رسول اللہ ﷺ کے جانشین ۔ قرآن کی پیشگوئیاں
۱۴۰۰ سال کے وہ بزرگ جنہوں نے ہر زمانہ میں اسلام کا پرچم سربلند رکھا
رسول کریم ﷺ نہ صرف ایسے شمس ہیں جو اپنی ذات میں روشن اور پر انوار ہیں بلکہ خدا نے آپ کے نور سے اکتساب کرنے کے لیے بعض قمر بھی پیدا فرما دیئے ہیں جو ہر زمانہ میں آپ کے نور کو پھیلاتے رہیں گے
ہمارے آقا و مولیٰ سید الاولین والآخرین حضرت محمدمصطفیٰ ﷺکے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کی سب سے زیادہ ذمہ داری آپؐ پر ڈالی اور سب سے بڑھ کر طاقتیں آپؐ کو عطا فرمائیں۔ کیونکہ آپؐ کی شریعت کا دائرہ قیامت تک اور تمام زمانوں اور تمام نسلوں تک پھیلا ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جہاں آپؐ کو یہ بشارت دی کہ اللہ آپؐ کو غلبہ دے گا اور ہمیشہ قرآن کریم کی حفاظت کرے گا۔ وہاں یہ خبر بھی دی کہ آپؐ کی اُمّت پر شیطان کی طرف سے اندرونی اور بیرونی حملے جاری رہیں گے اور ان کے سدّباب کے لیے اللہ تعالیٰ آپؐ کی قوّتِ قدسیہ سے فیض یاب ہونے والے جانشین مقرر فرماتا رہے گا جو آپؐ کی ظلی اور عکسی تصویر ہوں گے۔ یہ مضمون قرآن شریف میں جگہ جگہ روحانی استعاروں میں پھیلا ہوا ہے۔ اُمّت کی خرابی کو رات کے لفظ سے اور مصلحین کو چاند اور ستاروں سے ظاہر کیا گیا ہے۔ کہیں آسمان کے برجوں سے اور کبھی خلفاء سے تعبیر کیا گیا ہے۔ رسول کریمﷺ نے احادیث میں انہیں خلفاء، ائمہ، مجددین۔ امراء وغیرہ سے یاد کیا ہے ۔
اس مضمون میں قرآن کریم کی آیات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ رسول کریمﷺ نے وحی خفی سے اُمّت پر آنے والے فتنوں اور ان کے معالجین کا بھی کثرت سے ذکر فرمایا ہے، اس لیے آیات کی تفسیر میں تائیدی طور پر احادیث کا ذکر ہے۔ پھر بزرگان اُمّت اور حضرت مسیح موعودؑ اور آپؑ کے خلفاء نے اللہ تعالیٰ سے سیکھ کر جو معارف بیان فرمائے ہیں ان کا تذکرہ ہے۔
یاد رہے کہ پیشگوئیوں میں اخفاکا پہلو عام طور پر غالب ہوتا ہے خاص طور پر وہ امور جن کا تعلق لمبے عرصہ سے ہو۔ وہ معاملات آہستہ آہستہ کھلتے ہیں اور غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں۔ اکثر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ان کی جانب راہنمائی کی جاتی ہے اس زمانے کے متعلق تمام پیشگوئیاں اسی ذیل میں آتی ہیں جیسے سائنسی ترقیات۔ دجال اور یاجوج ماجوج کے متعلق پیشگوئیاں۔
چمکتا ہوا سورج
سورۃ احزاب کی آیت نمبر ۴۷ ہے: وَدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیۡرًا۔ حضرت مسیح موعودؑ اس کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں: وہ خدا کی طرف بلانے والا ہے اور وہ ایک روشن چراغ ہے جو اپنی ذات میں روشن اور دوسروں کو روشنی پہنچاتا ہے (تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۶۲)۔ فرمایا کہ اس جگہ آپؐ کا نام چراغ رکھنے میں باریک حکمت یہ ہے کہ ایک چراغ سے ہزاروں لاکھوں چراغ روشن ہو سکتے ہیں اور اس میں کوئی نقص بھی نہیں آتا۔ (تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد۶ صفحہ ۳۹۶) پس اس میں یہ بشارت ہے کہ آپؐ کی قوّتِ قدسیہ سے ہزاروں لاکھوں چراغ روشن ہو ں گے جو آپؐ کی عدم موجودگی میں دنیا کو منور کرتے رہیں گے۔
سراج کا لفظ سورج کے لیے بھی بولا جاتا ہے کیونکہ وہ بھی خدا کا ایک دیا ہے جو دنیا کو روشن کرنے کے لیے اُس نے بنایا ہے۔ اس میں رسول اللہﷺ کو روحانی کائنات میں سراج منیر یعنی منوّر اور چمکتا ہوا سورج قرار دیا ہے جس میں یہ پیشگوئی ہے کہ آپؐ کے گرد گردش کرنے والا چاند اور ستارے بھی ہوں گے دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے سورج کو وہّاج بھی قرار دیا ہے۔ سِرَاجًا وَّہَّاجًا۔(النبا :۱۴)یعنی سورج کی گرمی اور روشنی دور تک جاتی ہے۔ اسی طرح محمد رسول اللہﷺ کی تعلیم ایک دن ساری دنیا میں پھیل جائے گی۔ ایک دن آئے گا کہ یہ سراج وهاج بن جائے گا اور اس کی روشنی ساری دنیا پر چھا جائے گی۔ دور تک گرمی اور روشنی کے پھیلنے میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا زمانہ افادہ کے لحاظ سے بھی بہت ممتد ہے اور جس طرح یہ دنیوی سورج قیامت تک مادی دنیا کی ضرورتوں کو پورا کرتا رہے گا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا افاضہ روحانی بھی دنیا کے اختتام تک چلتا چلا جائے گا۔ (تفسیر کبیر جلد ۱۱صفحہ۳۴)
روحانی چاند ستاروں کے ادوار
قرآن کریم، حدیث اور اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے جانشین مختلف زمانوں میں مختلف شکلوں میں ظاہر ہونے تھے۔
۱۔ آپؐ کے فوری بعد خلفاء کی شکل میں۔
۲۔ خلافت راشدہ کے بعد حکومتی انتظام الگ ہوجانا تھا اور روحانی خلافت مفسرین، محدثین، فقہاء، متکلمین، مجددین اور صوفیاءکے ذریعہ جاری رہنی مقدر تھی۔
۳۔ اُمّت کی کمزوری کے ایک لمبے عرصے بعد مسیح موعودؑ کے ذریعہ خلافت علیٰ منہاج نبوت کے دوبارہ احیاء کی پیشگوئی تھی۔ آیئے !ان سب ادوار کا جائزہ لیں ۔
خلافت کی پیشگوئی
سورۃ النور کی آیت نمبر ۵۶ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَعَدَاللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا۔تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اُن سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور اُن کے لیے اُن کے دین کو، جو اُس نے اُن کے لیے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور اُنہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔
اس آیت میں اُمّتِ محمدیہ میں پہلی امتوں کی طرح نبوت کے بعد قیام خلافت کا ذکر ہے۔ مسلمانوں کے قریب ترین امت، اُمّتِ موسویہ تھی جہاں پے در پے نبی بطور خلیفہ آتے رہے مگر اُمّتِ محمدیہ میں خلافت کے انتخاب میں کچھ فرق ہے۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں: كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُوْنَ۔(بخاری کتاب احادیث الانبیا٫ باب ما ذکر عن بنی اسرائیل حدیث نمبر ۳۴۵۵ ) بنی اسرائیل کی نگرانی نبی کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی فوت ہو جاتا تو ایک اور نبی اس کا جانشین ہوتا اور دیکھو میرے (فوراً) بعد کوئی نبی نہیں مگر خلیفے ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ چنانچہ رسول کریمﷺ کی وفات کے بعد اُمّتِ محمدیہ میں خلافت راشدہ کا آغاز ہوا۔ اور یکے بعد دیگرے چار خلفا ءمسند نشین ہوئے۔ یہ مرکزی اسلامی خلافت تھی جو منہاج نبوت پر تھی۔ اور خلافت راشدہ کی صورت میں تیس سال جاری رہی اور پھر ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔ مگر رسول اللہ کی روحانی خلافت ہمیشہ جاری رہی جس کا ذکر آگے آئے گا۔
