حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

خاتم النبیین کے حقیقی معنی

خاتم النبیین کے حقیقی معنی اور روح کو بھی ہم احمدی ہی سمجھتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم  النبیین ہونے کے متعلق اللہ تعالیٰ کے اعلان کی اشاعت بھی دنیا کے مختلف ممالک میں ان کی زبانوں میں احمدی ہی کر رہے ہیں۔ پھر بھی یہ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ احمدی نعوذ باللہ ختم نبوت کے منکر ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں ختم نبوت کی حقیقت کا وہ فہم اور ادراک عطا فرمایا ہے جس کے قریب بھی یہ لوگ نہیں پہنچ سکتے جو ختم نبوت کا عَلَم اٹھانے کے، جھنڈا اٹھانے کے دعویدار ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ کیا ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتے ہیں یا نہیں؟ ایک مجلس میں فرمایا:’’یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔ یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ ہم جس قوّتِ یقین، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں اُس کا لاکھواں حصہ بھی دوسرے لوگ نہیں مانتے اور ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔ وہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سنا ہوا ہے مگر اس کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتا ہے اور اُس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ہے؟ مگر ہم بصیرتِ تام سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذّت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا۔ بجز اُن لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں‘‘۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 342۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس یہ ہے وہ حقیقت جس سے ہمارے مخالف لاعلم ہیں اور جن علماء کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں وہ انہیں اپنی گرفت سے باہر نکلنے ہی نہیں دینا چاہتے کہ اگر یہ حقیقت ان کے پیچھے چلنے والوں کو پتا چل جائے تو پھر انہوں نے مذہب کو جو کاروبار بنایا ہوا ہے وہ کاروبار ان کا نہیں چل سکے گا۔

(خطبہ جمعہ ۱۳؍اکتوبر ۲۰۱۷ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۳؍نومبر ۲۰۱۷ء)

مزید پڑھیں: دوسروں کے عیب اور پردہ پوشی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button