افریقہ (رپورٹس)

لائبیریا میں مسجد بیت السلام اور مسجد بیت الباسط کے بابرکت افتتاح

مسجد بیت السلام کا افتتاح

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ لائبیریا کو بومی (Bomi) کاؤنٹی کی ایک جماعت سیہ ٹاؤن (Seah Town) میں مسجد کی تعمیر کی توفیق ملی۔ الحمدللہ علیٰ ذلک

مسجد بیت السلام

یہ جماعت کاؤنٹی کے صدر مقام ٹب مین برگ (Tubmanburg) سے قریباً ۲۳؍کلومیڑ کی مسافت پر واقع ہے۔ اس جگہ احمدیت کا پیغام ۲۰۰۶ء میں مکرم جاوید اقبال لنگاہ صاحب سابق مبلغ سلسلہ لائبیریا کے ذریعہ پہنچا اور اس وقت یہاں ممبران جماعت کی تعداد۸۰؍نفوس پر مشتمل ہے۔

اولاً یہاں ایک کچی مسجد تعمیر کی گئی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ احباب جماعت کی تعداد میں اضافے اور بہتر جگہ کی ضرورت کے پیش نظر یہاں ایک پختہ مسجد کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ ۹؍نومبر ۲۰۲۵ء کو مکرم آصف احمد صاحب مبلغ سلسلہ نے اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھااور انہی کی زیرنگرانی تین ماہ میں یہ مسجد پایۂ تکمیل تک پہنچی۔

مسجد بیت السلام کا افتتاح

اس مسجد کو بیت السلام کے نام سے موسوم کیا گیاہے۔ مسجد کا مجموعی مسقف حصہ ۶۰۰؍مربع فٹ پر مشتمل ہے جس میں بیک وقت ۱۰۰؍نمازیوں کے نماز پڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔

۴؍فروری ۲۰۲۶ء کو مسجد بیت السلام کا بابرکت افتتاح مکرم نوید احمد عادل صاحب امیر و مبلغ انچارج صاحب لائبیریا نے کیا۔ تلاوت قرآن کریم کے بعد مکرم امیر صاحب نے احباب جماعت کو مسجد کے اصل حسن یعنی اس کی آباد کاری اور نوجوان نسل کو مسجد سے جوڑنے، قرآن کریم سیکھنے، تربیتی کلاسز اور دیگر جماعتی پروگراموں کے ليے مسجد کا رخ کرنے کی طرف خاص توجہ دلائی۔ دعا کے معاً بعد مکرم امیر صاحب نے فیتہ کاٹ کر مسجد کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ بعد ازاں نماز ظہر و عصر جمع کرکے ادا کی گئیں۔ اس موقع پر تمام شاملین کی ظہرانہ سے تواضع کی گئی۔

اس بابرکت تقریب میں ۱۵۰؍کے قریب مقامی افراد نے شرکت کی جن میں علاقہ کے معزز چیفس اور مختلف مساجد کے ائمہ کرام بھی شامل تھے۔ تمام معزز مہمانوں نے جماعت احمدیہ کی اِن مخلصانہ کوششوں کو سراہا اور نئی مسجد کی تعمیر پر دلی خوشنودی کا اظہار کیا۔

مسجد بیت الباسط کا افتتاح

گرینڈ جیڈے (Gedeh Grand) کاؤنٹی لائبیریا کے جنوب مشرق میں واقع ہے جس کے صدر مقام کا نام زویدرو (Zwedru) ہے جودارالحکومت منروویا (Monrovia) سےقریباً ۴۷۵؍کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔ ۲۰۰۲ء میں پہلی دفعہ یہاں جماعت احمدیہ کا پیغام جاوید اقبال لنگاہ صاحب سابق مبلغ سلسلہ لائبیریا کے ذریعہ پہنچا۔ ۲۰۰۳ء میں ملکی خانہ جنگی کی دوسری لہر نےاس علاقہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ نتیجۃً جاوید اقبال صاحب کو یہ علاقہ چھوڑنا پڑا جس کے باعث ایک طویل عرصہ تک یہاں پر دوبارہ مشن کا قیام ممکن نہ رہا۔ بالآخربیس سال بعد ۲۶؍نومبر۲۰۲۲ء کو ابراہیم سیسے صاحب معلم سلسلہ زویدرو (Zwedru) پہنچے اور آپ کی تقرری کے ساتھ یہاں مشن کا از سرنو آغاز ہوا۔ اس وقت یہاں احباب جماعت کی تعداد ۵۲؍افراد پر مشتمل ہے۔

مسجد بیت الباسط

۲۰؍فروری۲۰۲۵ءکو محمد زکریا صاحب مبلغ سلسلہ نمبا (Nimba) کاؤنٹی نے اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھااور ابراہیم سیسے صاحب کی زیر نگرانی مکمل ہوئی۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہ شفقت اسے ’مسجد بیت الباسط‘ کے نام سے موسوم فرمایا ہے۔ مسجد کا مسقف حصہ ۱۰۵۰؍مربع فٹ ہے جس میں ۱۴۰؍افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ یہ مسجد جماعت احمدیہ کی طرف سے اس کاؤنٹی میں تعمیرکردہ پہلی مسجد ہے۔

مسجد بیت الباسط کا افتتاح

۲۵؍جنوری۲۰۲۶ء کو مکرم امیر صاحب کی زیر صدارت اس مسجد کی بابرکت افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ تلاوت قرآن کریم اور معزز مہمانوں کے اظہار خیال کے بعد مکرم امیر صاحب نے مسجد کے قیام کا مقصد اور جماعت احمدیہ کے ليے اس کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ نیر آپ نے کہا کہ اس مسجد کے دورازے ہر موحد کے ليے کھلے ہیں۔ دعا کے معاً بعد فیتہ کاٹ کر مسجد کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا گیا۔

نیشنل و مقامی ریڈیو سٹیشن کے نمائندگان نے اس تقریب کی براہ راست کوریج بھی کی۔ اس بابرکت تقریب میں ۱۶۰؍مہمانوں نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پران کی کھانے سے تواضع بھی کی گئی۔

اللہ تعالیٰ ان مساجد کو اہل علاقہ کے لیے ہدایت کا مرکز اور امن و سلامتی کا گہوارہ نیز جماعت کی ترقیات کے نئے ابواب کھولنے کا ذریعہ بنائے۔ آمین

(رپورٹ : فرخ شبیر لودھی۔ نمائندہ الفضل انٹر نیشنل )

مزید پڑھیں: جماعت میلبرن اِیسٹ، آسٹریلیا میں رمضان کی مناسبت سےایک بین المذاہب سمپوزیم

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button