رسول اللہﷺ نے اپنے فوری بعد خلافت راشدہ کی مدّت کا تعین بھی کیا ہے اس بارے میں حضرت سفینہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں خلافت تیس سال رہے گی پھر اس کے بعد ملوکیت ہوگی۔ پھر حضرت سفینہؓ نے چاروں خلفاء راشدین کا عرصہ شمار کر کے بتایا کہ تیس سال پورے ہوگئے اور بنو امیہ کا دعویٰ کہ ان میں خلافت ہے جھوٹا ہے وہ تو ملوکیت کے حامل ہیں۔ (جامع ترمذی کتاب الفتن باب الخلافة حدیث نمبر۲۱۵۲)حضرت ابوبکرؓ قریباً دو سال، حضرت عمرؓ قریباً دس سال، حضرت عثمانؓ قریباً بارہ سال، حضرت علیؓ قریباً پانچ سال خلیفہ رہے اور وہ تمام مقاصد پورے کیے جن کا آیتِ استخلاف میں ذکر ہے۔
عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ خلافت کا یہ سلسلہ صرف تیس سال جا ری رہا۔ یہ صرف اس کا پہلا مرحلہ تھا۔ خلافت راشدہ کو رسول اللہﷺ کی وراثت میں روحانی خلافت کے ساتھ ظاہری حکومت بھی ملی تھی۔اس کے بعد حکومتی انتظام الگ ہو گیا اور روحانی خلافت مفسرین، محدثین، فقہا، متکلمین، مجددین، صوفیا اور اولیاء اللہ کے ذریعہ جاری رہی۔ اس عرصے میں اسلام میں بڑے عظیم الشان وجود پیدا ہوئے جنہوں نے اسلام کا نام معلوم دنیا تک پہنچا دیا اور حکومتوں کے عدم تعاون بلکہ مظالم کے باوجود اسلام کی شمع روشن رکھی۔ یہ مرکزی اجتماعی خلافت راشدہ ٹوٹنے کے بعد متبادل انتظام تھا اور یہ ملکوں ملکوں اور ایک ایک مسلمان قوم میں تھا اور گویا انفرادی خلافت تھی جس نے قریباً تیرہ سو سال توحید کا جھنڈا بلند رکھا۔ حضرت مسیح موعودؑ اسی آیت استخلاف کے متعلق فرماتے ہیں:یہ آیت درحقیقت اس دوسری آیت اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ۔(الحجر: ۱۰) کےلیے بطور تفسیر کے واقعہ ہے اور اس سوال کا جواب دے رہی ہے کہ حفاظتِ قرآن کیونکر اور کس طور سے ہوگی۔ سو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس نبی کریم کے خلیفے وقتاً فوقتاً بھیجتا رہوں گا اور خلیفہ کے لفظ کو اس اشارہ کے لیے اختیار کیا گیا کہ وہ نبی کے جانشین ہوں گے اور اس کی برکتوں میں سے حصہ پائیں گے۔…خلیفه در حقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے۔ اور چونکہ کسی انسان کے لیے دائمی طور پر بقا نہیں لہٰذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف واولیٰ ہیں ظلی طور پر ہمیشہ کے لیے تا قیامت قائم رکھے۔ سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے۔ پس جو شخص خلافت کو صرف تیس برس تک مانتا ہے وہ اپنی نادانی سے خلافت کی علت غائی کو نظر انداز کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تو ہرگز نہیں تھا کہ رسول کریم کی وفات کے بعد صرف تیس برس تک رسالت کی برکتوں کو خلیفوں کے لباس میں قائم رکھنا ضروری ہے۔ پھر بعد اس کے دنیا تباہ ہو جائے تو ہو جائے کچھ پرواہ نہیں… قرآن کریم میں اس قسم کی بہت سی آیتیں ایسی ہیں کہ جو اس امت میں خلافت دائمی کی بشارت دیتی ہیں اور احادیث بھی اس بارہ میں بہت سی بھری پڑی ہیں۔ (شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد۶ صفحہ ۳۵۳۔ ۳۵۵)
بارہ صدیوں کے روحانی برج
سورۃ البروج کی آیت نمبر ۲ تا ۴ ہیں: وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡبُرُوۡجِ۔ وَالۡیَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ۔ وَشَاہِدٍ وَّمَشۡہُوۡدٍ۔ قسم ہے برجوں والے آسمان کی اور موعود دن کی اور ایک گواہی دینے والے کی اور اس کی جس کی گواہی دی جائے گی ۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: برج علم نجوم یاہیئت کی اصطلاح ہے برج یا تو ستاروں کو اور یا پھر سیاروں کی گردش کے دائرہ کو کہتے ہیں برج بارہ ہیں۔ اس بنا پر آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم شہادت کے طور پر آسمان کو پیش کرتے ہیں جس میں بارہ برج ہیں۔ وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ اور پھر ہم شہادت کے طور پر یوم موعود کو پیش کرتے ہیں۔ اور بارہ اور یوم موعود مل کر تیرہ ہو گئے۔ روحانی طور پر اس سے ۱۲ صدیوں کے وہ بزرگ مراد ہیں جو اسلام کی خدمت کرتے رہے اور یوم موعود سے مراد مسیح موعود کا زمانہ ہے۔ (تفسیر کبیر جلد۱۱صفحہ۵۱۶)
رسول کریم ﷺ نے احادیث میں ایسے بزرگوں کا ذکر فرمایا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولِ خداﷺ نے فرمایا: إِنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا۔ (سنن أبي داودزالمؤلف: أبو داود سليمان بن الأشعث (المتوفى: ۲۷۵ھ)کتاب الملاحم باب مایذکر فی قرن المئة حدیث نمبر۴۲۹۱) اللہ تعالیٰ اس اُمّت کے لیے ہر صدی کے سر پر ایسے لوگ کھڑے کرتا رہے گا جو اس کے دین کی تجدید کرتے رہیں گے۔ یہ روایت شیعہ لٹریچر میں بھی ہے۔ (الفروع من الجامع الکافی جلد ۲ صفحہ ۱۹۲ مطبع العالی نولکشور )
ایک اَور حدیث میں رسول اللہ نے بارہ صدیوں کے حوالے سے بارہ کی گنتی بھی بیان کی ہے۔ فرمایا: إِنَّ الْإِسْلَامَ لَا يَزَالُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ۔(مسند أبي داود الطيالسي المؤلف: أبو داود سليمان (المتوفى: ۲۰۴ھ)جلد ۲ صفحہ ۱۲۷۔ حدیث نمبر۸۰۴ ) اسلام بارہ خلیفوں تک معزز رہے گا اور یہ سب قریش میں سے ہوں گے۔ جس کا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ قریش سے مراد قریش صفت یعنی دین کے بے لوث خادم ہوں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ ثُمَّ يَكُونُ الْهَرْجُ (مسند ابن الجعد۔ المؤلف: علي بن الجَعْد (المتوفى: ۲۳۰ھ)جلد ۱ صفحہ ۳۹۰ حدیث نمبر ۲۶۶۲) اس کے بعد قتل و غارت ہو گی یعنی فتنہ حد سے بڑھ جائے گا اور مسیح موعود کی ضرورت ہو گی جو چودھویں صدی میں آئے گا۔
مسیح موعود چودھویں صدی کا بلکہ ہزار سال کا مجدد ہے اور اس کے جانے کے بعد اس کی خلافت ہی تجدید دین کرے گی۔ جیسا کہ امام سیوطی نے لکھا ہے۔ وہ فرماتے ہیں
وآخر المئين فيها يأتي
عيسى نبی اللّٰه ذو الآيات
يجدّد الدين لهذه الأمه
وفي الصلوة بعضنا قدامه
مقررا لشرعنا و يحكم
بحكمنا أو فى السما يعلم
وبعدہ لم يبق من مجدد
ويرفع القرآن مثل ما بدى
(حجج الكرامه في آثار القيامة۔ نواب صديق حسن خانصاحب صفحہ ۱۳۸۔ مطبع شاہجہانی۔ بھوپال )
یعنی آخری صدی میں عیسی نبی اللہ نشانات کا حامل آئے گا۔ اس امت کے لیے دین کی تجدید کرے گا اور نماز میں ہم میں سے کوئی اُس کے آگے بطور امام کھڑا ہو گا۔ وہ ہماری شرع کو قائم کرے گا اور ہمارے ہی احکام شریعت کے مطابق حکم دے گا وہ آسمان میں ہی علم لدنی حاصل کریگا۔ اور اس کے بعد کوئی مجدد نہیں آئے گا وہ قرآن کو دوبارہ اسی طرح رفعت عطا کرے گا جیسے آغاز اسلام میں قرآن کی ابتدا ہوئی تھی۔
