مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ
ماہ مارچ اور اپریل۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب (قسط پنجم)
اسلام
ترقی یافتہ ممالک میں سیر و تفریح کے ليے مخصوص پارک یہ اعلان کرتے رہتے ہیں کہ لوگ ا ن کی مہیا کردہ سہولیات سے فائدہ اٹھاکر بادلوں کے بغیر رات میں ستاروں کودیکھ سکتے ہیں نیز سورج کے طلوع و غروب کے دلفریب مناظر کا ہوٹل انڈسٹری اور سیاحت کے شعبہ میں بطور خاص حوالہ دیا جاتاہے۔اسی طرح مختلف ماہرین، شوق رکھنے والے عام لوگوں کو سکھاتے ہیں کہ کیسے راتوں میں آسمان پر چمکنے والے ان گنت ستاروں میں سے بعض کو ناموں سے منفرد کیا جاتا ہے۔ نیز یہ کہ بادلوں کوان کی اقسام اور کام کے لحاظ سے کیسے پہچانا جاسکتا ہے۔
حال ہی میں نیشنل جیوگرافک نے امریکہ کے ایسے پارکس کی فہرست جاری کی، جہاں ستارہ بینی (stargazing) کی جاسکتی ہے، یعنی ستاروں کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔
اسلام اس پہلو سے بھی ایک خاص شان کا مذہب ہے جس نے مظاہر فطرت پرغورکرنے اور ان نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کی بارہا تلقین کی ہے۔ مثلاً قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں اور اسی طرح ہواؤں کے رخ بدل بدل کر چلانے میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں، عقل کرنے والی قوم کے ليے نشانات ہیں۔
نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوئے بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں کے بل بھی اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرتے رہتے ہیں۔ اور بے ساختہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ! تُو نے ہرگز یہ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ پاک ہے تُو… وغیرہ (آل عمران:۱۹۱۔۱۹۲)
کبھی گھرکے کھلے صحن میں تاروں کی چھاؤں میں سونا اورنیند کی آغوش میں اترنے سے پہلے اپنے محدودعلم کے باوجود کہکشاں کا نظارہ کرنا عام بات ہواکرتی تھی ۔مگر زمانے کی تیز رفتاری اور مصنوعی زندگی نے مشرق و مغرب میں انسانوں کو اس مفید کام سے بھی دورکردیا ہے۔ حسب حالات سورج، چاند، تاروں اور ستاروں سمیت مظاہر فطرت پر غورکرتے رہنا، فکر کرنے والوں کے ليے یقیناً نشان کا موجب ہے اور دین فطرت کی بتائی ہوئی مفید باتوں میں سےایک ہے۔
یہودیت
اسرائیل سے ایک نہایت اہم اور حساس خبر ہے، جس کا تعلق نہ صرف سیاست بلکہ مذہب، اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون سے بھی ہے۔ اسرائیل کی پارلیمنٹ نے حال ہی میں ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے مطابق اگر کوئی فلسطینی کسی مہلک حملے میں ملوث پایا جائے تو اس کی سزا موت ہوگی اور یہی بنیادی سزا ہوگی۔ یہ مقدمات زیادہ تر فوجی عدالتوں میں چلیں گے، جہاں سزا کی شرح بہت زیادہ بتائی جاتی ہے۔
ناقدین کہہ رہے ہیں کہ یہ قانون عملاً صرف فلسطینیوں پر لاگو ہوگا۔ یہودی مذہب کے پیروکار اسرائیلیوں پراس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اس نئے قانون کو امتیازی اور بین الاقوامی ضابطوں کے خلاف بھی قرار دیا گیا ہے۔ اس پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ فلسطینیوں کے لیے الگ سخت قانون اور اسرائیلیوں کے لیے نرم یا مختلف قانون ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل کے قومی مذہب یہودیت کی مقدس مذہبی کتاب میں ایک طرف اتنی احتیاط بتائی گئی ہے کہ وہ ناپ تول کےالگ الگ باٹ نہ رکھا کریں، پیمائش کے ليے الگ الگ برتن نہ ہو۔ (استثناء باب ۲۵ آیت ۱۳)
اور اسی مقدس مذہبی کتاب میں سود ی لین دین کے ليے اسرائیلی اور غیر اسرائیلی کی تقسیم بھی شامل کردی گئی ہے اور لکھا ہے کہ ’’تُم اَپنے اسرائیلی بھائی سے سُود وصول نہ کرنا خواہ وہ رُوپیَوں پر، اناج پر یا کسی اَیسی شَے پر ہو جس پر سُود لیا جاتا ہو۔ تُم چاہو تو پردیسیوں سے سُود وصول کر سکتے ہو، لیکن کسی اسرائیلی بھائی سے نہیں…‘‘(استثناء۔ باب ۲۳ آیت ۱۹ اور ۲۰)
