شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
اطاعت ہر حال میں ضروری ہے
اطاعت کے موضوع پرمیں چند احادیث پیش کرتاہوں جن سے اطاعت کی اہمیت کاپتا چلتاہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا:تنگدستی اورخوشحالی، خوشی اورناخوشی،حق تلفی اور ترجیحی سلوک ، غرض ہرحالت میں تیرے لئے حاکم وقت کے حکم کو سننااور اطاعت کرنا واجب ہے۔ (صحیح مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب وجوب طاعۃالامراء فی معصیۃٍ وتحریمھا فی المعصیۃ)
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:جو شخص اپنے سردار اور امیر میں کوئی ایسی بات دیکھے جو اسے پسند نہ ہو تو صبر سے کام لے کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی دورہوتاہے وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔ (صحیح بخاری۔ کتاب الفتن۔ باب قول النبی سترون بعد ی امورًا تنکرونھا)
پھر حضرت عرفجہؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے آنحضرتﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم ایک ہاتھ پرجمع ہو اور تمہارا ایک امیر ہواور پھرکوئی شخص آئے اورتمہاری وحدت کی اس لاٹھی کو توڑنا چاہے تا تمہاری جماعت میں تفریق پیدا کرے تواسے قتل کردو۔ یعنی اس سے قطع تعلق کرو اوراس کی بات نہ مانو۔ (اس کے احکامات کوبالکل سنی ان سنی کردو)۔ (صحیح مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب حکم من فرّق امر المسلمین وھومجتمع)
حضرت عبادہ ؓبن صامت سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہﷺ کی بیعت اس نکتہ پر کی کہ سنیں گے اوراطاعت کریں گے خواہ ہمیں پسند ہو یاناپسند۔ اور یہ کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں کسی امر کے حقدار سے جھگڑا نہیں کریں گے، حق پر قائم رہیں گے یاحق بات ہی کہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ (صحیح مسلم۔ کتا ب الامارۃ۔ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیرمعصیۃٍ و تحریمُھا فی المعصیۃ۔ حدیث نمبر ۴۷۶۸)
حضرت ابن عمر ؓبیان کرتے ہیں کہ مَیں نے آنحضرتﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اپنا ہاتھ کھینچا وہ اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن اس حالت میں ملے گا کہ نہ اس کے پاس کو ئی دلیل ہوگی اورنہ عذر۔ اورجو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے امام وقت کی بیعت نہیں کی تھی تو وہ جاہلیت اور گمراہی کی موت مرا۔ (صحیح مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین عند ظہور الفتن)
پس آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ نے امام وقت کو مانا اور اس کی بیعت میں شامل ہوئے۔ اب خالصتاً للہ آپ نے اس کی ہی اطاعت کرنی ہے، اس کے تمام حکموں کو بجا لاناہے ورنہ پھرخدا تعالیٰ کی اطاعت سے باہرنکلنے والے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ ہر احمدی کواطاعت کے ا علیٰ معیار پرقائم فرمائے اوریہ ا علیٰ معیارکس طرح قائم کئے جائیں۔ یہ معیار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم پر عمل کرکے ہی حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
جماعت میں کون داخل ہوتا ہے
آپؑ فرماتے ہیں : ’’ہماری جماعت میں وہی داخل ہوتاہے جو ہماری تعلیم کو اپنا دستور العمل قرار دیتاہے اور اپنی ہمت اور کوشش کے موافق اس پر عمل کرتاہے۔ لیکن جو محض نام لکھا کر تعلیم کے موافق عمل نہیں کرتا تو یاد رکھے کہ خداتعالیٰ نے اس جماعت کو ایک خاص جماعت بنانے کا ارادہ کیاہے اور کوئی آدمی جو دراصل جماعت میں نہیں ہے محض نام لکھوانے سے جماعت میں نہیں رہ سکتا۔ اس پر کوئی نہ کوئی وقت ایسا آجائے گا کہ وہ الگ ہوجائے گا۔ اس لئے جہاںتک ہوسکے اپنے اعمال کو اس تعلیم کے ماتحت کرو جو دی جاتی ہے‘‘۔