اسلام کی پہلی صدی نبوت اور خلافتِ راشدہ کی صدی تھی اس کے بعد جوں جوں بگاڑ پیدا ہوتا گیا ہر علاقے اور زمانے میں بزرگان پیدا ہوتے رہے لیکن ابھی دنیا کے عالمی بننے کا وقت نہیں آیا تھا اس لیے ان کا دائرہ نہایت محدود تھا اور ایک ہی وقت میں بیسیوں لوگ مختلف علاقوں میں خدمت کر رہے تھے۔ ان میں سے ہر صدی میں غیر معمولی اصلاحی کام کرنے والوں کی مختلف فہرستیں محققین نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق بنائی ہیں۔ ایک فہرست نواب صدیق حسن خان صاحب نے بنائی۔ (حجج الکرامہ صفحہ ۱۲۷) ایک اَور فہرست خاکسار نے جماعت احمدیہ کے نظریات کی روشنی میں ترتیب دی ہے۔(الفضل انٹر نیشنل ۸؍ستمبر ۲۰۲۰ء) مختلف پہلوؤں سے اَور بھی فہرستیں بنائی جا سکتی ہیں۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اسلام کے بروج تھے اور دین کی حفاظت پر کمر بستہ تھے۔
بروج کا ذکر قرآن کی کئی آیات میں ہے اور جسمانی برجوں کا ذکر کر کے روحانی برجوں کی طرف توجہ پھیری گئی ہے۔
سورۃ الحجر کی آیت نمبر ۱۷ وَلَقَدۡ جَعَلۡنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوۡجًا وَّزَیَّنّٰہَا لِلنّٰظِرِیۡنَ۔ اور یقینا ہم نے آسمان میں ستاروں کی منازل بنائی ہیں اور اُس (آسمان) کو دیکھنے والوں کے لیے مزیّن کردیا ہے۔ یہ مضمون سورۃ البروج کی یاد دلاتا ہے اور ’’ہم ہی اس کلام کی حفاظت کریں گے‘‘ کے مضمون پر سے پردہ اٹھاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی غلامی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے لوگ مامور ہوتے رہیں گے جو قرآن کریم کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت مستعد رہیں گے۔(ترجمۃ القرآن حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ)
سورۃ فرقان کی آیت نمبر ۶۲ ہے: تَبٰرَکَ الَّذِیۡ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوۡجًا وَّجَعَلَ فِیۡہَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِیۡرًا۔ اس میں یہ ذکر فرمایا ہے کہ جس طرح آسمان پر بارہ برج ہیں اسی طرح تیرے بعد بارہ مجددین تیرے دین کے دفاع کے لیے پیدا ہوں گے۔ اور پھر تیرے نور سے کامل روشنی پانے والا چودھویں کا چاند بھی آئے گا۔ (ترجمۃ القرآن حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ)
سورۃ ق کی آیت نمبر ۲ ہے: قٓ ۟ۚ وَالۡقُرۡاٰنِ الۡمَجِیۡدِ۔ قَدِیرٌ: کامل قدرت رکھنے والا۔ عزت والے قرآن کی قَسم۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکیؓ کے دل میں القا٫ کیا گیا کہ ابجد کے لحاظ سے ق کے عدد ۱۰۰ ہوتے ہیں۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ ہر سو سال بعد یعنی صدی کے سر پر اللہ تعالیٰ تجدید دین کا سلسلہ جاری کرے گا جس سے قرآن کی مجد اور بزرگی ظاہر ہو گی۔
نیز ق سے مراد قیامت بھی ہے جو ہر نبی کے ذریعہ ظاہر ہوئی اور سب سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ برپا ہوئی اس زمانہ میں یہ قیامت مسیح موعود سے تعلق رکھتی ہے اور اس کی ابتدا٫ قادیان سے ہوئی جس کا پہلا حرف ق ہے اور اب قادیان کے ذریعہ ساری دنیا میں قرآن کا پیغام پھیلایا جا رہا ہے۔(حیات قدسی جلد ۴ صفحہ ۱۶۲)
سورۃ الشمس کی آیت نمبر ۲ تا ۵ ہے۔وَالشَّمۡسِ وَضُحٰہَا۔ وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰٮہَا۔وَالنَّہَارِ اِذَا جَلّٰٮہَا۔ وَالَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰٮہَا۔میں سورج کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں، اور ضحی کے وقت کو، جب وہ طلوع ہونے کے بعد اونچا ہو جاتا ہے۔ اور چاند کو جب وہ سورج کے پیچھے آتا ہے۔ اور دن کو جب وہ اس (سورج) کو ظاہر کر دیتا ہے۔ اور رات کو بھی جب وہ اس (سورج) کی روشنی کو آنکھوں سے اوجھل کر دیتی ہے۔
یہ بھی ابتدائی سورتوں میں سے ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺکو سورج قرار دیا ہے اور فرمایا ایک وقت آئے گا کہ یہ سورج دنیا کو اندھیروں سے نکال کر دن کا سماں پیدا کرے گا۔ رسول کریم ﷺ نہ صرف ایسے شمس ہیں جو اپنی ذات میں روشن اور پر انوار ہیں بلکہ خدا نے آپ کے نور سے اکتساب کرنے کے لیے بعض قمر بھی پیدا کر دیے ہیں جو ہر زمانے میں آپ کے نور کو پھیلاتے رہیں گے۔ اگر لوگ اس سورج کی طرف سے اپنا منہ موڑ لیں گے تو خدا تعالیٰ پھر بھی انہیں بھاگنے نہ دے گا اس کے مقابل پر ایک چاند آکھڑا ہوگا اور اس سے روشنی اخذ کر کے دنیا پر پھینکنے لگے گا اور اس طرح پھر دنیا اس کے نور سے حصہ لینے لگے گی۔ (تفسیر کبیر جلد۱۳ صفحہ ۲۱)
سورۃ الطارق کی آیت نمبر ۲ تا ۴ ہیں: وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ۔ وَمَاۤ اَدۡرٰٮکَ مَا الطَّارِقُ۔ النَّجۡمُ الثَّاقِبُ۔میں آسمان کو اور صبح کے ستارے کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں۔ اور کس چیز نے تجھے علم دیا ہے کہ صبح کا ستارہ کیا ہے۔ وہ ستارہ جو بہت چمکتا ہے۔
طارق صبح کے ستارے کو کہتے ہیں ان آیات نے واضح کر دیا ہے کہ یہاں طارق سے مراد وہ ستارہ ہے جو بہت چمکدار ہے اور اندھیروں کو مٹادیتا ہے۔ اس سے مراد بارہ صدیوں کے مجددین کے بعد مسیح موعود ہے جو اسلام پر آنے والی رات کو ختم کر کے صبح کی نوید سنائے گاوہ اسلام کی نئی زندگی کی علامت ہے (تفسیر کبیر جلد۱۲ صفحہ ۵) یہی مضمون سورۃ التکویر کی آیات ۱۸و ۱۹ میں بیان کیا گیا ہے: وَالَّیۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ۔ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ۔ ۱ورقسم اس رات کی جب وہ جاتی ہے اور صبح کی جب وہ سانس لے۔
یہاں اس رات کو گواہ ٹھہرایا گیا ہے کہ جو آخر دم تو ڑ رہی ہوگی اور طلوع فجر کے آثار ظاہر ہو جائیں گے۔ اور بالآخر یہ اندھیری رات اسلام کی فتح پر منتج ہو گی۔ (ترجمۃ القرآن حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ)
سورۃ الکافرون کی آیت نمبر ۲ہے:قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الۡکٰفِرُوۡنَ۔ اس میں اوراس کے بعد آنے والی سورتوں میں قل کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس سے یہ مراد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت بروزی طور پر بار بار دنیا میں ظاہر ہوتی رہے گی اور آپؐ کے سچے متبعین اسلام کی سچائی کا اعلان کرتے رہیں گے۔ (تفسیر کبیر جلد۱۵صفحہ۲۱۶)
