حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ امریکہ اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز اور طبّی ماہرین کے ایک وفد کی ملاقات

پہلی بات یہ ہے کہ اللہ سے تعلق۔پھراحمدی ڈاکٹر کو علم بھی حاصل کرنا چاہیے اور علم قرآنِ شریف سے حاصل ہوتا ہے۔پھر جس طرح مَیں نے پہلے کہا کہ عاجزی اور اللہ تعالیٰ پر مکمل انحصار کرنا کہ اللہ ہی سب کچھ کرتا ہے۔اور اچھے اخلاق۔ یہ تین چار باتیں ہیں،احمدی ڈاکٹر میں ہوں تو کامیاب ہے۔ اللہ کو بھی راضی کر لیتا ہے اوربندوں کو بھی راضی کر لیتا ہے

مورخہ ۲۹؍ مارچ ۲۰۲۶ء ، بروز اتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ امریکہ اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے احباب و خواتین پر مشتمل ڈاکٹرز اور طبّی ماہرین کےچونتیس (۳۴) رکنی وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے امریکہ اور کینیڈا سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

بعدازاں تمام شاملین مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔

سب سے پہلے حضورِ انور نے شرکائے مجلس کو دنیا کے پسماندہ علاقوں اور خاص طور پر پاکستان کے شہر ربوہ میں قائم طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ اور فضلِ عمر ہسپتال میں خدمتِ انسانیت کے لیے وقفِ عارضی پر جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ ایک تو یہی بات ہے کہ وقفِ عارضی پرجایا کریں۔ پھر حضورِ انور نے حاضرین میں سےدائیں جانب بیٹھی ہوئی خواتین اور بائیں جانب بیٹھے مرد احباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ جا رہی ہیں یا کوئی اور لوگ جا رہے ہیں، اس تعداد کو بڑھائیں۔نیز ہدایت فرمائی کہ جو specialist ہے، expertise ہے، اس کو زیادہ سے زیادہ وہاں جا کر بتائیں۔ لیکن وہاں کا جو ماحول ہے وہاں تھوڑاadjustکرنا مشکل ہوتا ہے۔

نئی نئی تجاویز کے حوالے سے حضورِ انور نے شرکائے مجلس میں سے خواتین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری یہ جو فارماسسٹ ہیں، یہ بڑے اچھے مشورے دیتی ہیں۔ لیکن وہاں والے جو ہیں، ان کے اپنے مشورے ہیں، اپنی کچھlimitations ہیں، وہ مانتے نہیں ہیں یا مانتے ہیں تو کچھ اور طرح کرنا چاہتے ہیں۔

بعدازاں حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ بہرحال پہلی چیز تو یہ وقف عارضی ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ پہلے بھی مَیں کہہ چکا ہوں کہ اللہ شافی ہوتا ہے۔ اس خطبے میں بھی مَیں نے کچھ بیان کیا تھا، ڈاکٹروں کے بارے میں کوئی بات؟

اس پر مرد احباب میں سے ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ حضور! آپ نے فرمایا تھا کہ شفا دینے والا تو خدا تعالیٰ ہوتا ہے اور ڈاکٹر تو صرف تسلّی دیتے ہیں۔

یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے فرمایا کہ ہاں! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ، توHealerتو اللہ تعالیٰ ہے، شفا دینے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لیے ہمیشہ اپنے مریضوں کو دیکھیں تو دعا کر کے دیکھا کریں اور ہمیشہ ہی ڈاکٹر کی اپنی ایک انفرادیت اورdistinctionہونی چاہیے کہ اس نے کس طرح مریضوں کوtreatکرنا ہے۔ اسی طرح وہاں پاکستان جاتے ہیں، وہاں بھی یہ نہ دیکھیں کہ فلاں ڈاکٹر اتنا competentنہیں ہے یا مَیں زیادہ اچھی ہوں، اللہ کے فضل کو مدّنظر رکھتے ہوئے دیکھیں اور ایک دوسرے کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کیا کریں۔ ان کے وہاں کے ماحول کا اپنا experience ہے اور آپ کو اس ماحول کا اپنا experienceہے ۔

شاملینِ مجلس میں سے ایک خاتون سے مخاطب ہوتے ہوئے حضورِ انور نے فرمایا کہ ڈاکٹر صاحبہ! آپ جا رہی ہیں، nephrologist(ماہرِ امراضِ گردہ) ہیں، آپ کے جو مریض آتے ہیں، اس میں سے کتنے پرسنٹ ایشین ہوتے ہیں یا افریقن originکے ہوتے ہیں؟

