کی امید ہے۔پاکستان اس عمل میں مرکزی رابطہ کار ہے اور اعلیٰ سطح پر سفارتی رابطے جاری ہیں۔ مجوزہ ’اسلام آباد معاہدہ‘ کے تحت پابندیوں میں نرمی اور ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی شامل ہو سکتی ہے تاہم ایران نے تاحال حتمی رضامندی ظاہر نہیں کی ۔

٭… یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے کہا ہے کہ شہری انفراسٹرکچر، خصوصاً توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا غیر قانونی اور ناقابل قبول ہے۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد آیا جس میں انہوں نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولا گیا تو ایرانی بجلی گھر اور پل نشانہ بنیں گے۔ کوسٹا نے زور دیا کہ کشیدگی امن نہیں لائے گی اور مذاکرات ہی حل ہیں، خاص طور پر علاقائی شراکت داروں کی قیادت میں جاری کوششیں۔ انہوں نے ایرانی شہریوں پر ممکنہ فوجی کارروائی کے اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی۔

٭… ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک سیاسی قیادت اسے ضروری سمجھے۔ ان کے مطابق جنگ کا مقصد مستقل سیکیورٹی کا حصول ہے تاکہ مستقبل میں تنازع نہ ہو۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ۴۵؍روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے اور فوجی کارروائی جاری ہے۔

٭… چین کے صدر شی جن پنگ نے ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی بحران کے پیش نظر ملک میں توانائی کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے نئے توانائی نظام کی منصوبہ بندی اور تعمیر میں تیز رفتاری کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے پن بجلی، ہوا اور شمسی توانائی کی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ پر زور دیا، ساتھ ہی جوہری توانائی کے محفوظ پھیلاؤ کی بھی ہدایت دی۔ ماہرین کے مطابق چین کے پاس توانائی کا بڑا حصہ کوئلے پر مشتمل ہے اور تیل کے ذخائر موجود ہیں، جس سے عالمی توانائی قیمتوں کے اثرات نسبتاً کم ہیں جبکہ اب بھی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر توانائی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

٭…روس کی ایک عدالت نے کرسک ریجن کے سابق گورنر الیکسی اسمیرنوف کو بدعنوانی کے جرم میں ۱۴؍سال قید کی سزا سنائی ہے۔ کرسک ریجن، جو یوکرین کے ساتھ سرحدی علاقے میں واقع ہے اور ۲۰۲۴ءمیں یوکرین کے کچھ حصوں کے قبضے کا تجربہ بھی رہا، میں متعدد سابق حکام کے خلاف بھی مقدمات چلائے گئے۔ یہ کارروائیاں سرحدی دفاع کے لیے مختص فنڈز میں خردبرد کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی ہیں جس کا مقصد سرحدی سیکیورٹی اور عوامی وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنانا ہے۔

٭… اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں کیے گئے حالیہ حملے میں قدس فورس کے اسپیشل آپریشنز یونٹ کے کمانڈر اصغر باقری ہلاک ہو گئے ہیں۔ باقری ۲۰۱۹ءسے یونٹ ۸۴۰؍کے سربراہ تھے اور قدس فورس کے بیرونِ ملک کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق وہ اسرائیلی اور امریکی شخصیات کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ یہ واقعہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں قدس فورس پاسدارانِ انقلاب کا اہم بیرونِ ملک آپریشنز شعبہ ہے۔

٭… اقوام متحدہ کی جوہری نگرانی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گراسی نے ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب حملوں پر خبردار کیا ہے کہ یہ ’’جوہری حفاظت کے لیے حقیقی خطرہ‘‘ ہیں اور انہیں فوری روکا جانا چاہیے۔ پلانٹ ملک کے جنوب میں واقع ہے اور اس میں ایک ہزار میگاواٹ کا ری ایکٹر ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد پلانٹ کو چار مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ آئی اے ای اے نے تصدیق کی کہ تازہ حملے سے پلانٹ کو نقصان نہیں پہنچا، لیکن یہ صرف ۷۵؍میٹر کے فاصلے پر ہوئے جو شدید تابکاری حادثے اور انسانی و ماحولیاتی خطرات کا سبب بن سکتے ہیں۔

٭… ایران کی وزارت خارجہ نے حالیہ امریکی ریسکیو آپریشن پر شک ظاہر کیا ہے کہ یہ اسلامی جمہوریہ سے افزودہ یورینیم چرانے کی آڑ ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایف15 طیارے کے عملے کا ایک رکن بازیاب کر لیا گیا، جسے ’’جرأت مندانہ‘‘ قرار دیا گیا۔ ایران کی فوج نے اس کارروائی کو ’’دھوکا اور ناکام مشن‘‘ بتایا اور دعویٰ کیا کہ طیاروں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے انہیں اصفہان میں ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی اور تباہ شدہ طیارے کو خود بمباری کے ذریعے تباہ کرنا پڑا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اس آپریشن پر کئی شکوک اور سوالات اٹھائے ہیں۔

٭… بھارت میں بنگلہ دیش کے ساتھ سرحدی دراندازی روکنے کے لیے سانپوں اور مگرمچھوں کے استعمال کی تجویز زیر غور ہے، خاص طور پر دلدلی اور دریائی علاقوں میں جہاں باڑ لگانا ممکن نہیں۔ بارڈر سیکیورٹی فورس کو ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہدایت دی گئی ہے جہاں یہ قدرتی رکاوٹ مؤثر ہو سکتی ہے۔ یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ حکام کے مطابق اس کا مقصد اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا ہے، جبکہ ڈرونز، کیمرے اور سینسرز جیسی جدید ٹیکنالوجی بھی سرحدی نگرانی کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button