وہ تعلیم کیا ہے؟ آپؑ فرماتے ہیں کہ :’’فتنہ کی بات نہ کرو۔ شر نہ کرو۔ گالی پر صبر کرو۔ کسی کا مقابلہ نہ کرو۔ جو مقابلہ کرے اس سے سلوک اور نیکی سے پیش آؤ۔ شیریں بیانی کا عمدہ نمونہ دکھلاؤ۔ سچے دل سے ہر ایک حکم کی اطاعت کرو کہ خدا تعالیٰ راضی ہو اور دشمن بھی جان لے کہ اب بیعت کرکے یہ شخص وہ نہیں رہا جو کہ پہلے تھا۔ مقدمات میں سچی گواہی دو۔ اس سلسلہ میں داخل ہونے والے کو چاہئے کہ پورے دل، پوری ہمت اور ساری جان سے راستی کا پابند ہو جاوے۔ دنیا ختم ہونے پر آئی ہوئی ہے۔‘‘(ملفوظات۔ جدید ایڈیشن۔ جلد سوم۔ صفحہ۶۲۰-۶۲۱)
اب یہاں جس طرح آپ نے فرمایاکہ فتنہ کی بات نہ کرو۔ بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ صرف مزا لینے کے لئے عادتاًایک جگہ کی بات دوسری جگہ جا کر کردیتے ہیں اور ان سے فتنہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتاہے۔ مختلف قسم کی طبائع ہوتی ہیں، جس کے سامنے بات کی اور بات بھی اس کے متعلق کی تو قدرتی طورپر اس شخص کے دل میں اس دوسرے شخص کے بارہ میں غلط رنجش پیدا ہوگی جس کی طرف منسوب کرکے وہ بات کی جاتی ہے اور وہ بات اسے پہنچائی گئی ہے۔ تو یہ رنجش گو میرے نزدیک پیدا نہیں ہونی چاہئے ایسے فتنوں کو روکنے کا بھی یہ طریقہ ہے کہ جس کی طرف منسوب کرکے بات پہنچائی گئی ہو اس کے پاس جا کر وضاحت کردی جائے کہ آیا تم نے یہ باتیں کی ہیں یا نہیں ،یہ بات میرے تک اس طرح پہنچی ہے۔ تو وہیں وضاحت ہو جائے گی اور پھرایسے فتنہ پیدا کرنے والے لوگوں کی اصلاح بھی ہوجائے گی۔ تو بعض دفعہ اس طرح بھی ہوتاہے کہ ایسے لوگ، فتنہ پیداکرنے والے، خاندانوں کو خاندانوں سے لڑا دیتے ہیں۔ ایسے فتنہ کی باتوں سے خود بھی بچو اور فتنہ پیدا کرنے والوں سے بھی بچو۔ اور اگر ہوسکے تو ان کی ا صلاح کی کوشش کرو۔ پھر شر ایک تو براہ راست لڑائی جھگڑوں سے،گالی گلوچ سے پیدا ہوتاہے ، اس سے فتنہ بھی پیدا ہوتاہے۔ تو فرمایا کہ اگر تمہیں میرے ساتھ تعلق ہے اور میری اطاعت کا دم بھرتے ہو تو میری تعلیم یہ ہے کہ ہر قسم کے فتنہ اور شر کی باتوں سے بچو۔ تم میں صبر اور وسعت حوصلہ اس قدرہو کہ اگرتمہیں کوئی گالی بھی دے تو صبر کرو۔ پھر اس تعلیم پر عمل کرکے تمہارے لئے نجات کے راستے کھلیں گے۔ تم خداتعالیٰ کے مقربین میں شامل ہوگے۔ کسی بھی معاملے میں مقابلہ بازی نہیں ہونی چاہئے۔ سچے ہوکر جھوٹوں کی طرح تذلّل اختیار کرو۔ اور جو مرضی تمہیں کوئی کہہ دے تم محبت پیار اور خلوص سے پیش آئو۔ ایسی پاک زبان بنائو ،ایسی میٹھی زبان ہو، اخلاق اس طرح تمہارے اندر سے ٹپک رہاہو کہ لوگ تمہاری طرف کھنچے چلے آئیں۔ تو تمہارے ماحول میں یہ پتہ چلے،ہر ایک کو یہ پتہ چل جائے کہ یہ احمدی ہے۔ اس سے سوائے اعلیٰ اخلاق کے اورکسی چیز کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ تمہارے یہ ا خلاق بھی دوسروں کو کھینچنے اور توجہ حاصل کر نے کا باعث بنیں گے۔
پھر یہ ہوتاہے کہ بعض لوگ مقدمات میں ذاتی مفاد کی خاطر جھوٹی گواہیاں بھی دے دیتے ہیں ، جھوٹا کیس بھی اپنا پیش کر دیتے ہیں۔ تو فرمایا کہ تمہارا ذاتی مفاد بھی تمہیں سچی گواہی دینے سے نہ روکے۔ بعض لوگ یہاں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی بعض دفعہ باہر آنے کے چکر میں غلط بیانی سے کام لیتے ہیں، توان باتوں سے بھی بچو۔ جو صحیح حالا ت ہوں اس کے مطابق اپنا کیس داخل کروائو اور اس میں اگر مانا جاتاہے تو ٹھیک ہے ورنہ واپس چلے جائیں۔ کیونکہ غلط بیانیوں کے باوجود بھی بعضوں کے کیس ریجیکٹ (Reject) ہو جاتے ہیں توسچ پر قائم ر ہتے ہوئے بھی آزما کر دیکھیں ان شاء اللہ فائدہ ہی ہوگا۔ یا اگر ریجیکٹ ہوں گے بھی تو کم از کم اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث تو نہیں بنیں گے۔
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۱۸۴تا۱۸۹)
مزید پڑھیں: دوسروں کے عیب اور پردہ پوشی



