احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح
الہام ہی ہے جس کے ذریعہ سے خدا کی نسبت ہے کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ اور تمام دنیا ہست ہست کرکے اس کو پکار رہی ہے۔ وہ الہام ہی ہے جو ابتدا سے دلوں میں جوش ڈالتا آیاکہ خدا موجود ہے (حضرت مسیح موعودؑ)
(تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل۲۸؍مارچ۲۰۲۶ء)
براہین احمدیہ کے اجمالی مضامین کے بیان کے آخرپردواقتباس پیش کرتے ہوئے اس باب کوختم کرتاہوں۔ پہلے اقتباس میں عقل اور الہام کی بحث میں الہام اورعقل کے جوڑاور الہام کے بغیر مجردعقل کے نقائص اور مذمت کا ایک خوبصورت اور دلنشین بیان پیش خدمت کیاجاتاہے جوبجائے خود ایک شہ پارہ ہے ۔حضرت اقدسؑ تحریرفرماتے ہیں: ’’ اس کا جواب ابھی گزر چکا ہے کہ بذریعہ قیاسات عقلیہ کے جو کچھ خدا اور امور آخرت کے بارے میں سوچا جاتا اور فکر کیا جاتا ہے اُس سے نہ یقین کامل حاصل ہوتا ہے نہ معرفت کامل۔ اور جو جو وساوس قیاس پرستوں کے جی میں کھٹکتے رہتے ہیں ان کا تدارک بجز الہام کے ہوہی نہیں سکتا۔ کیونکہ اگر نیچر سے اس قدر سمجھا بھی گیا کہ عالم کا ایک صانع ضرور چاہیئے لیکن اس کا بیان کرنے والا کون ہے کہ وہ صانع ہے بھی۔ ہاں یہ سچ ہے کہ عمارت کو دیکھ کر معمار پر یقین آسکتا ہے۔ پر وہ یقین عادی طور پر ہم کو حاصل ہے۔ کیونکہ جیسے ہم عمارتوں کو دیکھتے ہیں ساتھ ہی معماروں کو بھی دیکھتے ہیں۔ لیکن زمین آسمان بنانے والے کو کون دکھاوے۔ اس کا تو تب ہی پورا پورا یقین آوے کہ جب معماروں کی طرح اس کا بھی کچھ پتہ لگے۔ اگر عقل نے گواہی بھی دی کہ کوئی اس عالم کا بنانے والا چاہیئے تو وہی عقل پھر آپ ہی حیرت کے دریا میں ڈوبے گی کہ اگر یہ خیال سچا ہے تو پھر اس صانع کا آج تک کوئی پتہ بھی تو لگا ہوتا۔ پس اگر عقل نے صانع کے وجود کی طرف کسی قدر رہبری کی تو پھر دیکھنا چاہیئے کہ رہزن بھی تو وہی عقل ہوئی۔ کسی کو دہریہ بنایا۔ کسی کو طبعیہ۔ کوئی کسی طرف جھکا اور کوئی کسی طرف۔ بھلا فقط عقلی خیال سے کہ جس کی تصدیق کبھی نہیں ہوئی اور نہ آئندہ کبھی ہوگی یقین کیونکر آوے۔ اگر عقل نے قیاس بھی دوڑایا کہ بنانے والا ضرور چاہیئے تو اب کون ہے کہ ہمیں پوری پوری تسلی دے کہ اس قیاس میں کچھ دھوکا نہیں اور اس سے زیادہ اگر ہم غور بھی کریں تو کیا کریں۔ اگر عقل سے ہی پورا پورا کام نکلتا ہے۔ تو پھر کیوں عقل ہمیں راستہ میں چھوڑ کر آگے چلنے سے انکار کرتی ہے۔ کیا مرتبۂ اعلیٰ ہماری معرفت اور خدا شناسی کا یہی ہے کہ ہم صرف اتنے پر ہی کفایت کریں کہ کوئی بنانے والا چاہیئے۔ کیا ایسے اٹکل پچو خیال سے ہم اس خوشحالی دائمی کے وارث ہوسکتے ہیں کہ جو کامل الیقین اور کامل المعرفت لوگوں کے لئے طیارؔ کی گئی ہے جس یقین کامل کے لئے ہماری رُوح تڑپتی ہے۔ اگر وہ صرف عقل سے ہم کو مل جاتا تو پھر یہ قول بھی ہمارا بجا ہوتا کہ اب ہمیں الہام کی کچھ حاجت نہیں، اپنے مطلب کو پہنچ جو گئے۔ لیکن جب ہم بیمار ہوکر پھر بھی علاج کے متلاشی نہ ہوں اور صحت کامل کے وسائل طلب نہ کریں تو یہ ہماری بدبختی کی نشانی ہے…