قل کا لفظ اعلان کے لیے آتاہے۔یعنی اس سورۃ کے مضمون کا خوب اعلان کر۔ قرآن کا کوئی حصہ چھپانے والا نہیں لیکن بعض مضمون وقت کے لحاظ سے خوب پھیلانے والا ہوتا ہے اس لیے اس کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی جاتی ہے۔ چنانچہ پانچ سورتیں قرآن کریم کی ایسی ہیں جن کے شروع میں قل کے لفظ آتے ہیں۔ یہ سورتیں سورہ جن سورہ کافرون، سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ الناس ہیں۔ ان سورتوں کے علاوہ کم و بیش تین سو چھ آیتوں سے پہلے بھی یہ لفظ آتا ہے اور جہاں بھی آتا ہے ما بعد کے مضمون کی اہمیت بتانے کے لیے آتا ہے۔(تفسیر کبیر جلد۱۵صفحہ۲۳۴)
یہ سورۃ اپنے محل کے لحاظ سے آخری زمانے کے متعلق معلوم ہوتی ہے۔ گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے لوگ بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں اور ہیں لیکن زور آئندہ زمانہ کے متعلق ہے۔ …اس سورۃ میں بتایا گیا ہے کہ ایک زمانے میں کفر پھر اسلام پر غالب آجائے گا اور جہاں تک مادی حالات کا سوال ہے اسلام قریباً قریباً ختم ہو جائے گا۔ لیکن اس وقت پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح دوبارہ دنیا میں کسی اپنے مثیل اور شاگرد کے ذریعہ سے ظاہر ہوگی اور دنیا کو پھر وہی چیلنج دے گی جو پہلے آپ نے دیا تھا اور کہے گی کہ خواہ کتنا زور لگا لو میں کفر سے مغلوب نہیں ہوں گا اور کفر کی باتوں کو تسلیم نہیں کروں گا۔ یہ وہی زمانہ ہے جس کو مہدی یا مسیح کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ …یہ سورۃ بتاتی ہے کہ جہاں عام طور پر مسلمان مغربی خیالات سے متاثر ہو کر اس کے آگے ہتھیار ڈال دیں گے وہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح غیر اسلامی خیالات کے آگے ہتھیار ڈالنے سے کلی طور پر انکار کر دے گی اور باوجود اس کے کہ تشدد اور زبردستی سے اس زمانے میں اسلام بالکل کام نہیں لے گا پھر بھی وہ کفر پر غالب آجائے گا اور انسانوں کے دل کفر والحاد سے پاک ہو کر پھر اسلام کی طرف راغب ہو جا ئیں گے۔ (تفسیر کبیر جلد۱۵صفحہ۲۳۴)
مسیح موعود۔ پورا چاند
بارہ صدیوں کے مجددین اور بزرگان کے بعد ۱۳ویںمجدد کو مسیح، مہدی اور رسول اللہ کی بعثت ثانی قرار دیا گیا ہے۔
سورۃ الجمعہ کی آیت نمبر ۳، ۴ ہیں: ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیۡہِمۡ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ ٭ وَاِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ۔ وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ ؕ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ۔ وہی ہے جس نے امی لوگوں میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ وہ ان پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقینا ًکھلی کھلی گمراہی میں تھے۔ اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی اسے مبعوث کیا ہےجو ابھی ان سے نہیں ملے۔ وہ کامل غلبہ والا اورصاحب حکمت ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپؐ پر سورة جمعہ نازل ہوئی۔ جب آپؐ نے آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کی تلاوت فرمائی تو میں نے سوال کیا کہ اے خدا کے رسولؐ! یہ کون لوگ ہیں؟ ہمارے درمیان سلمان فارسیؓ موجود تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سلمان پر رکھا اور فرمایا: اگر ایمان ثریا ستارہ کی بلندی تک بھی چلا گیا تو ان لوگوں یعنی فارسی قوم میں سے کچھ لوگ اسے واپس لے آئیں گے۔ (صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الجمعہ وآخرین منھم حدیث نمبر ۴۸۹۷ )
اس آیت کی تفسیر میں رسول کریم ﷺ نے سارے ضروری سوالوں کے جواب دے دیے ہیں جو اس پر اٹھتے تھے فرمایا کہ ۱۔ میں خود دوبارہ نہیں آؤں گا۔ ۲۔ یہ بروز عربی نہیں ہوگا۔ ۳۔ عجمی اور فارسی النسل ہو گا۔ ۴۔ یہ موعود میرے فوراً بعد نہیں لمبے عرصہ بعد آئے گا ۔ ۵۔ یہ اس وقت آئے گا جب ایمان ثریا پر چلا جائے گا۔ ۶۔ وہ کوئی نئی شریعت نہیں لائے گا ایمان کو دلوں دوبارہ قائم کرے گا۔
سورۃ محمد کی آیت نمبر ۳۹ہے: وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا یَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَیۡرَکُمۡ ۙ ثُمَّ لَا یَکُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَکُمۡ۔ اگر تم پھر جاؤ تو وہ تمہارے سوا ایک متبادل قوم لے آئے گا پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے ۔اس آیت کی شرح میں یہ حدیث بیان ہوئی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہؓ نے پوچھا: وَمَنْ يُسْتَبْدَلُ بِنَا؟ قَالَ فَضَرَبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْكِبِ سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ هَذَا وَقَوْمُهُ هَذَا وَقَوْمُهُ۔( جامع ترمذی کتاب التفسیر۔ سورۃ محمد حدیث نمبر ۳۲۶۰)یا رسو ل اللہؐ! ہمارا متبادل کون ہو گا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلمان فارسی ؓکے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: یہ اور اس کی قوم ۔یہ اور اس کی قوم۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی اکہتر یا بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ اسی طرح نصاریٰ کا حال ہو ااور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ لیکن ایک فرقہ کے سوا سب جہنم میں جائیں گے۔ صحابہؓ نے پوچھا یہ ناجی فرقہ کون سا ہے؟ فرمایا وہ فرقہ جو میرے اور میرے صحابہ کی سنت پر عمل پیرا ہو گا۔ (ترمذی ابواب الایمان باب افتراق ھٰذہ الا مةز حدیث نمبر ۲۶۴۱)
ان آیات اور ان کی تفسیری احادیث میں رسول اللہﷺ کے ایک مثیل کے آنے کی پیشگوئی ہے اور بین السطور اس کے آنے کا وقت، ضرورت اور مقاصد بھی بیان کر دیے گئے ہیں۔ اس آیت میں ایک لطیف نکتہ یہ ہے کہ سورۃ جمعہ کی آیت کے ابجدی حروف میں اس مامور کا معین زمانہ بھی بیان کر دیا گیا ہے ۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: وہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر آیا اور جیسا کہ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِم ْکے عدد سے ۱۲۷۵ نکلتے ہیں اسی زمانہ میں وہ اصلاح خلق کے لیے تیار کیا گیا۔ (شہادۃ القرآن۔ روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۳۷۵)