تو انہوں نے عرض کیا کہ سارے ہی گورے ہوتے ہیں۔

یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے فرمایا کہ تو پھر ان کو تو اور طرح آپ treatکرتی ہیں۔ پاکستانیوں کو دیکھنا ہے تو اور طرح دیکھنا ہے، ان کی تسلّی بھی اور طرح کرانی ہے۔ وہ ایک دفعہ میں آپ سے کئی کئی سوال کریں گے، پھر باتیں بھی نہیں مانیں گے، پھر بحث بھی کریں گے۔ پھر ڈاکٹر جو ہے وہ بھی ایسا ہی کرے گا۔ تو اس لیے بڑے تحمّل سے بڑیpatienceظاہر کرنی پڑے گی۔پھر ہی کام ہوتے ہیں۔

حضورِ انور کی اس منظر کشی پر تمام شاملینِ مجلس بھی کھل کر مسکرادیے۔

ان بیش قیمت نصائح کے آخر میں حضورِ انور نے اس اَمر کا اعادہ فرمایا کہ سوکوشش یہ کریں کہ سارےزیادہ سے زیادہ وقف عارضی پر جایا کریں ۔

مزیدبرآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت اقدس میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک شریکِ مجلس نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ میڈیکل کے طلبہ ، خاص طور پر وہ جو وقفِ نَو ہیں، ان کےلیےآپ کی کیا راہنمائی اور ہدایت ہے تاکہ وہ نہ صرف قابل ڈاکٹر بنیں بلکہ خلافت اور خدا تعالیٰ کا بھی قرب حاصل کریں، اور اس طرح وقفِ عارضی کے تحت اور وقفِ زندگی کی حیثیت سے بھرپور طور پر خدمت کرنے کی تحریک ملے؟

اس پر حضورِ انور نے یاد دلایاکہ ابھی تو مَیں نے بتایا کہ اللہ کو یاد کرو۔ Allah is the Healer ، کسیpatient کو دیکھو، اس کو یہی سمجھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو شفا دینی ہے۔ اس لیے مَیں نے ڈاکٹروں کو ایک عرصہ ہوا ہے، ایک خطبہ دیا تھا اورکہا تھا کہ نسخے کے اُوپر ھُوَ الشَّافِیلکھا کریں کہ صحت دینے والا، شفا دینے والا اللہ ہے۔ سو!اس کو یاد رکھو۔ [قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس جواب میں جس خطبہ جمعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے وہ مورخہ ۱۹؍دسمبر ۲۰۰۸ء کا ارشاد فرمودہ ہے۔ اس کے مکمل متن کے لیے ملاحظہ ہو الفضل انٹرنیشنل ۹؍جنوری ۲۰۰۹ء]

حضورِ انور نے پنج وقتہ نمازیں پڑھنے اور دعا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ پانچ وقت کی نمازیں ڈاکٹروں کو پڑھنی چاہئیں اور زیادہcritical کیس ہو، تو دعا زیادہ کرنی چاہیے۔

اسی طرح حضورِ انور نے پرانے بزرگ احمدی ڈاکٹرز کے عملی نمونے کی مثال دیتے ہوئے واقفینِ نَو پر عائد ہونے والی اضافی ذمہ داری کی بابت توجہ دلائی کہ پُرانے ڈاکٹر تھے، وہ تو بعض پُرانے ہمارے بزرگ ڈاکٹروں نے لکھا ہوا ہے، میر اسماعیل صاحب رضی الله عنہ تھے یا دوسرے، وہ تو کہتے ہیں کہ ہم تو مریضوں کے لیےدو دو نفل بھی پڑھا کرتے تھے۔ اس لیےاپنے مریضوں کےلیے تو وقفِ نَو والے کو تو اس سے اور زیادہ کام کرنا چاہیے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ یہی ہے کہ اللہ کو یاد رکھو ،باقی سب دنیا تو چلتی رہتی ہے۔

ایک خاتون شریکِ مجلس نے اس حوالے سے راہنمائی کی درخواست کی کہ سائیکالوجسٹ کے طور پر میرا تجربہ یہ ہے کہ ہماری کمیونٹی کے لوگ اب بھی جذباتی یا نفسیاتی مسائل کے بارے میں بات کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔

اس پر حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ زیادہ open نہیں ہوتے، بتاتے نہیں اور شرم محسوس کرتے ہیں؟

اثبات میں جواب سماعت فرما کر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ لیکن بعض بالکل ہی بے شرم ہوتے ہیں۔ حضورِ انور کے اس برجستہ تبصرے پر تمام شاملینِ مجلس بھی مسکرا دیے۔

حضورِ انور نے لوگوں کے مسائل کھل کر بیان نہ کرنے اور بات کرنے میں پائے جانے والے عدم اعتماد کی نشاندہی کرتے ہوئے، اعتماد پیداکرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ دونوں طرح کے لوگ ہوتےہیں۔دونوں طرح ہی کیcategories ہیں۔ مجھے تو لکھتے ہیں، بعض دفعہ بالکل کھل کے لکھنے والے بھی ہیں اور بعض اس لیےنہیں ہوتے کہ ان کا خیال ہے کہ پاکستانی ڈاکٹر کے پاس جائیں گے، تو ان کو باتیں کرنے کی عادت ہے، اپنے رشتہ داروں کو ،بہن کو، بھائی کو، ماں کو، یا میرے کسی دوست کے ساتھ بات نہ کر لے۔ تو اس لیے وہhesitateکرتے ہیں۔ تو اگر آپ ان میںconfidence پیدا کر دیں کہ تم میرے سے بات کرو، تمہارا secret ، secret ہی رہے گا ، تو پھر وہ بتاتے ہیں۔