سو اے بھائیو برہمو سماج والو!!جب کہ آپ لوگوں کو خداوند کریم نے دیکھنے بھالنے کے لئے آنکھیں دی ہیں تو پھر تم آپ ہی ذرہ آنکھ کھول کر دیکھ لو کہ ضرورت الہام کی ثابت ہے یا نہیں اور زیادہ تر تفصیل اس کی بحوالہ دلائل عقلیہ قرآن شریف کے اپنے موقعہ پر مندرج ہے۔ وہاں پڑھ لو۔ پھر اگر خدا سے خوف کرکے سچا راستہ قبول کرلو اور منصب رہنمائی کا خدا ہی کے لئے رہنے دو تو یہ بڑی خوش قسمتی کی نشانی ہے۔ ورنہ اگر کچھ بس چل سکتا ہے تو ان دلائل کو مدلّل بیان سے توڑ کر دکھلاؤ۔ لیکن سودائیوں کی چال تو مت چلو کہ جو کسی کی سنتے نہیں اور اپنی ہی بکی جاتے ہیں۔ کیا تعجب کریں یا نہ کریں کہ تم لوگ بات بات میں کٹتے جاتے ہو اور قدم قدم میں رکے جاتے ہو۔ پھر نہ جانے کہ کس بلا کے پردے ہیں کہ وہ اٹھتے ہی نہیں۔ کیسے دل ہیں کہ سمجھتے ہی نہیں۔ عقل کی کسوٹی کس طاق میں رکھ کر بھول گئے کہ کھرے کو کھوٹا اور کھوٹے کو کھرا خیال کرنے لگے۔ خیال پرستی کرنا کس کو نہیں آتا۔ یہ تم کونسا نیا تحفہ لائے کہ جس پر بغلیں بجاتے ہو۔ کوئی باعث نہیں کھلتا کہ کیوں تمہارے دل کے کواڑ نہیں کھلتے۔ کیوں تمہاری آنکھیں دیکھنے سے عاجز ہورہی ہیں۔ عقل نے تم سے کیسی بے وفائی کی کہ تم جیسے پوجاریوں سے دور بھاگ گئی۔ حضرات!!تم خوب سوچ کر دیکھ لو کہ الہام کے بغیر نہ یقین کامل ممکن ہے نہ غلطی سے بچنا ممکن نہ توحید خالص پر قائم ہونا ممکن۔ نہ جذبات نفسانیہ پر غالب آنا حیّزامکان میں داخل ہے۔ وہ الہام ہی ہے جس کے ذریعہ سے خدا کی نسبت ہے کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ اور تمام دنیا ہست ہست کرکے اس کو پکار رہی ہے۔ وہ الہام ہی ہے جو ابتدا سے دلوں میں جوش ڈالتا آیاکہ خدا موجود ہے۔ وہی ہے جس سے پرستاروں کو پرستش کی لذت آتی ہے۔ ایمانداروں کو خدا کے وجود اور عالم آخرت پر تسلی ملتی ہے۔ وہی ہے جس سے کروڑہا عارفوں نے بڑی استقامت اور جوش محبت الٰہیہ سے اس مسافر خانے کو چھوڑا۔ وہی ہے جس کی صداقت پر ہزارہا شہیدوں نے اپنے خون سے مہریں کردیں۔ ہاں وہی ہے جس کی قوت جاذبہ سے بادشاہوں نے فقر کا جامہ پہن لیا۔ بڑے بڑے مالداروں نے دولتمندی پر درویشی اختیار کرلی۔ اسی کی برکت سے لاکھوں اُمّی اور ناخواندہ اور بوڑھی عورتوں نے بڑے پرجوش ایمان سے کوچ کیا۔ وہی ایک کشتی ہے جس نے بارہا یہ کام کر دکھایا کہ بے شمار لوگوں کو ورطۂ مخلوق پرستی اور بدگمانی سے نکال کر ساحل توحید اور یقین کامل تک پہنچا دیا۔ وہی آخری دم کا یار اور نازک وقت کا مددگار ہے۔ لیکن فقط عقل کے پردے سے جس قدر دنیا کو ضرر پہنچا ہے۔ وہ کچھ پوشیدہ نہیں۔ بھلا تم آپ ہی بتلاؤ۔ کس نے افلاطون اور اس کے توابع کو خدا کی خالقیت سے منکر بنایا؟ کس نے جالینوس کو روحوں کے باقی رہنے اور جزا سزا کے بارے میں شک میں ڈال دیا؟ کس نے تمام حکیموں کو خدا کے عالم بالجزئیات ہونے سے انکاری رکھا؟ کس نے بڑے بڑے فلاسفروں سے بت پرستی کرائی؟ کس نے مورتوں کے آگے مرغوں اور دوسرے حیوانات کو ذبح کرایا۔ کیا یہی عقل نہیں تھی جس کے ساتھ الہام نہ تھا۔ اور یہ شبہ پیش کرنا کہ بہت سے لوگ الہام کے تابع ہوکر بھی مشرک بن گئے۔ نئے نئے خدا بنالئے۔ درست نہیں۔ کیونکہ یہ خدا کے سچے الہام کا قصور نہیں بلکہ ان لوگوں کا قصور ہے جنہوں نے سچ کے ساتھ جھوٹ ملا دیا اور خدا پرستی پر ہوا پرستی کو اختیار کرلیا۔ پھر بھی الہام الٰہی ان کے تدارک سے غافل نہیں رہا۔ ان کو فراموش نہیں کیا بلکہ جن جن باتوں میں وہ حق سے دور پڑ گئے۔ دوسرے الہام نے ان باتوں کی اصلاح کی اور اگر یہ کہو کہ عقل کا بگاڑ بھی نیم عاقلوں کا قصور ہے نہ عقل کامل کا قصور تو یہ قول صحیح نہیں۔ ظاہر ہے کہ عقل اپنے اطلاق اور کلیت کے مرتبہ میں تو کوئی کارروائی نہیں کرسکتی۔ کیونکہ اس مرتبہ میں وہ ایک کلی ہے اور کلی کا وجود بجز وجود افراد متحقق نہیں ہوسکتا بلکہ کیفیت اس کی بذریعہ اس کے افراد کے معلوم ہوتی ہے۔ لیکن ایسے فرد کامل کو کون دکھا سکتا ہے جس نے فقط عقل کا تابعدار ہوکر اپنے خود تراشیدہ عقائد میں کبھی غلطی نہیں کی۔ الٰہیات کے بیان میں کبھی ٹھوکر نہیں کھائی۔ ایسا عاقل کہاں ہے جس کا یقین وجود صانع عالم اور جزا سزا وغیرہ امور معاد پر ہے کے مرتبہ تک پہنچ گیا ہو۔ جس کی توحید میں شرک کی کوئی رگ باقی نہ رہی ہو۔ جس کے جذباتِ نفسانیہ پر رجوع الی اللہ غالب آگیا ہو۔ اور ہم ابھی اس سے پہلے لکھ چکے ہیں کہ خود حکماء کا اقرار ہے کہ انسان مجرد عقل کے ذریعہ سے الٰہیات کے مسائل میں مرتبہ یقین کامل تک نہیں پہنچ سکتا۔ بلکہ صرف ایک مشتبہ اور مظنون رائے کا مالک ہوتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جب تک کسی کا علم مشتبہ اور مظنون ہے اور مرتبہ یقین سے متنزل اور فروتر۔ تب تک غلطی کرنے سے اس کو امن حاصل نہیں جیسے اندھے کو راستہ بھولنے سے۔ اور یہ خیال کرنا کہ مجردعقل سے غلطیاں تو ہوجاتی ہیں پر وہ مکر رسہ کرر نظر سے رفع بھی ہوجاتی ہیں۔ یہ بھی تمہاری عجیب عقل کی ایک غلطی ہی ہے جو اب تک رفع نہیں ہوئی۔ کیونکہ ہم اس سے پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ عقل انسانی سے امور ماوراء المحسوسات میں بوجہ نقصان مرتبۂ بصیرت کامل کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں غلطی ہوجانا ایک امر لازمی ہے جس سے کسی عاقل کو انکار نہیں۔ لیکن (تم خوب سوچ کر دیکھ لو) کہ ہر ایک غلطی پر متنبہ ہوجانا اور اس کی اصلاح کرلینا امر لازمی نہیں ہے۔ پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ لازمی کا تدارک غیر لازمی سے ہمیشہ اور ہرحال میں ممکن نہیں۔ بلکہ غلطی لازمی کی اصلاح وہی شے کرسکتی ہے جس کو بمقابلہ اس کے صحت و راستی لازم ہو۔ جس میں ذالک الکتاب لاریب فیہ کی صفت پائی جائے۔ اور یہ بات کہ کیوں توحید خالص الہام الٰہی کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی…
میں جداً و قطعاً کہتا ہوں کہ الہام کے بغیر مجرد عقل کی پیروی میں صرف ایک نقصان نہیں بلکہ یہ وہ آفت ہے کہ کئی آفات اُس سے پیدا ہوتی ہیں جن کی تفصیل (انشاء اللہ)اپنے موقعہ پر درج ہوگی۔ خداوند کریم نے جیسا ہریک چیز کا باہم جوڑ باندھ دیا ہے۔ ایسا ہی الہام اور عقل کا باہم جوڑ مقرر کیا ہے۔ اس حکیم مطلق کا عام طور پر بھی قانون قدرت پایا جاتا ہے۔ کہ جب تک ایک چیز اپنے جوڑ سے الگ ہے تب تک اس کے جوہر چھپے رہتے ہیں۔ بلکہ اکثر اوقات نفع کی جگہ ضرر ہوتا ہے۔ ایسا ہی عقل کا حال ہے کہ علم دین میں اس کے نیک آثار تب مترتب ہوتے ہیں جب وہ جوڑ یعنے الہام اس کے ساتھ شامل ہوجائے۔ ورنہ اپنے جوڑ کے بغیر ڈاین ہوکر ملتی ہے۔ سارا گھر نگلنے کو طیار ہوجاتی ہے۔ سارا شہر سنسان ویران کرنا چاہتی ہے۔ پر جب جوڑ میسر آگیا تب تو چشم بددور کیا ہی پاک صورت اور پاک سیرت ہے۔ جس گھر میں رہے مالا مال کردے۔ جس کے پاس جائے اس کی سب نحوستیں اتار دے۔ تم آپ ہی سوچو کہ جوڑ کے بغیر کوئی چیز اکیلی کس کام کی؟ پھر تم کیوں یہ ادھوری عقل اس قدر ناز سے لئے پھرتے ہو۔ کیا یہ وہی نہیں جو کئی بار دروغگوئی میں رسوائیاں اٹھا چکی؟ کیا یہ وہی نہیں جس کے سر پر بار بار گرنے سے بڑے بڑے داغ موجود ہیں؟ مجھے بتائیے تو سہی کہ آپ کا جی کس پر بھرما گیا۔ یہ کہاں کی پری آگئی جس کو دل دے بیٹھے؟ کیا تمہیں خبر نہیں کہ اس نے تم سے پہلے کتنوں کا لہو پیا۔ کتنوں کو گمراہی کے کنوئیں میں دھکیل کر مارا۔ تم جیسے کئی یاروں کو کھا چکی۔ صدہا لاشیں ٹھکانے لگا چکی۔ بھلا تم نے اس اکیلی عقل کے ذریعے سے کون سی ایسی دینی صداقتیں پیدا کی ہیں جو قرآن شریف میں پہلے سے موجود نہیں۔ زیادہ نہیں دوچار ہی دکھاؤ……
اور اس سے دھوکا مت کھانا کہ عقل ایک عمدہ چیز ہے۔ ہم ہریک تحقیق عقل ہی کے ذریعے سے کرتے ہیں۔ بلاشبہ عمدہ چیز ہے۔ لیکن اس کا جوہر تب ہی ظاہر ہوتا ہے جب وہ اپنے جوڑ کے ساتھ شامل ہو۔ ورنہ وہ دھوکا دینے میں دشمنوں سے بدتر ہے۔ دو رنگی دکھلانے میں منافقوں سے بڑھ کر ہے۔ سو تمہاری بدنصیبی تم اس کے جوڑ کے نام سے بھی چڑتے ہو۔ دوستو! خوب سوچو بن جوڑ کسی بات کی بھی گت نہیں۔ خدا نے جوڑ بھی ایک عجب چیز بنادی ہے۔ جہاں دیکھو جوڑ ہی سے کام نکلتا ہے۔ ہم تم سب آنکھوں ہی سے دیکھتے ہیں۔ پر آفتاب کی بھی ضرورت ہے۔ کانوں ہی سے سنتے ہیں پر ہوا کی بھی حاجت ہے۔ آفتاب چھپا تو بس اندھے بیٹھے رہو۔ کانوں کو ہوا سے ڈھانک لو تو بس سننے سے چھٹی ہوئی۔ جس عورت کے خاوندؔ سے کوئی بات ہونے نہ پائے بھلا اُس کا کس بدھ حمل ٹھہرے۔ جس زراعت کو پانی چھو بھی نہیں گیا اس کو کیونکر پھل لگے۔ یہ باتیں ایسی نہیں ہیں کہ تمہاری سمجھ سے دور ہوں۔ یہ وہی قانون قدرت ہے جس پر عمل کرنے کا تم کو دعویٰ ہے۔ سو اب اس دعویٰ پر عمل بھی کرو۔ تانرے دکھانے کے ہی دانت نہ رہیں۔‘‘ (براہین احمدیہ صفحہ ۱۵۵تا۱۶۳بقیہ حاشیہ نمبر۱۱،روحانی خزائن جلد۱ صفحہ ۱۶۱تا ۱۷۱بقیہ حاشیہ نمبر ۱۱)
خدائے رحمان وکریم اور اسکے مظہرکامل رؤف رحیم رسول کریم ﷺ کے حضورجذبات تشکروامتنان کاایک عارفانہ اندازملاحظہ فرمائیں:’’لاکھ لاکھ حمد اور تعریف اس قادر مطلق کی ذات کے لائق ہے کہ جس نے ساری ارواح اور اجسام بغیر کسی مادہ اور ہیولیٰ کے اپنے ہی حکم اور امر سے پیدا کرکے اپنی قدرت عظیمہ کا نمونہ دکھلایا اور تمام نفوس قدسیہ انبیا کو بغیر کسی استاد اور اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوض قدیمہ کا نشان ظاہر فرمایا سبحان اللہ کیا رحمن اور منان وہ ذات ہے کہ جس نے بغیر کسی استحقاق ہمارے کےسب کام ہم ضعیفوں کا آپ بنایا ہمارے جسمی قیام کے لئے سورج اور چاند اور بادلوں اور ہواؤں کو کام میں لگایا اور ہمارے روحانی انتظام کے لئے توریت اور انجیل اور فرقان اور سب آسمانی کتابوں کو عین وقتوں پر پہنچایا۔ الٰہی تیرا ہزار ہزار شکر کہ تو نے ہم کو اپنی پہچان کا آپ راہ بتایا اور اپنی پاک کتابوں کو نازل کرکے فکر اور عقل کی غلطیوں اور خطاؤں سے بچایا اور درود اور سلام حضرت سید الرسل محمد مصطفیؐ اور ان کی آل و اصحاب پر کہ جس سے خدا نے ایک عالم گم گشتہ کو سیدھی راہ پر چلایا وہ مربی اور نفع رسان کہ جو بھولی ہوئی خلقت کو پھر راہ راست پر لایا وہ محسن اور صاحب احسان کہ جس نے لوگوں کو شرک اور بتوں کی بلا سےؔ چھوڑایا وہ نور اور نور افشان کہ جس نے توحید کی روشنی کو دنیا میں پھیلایا وہ حکیم اور معالج زمان کہ جس نے بگڑے ہوئے دلوں کا راستی پر قدم جمایا وہ کریم اور کرامت نشان کہ جس نے مردوں کو زندگی کا پانی پلایا وہ رحیم اور مہربان کہ جس نے امت کے لئے غم کھایا اور درد اٹھایا وہ شجاع اور پہلوان جو ہم کو موت کے منہ سے نکال کر لایا وہ حلیم اور بے نفس انسان کہ جس نے بندگی میں سرجھکایا اور اپنی ہستی کو خاک سے ملایا وہ کامل موحد اور بحر عرفان کہ جس کو صرف خدا کا جلال بھایا اور غیر کو اپنی نظر سے گرایا وہ معجزہ قدرت رحمٰن کہ جو اُمّی ہوکر سب پر علوم حقانی میں غالب آیا اور ہریک قوم کو غلطیوں اور خطاؤں کا ملزم ٹھہرایا۔‘‘(براہین احمدیہ،روحانی خزائن جلد۱ صفحہ ۱۷،۱۶)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: گھڑی کی سوئی اور انسانی زندگی