پھر حضورؑ فرماتے ہیں: اللہ جلّ شانُہنے ظاہر الفاظ آیت میں وَآخَرِينَ مِنْهُمْ کا لفظ استعمال کر کے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ لوگ جو کمالات میں صحابہ کے رنگ میں ظاہرہوں گے وہ آخری زمانہ میں آئیں گے ایسا ہی اس آیت میں وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کے تمام حروف کے اعداد سے جو ۱۲۷۵ہیں اس بات کی طرف اشارہ کردیا جو آخَرِينَ مِنْهُمْ کا مصداق جو فارسی الاصل ہے اپنے نشاء ظاہر کا بلوغ اس ِسن میں پورا کر کے صحابہ سےمناسبت پیدا کرلے گا سو یہی سن ۱۲۷۵ہجری جو آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کے حروف کے اعداد سے ظاہر ہوتا ہے اس عاجز کی بلوغ اور پیدائش ثانی اور تو ّلد روحانی کی تاریخ ہے جو آج کے دن تک چونتیس برس ہوتے ہیں۔ (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۱۹) اس ہجری سال میں مسیح موعود کی عمر ۲۵؍سال تھی اور آئندہ ذمہ داریوں کے لیے تیار ہو رہے تھے
علامہ موسیٰ جار اللہ ترکستانی لکھتے ہیں: اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ خدا جس نے امیین میں ایک رسول امیوں میں سے بھیجا وہی آ خرین میں ایک رسول انہی میں سے بھیجے گا اس طرح ہر امت کا رسول اس میں سے ہو گا اور یہ سب رسول امتوں میں اسلام کے رسول ہوں گے بنی اسرائیل کے ان نبیوں کی طرح جو بنی اسرائیل میں تورات کے رسول تھے۔ (کتاب فی حروف اوائل السور ص ۱۳۳ بیت الحکمۃ لاہور ۱۹۴۲ )
مسیح موعود کا زمانہ
امت مسلمہ ۱۴۰۰؍سال سے سورۃ فاتحہ میں یہ دعا کر رہی ہے کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ۔اے اللہ !ہمیں ان کی راہ پر چلا جن پر تیرا انعام ہوا ان کی راہ پر نہیں جو مغضوب اور ضالین بن گئے یعنی یہودی اور عیسائی بن گئے۔
اس دعا میں یہ پیشگوئی مخفی تھی کہ امت محمدیہ ایک زمانہ میں یہود کی راہوں پر قدم مارے گی جو اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے خدا کی نظر سے گر گئے اور ان پر خدائی لعنت کا عروج اس وقت ہوا جب انہوں نے موسیٰ کے بعد ۱۴ ویں صدی میں آنے والے مسیح کا انکار کر دیا اور صلیب پر مارنے کی کوشش کی۔ پس سورۃ فاتحہ میں بتا دیا گیا کہ اُمّتِ مسلمہ میں آنے والا مامور رسول اللہ کے بعد ۱۴ویں صدی میں آئے گا جو مسیح ناصری سے متعدد مشابہتوں کی وجہ سے مسیح موعود کہلائے گا۔ یہی بات رسول اللہ ﷺنے فرمائی تھی کہ عیسیٰ آئے گا مگر وہ تم میں سے تمہارا امام ہو گا۔(صحیح بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسیٰ حدیث نمبر ۳۱۹۳) حضرت مسیح موعودؑ نے مسیح سے اپنی ۱۶؍ مشابہتوں کا ذکر کیا ہے۔ (تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۳-۱۷۔ ۳۱-۳۵)
سورۃ الانشقاق کی آیات نمبر ۱۷ تا ۲۰ ہیں: فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالشَّفَقِ۔وَالَّیۡلِ وَمَا وَسَقَ۔ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ۔ لَتَرۡکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ۔ میں شفق کو گواہ ٹھہراتا ہوں۔ اور رات کو بھی اور اسے بھی جسے وہ سمیٹ لیتی ہے۔ اور چاند کو جب وہ تیرھویں کا ہو جائے۔ تم ضرور درجہ بدرجہ ان حالتوں کو پہنچو گے۔
ان میں رسول کریمؐ کے بعد اُمّتِ محمدیہ پر آنے والے کئی ادوار کا ذکر ہے ۱۔ شفق رسول کریم کے بعد شفق کا زمانہ جو حدیث کے مطابق ۳ صدیوں کے بعد شروع ہو گا جو لمبا چلے گا مگر اولیاء اور مجددین رسول اللہ ﷺکے نور کوبجھنے نہیں دیں گے، ۲۔ اس کے بعد اسلام پر ایسی رات آئے گی جو تمام خرابیوں کو اپنے اندر جذب کر لے گی یہ ۱۲ویں اور ۱۳ویں صدی ہجری کا ذکر ہے ۳۔ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ۔ اتساق کے معنی چاند کی پوری روشنی والی راتیں یعنی ۱۳سے۱۶؍تاریخ تک کے ہوتے ہیں اس میں ذکر ہے کہ رسول کریمؐ سے روشنی لینے والوں میں ایک قمر پیدا ہو گا جو پوری روشنی لے کر بدر بن جائے گا۔ اس کے مطابق مسیح موعود ۱۳ویں صدی میں پیدا ہوئے ۱۴ویں صدی میں دعویٰ فرمایا اور پیشگوئی کی کہ یہ سلسلہ ۳صدیوں میں یعنی ۱۶ویں صدی میں کمال کو پہنچے گا۔ (تفسیر کبیر جلد۱۱ صفحہ ۵۰۲تا۵۰۷)
سورۃ السجدہ کی آیت نمبر ۶ ہے: یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الۡاَرۡضِ ثُمَّ یَعۡرُجُ اِلَیۡہِ فِیۡ یَوۡمٍ کَانَ مِقۡدَارُہٗۤ اَلۡفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ۔وہ فیصلے کو تدبیر کے ساتھ آسمان سے زمین کی طرف اتارتا ہے۔ پھر وہ ایک ایسے دن میں اس کی طرف عروج کرتا ہے جو تمہاری گنتی کے لحاظ سے ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔
یعنی اللہ تعالیٰ امر اسلام کو آسمان سے زمین پر نازل فرمائے گا پھر ایک ہزار سال کے عرصہ میں وہ واپس اللہ کی طرف چلا جائے گا۔ چونکہ احادیث میں اسلام کی ابتدائی ترقی کا دور ۳۰۰سال ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا: خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ۔ (بخاری کتاب الرقاق بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهَرَةِ الدُّنْيَا) بہترین زمانہ میرا ہے پھر وہ لوگ جو اس کے بعد آئیں گے پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے۔ اس لیے ۳۰۰؍سال کے ساتھ ۱۰۰۰؍سال تنزل کے مل کر تنزل کا زمانہ ۱۳۰۰؍ہجری پر ختم ہوتا ہے یا اندازاً ۱۸۸۶ عیسوی۔ یہ اس طرح کہ رسول اللہ کی ہجرت ۶۲۲ء میں ہوئی۔ اور ۱۳۰۰؍ہجری سالوں کے شمسی سال ۱۲۶۴؍بنتے ہیں۔ ۶۲۲+۱۲۶۴=۱۸۸۶۔ اور یہی وہ سال ہے جس میں حضرت مسیح موعودؑ نے غلبہ اسلام کے لیے ایک عظیم بیٹےیعنی مصلح موعودؓ کے بارے میں پیشگوئی شائع فرمائی۔ (تفسیر کبیر جلد۱۱ صفحہ۲۸۷)
یہی بات حضرت زرتشتؑ نے کہی ۔حضرت زرتشت ؑ ایک پیشگوئی میں فرماتے ہیں۔ شریعت عربی پر ہزار سال گزر جائیں گے تو تفرقوں سے دین ایسا ہوجائے گا کہ اگر خود شارع کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ بھی اسے پہچان نہ سکے گا…اور ان کے اندر انشقاق اور اختلاف پیدا ہوجائے گااور روز بروز اختلاف اور باہمی دشمنی میں بڑھتے چلے جائیں گے … جب ایسا ہو گا تو تمہیں خوشخبری ہو کہ اگر زمانہ میں ایک دن بھی باقی رہ جائے تو تیرے لوگوں سے (فارسی الاصل) ایک شخص کو کھڑا کروں گا جو تیری گمشدہ عزت وآبرو واپس لائے گا اور اسے دوبارہ قائم کرے گا۔ میں پیغمبری و پیشوائی تیری نسل سے نہیں اٹھاؤں گا۔ ( سفرنگ دساتیر صفحہ ۱۹۰ ملفوظات حضرت زرتشت مطبوعہ ۱۲۸۰ھ مطبع سراجی دہلی )
حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاص نشانات وعلامات کا ظہور دو سو سال بعد ہوگا۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب الآیات حدیث نمبر ۴۰۴۷) محدثین خصوصاً حضرت علامہ ملا علی قاری حنفی نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ یہ بھی امکان ہے کہ المئتین کے لفظ میں ’’ال‘‘ کی تخصیص سے مراد ہزار سال بعد دو سو سال ہوں (گویا بار ہ سو سال بعد خاص نشانات کا ظہور ہو گا) اور یہ زمانہ ظہور مسیح و مہدی اور دجال کا ہے۔ (مرقاة المفاتیح شرح مشکوٰة جلد۵صفحہ ۱۸۵مصر)
حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اللہ تعالیٰ ۱۲۴۰ سال کے بعد مہدی کو مبعوث کرے گا۔ (النجم الثاقب جلد ۲ صفحہ۲۰۹۔ مطبع احمدی۔ پٹنہ مغلپورہ) حضرت مسیح موعود کی پیدائش ۱۲۵۰ھ کی ہے۔
سورۃ المؤمنون کی آیت نمبر ۱۹ ہے: وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسۡکَنّٰہُ فِی الۡاَرۡضِ ٭ۖ وَاِنَّا عَلٰی ذَہَابٍۭ بِہٖ لَقٰدِرُوۡنَ۔ اور ہم نے آسمان سے ایک مقدار کے مطابق پانی اتارا پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیا اور ہم اُسے لے جانے پر بھی یقیناً قدرت رکھتے ہیں۔اس آیت میں لطیف پیشگوئی ہے۔ پانی سے مراد قرآنی تعلیم ہے جسے آسمان سے اتارا گیا پھر اسے تمکنت بخشی گئی اور پھر اس کی برکتیں اٹھا لینے کا تذکرہ ہے اور اسے اٹھانے کی مدت بھی علم ابجد کی رو سے بیان کی گئی ہے۔ اِنَّا عَلٰی ذَہَابٍۭ بِہٖ لَقٰدِرُوۡنَ کے اعداد ۱۲۷۴؍ہیں جو عیسوی لحاظ سے ۱۸۵۷ءبنتا ہے یہی وہ سال ہے جس میں ہندوستان سے عظیم اسلامی سلطنت کا خاتمہ کر دیا گیا۔ حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً اس نکتہ پر اطلاع دی۔ آپؑ فرماتے ہیں: آیت اِنَّا عَلٰی ذَہَابٍۭ بِہٖ لَقٰدِرُوۡنَمیں ۱۸۵۷ء کی طرف اشارہ ہے جس میں ہندوستان میں ایک مفسدہ عظیم ہو کر آثار باقیہ اسلامی سلطنت کے ملک ہند سے ناپدید ہوگئے تھے کیونکہ اس آیت کے اعداد بحساب جمل ۱۲۷۴ ہیں اور ۱۲۷۴کے زمانہ کو جب عیسوی تاریخ میں دیکھنا چاہیں تو ۱۸۵۷ء ہوتاہے۔ سو درحقیقت ضعف اسلام کازمانہ ابتدائی یہی ۱۸۵۷ء ہے جس کی نسبت خدائے تعالےٰ آیت موصوفہ بالا میں فرماتاہے کہ جب وہ زمانہ آئیگا تو قرآن زمین پر سے اٹھایا جائیگا۔ سو ایساہی ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کی حالت ہوگئی تھی کہ بجُز بدچلنی اور فسق وفجور کے اسلام کے رئیسوں کو اور کچھ یادنہ تھا جس کا اثر عوا م پر بہت پڑ گیا تھا۔ (ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ۴۸۸، ۴۸۹)
فرمایا: حدیثوں میں یہ بات بوضاحت لکھی گئی ہے کہ مسیح موعود اُس وقت دنیا میں آئے گا کہ جب علم قرآن زمین پر سے اُٹھ جائے گا اور جہل شیوع پاجائے گا۔ یہ وہی زمانہ ہے جس کی طرف ایک حدیث میں یہ اشارہ ہے لوکان الایمان معلّقًا عند الثریا لنالہ رجل من فارس۔ یہ وہ زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہوا جو کمال طغیان اس کا اس سن ہجری میں شروع ہوگا جو آیت اِنَّا عَلٰی ذَہَابٍۭ بِہٖ لَقٰدِرُوۡنَ میں بحساب جمل مخفی ہے یعنی ۱۲۷۴ء۔ (ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۴۵۵ )
فرمایا: مسیح ابن مریم کی آخری زمانہ میں آنے کی قرآن شریف میں پیشگوئی موجود ہے۔ قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کی چودہ سو برس تک مدّت ٹھہرائی ہے بہت سے اولیاء بھی اپنے مکاشفات کی رُو سے اس مدت کو مانتے ہیں اور آیت اِنَّا عَلٰی ذَہَابٍۭ بِہٖ لَقٰدِرُوۡنَ جس کے بحساب جمل ۱۲۷۴ عد د ہیں۔ اسلامی چاند کی سلخ کی راتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں نئے چاند کے نکلنے کی اشارت چھپی ہوئی ہے جو غلام احمد قادیانی کے عددوں میں بحساب جمل پائی جاتی ہے۔ (ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۴۶۴) غلام احمد قادیانی کے اعداد بھی ۱۳۰۰ ہیں
سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ۳۲ ہے: یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَیَاۡبَی اللّٰہُ اِلَّاۤ اَنۡ یُّتِمَّ نُوۡرَہٗ وَلَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ۔وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھادیں حالانکہ اللہ ہر حال میں اپنا نور پورا کرنے والا ہے خواہ کافر ناپسند کریں۔
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام بیان فرماتے ہیں: ’’اس آیت میں تصریح سے سمجھایا گیا ہے کہ مسیح موعود چودہویں صدی میں پیدا ہوگا کیونکہ اتمام نور کے لیے چودہویں رات مقرر ہے۔ ‘‘(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن، جلد۱۷، صفحہ ۱۲۴)یہ مضمون قرآن نے بدر کے لفظ سے بھی بیان کیا ہے کیونکہ بدر ۱۴ ویں کے چاند کو کہتے ہیں ۔
آل عمران کی آیت ۱۲۴ہے: وَلَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدۡرٍ وَّاَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌ اور یقیناً اللہ بدر میں تمہاری نصرت کرچکا ہے جبکہ تم کمزور تھے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر خداتعالیٰ نے یہ راز کھولا کہ امت محمدیہ کے لیے بدر کے دو زمانے مقدر تھے ایک وہ جو رمضان ۲ھ میں گزرا اور دوسرا وہ جو بدر کے لغوی معنوں کے مطابق ۱۴ویں صدی ہجری میں رونما ہوا۔ چنانچہ بدر کے متعلق آیت قرآنیوَلَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدۡرٍ وَّاَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌحضرت مسیح موعود کو الہام ہوئی۔ (تذکرہ صفحہ۵۶۱)
حضرت مسیح موعودفرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مماثلت موسیٰ سے ہے تو اس مماثلت کے لحاظ سے ضروری ہے کہ اس صدی کا مجدد مسیح ہو کیونکہ (مسیح) چودھویں صدی پر موسیٰ کے بعد آیا تھا اور آجکل چودھویں صدی ہے۔ چودھویں صدی کا چاند کامل ہوتا ہے۔ اسی کی طرف اللہ نے وَلَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدۡرٍ وَّاَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌ میں اشارہ کیا ہے یعنی ایک بدر تو وہ تھا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مخالفوں پر فتح پائی۔ اس وقت بھی آپ کی جماعت قلیل تھی اور ایک بدر یہ ہے بدر میں چودھویں صدی کی طرف اشارہ ہے اس وقت بھی اسلام کی حالت اذلہ کی ہورہی ہے سو ان سارے وعدوں کے موافق اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے۔(الحکم ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۳)(ملفوظات جلد دوم صفحہ ۲۴۰)
سورۃ الفجر کی ابتدائی آیات ہیں: وَالۡفَجۡرِ۔ وَلَیَالٍ عَشۡرٍ۔ وَّالشَّفۡعِ وَالۡوَتۡرِ۔ وَالَّیۡلِ اِذَا یَسۡرِ۔ (الفجر ۲ تا ۵) حضرت مصلح موعودؓ کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً یہ معنی سکھائے۔ دس راتوں کا ذکر عملاً پہلے ہے گو دوسرے نمبر پر ہے یہ دس راتیں مکہ میں مسلمانوں کے تکلیف سے بھرپور دس سال ہیں۔ اسلام کی منظم مخالفت چوتھے سال میں شروع ہوئی اور اگلے ۱۰سالوں کو دس تاریک راتیں کہہ کر ظلم و ستم کی پیشگوئی کی گئی ہے اس کے بعد ایک فجر کی پیشگوئی ہے جو ہجرت کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ سفر ہجرت کے دوران شفع اور وتر کا واقعہ ہوا جس کا ذکر سورۃ توبہ میں ہے جب غار ثور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق سے فرمایا ان اللّٰہ معنا یعنی یہ دوشفع تھے اور اللہ وتر تھا۔
اس کے بعد ۱۱ ویں رات آئی جو ہجرت سے جنگ بدر تک کا سال ہے اور بدر کے بعد دشمن کو محسوس ہو گیا کہ اسلام کا مقابلہ ممکن نہیں۔ (تفسیر کبیر جلد۱۲ صفحہ ۱۸۲)
سورۃ الفجر کی ان آیات میں آخری زمانہ کے متعلق بھی پیشگوئی ہے سورۃ الرعد جو نہایت عظیم الشان خبروں پر مشتمل ہے الٓـمّٓرٰ سے شروع ہوتی ہے اس کے اعداد ۲۷۱؍ہیں یہی عرصہ ہے جس میں اسلام میں خاص تنزلی واقعات شروع ہوئے عین ۲۷۱ھ میں سپین کے بادشاہ نے پوپ سے بغداد کی اسلامی حکومت کے خلاف معاہدہ کیا اور اسی زمانے میں بغداد کی حکومت نے سپین کے خلاف قیصر روم کے ساتھ معاہدہ کیا حدیث میں اس عرصہ کو اندازاً ۳۰۰؍سال کہا گیا ہے۔اس کے بعد سلسلہ حقہ کے تنزل کے ہزار سالہ دور کی پیشگوئی ہے یہ دس صدیاں گویا دس راتوں کی قائم مقام ہیں۔ پس ۳۰۰+۱۰۰۰=۱۳۰۰ سال بنتے ہیں جو مسیح موعود کا زمانہ ہے۔
اس صورت میں وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ کے معنی ہوں گے کہ ایسا وجود ظاہر ہوگا جو بظاہر دوسرا یعنی شفع ہو گا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں فنا ہو گا اس لیے درحقیقت وتر ہو گا۔
وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْر یعنی مسیح موعود کے بعد ایک اور تاریک رات آئے گی جو ۱۰۰ سال پر مشتمل ہو گی اس کے بعد ایک اور فجر طلوع ہو گی۔ (تفسیر کبیر جلد۱۲ صفحہ ۲۱۸)
حضورؓ کو یہ الہامی معنی ۱۹۴۵ءمیں سکھائے گئے اور حضورؓ نے اس لحاظ سے بڑے باریک مطالب بیان کیے اور کئی پیشگوئیوں کا خیال ظاہر کیا۔ ۱.اگر ۱۲۷۱؍میں ۱۰۰؍جمع کیے جائیں تو ۱۳۷۱؍بنتے ہیں گویا لیل ختم ہونے میں ۸؍سال باقی ہیں یعنی ۱۹۵۳ءمیں فجر ظاہر ہو گی۔
۲۔ اگر صدی کا سر مراد لیں تو ۱۴۰۰؍بنتے ہیں اور ۳۷؍سال رہتے ہیں ۱۹۴۵+۳۷=۱۹۸۲ءمیں فجر ظاہر ہو گی۔
اسی طرح مسیح موعود ؑکی کتاب براہین احمدیہ سے ۱۰۰؍ سال گنے جائیں یا پہلی بیعت ۱۸۸۹ءسے یا دعویٰ مسیحیت ۱۸۹۰ء سے تو کئی پہلوؤں سے جماعت احمدیہ کی فجر طلوع ہونے کی پیشگوئی ہے۔ (تفسیر کبیر جلد۸ صفحہ ۵۰۳تا ۵۳۰) حضرت مصلح موعودؓ کے یہ سارے اندازے درست ثابت ہوئے۔
۱۹۴۵ء میں جب حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کے بیان کردہ سالوں کوجمع کیاجائے تویہ علی الترتیب ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۹ء، ۱۹۸۲ء اور ۱۹۹۱ء قرار پاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے بعد جماعت ترقیات کے نئے ادوار میں داخل ہوئی۔
۱۹۴۵+۸=۱۹۵۳ء۔پاکستان میں فسادات کے بعدجماعت احمدیہ ایک نئی عظمت کے ساتھ ظاہر ہوئی۔
۱۹۴۵+۳۴ = ۱۹۷۹ء۔ یہ وہ سال ہے جب ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے فزکس میں نوبیل انعام حاصل کیا اور جماعت کو غیر مسلم قرار دینے والے مخالف ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا ہوئی۔
۱۹۴۵+۳۷ = ۱۹۸۲ء۔ میں خلافت رابعہ قائم ہوئی۔ تبلیغ اور پھر ہجرت کے بعد عالمی ترقیات کا دور شروع ہوا۔
۱۹۴۵+۴۶ = ۱۹۹۱ء میں حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ قادیان کے صد سالہ جلسہ سالانہ میں تشریف لے گئے جس سے بھارت میں جماعت کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ اور اگست ۱۹۹۲ء میں حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ کے خطبات چار براعظموں میں نشرہونے شروع ہوئے۔ اس طرح چاروں پہلوؤں سے سورةالفجر کے باریک اشارے اظہر من الشمس ہو گئے۔
ارضی و سماوی علامات سے زمانہ مسیح موعود ؑکا استنباط
قرآن کریم میں مسیح موعود کے متعلق اس طرح بھی اشارے کیے گئے ہیں کہ قرآن مسیح موعود کے قریب زمانہ، اس کی زندگی میں اور اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات بیان کرتا ہے جس سے اس پیشگوئی کی وضاحت بھی ہوتی ہے اور اس کا زمانہ بھی متعین ہو جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے آخری زمانے کی علامات کا ایک خلاصہ یوں درج کیا ہے: اللہ جلّ شانہ نے اوّل آخری زمانہ کی علامت یاجوج ماجوج کا غلبہ یعنی روس اور انگریزوں کا تسلّط بیان فرمایا۔ پھر دُوسری علامت بہت سے فرقے پَیدا ہوجانا قرار دیا۔ پھر تیسری علامت ان فرقوں کا آپس میں مباحثات کرنا اورموج کی طرح ایک دوسرے پر پڑنا بیان فرمایا۔ پھر چوتھی علامت ریل کا جاری ہونا۔ پھر پانچویں علامت کتابوں اوراخبار کے شائع ہونے کے ذریعے جیسے چھاپہ خانہ اور تار برقی۔ پھرچھٹی علامت نہروں کا نکلنا اورپھر ساتویں علامت زمین کی آبادی اورکاشتکاری زیادہ ہو جانا اور پھر آٹھویں علامت پہاڑوں کا اُڑایا جانا اور پھر نویں علامت تمام علوم وفنون جدیدہ کی ترقی ہونا۔ پھردسویں علامت گناہ اور تاریکی کا پھیلنا اوردُنیا سے تقویٰ اور طہارت اور ایمانی نور اُٹھ جانا پھر گیارھویں علامت دابۃ الارض کا ظہور میں آنا یعنی ایسے واعظوں کابکثرت ہو جانا جن میں آسمانی نُور ایک ذرہ بھی نہیں اور صرف وہ زمین کے کیڑے ہیں اعمال اُن کے دجّال کے ساتھ ہیں اور زبانیں انکی اسلام کے ساتھ یعنی عملی طور پر وہ دجّال کے خادم اورممسوخ الصورت اور حیوانی شکل ظاہر کر رہے ہیں مگر زبانیں اُن کی انسان کی سی ہیں۔ پھر بارھویں علامت مسیح موعود کا پیدا ہونا ہے جس کو کلام الٰہی میں نفخ صور کے استعارہ میں بیان کیاگیا ہے۔ (شہادۃ القرآن روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۳۲۰ )
اس بارے میں سب سے تفصیلی ذکر سورۃ التکویر میں ہے یہ ایک لمبا مضمون ہے( جس کو احباب الفضل انٹر نیشنل ۲۴ تا ۲۷؍جون ۲۰۲۵ء میں ملاحظہ کر سکتے ہیں) ان پیشگوئیوں کے پورا ہونےکے شواہد حسب ذیل ہیں ۔
