سیرت خلفائے کرام

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کابچپن

آخر ایک دن میرا داؤ چل گیا - قسط-سوم

(ظہیر احمد طاہر ابن مکرم نذیر احمد خادم مرحوم ومغفور۔جرمنی)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تفسیر کبیر میں بعض آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے اپنے بچپن کے دلچسپ واقعات بیان فرمائے ہیں۔ حضور رضی اللہ عنہ کے بچپن کے واقعات اور متعلقہ آیات کی تفسیر کے کچھ حصے افادۂ عام کی غرض سے پیش کیے جارہے ہیں۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنِ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: پھر(حضرت ابراہیمؑ۔ناقل) فرماتے ہیں وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنِ جب میں بیمار ہوتا ہوں تو خدا تعالیٰ مجھے شفابخشتا ہے آپؑ نے اس جگہ مَرِضْتُ میں مرض کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور شفا کو خدا تعالیٰ کی طرف۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جتنی چیزیں پیدا کی ہیں وہ سب کی سب انسان کے فائدہ کے لیے پید اکی ہیں۔ جب انسان ان کو غلط استعمال کرتا ہے تو اس وقت وہ بیمار ہوجاتا ہے یا نقصان اٹھاتا ہے اور جب انسان پھر اس کا کسی رنگ میں ازالہ کر دیتا ہے اور علاج کرتا ہے تو شفا پا جاتا ہے۔ اس لیے مرض تو انسان کی طرف منسوب ہوتی ہے اور شفا خدا تعالیٰ کی طرف۔ دنیا میں جتنی مصیبتیں اور بلائیں انسان پر وارد ہوتی ہیں ان پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ ساری کی ساری خدا تعالیٰ کی نعمتوں کے غلط استعمال کی وجہ سے آتی ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا صحیح استعمال کیا جائے توانسان ان مصائب اور بلاؤں سے بچ سکتا ہے۔ مثلاً بیماری ہے یہ کیوں پیدا ہوتی ہے؟ یہ اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ لوگ ایسی چیزیں کھاتے ہیں جن سے ان کے اعضائے انہضام بگڑ تے ہیں یا وہ ایسی چیزیں کھاتے ہیں جو اپنے وجود میں تو نقصان دہ نہیں ہوتیں مگر اعتدال سے زیادہ استعمال کرلینے کی وجہ سے یا غلط استعمال کی وجہ سے وہ بیمار ہوجاتے ہیں …پس جتنی بیماریاں انسان کے اندر پیدا ہوتی ہیں وہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کے غلط استعمال کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اگر ان نعمتوں کا صحیح استعمال کیا جائے تو کبھی بیماری پیدا نہ ہو۔ خدا تعالیٰ نے انسان کے فائدہ کے لیے لوہا پیدا کیا ہے۔ جب تک اس کا صحیح استعمال کیا جائے تو یہ نہایت مفید چیز ہے اور ہر قسم کی مشینریاں اس سے تیار ہوتی ہیں جو انسان کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔ لیکن جب اس کا غلط استعمال کیا جائے تو یہی چیز نقصان دہ ہوجاتی ہے۔
مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد ہے کہ ہمارے مکانوں کی تعمیر کےلیےسیالکوٹ سے ترکھان آئے ہوئے تھے۔ مَیں ان کو کام کرتے دیکھتا اور جب وہ تیشہ چلاتے تو میرے دل میں بھی شوق پیدا ہوتا کہ مَیں اس کو چلاکر دیکھوں۔ وہ تو روزی کمانے کے لیے کام کرتے تھے مگر مَیں سمجھتا تھا کہ ان کو اس فعل میں مزاآتا ہے اور مَیں اپنے دل میں کہتا تھا کہ مَیں کیوں نہ یہ مزا اٹھاؤں۔ مَیں نے بہت دفعہ کوشش کی کہ تیشہ چلاکر دیکھو ں لیکن وہ مجھے ہاتھ نہ لگانے دیتے تھے اور کہتے تھے۔ زخمی ہو جاؤ گے۔ مگر مَیں ان کے منع کرنے سے سمجھتا تھا کہ وہ مجھے اس مزے سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔ آخر ایک دن میر ا داؤ چل گیا وہ نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں گئے ہوئے تھے اور ان کے ہتھیار وہیں پڑے تھے۔مَیں نے تیشہ اٹھایا اور چلانا شروع کردیا۔ مگر پہلی ہی چوٹ لگائی تھی کہ تیشہ میرے ہاتھ پر آلگا اور مَیں زخمی ہوگیا۔چنانچہ اس زخم کا نشان اب تک موجو د ہے۔اب دیکھو خدا تعالیٰ نے تیشہ اس لیے نہیں بنایا تھا کہ انسان زخمی ہو مگر اس کے غلط استعمال نے میرے ہاتھ کو زخمی کردیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جتنی چیزیں پیدا کی ہیں وہ سب کی سب انسان کے فائدے کے لیے ہیں۔ لیکن ان کے غلط استعمال سے اسے نقصان ہوتا ہے۔
