خلاصہ خطبہ جمعہ

حضرت اقدس مسیح موعودؑکی سیرتِ مبارکہ کے حوالے سے توحیدِ الٰہی کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۱۰؍اپریل ۲۰۲۶ء

٭… انسان کو ہر وقت یہی خیال رکھنا چاہیے کہ جو نعمتیں جو اولاد ہمیں ملی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کی وجہ سے ملی ہے اور یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکے رہیں۔اس کی توحید کا اپنے ہر قول و فعل سے اظہار کریں اور کبھی ہلکا سا بھی شرک کا شائبہ ہم میں پیدا نہ ہو ۔کبھی یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا کوئی اللہ تعالیٰ پر حق ہے ذرا سی عبادت کرنے سے کوئی حق نہیں ادا ہو گیا بلکہ ہم اپنے فائدے کے لیے کرتے ہیں

٭… قبولیت دعا کے لیے یہ ضروری ہے کہ توحید پر کامل یقین ہو اور ایمان ہو اور اللہ تعالیٰ سے اس کی محبت حاصل کرنے کے لیے دعا سب سے پہلے ہو

٭… میری تمام تر خوشی اسی میں ہے اور میری بعثت کی اصل غرض یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا میں قائم ہو (حضرت مسیح موعودؑ)

٭… میری بیعت کی اصل غرض یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا میں قائم ہو(حضرت مسیح موعودؑ)

٭… توحید کا پیغام پہنچانے اور اس کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے ۔ یہ آج مسیح محمدی کے غلاموں کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کام کو سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۰؍اپریل ۲۰۲۶ء بمطابق ۱۰؍شہادت ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۱۰؍اپریل ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔

تشہد،تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:

اپنے آقا کی اتباع میں حضرت مسیح موعودؑکی توحید کے قائم کرنے کے لیے کوشش آپؑ کے عملی نمونہ اور اپنے ماننے والوں کو نصائح اور کس طرح ان کی تربیت فرمایا کرتے تھے اس کے کچھ واقعات پیش کروں گا۔

حضرت مسیح موعودؑ فرمایا کرتے تھے کسی شخص کا بیٹا مر گیا اور اس کا ایک دوست تعزیت کے لیے اس کے پاس گیا تو وہ چیخ مار کر رو پڑا اور اسے کہنے لگا کہ خدا نے مجھ پر بڑا ظلم کیا ہے گویا اس کے خیال میں اس کا کوئی حق خدا تعالیٰ نے مار لیا تھا۔مگر سوچنا چاہیے کہ وہ کون سا حق ہے جو بندے نے خدا تعالیٰ پر قائم کیا ؟

انسان کو ہر وقت یہی خیال رکھنا چاہیے کہ جو نعمتیں جو اولاد ہمیں ملی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کی وجہ سے ملی ہے اور یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکے رہیں۔اس کی توحید کا اپنے ہر قول و فعل سے اظہار کریں اور کبھی ہلکا سا بھی شرک کا شائبہ ہم میں پیدا نہ ہو۔کبھی یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا کوئی اللہ تعالیٰ پر حق ہے۔ ذرا سی عبادت کرنے سے کوئی حق نہیں ادا ہو گیا بلکہ ہم اپنے فائدے کے لیے کرتے ہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ کو اپنے بیٹے مرزا مبارک احمد سے بڑی محبت تھی اور اس کی بیماری میں آپؑ نے بڑی تیمارداری کی اس سے حضرت خلیفہ اولؓ تک کو بھی یہ خیال تھا کہ اگر مبارک احمد فوت ہو گیا تو حضرت مسیح موعودؑ کو بڑا صدمہ ہوگا۔ جب مبارک احمد فوت ہو گیا ہے تو حضرت مسیح موعودؑاسی وقت نہایت صبر کے ساتھ دوستوں کو خط لکھنے لگ گئے کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے مگر اس امر پر گھبرانا نہیں چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک مشیت تھی جس پر ہمیں صبر کرنا چاہیے اور پھر باہر آکر مسکرا مسکرا کر تقریر کرنے لگے کہ مبارک احمد کے متعلق خدا تعالیٰ کا جو الہام تھا وہ پورا ہو گیا۔چنانچہ آپؑ کا شعر بھی ہے کہ

بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دوران سر کا عارضہ تھا، چکروں کی تکلیف تھی۔ایک طبیب کے متعلق سنا گیا کہ وہ اس میں خاص ملکہ رکھتا ہے۔اسے بلوایا گیا اس نے حضورؑکو دیکھا اور کہا کہ دو دن میں مَیں آپ کو آرام کر دوں گا۔یہ سن کر حضرت صاحبؑ اندر چلے گئے اور حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓکو رقعہ لکھا کہ اس شخص سے میں علاج ہرگز نہیں کرانا چاہتا۔یہ کیا خدائی کا دعویٰ کرتا ہے۔اس کو واپس کرایہ کے روپیہ اور مزید ۲۵؍روپے بھیج دیے کہ اسے رخصت کر دیں۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے تھے کہ خدا ان سے محبت کرتا ہے جو اس کی عظمت و عزّت کے واسطے جوش رکھتے ہیں۔ایسے لوگ ایک باریک راہ سے جاتے ہیں اور ہر کس و ناکس ان کے ساتھ نہیں چل سکتا جب تک خدا کے لیے جوش نہ ہو کوئی لذّت انسان کو حاصل نہیں ہو سکتی۔جب تک انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے لیے ذاتی جوش نہ ہو اور نفس کی ملونی اور اپنے دنیاوی فوائد و منافع کے خیال سے انسان خالی نہ ہو جائے تب تک اس کی کوئی عبادت و صدقہ قبول نہیں ہوتا۔ پس