حضورِ انور نے ایک ماہرِ نفسیات کے بنیادی فرض کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے فرمایا کہ ایکpsychiatrist کا تو کام یہی ہے کہ اس کو چھپا کے رکھے، یہ نہیں کہ ہر ایک سے بات کرتا پھرے۔ تو یہ تو ان لوگوں میں confidence buildکرنے والی بات ہے ۔ جب وہ ہوجائے گا تو ٹھیک ہے۔

مزید برآں حضورِ انور نے لوگوں میں پائے جانے والے اس عمومی رجحان کا بھی تذکرہ فرمایا کہ وہ پسند کرتے ہیں کہ ہم کسی غیر کے پاس جائیں اور انگریز کے پاس جائیں ، کینیڈین کے پاس جائیں تو وہاں language barrier آ جاتا ہے وہ پوری طرحexpress نہیں کر سکتے۔ سکھوں کے پاس جائیں تو ان سے تھوڑا بہت بیان ہو سکتا ہے ، لیکن وہاں بھی ان کو خطرہ ہوتا ہے کہ کوئی کسی واقفِ کار احمدی سے ذکر نہ کر دے۔

اسی طرح حضورِ انور نےبعض ماہرینِ نفسیات کے غلط رویّے کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنی مذہبی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے شعبےبعض دفعہpsychiatristsبھیmisguideکرتے ہیں۔ بعض چیزیں صحیح نہیں ہیں، تو کہتے ہیں کہ ان کو بھی openlyظاہر کرو اور اپنے آپ میںconfidenceپیدا کرو ۔ وہ پھر اتنا open ہو جاتے ہیں کہ پھر بُرائیاں پھیلنی شروع ہو جاتی ہیں۔ بجائے اس کے کہ علاج ہو، وہ اور زیادہ ہیoverconfidentہو کے بُرائیاں پیدا کرتے ہیں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے مؤخر الذکر تناظر میں مذہبی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دینے اور مریضوں سے مناسب طریق پر برتاؤ کرنے کی اہمیت پر توجہ دلائی کہ تو اس لحاظ سے بھی آپ لوگوں کو دیکھنا چاہیے کہ کس طرح آپ نے اپنے مذہب کی جو limitationsہیں اس کے اندر رہتے ہوئے اپنے پروفیشن کو apply کرنا ہے اورکس طرح ان کوtreat کرنا ہے۔

ایک شریک مجلس نے سوال کیا کہ فزیشنز اور طبّی ماہرین کے لیے آپ کی کیا راہنمائی ہے کہ وہ جماعت میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور دیگر غیر طبّی فرائض کے درمیان کس طرح توازن برقرار رکھ سکتی ہیں؟

سب سے پہلے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس غیر پیشہ ورانہ ذمہ داریاں کیا کیا ہیں؟ اس پر خاتون ڈاکٹر نے طاہر اکیڈمی اور لجنہ کے کام کا ذکر کیا۔

پھرحضورِ انور نے پیشہ ورانہ فرائض اور دیگر اُمور کے لیے وقف وقت کے توازن پر راہنمائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تمہارا کام تمہارا اپنا پروفیشن ہےاور لجنہ کا کام تو ہو سکتا ہے کہ ایک ہفتے میں زیادہ سے زیادہ تم نے لجنہ کودو گھنٹے دے دیے، کون سے اتنے کام کرتے ہو، مجھے پتا ہے کہ لجنہ کتنا کام کرتی ہے ۔ ہفتے میں دو گھنٹے یا تین گھنٹے دے دیتے ہو، تو weekendپر دیے جا سکتے ہیں، اس میں تو ایسی کوئی بات نہیں۔ پھر بچے ہیں، اگر چھوٹے ہیں، لیکن تمہارے بچے بھی بڑے ہو گئے تو وہ بھی مسئلہ کوئی نہیں۔ تو باقی طاہر اکیڈمی ہے، اس میں دیکھ لو کہ کتنا وقت دے سکتی ہو؟جس پر انہوں نے عرض کیا کہ مہینے میں دو یا تین کلاسز ہوتی ہیں۔اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ دو یا تین کلاسز مہینے میں ہوتی ہیں، تو پھر کون سا ایسا مسئلہ ہے۔

پھر حضورِ انور نے استفسار فرمایا کہ اس کے علاوہ کام ہوتا ہے، تو انہوں نے عرض کیا کہ اس کےعلاوہ لجنہ کا تھوڑا بہت کام ہوتا ہے۔