مثلاً لڑائی میں دوسرے پر تلوار یا خنجر سے حملہ کیا جاتا ہے جس سے وہ ہلاک ہوجاتاہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے لوہا اس لیے بنایا تھا کہ دوسرے کے سر پر مارا جائے۔ اگر اس لوہے کو بجائے انسانوں پر استعمال کرنے کے اس سے چاقو اور چھریاں بنائی جائیں اور ان سے ترکاریاں وغیرہ کاٹنے کا کام لیا جائے یا اس کی کلہاڑیاں بنائی جائیں جن سے درخت کاٹے جائیں یا اس سے ہل چلانے والے اوزار بنائے جائیں اور اس کی مشینریاں تیار کی جائیں تو یہ ایک نہایت ہی مفید چیز ہے۔لیکن اگر اسی لوہے کو دوسرے کے سرپر مارا جائے تو اس کا سر پھٹ جائے گا۔ پس دنیامیں کوئی چیز بھی ایسی نہیں جس کا اچھا استعمال کیا جائے تو وہ نقصان پہنچائے۔ نقصان پہنچانے والی چیز ان نعمتوں کا بُرا استعمال ہوتا ہے نہ کہ خود وہ نعمتیں۔ مثلاً سانپ اور بچھو کا زہر نہایت خطرناک چیز ہے۔ مگر ہومیوپیتھک والوں نے کئی قسم کے امراض کے علاج میں اسے استعمال کرنا شروع کردیا ہے اور اسے نہایت مفید پایا ہے۔جن مریضوں کے ناخن پھٹ جاتے ہیں ان کو سانپ کا زہر ہومیوپیتھک دوا کی صورت میں دے دو تو فوراً آرام آجائے گا۔ اسی طرح سنکھیا ہے۔ اس کے کھانے سے لوگ مرتے بھی ہیں لیکن دیکھنا تو یہ چاہیے کہ اس کے کھانے سے کتنے لوگ مرتے ہیں اور کتنے زندہ ہوتے ہیں۔ اگر اندازہ لگایا جائے تو سال میں ہزار دو ہزار آدمی سنکھیا کھانے سے مرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اس سے شفا پاتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں تک ہے۔ پرانے ملیریا کے مریض پر جب کوئی دوا اثر نہیں کرتی تو وہ سنکھیا کی قلیل مقدار سے ٹھیک ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی قسم کے امراض کے لیے یہ مفید ہے۔ اسی طرح کچلہ ہے۔ یہ بھی زہر ہے اس کے کھانے سے کئی لوگ مرجاتے ہیں۔ لیکن لاکھوں لاکھ انسان اس سے بچتے بھی ہیں۔ اسی طرح بہت بڑی تباہی والی چیز افیون ہے۔ لیکن اس کی تباہی کے مقابلہ میں اس کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اطباء کا قول ہے کہ طب کی آدھی دوائیں ایسی ہیں جن میں افیون استعمال ہوتی ہے اور اس کا اتنا فائدہ ہے کہ اندازہ لگانا مشکل ہے ۔(اخبار الفضل قادیان ۱۹؍جولائی ۱۹۲۹ء صفحہ۲)
جب انسان کو بے چینی اور بے کلی ہوتی ہے۔ جب انسان کی نیند اڑ جاتی ہے۔ جب انسان درد سے نڈھال ہوکر خود کشی کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے تو اس کو مارفیا کا ٹیکہ لگاتے ہیں۔ جس سے اسے فوراً آرام ہوجاتا ہے پس دنیامیں کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اپنی ذات میں نقصان دینے والی ہو۔ نقصان دینے والی چیز صرف غلط استعمال ہے جو انسان کی اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اسی لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مرض کو اپنی طرف اور شفا کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے۔“ (تفسیر کبیرجلد۹صفحہ ۴۴۲-۴۴۴ ایڈیشن ۲۰۲۳ء مطبوعہ یوکے)