قبولیت دعا کے لیے یہ ضروری ہے کہ توحید پر کامل یقین ہو اور ایمان ہو اور اللہ تعالیٰ سے اس کی محبت حاصل کرنے کے لیے دعا سب سے پہلے ہو۔

جو لوگ لکھتے ہیں کہ ہم نے بہت دعا کی ،ہم نے یہ کیا وہ کیا ،نفل پڑھے ،صدقے دیے ہماری دعا قبول نہیں ہوئی وہ ذرا اس بات پر غور کریں۔یہ نسخہ حضرت مسیح موعودؑ نے بتایا ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا چونکہ اس زمانے میں تُو میری توحید کا علمبردار ہے اور توحید کے کھوئے ہوئے متاع کو دنیا میں دوبارہ قائم کر رہا ہے اس لیے اے مسیح محمدی! تُو مجھے ایسا ہی پیارا ہے جیسا کہ میری توحید و تفرید اور چونکہ عیسائیوں نے جھوٹ اور افترا کے طور پر اپنے مسیح کو خدا کا اصلی بیٹا بنا رکھا ہے اس لیے میری غیرت نے تقاضا کیا کہ میں تیرے ساتھ ایسا پیار کروں کہ جو اولاد کا حق ہوتا ہے تاکہ دنیا پر ظاہر ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺکے شاگرد تک اطفال اللہ کے مقام کو پہنچ سکتے ہیں۔

آپؑ فرماتےہیں کہ

خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دینِ واحد پر جمع کرے یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لیے میں دنیا میں بھیجا گیا ہوں سو تم اس مقصود کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے۔

پھر آپؑ فرماتے ہیں:

میری تمام تر خوشی اسی میں ہے اور میری بعثت کی اصل غرض یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا میں قائم ہو۔

ایک موقع پر فرمایا :

میری بیعت کی اصل غرض یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا میں قائم ہو۔

قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک خادم پیراں دتّہ نام کے تھے۔ سب ان کو اسی نام سے پکارتے تھے۔مگر حضور علیہ السلام جب بلاتے تو فرماتے پیری دتّا یعنی میرے پیر اللہ کا دیا ہوا۔

اللہ تعالیٰ نے الہاماً حضرت صاحبؑکو فرمایا:خذو ا التوحید التوحید یا ابنا ء الفارس۔یہ الہام اپنی بقا اور ترقی کے لیے ہے آپؑ کی نسل کے لیے اور ہر ماننے والے کے لیے ہے۔جب آپؑ کی بیعت میں شامل ہو گئے تو آپؑ کے بچوں میں نسل میں شامل ہیں۔ اگر اسے پکڑے رکھیں گے تو دین و دنیا میں کامیابی ملے گی ورنہ نہ کوئی خونی رشتہ فائدہ دیتا ہے نہ صرف بیعت کرنا فائدہ دیتا ہے۔

حافظ محمد ابراہیم صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ پہلی دفعہ میں حکیم عبدالعزیز اور حکیم عطا محمد صاحب کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت مبارک میں حاضر ہوا۔جب حضورؑکمرے سے باہر تشریف لانے لگے تو ہم تینوں دروازے کے پاس کھڑے تھے۔ہم دو نے حضورؑکو السلام علیکم عرض کر کے آپ سے مصافحہ کیا مگر عطا محمد صاحب حضرت مسیح موعودؑکے قدموں پر گر پڑے۔ حضورؑ نے ان کو اٹھایا اور فرمانے لگے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس زمانے میں اس شرک کو مٹانے کے لیے مبعوث فرمایا ہے۔اس طرح پیر چومنا شرک ہے۔پھر ان سے مصافحہ کیا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:مَیں اس بات کا سخت مخالف ہوں کہ کوئی میری تصویر کھینچے اور اس کو بُت پرستوں کی طرح اپنے پاس رکھے یا شائع کرے۔ مَیں نے ہر گز ایسا حکم نہیں دیا کہ کوئی ایسا کرے اور مجھ سے زیادہ بُت پرستی اور تصویر پرستی کا کوئی دشمن نہیں ہو گا۔ لیکن مَیں نے دیکھا ہے کہ آج کل یورپ کے لوگ جس شخص کی تالیف کو دیکھنا چاہیں اوّل خواہشمند ہوتے ہیں جواُس کی تصویر دیکھیں کیونکہ یورپ کے ملک میں فراست کے علم کو بہت ترقی ہے۔ اور اکثر اُن کی محض تصویر کو دیکھ کر شناخت کر سکتے ہیں کہ ایسا مدعی صادق ہے یا کاذب۔ اور وہ لوگ بباعث ہزار ہا کوس کے فاصلہ کے مجھ تک پہنچ نہیں سکتے اور نہ میرا چہرہ دیکھ سکتے ہیں لہٰذا اُس ملک کے اہلِ فراست بذریعہ تصویر میرے اندرونی حالات میں غور کرتے ہیں۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو انہوں نے یورپ یا امریکہ سے میری طرف چٹھیاں لکھی ہیں اور اپنی چٹھیوں میں تحریر کیا ہے کہ ہم نے آپ کی تصویر کو غور سے دیکھا اور علمِ فراست کے ذریعہ سے ہمیں ماننا پڑا کہ جس کی یہ تصویر ہے وہ کاذب نہیں ہے۔ اور ایک امریکہ کی عورت نے میری تصویر کو دیکھ کر کہا کہ یہ یسوع یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر ہے۔ پس اس غرض سے اور اس حد تک مَیں نے اس طریق کے جاری ہونے میں مصلحتاً خاموشی اختیار کی۔ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔

اس طرح کی بدعات ہمارے لوگوں میں بھی شروع ہو رہی ہیں۔ بعض لوگ اپنے فوت شدگان کی تصاویر اپنے ساتھ لگا لیتے ہیں۔ بعض لوگ شادیوں کی تقریبوں میں تصویر بڑی سی فریم کروا کر لگا لیتے ہیں کہ یہ ہمارے فوت شدہ بزرگ ہیں اور ہمارے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔ یہ سب شرک ہے۔ بدعت ہے اس سے بچنا چاہیے۔صرف نیک مقصد کےلیے اپنی یادگار کے طور پر البم میں تصویریں رکھنا جائز ہے لیکن اس کو فطرت بنا لینا اور پھر ہر صبح اٹھ کر دیکھنا ،سلام کرنا بدعت ہے۔

میر عبدالرحمٰن صاحب کشمیری کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب پہلے حنفی تھے۔پھر اہل حدیث ہوئے۔ وہ اپنے دوست سے کہا کرتے تھے کہ ہم لوگ بڑے موحد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ممکن ہے کوئی ایسی جماعت نکل آئے کہ وہ ہم کو بھی مشرک کردے۔ والد صاحب فرماتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا کیونکہ ہم لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مُردوں کو زندہ کرنے والے اور چڑیوں کا خالق مانتے تھے۔ جب میرے کانوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر سنا کہ

ہے وہی اکثر پرندوں کا خدا

اس خدادانی پہ تیرے مرحبا

مولوی صاحب یہی توحید ہے

سچ کہو کس دیو کی تقلید ہے

اس وقت مجھے ہو ش آیا۔میں پیدل قادیان چلا گیا اور بیعت سے مشرف ہوا۔

حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۰۱ء کا ذکر ہے میں حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ اقدس میں حاضر تھا۔حضور علیہ السلام نے توحید باری تعالیٰ پر ایک تقریر فرمائی اور فرمایا کہ بعض لوگ کسی کے احسان پر الحمدللہ کہنے کہ بغیر ہی جزاک اللہ کہہ دیتے ہیں حالانکہ بنظر غائر دیکھا جائے تو یہ اپنے اندر ایک گو نہ شرک کا پہلو رکھتا ہے کیونکہ احسان کرنے والے کی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی توصیف و تحمید بیان کی جائے اور پھر احسان پر جزاک اللہ کہا جائے۔

حضرت بھائی عبد الرحمٰن صاحب قادیانیؓ حضور علیہ السلام کے آخری سفر لاہور کی تفصیلات پر مشتمل ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ وفات سے چندروز قبل حضرت صاحبؑ کی زیارت کے لیے مستورات تشریف لائیں۔ حضورؑ چونکہ بہت مصروف تھے ان کو جلدی رخصت فرمانا چاہا مگر انہوں نے عذرکیا اور کچھ نصیحت فرمانے کی درخواست کی۔حضورؑ نے باوجود انتہائی مصروفیت کے ان کی درخواست کو قبول فرما کر توحید کی تلقین فرمائی اور بت پرستی سے منع فرمایا۔ حضورؑ نے ایک اَور تقریر میں فرمایا تھا عیسی ٰمسیح کو مرنے دو اس میں اسلام کی زندگی ہے۔مسیح محمدی کو آنے دو کہ اسی میں اسلام کی بزرگی ہے۔

پس

توحید کا پیغام پہنچانے اور اس کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے۔ یہ آج مسیح محمدی کے غلاموں کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کام کو سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

خطبہ کے آخر میں حضورِ انور نے

دنیا کے حالات کے حوالے سے دعا کی تحریک

فرمائی جس کی تفصیل درج ذیل لنک پر موجود ہے:

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button