عالمی ضمیر وغیرہ اب ماضی کی باتیں ہیں کیونکہ ابھی کچھ زیادہ وقت نہیں گزراجب اسی اسرائیل نے غزہ میں نہتے لوگوں کے آشیانوں کو مکمل طور پر منہدم کرنے کے ليے اتنا گولہ بارود استعمال کیا کہ اپنے گودام خالی ہونے لگے تب پھر اس نے ان ممالک کی طرف دیکھا جو اسلحہ کی فروخت سے اپنی معیشت چلاتے ہیں اور پھر مہذب بھی کہلانا پسند کرتے ہیں اور ایسےممالک سے ہی مزید بارود اورآگ خریدکر’’اپنی ضرورت پوری کی ‘‘۔
نیز وہ ملک جس نے دنیا کی آنکھوں کے سامنےغزہ میں صرف ۱۸؍ہزار نابالغ بچے اور بچیاں ہی موت کے گھاٹ اتار ڈالے، جن پر نہ تو فرد جرم عائد کی، نہ مقدمہ چلا، نہ ہی زبانی وتحریری فیصلہ سنایا گیا۔ بس آن ہی آن میں ان کو رزق خاک کردیا گیا، وہاں برسوں سے جیلوں میں پڑے یہ فلسطینی قیدی بھی تو انہی ماؤں کے بچے ہیں۔ ان کےليے انصاف اورمدد آسمان سے آئے گی۔
شنتو ازم
براعظم ایشیا کے مشرقی ملک جاپان کا قومی مذہب شنتوازم ہے جو مظاہر فطرت کی عقیدت کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ حال ہی میں جاپان نے طلاق کی صورت میں میاں بیوی کو بچے کی مشترکہ کفالت کی اجازت دے دی ہے۔ پہلے قانون کے مطابق علیحدگی کی صورت میں بچوں کی کفالت والدین میں سے صرف ایک ہی کے پاس ہوتی تھی جو بچے کو دوسرےفریق سے مکمل طور پر جدا رکھنے کا اختیار دیتی تھی۔
نئے قانون کے تحت والدین باہمی رضامندی سے بچوں کی پرورش میں شریک رہ سکتے ہیں۔ اس جدید اصلاح کا مقصد بچوں کی نفسیاتی اور جذباتی فلاح کو بہتر بنانا ہے تاکہ وہ بچے اپنے ماں اور باپ دونوں سے تعلق برقرار رکھ سکیں۔
یاد رہے کہ شریعت اسلامی نے حضانت کو بھی جامع قانونی پہلوؤں کے ساتھ پندرہ سو سال پہلے واضح کردیا تھا تاطلاق یا خلع کی صورت میں چھوٹے بچوں کی پرورش، دیکھ بھال، نگہداشت اور سرپرستی کے مسائل پیدا نہ ہوں۔ اور قرآن کریم نے اس بابت نہایت واضح تعلیم دی ہوئی ہے کہ لَا تُضَآرَّ وَالِدَۃٌۢ بِوَلَدِہَا وَلَا مَوۡلُوۡدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ (البقرہ:۲۳۴)یعنی’’ ماں کو اس کے بچے کے تعلق میں تکلیف نہ دی جائے اور نہ ہی باپ کو اس کے بچے کے تعلق میں۔‘‘
عیسائیت
عیسائی دنیا میں ایسٹر کا تہوار جوبن پر ہے۔ ہم ایسٹر کی تاریخ و تعار ف کوآئندہ کسی موقع کےليے اٹھارکھتےہیں نیز یہ اہم بحث بھی کہ ایسٹر کے رسم ورواج کا مسیح کے جی اُٹھنے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کی جڑ مختلف قومی روایتوں میں پائی جاتی ہےاور دیکھیں گے کہ کہیں ایسٹر (Ēostre) نام کی موسم بہار کی کوئی دیوی تو نہیں تھی اور ایسٹر کا یہ سارا جشن دراصل بہار کا جشن ہے جومسیح سے قبل بھی منایا جاتا تھا جیسا کہ ہندوستان میں ہولی کا تہوار ہے اور ایران میں نوروز ہے۔ اسی طرح رومن کیتھولک پوپ نے ایسٹر کی تقاریب کے سلسلہ میں قریباً ایک درجن پادریوں کے پاؤں دھوئے اوران کو چوما۔ اس کا تجزیہ بھی آئندہ سہی۔
خبروں کے مطابق امسال اسرائیل کے دارالحکومت یروشلم شہر میں ایسٹرکے موقع پر اسرائیل کی سیکیورٹی فورسز نے کئی پابندیاں عائد کردیں۔ اسی نوعیت کی پابندیاں متحدہ عرب امارات میں بھی ایسٹر کی تقریبات پر عائد کی گئی ہیں۔ غالباً ان کابراہ راست تعلق جاری جنگ سےہے نہ کہ مذہبی آزادی کا کوئی معاملہ ہے۔
دوسری طرف امریکہ کے صدر مقام وائٹ ہاؤس میں ایسٹر کی ایسی تقریب بھی ہوئی جس میں ہونے والے خطاب میں صدرٹرمپ کا موازنہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ سے کیا گیا۔ نیز اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پرجاری سفاکانہ حملوں میں ایک تباہ شدہ جہاز کے عملہ کو ریسکیو کرنے کے مشن کو ’’ایسٹر کا معجزہ ‘‘ قرار دیا گیا۔