۱۔ مسلمانوں کی قرآن سےدوری کی حالت: جس کا ذکرسورۃ فرقان کی آیت ۳۱ میں بھی ہے: وَقَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ مَہۡجُوۡرًا۔ اس میں اللہ تعالیٰ یہ پیشگوئی فرماتا ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ رسول کریم ﷺ فریاد کریں گے کہ اے اللہ! میری قوم نے قرآن کو بالکل چھوڑ دیا ہے۔ پیشگوئیوں کے مطابق اسلام کے پہلے ۳۰۰؍ سال کے روشن دنوں اورپھر ۱۰۰۰؍سال کی تاریک راتوں کے بعد ۱۳ویں صدی ہجری کے آخر میں یہ وقت اپنے کمال کو پہنچ گیا جب اُمّت مسلمہ کے علماء پکار رہے تھے کہ اب اسلام کا صرف نام اور قرآن کا فقط نقش باقی رہ گیا ہے۔ ( اقتراب الساعہ صفحہ۱۲) یہ بات نواب نور الحسن خان نے ۱۳۰۱ ھ میں لکھی جو ۱۴ویں صدی ہجری کا پہلا سال تھا۔ ایک اور عالم نے لکھاسچی بات تو یہ ہے کہ ہم میں سے قرآن مجید بالکل اٹھ چکا ہے فرضی طور پر ہم قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہیں مگر واللہ دل سے معمولی اور بہت معمولی اور بیکار کتاب جانتے ہیں۔ (اہل حدیث امرتسر ۱۴؍جون ۱۹۱۲ء) ایک شیعہ بزرگ شیخ علی اصغر برو جردی دہائی دیتے ہیں کہ ہجرت نبوی پر ۱۲۷۵ سال گزر گئے اب چاہیے کہ خدا اہل اسلام اور آل محمد سے کسی بزرگ انسان کو کھڑا کردے تا کہ سب دینوں کو یکجا کر کے دین محمدی پر لے آئے۔ (نورالانوار صفحہ ۱۷۹)
۲۔ سورج چاند گرہن کا نشان: ۱۸۹۴ء میں ظاہر ہوا۔
۳۔ ستاروں کے ٹوٹنے کا نشان : جو ۱۸۸۵ء میں ظاہر ہوا۔ شہاب ثاقب کی بارش۔ حضرت اقدس ؑکی پیدائش کے سال۔ دعویٰ کے سال اور مختلف اہم سالوں میں بعض ستاروں کا نایاب طور پر طلوع ہونا جو سائنس کی دنیا میں معمول نہیں ہے۔
۴۔ نسلی برتری کے اصول اور خاندانی تفاخرکا خاتمہ: ۱۸ویں صدی کے آخر پر ووٹنگ کا نظام جاری ہوا۔
۵۔ پہاڑوں کو ڈائنا مائٹ سے اڑا کر راستے بنانے کی پیشگوئی: اس میں بارود کی کثرتِ اور مشینری کی طرف بھی اشارہ ہے۔ اسفالٹ سے پہلی سڑک ۱۸۷۰ء میں نیوارک نیوجرسی (امریکہ )میں تعمیر کی گئی تھی۔ کنکریٹ سے پہلی سڑک ۱۸۹۱ء میں بیلے فونٹین اوہائیو(امریکہ ) میں تعمیر کی گئی تھی
۶۔ عظیم مادی طاقتیں ابھریں گی جو اپنی سلطنت کو ایک سے دوسرے علاقہ اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک وسیع کریں گی
۷۔ نئی تیز رفتار سواریوں کی ایجاد: بہتر اور طاقتور ذرائع نقل وحمل کی ایجاد جوپہاڑوں کی نقل و حرکت یعنی عظیم سیاسی قوتو ں کے پھیلاؤ اور بھاری بھرکم سامانوں کی ترسیل کے لیے لازمی ہیں۔ جیمزواٹ نے ۱۸۰۴ء میں بھاپ کا انجن ایجاد کیا۔ ۱۵؍ستمبر۱۸۳۰ء کو پہلی ریل گاڑی مانچسٹر سے لیورپول روانہ ہوئی امریکہ میں پہلی مسافر گاڑی ٫۱۸۳۳۔ جرمنی میں ۱۸۳۵ء۔ کینیڈا میں ٫۱۸۳۶۔ فرانس میں ٫۱۸۳۷۔ ہالینڈ اور اٹلی میں ٫۱۸۳۹ میں چلائی گئی۔ ہندوستان میں پہلی ٹرین چار سو مسافروں کو لے کر ۱۶؍اپریل ۱۸۵۲ء کو روانہ ہوئی۔ ہوائی جہاز کی پہلی پرواز ۷؍دسمبر ۱۹۰۳ء کو امریکہ میں ہوئی۔ یورپ میں پہلی مرتبہ ہوائی جہاز کی پرواز ۱۳؍ستمبر ۱۹۰۶ء کو ہوئی تھی۔
۸۔ وحشی جانور جمع کیے جائیں گے اور چڑیا گھر بنائے جائیں گے: جدید ذرائع نقل وحمل کے ساتھ اس کا واضح تعلق ہے کیونکہ ان کے بغیر عظیم الجثہ جانوروں کو ایک جگہ اکٹھا کرنا ممکن نہیں۔ تاریخ کے مطابق دنیا میں عوام الناس کے لیے پہلا جدید چڑیا گھر۱۷۹۳ء میں پیرس میں کھولا گیا برطانیہ میں زوالوجیکل سوسائٹی کے تحت ۱۸۱۹ء میں ریجنٹ پارک میں سائنسی تحقیق کے نام پر پہلا زوالوجیکل گارڈن بنایاگیا ۱۸۷۴ء میں اسے عوام کے لیے بھی کھول دیا گیا۔ امریکہ میں پہلا چڑیاگھر۱۸۷۴ء میں فلاڈلفیا میں کھلا۔
۹۔ مردہ جانوروں کے لاشے اور ڈھانچے لا کر سائنسی تحقیقات کے لیے جمع کیے جائیں گے: وحوش سے وحشی اور جنگلی انسان بھی مراد لیے جا سکتے ہیں یعنی ان کا تعلق متمدن انسانوں سے ہو جائے گا ان میں بیداری پیدا ہو جائے گی اور عالمگیر سیاسی نظام شروع ہو جائے گا۔ جو اقوام نزول قرآن کے وقت وحشی سمجھی جاتی تھیں وہ ابھار دی جائیں گی اور دنیا میں پھیل جائیں گی یعنی یورپ اور امریکا کا غلبہ ہو گا جونزول قرآن کے وقت بالکل وحشی سمجھی جاتی تھیں۔
۱۰۔ سمندروں اور دریاؤں کو پھاڑنے اور اُن سے نہریں نکالنے کی پیشگوئی: کاشتکاری کثرت سے ہوگی۔ پچھلی دو صدیوں میں دنیا بھر میں نہروں اور نالیوں کا جال بچھایا گیاسمندروں، جھیلوں اور دریاؤں کو نہروں کے ذریعہ آپس میں ملایا گیا ہے۔ نہر سویز (Suez Canal) اور نہر پانامہ (Panama Canal) جیسی ناقابل یقین نہروں سمیت دیگر کئی بڑی بڑی نہریں قرآنی صداقت کا عظیم الشان اظہار ہیں
۱۱۔ سمندروں کو ایندھن سے بھر دیا جانا: اور بحری جنگوں کا ظہور
۱۲۔ جب ساری دنیا کے لوگ ملا دیئے جائیں گے: یعنی بین الاقوامی معاہدات اور اقوام متحدہ اور دیگر تنظیموں کے ذریعہ اکٹھے کیے جائیں گے۔ اور جب لوگوں کے ملاپ کو تیز رفتار ذرائع نقل وحمل کے باعث آسان کر دیا جائے گا کمپیوٹربنانے کی ۱۸۳۰ء میں پہلی کامیاب کوشش ہوئی اور ۱۹۳۰ء میں پہلا اینا لاگ کمپیوٹر ایجاد ہوا۔ تار برقی ٫۱۸۳۸ میں۔ ٹیلی فون ٫۱۸۴۶۔ بلب ۱۸۷۹ء۔روشنی کی رفتار ٫۱۹۰۷ میں معلوم کی گئی۔پہلا ریڈیو سگنل ۱۸۹۵ء۔ریڈیو۱۹۰۹ءمیں ایجاد ہوئے۔
۱۳۔ صحیفے پھیلائے جائیں گے: کتابوں اور اخبارات کی اشاعت کے لیے پریس ایجاد ہوئے پھر ان کتب وغیرہ کو تیز رفتار سواریوں کے ذریعہ دنیا بھر میں پھیلانے کا اہتمام کیا گیا۔ مردہ صحیفے کھولے جائیں گے۔ یہ پیشگوئی پہلے لائبریریوں اور پھر ریڈیو ٹیلیویژن کے ذریعہ پوری ہوئی۔ ۱۸۷۱ء رچرڈ مارچ نے جدید طرز پر پریس قائم کیا۔ ٫۱۸۲۰ میں پریس کا وسیع استعمال ہوا اور لیتھو پریس بنایا گیا۔
۱۴۔ علم ہیئت میں حیرت انگیز ترقی ہو گی: مادہ پرست دنیا خلاکے راز کو معلوم کرنے کے لیے آسمان کی بلندیوں اور دوسرے سیاروں تک جا پہنچے گی۔ چنانچہ پچھلے سو سال میں فزکس اور اس سے متعلقہ علوم نے جتنی ترقی کی ہے وہ گذشتہ ہزار سال میں بھی نہیں ہوئی تھی انسان خلا کو عبور کر کے سیاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے اور بستیاں بسانے کی کوشش کر رہا ہے۔
۱۵۔ ایسی عظیم جنگیں ہوں گی گویا جہنم کے دروازے کھول دیے گئے ہو ں۔
۱۶۔ اس زمانہ کی سائنسی ترقیات: کے متعلق قرآن میں اور بھی پیشگوئیاں ہیں جو پوری ہو کر زمانہ مسیح موعود متعین کر رہی ہیں مثلاً زمین سے خزانوں کا نکلنا۔ قبروں کا کھولا جانا اور ان پر تحقیق کرنا۔ قرآن سیاسی اور سماجی حالات کا نقشہ بھی کھینچتا ہے۔
الغرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ روحانی سورج ہیں جس کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑے گی اللہ تعالیٰ نے قران کریم کی ظاہری حفاظت کا ذمہ بھی لیا ہے اور مجسم قران محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی زندگی کا ذمہ بھی لیا ہے آپ کے نور سے فیض یاب ہونے والے آتے رہے اور آتے رہیں گے۔ وہ ہر زمانہ میں اس کی لازوال زندگی کا ثبوت دیتے رہیں گے اور ابد الآباد تک دنیا کو منور کرتے رہیں گے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت مصلح موعود ؓ ۔ نوجوان نسل کے روحانی معلّم