اس پر حضورِ انور نے لجنہ کے کام کی محدود نوعیت اور ضرورت سے زیادہ فکر کرنے سے بچنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے سمجھایا کہ لجنہ کا کام کتنا ہو گا، سارے اتنا ہی کرتے ہیں، اتنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہاں! اگر زیادہ سوچتے رہو، زیادہ سوچ سوچ کے تو پھر آدمی کادماغ ویسے ہی خراب ہو جاتا ہے، پھر psychiatristکے پاس چلے جاؤ۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے تناظر میں حقیقت پسندانہ نقطۂ  نظر اپناتے ہوئے، غیر ضروری پریشانی سے بچنے اور ذہنی سکون قائم رکھنے کی اہمیت پر زور دیا کہ اپنے پروفیشن میں جتنا کام کر سکتے ہو آسانی سے کرو۔ آسانیاں خود پیدا کرنی چاہئیں۔ اللہ سے دعا کرو تواللہ تعالیٰ گائیڈ کر دیتا ہے اور زیادہ بوجھ نہ لیا کرو۔ بعض طبیعتیں بوجھ لینے کی ہوتی ہیں ۔تم کہتی ہو کہ جو چیز مَیں کروں اس میں بڑی perfection ہونی چاہیے۔ دنیا میں کسی کام میںperfection نہیں ہو سکتی، چھوٹے موٹے نقص رہ ہی جاتے ہیں، توان کو بھول جایا کرو۔ اگر اس طرح انسان اتنا perfect ہو جائے تو دنیا میں انقلاب نہ آ جائے۔ کوئی پروفیشنل جو ہے وہ اتنا perfectنہیں ہوتا، اس لیےآپ relax ہو کے کام کریں ، زیادہ پریشان نہ ہوا کریں ۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ بحیثیتِ فیملی فزیشن، میرا روزانہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے مریضوں اور افراد سے واسطہ پڑتا ہے۔ نیز اس ضمن میں راہنمائی کی درخواست کی کہ ہم اپنی کلینکل پریکٹس اور مریضوں کے ساتھ گفتگو کے دوران اسلام کے امن، ہمدردی اور خدمتِ خلق کے پیغام کو مؤثر انداز میں کس طرح پہنچا سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے طبّی پیشے میں حسنِ اخلاق، حسنِ سلوک اور حسنِ تعامل کی بنیادی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ مَیں نے بتایا کہ atheist ہیں یا عیسائی ہیں یا بدھسٹ ہیں یا سکھ ہیں، اصولی پوزیشن تو یہ ہے کہ ڈاکٹر کا پہلا کام تو اچھے اخلاق ہیں، اگر آپ کے اخلاق اچھے ہیں، آپ کی لوگوں سےtreatmentاچھی ہے، interaction اچھا ہے، تو لوگ خود ہی آپ کے پاس آئیں گے۔مَیں نے بتایا ہے کہ آدھی بیماری تو مریض کی ویسے ہی دُور ہو جاتی ہے، وہ آپ کے پاس آتے ہیں اورtreatmentلیتے ہیں اور اس کے بعد جا کے بتاتے ہیں۔ آج کل تو سوشل میڈیا کے اُوپر ہر ایک، جو ڈاکٹر ہیں، انہوں نے بھی اپنی اشتہار بازی رکھی ہوئی ہے اور اس کے اُوپر reviewsآ جاتے ہیں۔ کئی مریض جا کے لکھ دیتے ہیں کہ وہ ایک physiotherapist ہے، اس نے یہ کیا، تو اس نے دس مریضوں کو اچھی طرحtreat کیا ، انہوں نے جا کے اتنےreviewsاس کے حق میں لکھ دیے کہ اس کے پاس اتنےpatientآنے لگ گئے کہ بھرمار ہو گئی۔ سو! یہ تو اپنے اخلاق کی بات ہے اور آج کل تو اشتہار بازی بڑی آسان ہے۔ جہاں سوشل میڈیا پر غلط کام ہو رہے ہیں ، وہاں اچھے کام بھی بعض ہو رہے ہیں اور آپ لوگوں کے پیسے بھی بن رہے ہیں اور ایسے ہی بنتے ہیں۔

حضورِ انور نے ایک احمدی ڈاکٹر سے وابستہ عملی اور اخلاقی تقاضوں کے حوالے سے راہنمائی عطا فرماتے ہوئے فرمایا کہ تو اصل چیز تو یہی ہے کہ احمدی ڈاکٹر کواچھے اخلاق اور دعا دونوں چیزیں کرنی چاہئیں اور مریض کسی بھی backgroundکے ہوں، اگر اخلاق اچھے ہیں، تو وہ آپ کے قائل ہو جائیں گے اور ان کےلیے treatmentکے ساتھ دعا کرنا بھی آپ کا کام ہے۔ وہ ان کو بھی مَیں نے یہ بتایا اورآپ کو بھی بتا رہا ہوں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے شخصی اثر اور اعتماد و اعتقاد سے پیدا ہونے والے نفسیاتی اثر کو ایک عملی مثال کے ذریعے واضح کرتے ہوئے نہایت دلچسپ واقعہ بیان فرمایا کہ کسی پر اعتماد ہو توباقی شخصیاتی اثر بھی ہوتا ہے اور اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ کچھ نہ بھی دو تو اثر ہو جاتا ہے۔ ایک واقعہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی الله عنہ کالکھا ہے کہ قادیان میں ایک مریض تھا ، اس کے پیٹ میں درد تھی اور چیخیں مار رہا تھا اور کسی دوائی سے، دو تین ڈاکٹر بیٹھے تھے، کچھ آرام نہیں آرہا تھا۔ تو حضرت میاں شریف احمد صاحبؓ  کو پتا لگا ، وہ گئے اور انہوں نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ خیر! انہوں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور جیب میں ہاتھ تھوڑی دیر رکھتے ہوئے کچھ دعا کرتے رہے۔اس کے بعد مریض کو کہا کہ منہ کھولو، کوئی گولی سی تھی، منہ میں ڈال دی اور کہا پانی پی لو۔ تو پندرہ منٹ میں اس کو آرام آ گیا۔ تو لوگوں نے کہا کہ میاں صاحبؓ آپ نے اس کو کیا دوائی دی تھی؟ کہنے لگے کہ کچھ نہیں، صرف اعتقاد کی بات ہے، اس پر نفسیاتی اثر تھا۔ جیب میں چھوٹا سا ایک کاغذ کا ٹکڑا تھا ، مَیں نے اس کی یوں ہی گولی بنا لی اور وہ گولی بنا کے، دعا کر کے، اس کے منہ میں ڈال دی، تو وہ ٹھیک ہو گیا۔ تو نفسیاتی اثر بھی ہوتا ہے ۔

ایک شریک مجلس نے سوال کیا کہ وقف اور وقفِ عارضی کی حقیقی روح کیا ہے، اور کوئی شخص کس طرح اس اَمر کو یقینی بنا سکتا ہے کہ یہ محض خدمت کا ایک عارضی عمل نہ رہے بلکہ دائمی طور پر اصلاحِ نفس اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بن جائے؟

اس پر حضورِ انور نے پُر حکمت انداز میں زندگی میں نظم و ضبط قائم کرنے اور اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے پنج وقتہ نماز کے عملی نظام پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اللہ سے تعلق پیدا کرو ۔دیکھو! اللہ میاں نے کہا کہ پانچ وقت نمازیں پڑھو۔ اپنی زندگی کو regulateاورdiscipline کرنے کے لیے کوئی چیز چاہیے۔ آپ جب میڈیکل سٹوڈنٹ تھے، تو صبح بھی پڑھتے تھے، رات بھی پڑھتے تھے، امتحانوں کے دنوں میں خاص طور پر زیادہ اورویسے regular پڑھتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں دے کے زندگی کوregulate کرنے کا ایک سسٹم بنا دیا ہے کہ صبح فجر پراُٹھو، نماز پڑھو، تلاوت کرو اور تھوڑی exercise کرو۔ اگر کوئی وقت ہے، دن کا آفس ٹائم ہے، تو تھوڑا سا napلے لو۔ تو صبح بھی لوگ سوتے ہیں، اچھی نیند پُوری کر لیتے ہیں اور پھر سارا دن کام کر کے ظہر کی نماز ہے، عصر کی نماز ہے، مغرب اور عشاء ہے، اس سےایک تو زندگیdiscipline ہوتی ہے تو دوسرے اللہ سے تعلق پیدا ہوتا ہے۔ تو صحیح طریقہ تو یہی ہے۔

حضورِ انور نے ایک احمدی ڈاکٹر کے لیے حصولِ علم کے لیے قرآنِ شریف پر مستقل غور و فکر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ پھر علم حاصل کرنا بھی ضروری ہے ، اس کے لیے بھی قرآن شریف میں جو اللہ تعالیٰ نے بتایا، صرف یہ کہہ دینا کہ ہفتے میں جا کے ایک دفعہ خطبہ سن لینا یا قرآنِ شریف کو کبھی پڑھ لینا یادیکھ لینا، تو یہ کام نہیں ہے۔ پڑھے لکھے لوگوں کا تو یہ کام ہے کہ آدھا پونا گھنٹہ اس پر غور کریں اور اسے وقت دیں۔

اسی تناظر میں حضورِ انور نے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ کی پیشہ ورانہ مہارت، علمی اور ادبی قابلیت کے پیرائے میں، نیز عصرِ حاضر میں ان خصوصیات کے حامل دیگر احمدی ڈاکٹرز کے عملی نمونے کی جانب ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا کہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی الله عنہ سرجن ڈاکٹر تھے اور آج کل تو ہر چیز کے specialist ہیں، specializationہے کہ یہ کرو یا وہ کرو، وہ ای این ٹی بھی کرتے تھے ، گائناکالوجسٹ بھی تھے، جنرل سرجن بھی تھے، سب کچھ کیا کرتے تھے اور بڑے اچھے کامیاب سرجن تھے۔ لیکن ساتھ ہی ان کی فارسی نظمیں بھی ہیں اور اُردو کی نظمیں بھی ہیں اور اچھی شاعری بھی ہے اور ہمارے کئی اور ڈاکٹر اس وقت بھی دنیا میں ہیں کہ جو اس طرح کرتے ہیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ اللہ سے تعلق۔پھراحمدی ڈاکٹر کو علم بھی حاصل کرنا چاہیے اور علم قرآنِ شریف سے حاصل ہوتا ہے۔پھر جس طرح مَیں نے پہلے کہا کہ عاجزی اور اللہ تعالیٰ پر مکمل انحصار کرنا کہ اللہ ہی سب کچھ کرتا ہے۔اور اچھے اخلاق۔ یہ تین چار باتیں ہیں،احمدی ڈاکٹر میں ہوں تو کامیاب ہے۔ اللہ کو بھی راضی کر لیتا ہے اوربندوں کو بھی راضی کر لیتا ہے

[قارئین کی معلومات کے لیے درج کیا جاتا ہے کہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی الله عنہ ایک عظیم صوفی، عارف بالله، عاشقِ رسولؐ، ایک بلند پایہ شاعر اور صاحبِ کشف و کمالات بزرگ ہستی تھے۔ آپؓ مورخہ۱۸؍جولائی ۱۸۸۱ء کو دہلی میں پیدا ہوئے اور مورخہ ۱۸؍ جولائی ۱۹۴۷ء کو قادیان دار الامان میں بعمر ۶۶؍ برس وفات پائی۔

آپؓ کا تعلق دہلی کے ایک معزز اور معروف سیّد خاندان سے تھا، نسب کے اعتبار سے آپؓ حسینی سیّد تھے، یعنی آپؓ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم کے نواسے حضرت امام حسین رضی الله عنہ کی نسل سے تھے۔اسی طرح آپؓ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تین سو تیرہ صحابہؓ  کی فہرست میں شامل ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔

آپؓ کے والد حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی الله عنہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے خُسرِ محترم اور والدہ حضرت سیّد بیگم صاحبہ آپؑ کی خوش دامن تھیں۔ اور آپؓ کے والدین کی قبور بہشتی مقبرہ قادیان میں ساتھ ساتھ ہیں۔ ان کے بطن سے آپؓ سمیت کُل تیرہ بہن بھائی پیدا ہوئے ، لیکن مشیّتِ الٰہی کے تحت صرف تین ہی حیات رہے، جن میں آپؓ کے علاوہ اُمّ المومنین حضرت سیّدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ رضی الله عنہا المعروف حضرت امّاں جانؓ حرم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت میر محمد اسحٰق صاحب رضی الله عنہ شامل ہیں۔

بچپن اور سکول کا زمانہ قادیان میں گزارا اور آپؓ کی پرورش حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زیرِ نگرانی ہوئی۔۱۹۰۰ء میں ایف ایس سی کا امتحان پاس کرنے کے بعد آپؓ کا داخلہ میڈیکل کالج میں ہوا اور پانچ سال کےبعد ۱۹۰۵ء میں آپؓ نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہورسے ایم بی بی ایس کا نہ صرف امتحان پاس کیا بلکہ پنجاب بھر میں اوّل پوزیشن بھی حاصل کی۔ اور یہ ۱۹۰۰ء کی ہی بات ہے، جب آپؓ کی عمر تقریباً اُنیس برس تھی ، تو آپؓ نے خطبۂ الہامیہ چند ہی دن میں زبانی یاد کر کے سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سنانے کی سعادت پائی۔

آپؓ کی دو شادیاں ہوئیں، پہلی زوجہ محترمہ شوکت سلطان صاحبہ اور دوسری زوجہ محترمہ امۃاللطیف بیگم صاحبہ تھیں۔ حسنِ تربیت کا اثر یہ تھا کہ ساری عمر دونوں میں کوئی ناچاقی نہ ہوئی اور آپؓ کی وفات کے بعد بھی وہ اکٹھی رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو تین بیٹے اور سات بیٹیاں عطا فرمائیں۔ آپؓ کی سب سے بڑی بیٹی حضرت سیّدہ مریم صدیقہ کا ہاتھ حضرت اُمّ المومنینؓ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے لیے مانگ لیا تھااور یہ بابرکت شادی ۱۹۳۵ء میں عمل میں آئی اور بعد ازاں آپؓ چھوٹی آپا کے نام سے مشہور ہوئیں۔آپؓ کی تمام اولاد دوسری زوجہ محترمہ سے پیداہوئی، لیکن بچوں کو بڑے ہو کر ہی معلوم ہوا کہ انہیں کس ماں نے جنم دیا۔

۱۹۳۶ء میں آپؓ سول سرجن کے عہدے سے ریٹائر ہو کر قادیان آباد ہو گئے اور پھر تمام زندگی یہیں بسر کی۔

آپؓ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے بہت سے دلچسپ اور سبق آموز اور ایمان افروز واقعات ایک کتاب آپ بیتی میں یکجا کیے جو کہ ایک احمدی ڈاکٹر کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

آپؓ کا منظوم مجموعۂ کلام بخارِ دل کے نام سے موسوم ہے۔ آپؓ کی ایک معرکۃ الآراءنعت سلام بحضور سید الانامؐ کے بارے میں سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ الله نے برموقع جلسہ سالانہ جرمنی ۲۰۰۱ء ارشاد فرمایا تھا کہ جب سے مَیں نے ہوش سنبھالی ہے، کبھی ایسی نعت ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نعتوں کے بعد نہ سنی نہ کبھی دیکھی۔ اور میرا خیال ہے کہ ہمیشہ کے لیے یہ نعت حضرت میر صاحبؓ  کو ایک خراجِ تحسین پیش کرتی رہے گی۔

پھر ایم ٹی اے کی برکت سے کیمرے کی آنکھ نے وہ روح پرور منظر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا، جب یہ کلام پڑھا جارہا تھا اور حضرت خلیفۃالمسیح الرّابعؒ ساتھ ساتھ عَلَیْكَ الصّلٰوۃُ عَلَیْكَ السَّلَام دُہرا رہے تھے۔ آپؒ کا نورانی، اجلیٰ اور مبارک چہرہ، ساتھ پُر سوز آواز میں ان الفاظ کا دُہرایا جانا، دلفریب اور مسحور کُن منظر پیش کر رہا تھا ، جو ان شاء اللہ رہتی دنیا تک آنکھوں کو ٹھنڈک، دلوں کو سرور اور کانوں کو شیرینی بخشتا رہے گا۔

آپؓ نے بطورِ علمی و ادبی سرمایہ مشہور تصانیف یادگار چھوڑیں، جن میں مقطعاتِ قرآنی، تحفۂ احمدیت، اُردو ترجمہ درّ ثمین فارسی، بخارِ دل، آپ بیتی، کر نہ کر، اربعینِ اطفال، مذہب کی ضرورت، دکھ سکھ، جامع الاذکار، حفاظتِ رِیش، تاریخ مسجد فضل لندن شامل ہیں، نیز متعدد عناوین پر بیش قیمت نثری مضامین بھی رقم فرمائے۔]

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ مَیں گذشتہ تیس برس سے فیملی فزیشن کے طور پر کام کر رہی ہوں۔ اب میرے کافی مریض سینئر ہو گئے ہیں، جن میں پاکستانی اور انڈین بھی شامل ہیں، اور کچھ سفید فام یا یورپی نسل کے بھی ہیں، نیز اس حوالے سے راہنمائی کی درخواست کی کہ اکثر وہ medical assisted dyingکے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اگر ہمیں شدید dementia یا Alzheimer’s ہو جائے، تو ہم وہ کرنا چاہتے ہیں۔

اس پر حضورِ انور نے استفسار فرمایا کہ یہ Mercy Killingجو ہے؟اثبات میں جواب سماعت فرمانے کے بعد حضورِ انور نے واضح کیا کہ ہم اس کو نہیں مانتے۔

حضورِ انور نے آجکل کے مادی دَور میں اخلاقی قدروں کے انحطاط پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ یہاں توatheistکا تو پتا ہی کوئی نہیں۔ اخلاق کا پتا کوئی نہیں۔ بڑوں کیrespectکا پتا کوئی نہیں۔ ان کی دعاؤں کا پتا کوئی نہیں۔ تو وہ بندہ بوڑھا ہوتا ہے، توکہتے ہیں کہ اس کوold people’s houseمیں ڈال دو ، اور ماں باپ کوکہتے ہیں کہ جاؤ ہفتے میں جا کے مل جائیں گے۔ بعض توعیسائی ہیں، ان کوکرسمس پربھی کوئی پوچھنے کو نہیں آتا۔ ہمارے لوگ جاتے ہیں، ان کو تحفہ دینے، تو وہ روتے ہیں۔ ان کو ملتے ہیں، گلے لگاتے ہیں کہ تم ہمیں پوچھنے آئے ہو کہ ہمارا بیٹا ہے، ہماری بیٹی ہے، ہمیں پوچھتا ہی کوئی نہیں۔ تو ایسے لوگ پھر یہی چاہیں گے کہ ہمیں مار دو۔

پھر حضورِ انور نے زندگی سے اُکتائے ہوئے مریضوں کے ساتھ ہمدردی اور انہیں زندہ رہنے کی ترغیب دینے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ تو ہمارا تو کام یہ ہے کہ ان سے ہمدردی کریں اور تھوڑا سا ان کاmorale high کریں کہ تم نے زندہ رہنا ہے۔ اور جوdementiaوغیرہ کے مریض ہیں وہ تو ایسے ہیں کہ وہ خود تونہیں کہتے کہ ہمیں مار دو۔ ان کو تو پتا ہی نہیں، آج ایک بات کی ہے تو دس منٹ بعد کچھ اَور بات کر رہے ہوں گے۔ بھول جاتے ہیں کہ مَیں نے کیا کہا۔ اس لیے وہ کس کی مرضی سے ایسا کر رہے ہیں؟ اگر ان کے بچے کہتے ہیں، تو وہ ظلم کر رہے ہیں، اپنے ماں باپ کوقتل کروانا چاہ رہے ہیں۔

مزید برآں حضورِ انور نےکسی کے فائدے کے لیےاسے مرنے میں مدد فراہم کرنےپر مبنی خیال کی سختی سے تردید کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ اس لیے یہ ویسے ہی غلط بات ہے۔مَیں تو بہرحال اس کا قائل نہیں اور نہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔مریضوں کو سنبھالنا چاہیے۔ آپ کے مختلف سینٹربنے ہوئے ہیں، وہاں آپ مریض دیکھتے ہیں اورمریضوں کوtreatکیا جاتا ہے۔ یا اگر آپ کے ماں باپ بوڑھے ہو جائیں تو آپ ان کو کہیں گےکہ جاؤ تم سڑک پر چلے جاؤ، ایسا نہیں نہ کرتے۔ تو ہماری ایشین تو سوچ ہی یہ نہیں ہے، نہ کسی مذہبی آدمی کی سوچ ہو سکتی ہے، نہ افریقہ والوں کی یہ سوچ ہے، وہ تو جس حدّ تک ہو خدمت کرتے ہیں۔ اس لیے یہ خیال ہی غلط ہے کہ ان کے فائدے کے لیے ان کو مار کر دو۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے کینسر کے مریض کی مثال دیتے ہوئے ہمدردی، احتیاط اور زندگی کی قدر کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ ہاں! بعض دفعہ بعض مریض کینسر کے مریض ہیں، درد ان کے پیٹ میں ہے، کینسر ہے، عورت کو uterus کا کینسر ہے یا کسی اور چیز کا کسی مرد کو کینسرہے، اور وہ سخت تڑپ رہا ہے۔ وہ اپنے عزیزوں، رشتہ داروں کو کہتا ہے کہ بہتر ہے مجھے مار دو، تو اس پر آپ نیند کا ٹیکہ لگا کے سُلا تو دیتے ہیں، مارتے نہیں ہیں۔ جب تک سانس ہے، سانس رہنا چاہیے۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ کیاحضورِ انور ہمیں گھانا میں وقفِ زندگی ڈاکٹروں کے ساتھ اپنے تجربات کے متعلق کچھ بتا سکتے ہیں اور ان کی قربانیوں کے چند ایمان افروز واقعات بیان فرما سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے بیان فرمایا کہ گھانا میں اللہ کے فضل سے ہمارے ہسپتال بڑےمشہور تھے اور جو پاکستان میں فزیشن تھے، وہ وہاں جا کے وہاں کے سرجن بن گئے ۔ آپریشن ٹیبل اگر نہیں بھی موجود تھی، تو ڈائننگ ٹیبل کے اُوپر آپریشن کر دیا، تو ان پر تو اللہ تعالیٰ فضل کرتا تھا۔

اسی سلسلے میں حضورِ انور نے ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض دفعہ ہم بیمار ہوتے تھے، تو بعض ڈاکٹر کہتے تھے کہ یہ مریض کو مَیں نے دوا دی ہے، یہ تم کھاؤ تو تمہیں آرام آ جائے گا ۔ تو مجھے اس سے آرام نہیں آیا کرتا تھا ۔ تو مَیں ان ڈاکٹروں کو کہا کرتا تھا کہ تمہارے لیے افریقہ کے لوگوں کی خدمت کرنے کےلیے خلیفۂ وقت کی دعائیں ہیں،اس لیےیہ مریض تو ٹھیک ہو جائیں گے،مَیں نہیں تمہارے سے ٹھیک ہوتا۔ تو میرا تو یہ experience بھی ہے۔

یہ ارشاد فرماتے ہوئے حضورِ انور مسکرا دیے اور تمام حاضرینِ مجلس نے بھی مسکراتے ہوئے اس سےخوب حظّ اُٹھایا۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے گھانا کے واقفینِ زندگی ڈاکٹرز کے جملہ اوصاف پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ باقی اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں شفا رکھی تھی۔ بڑے devoted تھے، بڑی وفاداری سے کام کرتے تھے ، دن رات کام کرتے تھے اور غریبوں کی خدمت بھی کرتے تھے۔ اور جو امیر آتے تھے، ان سے پیسے بھی لیتے تھے ، اس لیے وہاں ان کا اچھا گزارہ ہو جاتا تھا ۔

یہ روح پرور نشست حضورِ انور کے دعائیہ کلمات ’’چلو پھرجزاک الله، الله حافظ!‘‘پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جماعت احمدیہ کی مرکزی ویب سائٹ alislam.org کے ٹیم ممبران کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button