موجودہ عالمی کشیدگی خصوصاً ایران سے جنگ میں جہاں مختلف فریقین نے مذہبی زبان اور حوالوں کو استعمال کیا، وہاں رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ Pope Leo کا موقف واضح طور پر مختلف نظر آتا ہے۔ کیونکہ Palm Sunday کے موقع پر ویٹیکن میں اپنے خطاب میں پوپ نے چند نہایت اہم باتیں کہیں۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ خدا ان راہنماؤں کی دعاؤں کو قبول نہیں کرتا جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوں۔ ایران سے متعلق جنگ کو انہوں نےہولناک قرار دیا۔ اس بات پر زور دیا کہ حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات کو کسی جنگ یا تشدد کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
دراصل موجودہ جنگ میں بعض امریکی حکام مثلاًوزیر دفاع Pete Hegsethنے عیسائی زبان استعمال کرتے ہوئے جنگی کارروائیوں کو ایک طرح سے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی۔ اس کے برعکس پوپ کا موقف یہ ہے کہ مذہب کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنا خود مذہب کی روح کے خلاف ہے۔
چرچ آف انگلینڈ: اس چرچ کا تعارف گذشتہ اقساط میں قارئین کو کروایا جاچکاہے۔ اس چرچ میں ایک تاریخی پیش رفت یہ ہوئی کہ پہلی خاتون کو آرچ بشپ بنایا گیا ہے۔ اب Sarah Mullally کا Archbishop of Canterbury کے طور پر تقرر ہوا ہے اور وہ چرچ آف انگلینڈ کی پہلی خاتون سربراہ بن گئی ہیں۔
موصوفہ نے اپنے پہلےایسٹر کے خطبے میں مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے حوالے سے جاری تشدد اور تباہی کے خاتمے کا مطالبہ کیااور امن، مفاہمت اور انسانی ہمدردی پر زور دیا۔
یہاں ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا رومن کیتھولک پوپ اور چرچ آف انگلینڈ کی سربراہ کے واضح بیان کے باوجود ارباب اختیارپر کوئی اثرپڑے گا؟ کیا یہ بیانات عملی اثر رکھتے ہیں یا صرف اخلاقی اپیل ہیں؟ کیونکہ سیکیولرنظریات کاپرچار کرنے والی حکومتیں اکثر دنیا اوردین کو الگ الگ رکھنےکا بھی دعویٰ کرتی ہیں مگر عندالضرورت مذہبی زبان استعمال کرتی ہیں اوردیکھا یہی گیا ہےکہ مذہبی راہنماؤں کی امن کی اپیل کو کبھی سنجیدگی سےنہیں لیا گیا۔
سپین:براعظم یورپ کے جنوبی ملک سپین کے شہر بارسلونا کا مشہور چرچ Sagrada Família کی تعمیر تکمیل کے مراحل میں ہے۔ حال ہی میں اس بلند وبالا عمارت کے مینارپر صلیب نصب کرنے کی ڈرون سے بنی ہوئی خصوصی وڈیو جاری کی گئی ہے۔
مشہور ماہر تعمیرات Antoni Gaudí کے اس شاہکارپر غالبا ًایک صدی سے کام جاری ہے اور ۲۰۲۵ء میں اسے دنیا کے بلندترین چرچ کا درجہ دیا گیا جو ۵۰۰؍فٹ بلند ہے۔
جہاں بعض تبصرہ نگار ایک صدی سے نامکمل رہنے والی اس عمارت کے ڈیزائن، اہمیت، افادیت اور ضرورت پر بعض بجا سوال اٹھارہے ہیں وہاں حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۳؍اپریل ۲۰۲۶ء میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے پُر معارف ارشادات کی روشنی میں توحید الٰہی کا ایمان افروز تذکرہ فرماتے ہوئے عقیدہ تثلیث کی مقبولیت پر بھی سوال اٹھایاہے اورفرمایا کہ عیسائیت عملاً تو معدوم ہوتی جارہی ہے، تثلیث کا نظریہ تو صرف اب ان کا کتابی نظریہ رہ گیا ہے۔ بہت کم ہیں جو اپنی مذہبی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں، یورپ میں خاص طور پر۔ افریقہ اور جنوبی امریکہ میں ابھی بھی ہیں۔ لیکن جو تثلیث کے نظریے کو چھوڑ بھی رہے ہیں وہ بھی ایک خدا کو نہیں مانتے۔ پس توحید پر قائم کرنے کے لیے ہمیں جس حد تک کوشش ممکن ہو وہ کرنی چاہیے۔
(اواب سعد حیات)
مزید پڑھیں: مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ




