از افاضاتِ خلفائے احمدیت

دنیا میں امن کے قیام اور کمیونزم کے مقابلہ کے لئےسارے گُر سورئہ فاتحہ میں موجود ہیں

(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۲۰؍ مئی۱۹۵۵ء بمقام زیورچ)

۱۹۵۵ء میں حضورؓ نے سوئٹزرلینڈ میں یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپؓ نے سورۃ الفاتحہ کی روشنی میں دنیا مین قیام امن اور کمیونزم کے مقابلہ کے گُرکو پُر معارف انداز میں بیان فرمایا ہے۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)

حقیقی حکومت وہی ہے جو تمام طبقوں کو بلکہ قوم کو بھی بھلا دے۔ کیا اس تعلیم پر عمل کرنے کے بعد دنیا میں امن کے مٹنے کا شائبہ بھی ہوسکتا ہے؟ اور کیا کوئی ایسی قوم کا دشمن بھی ہوسکتا ہے۔ دوسرے وجوہ سے دشمن ہو جائے تو ممکن ہے لیکن اِس فعل کی وجہ سے دشمن نہیں ہوسکتا۔ رسول کریم ﷺ نے اِس پر عمل کیا لیکن پھر بھی بعض لوگ آپ کے دشمن ہیں۔ مگر اِس وجہ سے نہیں کہ آپؐ نے غریبوں کو کیوں اونچا کیا بلکہ مذہبی تعصب کی وجہ سے۔ اس لیے کہ آپ نے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کی کیوں تعلیم دی

تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

چند سال ہوئے کہ میں ایک دفعہ برف دیکھنے کے لئے ڈلہوزی گیا۔ وہاں پرمیں دوپہر کے وقت تھوڑی دیر کے لئے بیٹھا تو مجھے الہام ہوا کہ

’’دنیا میں امن کے قیام اور کمیونزم کے مقابلہ کے لیے سارے گُر سورئہ فاتحہ میں موجود ہیں‘‘۔

مجھے اس کی تفسیر سمجھائی گئی جو عرفانی طور پر تھی نہ کہ تفصیلی طور پر۔ عرفان کے معنے یہ ہیں کہ دل میںملکہ پیدا کردیا جاتا ہے۔ لیکن وہ تفصیل الفاظ میں نہیں نازل ہوتی۔ کچھ دنوں کے بعد دوستوں سے اس کا ذکر آیا اور وہ پوچھتے رہے کہ اس کی کیا تفسیر ہے۔ میں نے کہا کہ میں کبھی اس کے متعلق مفصّل رسالہ لکھوں گا۔ خصوصاً جب مخالف دعویٰ کر ے کہ اُس کے پاس اِن دونوں کا جواب موجود ہے۔ لیکن خداتعالیٰ کی مشیت تھی کہ مجھے اب تک یہ رسالہ لکھنے کا موقع نہ ملا۔ اب جبکہ میں بیمار ہوگیا ہوں اور بظاہر اس کا موقع ملنا مشکل ہے میں نے مناسب سمجھا کہ خواہ اشارۃً ہی چند الفاظ میں ہو میں اس کا مضمون بیان کرتا رہوں تا وہ علماء کے کام آئے اور وہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

پہلی بات سورئہ فاتحہ کی پہلی آیت اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ (الفاتحۃ :۲)میں بیان کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہیں اور اس کی وجہ آیت کے پچھلے حصہ میں بتائی گئی ہے کہ وہ رب العالمین ہے۔ یعنی تمام کے تمام افراد کے ساتھ اس کا سلوک ربوبیت کا ہے۔

طبیعت کی کمزوری کی وجہ سے ربوبیت اور عالمیت کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔ موٹا مفہوم مختصراً یہ ہے کہ

ہر قسم کی مدح کا وہی مستحق ہوتا ہے اور ہر قسم کی مدح لوگ اُس کی کرتے ہیں جس کی ربوبیت کسی خاص قوم اور فرقہ سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ وسیع ہوتی ہے۔

مثلاً امریکہ اور روس کی حکومت ہے۔ امریکہ اپنے آپ کو ڈیما کریسی کا لیڈر سمجھتا ہے اور روس اپنے آپ کو عوامی تحریکوں کا لیڈر سمجھتا ہے۔ لیکن اگر دونوں کو دیکھا جائے تو امریکنوں کی ساری طاقت امریکنوں کی ترقی پر خرچ ہوتی ہے اور روسیوں کی ساری طاقت روسیوں کی ترقی پر خرچ ہوتی ہے۔ روس اُن لوگوں کے لیے کچھ نہیں کرتا جو دنیا کے دُور کناروں پر بس رہے ہیں اور دنیا کی تمام آسائشوں سے محروم ہیں۔ اور نہ امریکہ اِس بارے میں کچھ کرتا ہے۔ روس کرتا ہے تو یہی کہ اپنے خیالات دوسرے لوگوں میں پھیلا دیتا ہے تا وہ لوگ اپنی حکومت کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔ اِس طرح اگر امریکن دوسرے لوگوں کو امداد دیتے ہیں تو اس میں بھی ان کے اپنے فوائد مدّنظرہوتے ہیں۔ اگر اس امداد سے وہ ملک اپنے حالات کو درست بھی کرلے تو پھر بھی یہ نہیں کہا جاسکے گا کہ امریکہ نے دوسرے لوگوں کی مدد کی۔ بلکہ وہ بھی ان کی اپنی ہی مدد ہوگی۔ اِسی طرح روس بھی ہر دوسرے ملک کو مدد دیتے وقت اپنے فوائد کو بھی ملحوظ رکھتا ہے نہ کہ عوام الناس کے فوائد کو۔ حقیقی مدح اُس وقت ہوتی ہے جب بغیر غرض کے لوگوں کو اونچا کیا جائے۔ جیسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ تمہاری عبادتیں مجھے فائدہ نہیں پہنچاتیں اور تمہاری قربانیوں کا گوشت مجھے نہیں پہنچتابلکہ تم یا تمہارے ہمسائے کھاتے ہیں۔ مجھے صرف تمہارے دل کی صفائی کی ضرورت ہے۔(الحج:۳۸) حقیقی تعریف کی مستحق وہی حکومت ہوگی جو اِس آیت کے ماتحت نظام چلائے گی اور وہی ٹھیک امن قائم کرسکے گی۔ مثلاً اگر روس بغیر اپنا رسوخ قائم کرنے کے صرف غرباء کو اٹھانے کے لیے روپیہ خرچ کر ے۔ تو یقیناً روس کی سچی محبت قائم ہوگی۔ لیکن موجودہ حالات میں حقیقی محبت قائم نہیں ہوتی۔ جس کو امریکہ سے فائدہ پہنچ جاتا ہے وہ اُس کی تعریف کرتا ہے جس کو روس سے فائدہ پہنچ جاتا ہے۔ وہ اُس کی تعریف کرتا ہے۔ نہ یہ فائدہ مکمل نہ یہ تعریف کامل۔ کامل تعریف اُس وقت ہوتی ہے جب اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ پر عمل کیا جائے۔ سورئہ فاتحہ میں تمام گُر بیان کئے گئے ہیں۔

سب سے پہلا موٹا گُریہ بیان کیاہے کہ

خدمتِ خلق کرو اور بِلا غرض اور بِلا ذاتی فائدہ کی خواہش کے خدمت کرو۔

اگر ایسا کرو گے تو ہر شخص تمہاری تعریف کرے گا۔ لیکن اگر کوئی صرف ایک طبقہ کو اٹھانے کی کوشش کرتا ہے تو وہی طبقہ اُس کی تعریف کرے گا۔ مثلاً کوئی حکومت لیبر کو اٹھاتی ہے تو لیبر ہی اُس کی تعریف کر یں گے۔ بڑے اور درمیانہ درجہ کے نہیں کریں گے۔ اور اگر کوئی حکومت درمیانہ اور بڑے درجہ کو اٹھانے کی کوشش کرے تو یہ طبقے ہی تعریف کریں گے لیبر نہیں کریں گے۔ کیونکہ وہ حکومت رب العالمین نہیں بلکہ فرقہ اور جماعت کی رب ہے۔

حقیقی حکومت وہی ہے جو تمام طبقوں کو بلکہ قوم کو بھی بھلا دے۔

کیا اس تعلیم پر عمل کرنے کے بعد دنیا میں امن کے مٹنے کا شائبہ بھی ہوسکتا ہے؟ اور کیا کوئی ایسی قوم کا دشمن بھی ہوسکتا ہے۔ دوسرے وجوہ سے دشمن ہو جائے تو ممکن ہے لیکن اِس فعل کی وجہ سے دشمن نہیں ہوسکتا۔ رسول کریم ﷺ نے اِس پر عمل کیا لیکن پھر بھی بعض لوگ آپ کے دشمن ہیں۔ مگر اِس وجہ سے نہیں کہ آپؐ نے غریبوں کو کیوں اونچا کیا بلکہ مذہبی تعصب کی وجہ سے۔ اس لیے کہ آپ نے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کی کیوں تعلیم دی۔ اِسی طرح اگر آج لوگ احمدیت کے دشمن ہیں تو اس وجہ سے نہیں کہ احمدی یتیموں کی پرورش کرتے ہیں، غریبوں کی امداد کرتے ہیں اور بیواؤں سے حسن سلوک کرتے ہیں اور خدام الاحمدیہ ہر ایک کی مدد کرتے ہیں۔ بلکہ اس لیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ ایسا مخالف شقی القلب ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔

(الفضل ۳۱؍ مئی ۱۹۵۵ء)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: ہماری ساری زندگی رمضان میں زندگی کی طرح بسر ہونی چاہیے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button