ہم کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ آیت کریمہ:وَاَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ(الشعرآءَ:۲۱۵) اور تُو (سب سے پہلے) اپنے سب سے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا۔ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”حقیقت یہ ہے کہ رشتہ داریاں دنیا میں بڑا بھاری اثر رکھتی ہیں۔ اور تاریخ میں اس کے اثرات کی بعض حیرت انگیز مثالیں ہمیں نظر آتی ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت جب تبلیغ شروع کی اور کفار نے انتہائی طور پر ہر رنگ میں اپنا اثر استعمال کرلیا اور کسی طرح بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیم اور حق کے اعلان کو نہ چھوڑا۔ تو مکہ کے لوگ ابوطالب کے پاس آئے اور انہیں کہا کہ آپ اپنے بھتیجے کو سمجھا لیجئے ورنہ ہم مجبور ہوجائیں گے کہ اس کے ساتھ آپ کا بھی بائیکاٹ کردیں۔ حضرت ابوطالب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور ان سے کہا کہ اے میرے بھتیجے آج تک مَیں نے تیرا ساتھ دیا ہے مگر آج میری قوم کے لوگ میرے پاس آئے ہیں۔ اورانہوں نے کہا ہے کہ ابوطالب ہم تیرا بہت لحاظ کرتے رہے ہیں مگر آج ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر تومحمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو نہیں چھوڑے گا اور اس کی حمایت بدستور کرتا چلا جائے گا تو ہم تیری سرداری سے بھی انکار کردیں گے۔ ابوطالب ایک غریب آدمی تھے۔ مگر وہ سارا وقت اپنی قوم کی خدمت میں لگاتے تھے اس لیے ان کی ساری جائیداد ہی قوم کی محبت تھی۔ دنیا کے کچھ لوگ کمانے میں لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور کچھ قوم کی خدمت میں لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ کمانے والے اپنا بدلہ روپیہ کی صورت میں لے لیتے ہیں۔ مگر خدمت کرنے والے اپنا بدلہ قوم کی محبت کی صورت میں لیتے ہیں۔ ابوطالب چونکہ دن رات اپنی قوم کی خدمت میں مصروف رہتے تھے۔ اس لیے ان کی ساری کمائی ہی یہی تھی کہ وہ قوم کی خدمت کرتے تھے اور قوم انہیں سلام کرتی تھی اس لیے جب قوم کی طرف سے انہیں یہ نوٹس ملا تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور کہا۔ اے میرے بیٹے میری قوم آج کہہ رہی ہے کہ اگر تُو محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو نہیں چھوڑ سکتا تو پھر ہم بھی تجھ کو چھوڑ دیں گے۔ اس وقت یہ خیال کرکے کہ ساری عمر مَیں نے اپنی قوم کی خدمت میں لگا دی تھی مگر آج بڑھاپے میں آکر وہی قوم مجھے چھوڑنے کے لیے تیارہوگئی ہے حضرت ابوطالب پر رقت طاری ہوئی اوران کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی یہ دیکھ کر میرے چچا باوجود اس کے کہ مسلمان نہیں ہمیشہ میری خدمت کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ انہوں نے میری تائید کی ہے اور اب میری خدمت اور میری تائید کی وجہ سے ان کی ایک ہی قیمتی دولت جو ان کے پاس تھی یعنی قوم میں عزت وہ کھوئی جانے لگی ہے رقت طاری ہوگئی۔ آپؐ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپؐ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا :اے چچا جو پیغام مَیں لایا ہوں وہ خدا نے میرے سپرد کیا ہے۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ کسی کے کہنے پر مَیں اسے چھوڑ دوں۔ اے میرے چچا! مَیں جانتا ہوں کہ خدا ایک ہے لیکن مَیں اپنی قوم کی خاطر یہ نہیں کہہ سکتا کہ خدا ایک نہیں ہے۔ اگر میری قوم سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لاکر کھڑا کردے اور اتنا بڑا نشان دکھائے جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی اور پھر کہے کہ اب بھی یہ مان جاؤکہ دنیا کا پیدا کرنےو الا خدا ایک نہیں تب بھی مَیں ایسا نہیں کرسکتا۔ اے میرے چچا! مَیں آپ سے بھی یہ امید نہیں کرتا کہ آپ میری خاطر اتنی بڑی قربانی کریں۔ آپ نے جو خدمت کی ہے۔ مَیں اس کا ممنون ہوں۔ لیکن آئندہ کے لیے مَیں یہ بوجھ آپ پر ڈالنا نہیں چاہتا۔ آپ بیشک میرا ساتھ چھوڑ دیں اور اپنی قوم سے کہہ دیں کہ مَیں نے اپنے بھتیجے کو چھوڑ دیا ہے اور اب مَیں تمہارے ساتھ ہوں۔
محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور یقین کے ساتھ یہ حیرت انگیز محبت ایک طرف تھی اور دوسری طرف وہ محبت کھڑی دیکھ رہی تھی جو ابوطالب کو اپنے بھتیجے کے ساتھ تھی۔ ابوطالب اس وقت ان دو محبتوں کے درمیان آگئے۔ یوں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوطالب کے بھتیجے تھے مگر ابو طالب نے اپنے بیٹوں سے بڑھ کر آپؐ سے محبت کی اور اپنے بیٹوں سے زیادہ آپؐ کی خبر گیری کی۔ پس ایک طرف وہ محبت کھڑی تھی جو ابوطالب کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی اور دوسری طرف بھتیجے کا یہ یقین اور ایمان تھا کہ مَیں نے جس صداقت کو قبول کیا ہے میں اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کی ایک آنکھ کے سامنے بیک وقت یہ دو محبتیں آکر کھڑی ہوگئیں اور دوسری آنکھ کے سامنے ان کے باپ عبدالمطلب کی روح آکر کھڑی ہوگئی جنہوں نے مرتے وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ابو طالب کے ہاتھ میں یہ کہتے ہوئے دیا تھا کہ ابوطالب اس کا باپ فوت ہوگیا ہے اس کی ماں بھی فوت ہوگئی ہے۔ مَیں نے اس کو اپنے بچوں سے زیادہ عزیز سمجھ کر پالا ہے۔ اب مَیں مرنے لگا ہوں اور مجھ کو تجھ پر یہ اعتبار ہے کہ تو اس کام میں سستی اور کوتاہی نہیں کرے گا۔ مَیں اپنی سب سے زیادہ قیمتی امانت تیرے سپر د کرتا ہوں۔ غرض باپ کی روح ایک طرف کھڑی تھی اور صداقت کے فدائی اور سچائی پر جان دینے والے بھتیجے کی روح دوسری طرف کھڑی تھی مگر باوجود اسلام نہ لانے کے ابوطالب ان دو محبتوں کا مقابلہ نہ کرسکے اورانہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دیا کہ اے میرے بیٹے! جاؤ! اور جس چیز کو سچا سمجھتے ہوپھیلاؤ۔ قوم کا مذہب تو مَیں نہیں چھوڑ سکتا۔ لیکن تیری خاطر اگر قو م مجھے چھوڑ دے تو مَیں تیرے لیے یہ قربانی بھی کروں گا۔ اورہمیشہ تیرا ساتھ دوں گا۔ تب قوم نے یہ فیصلہ کیا کہ بنو ہاشم کا مقاطعہ کیاجائے اس اعلان پر بنو ہاشم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر ایک وادی میں جو ابو طالب کی ملکیت میں تھی چلے گئے۔وادی سے مراد کوئی سبزوشاداب علاقہ یا وسیع زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ مکہ میں بے پانی اور بے سبزی کے وادیاں ہوا کرتی ہیں گویا بے آب وگیاہ زمین کے کچھ ٹکڑے ہوتے ہیں۔ لیکن چونکہ ان میں کوئی کوئی جھاڑی بھی پائی جاتی ہے جس میں اونٹ وغیرہ چر لیتے ہیں اس لیے انہیں وادی کہہ دیا جاتا ہے۔ مکہ کے پاس ایک ایسی ہی وادی ابوطالب کی تھی۔ ابوطالب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اور ان چند مسلمانوں کو لے کر جو اس وقت مکہ میں تھے اس وادی میں چلے گئے جب وہ اس وادی میں گئے تو وہ ہاشمی دشمن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مونہہ پر بعض دفعہ گالیاں دیا کرتے تھے وہ ہاشمی دشمن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پھینکنے میں خوشی محسوس کیا کرتے تھے۔ وہ ہاشمی دشمن جو ابوجہل کو اکسا اکسا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکالیف پہنچایا کرتے تھے وہ بھی قومی عصبیت اور رشتہ داری کی وجہ سے اپنے گھروں کو چھوڑ کر اس وادی میں محصور ہوگئے۔ اور ان سب نے کہا کہ ہم اپنے رشتہ داروں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ (السیرۃ الحلبیہ جلد اوّل صفحہ ۳۷۵) تو رشتہ داری بڑا بھاری اثر رکھتی ہے۔ اور خونی تعلق کبھی کبھی ایسی قربانیاں بھی کروا دیتا ہے جو دوسرے حالات میں ناممکن نظر آتی ہیں۔
اسی لیے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے۔ وَاَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو دنیاکے کونے کونے کے لوگوں کو ڈرا۔ لیکن پہلے اپنے عزیزوں کو ڈرا۔ اس لیے کہ ان کا تجھ پر دوہرا حق ہے۔ ایک حق تو یہ ہے کہ باقی دنیا کی طرح یہ بھی تباہ ہورہے ہیں اور ایک حق یہ ہے کہ یہ تیرے رشتہ دار ہیں اور ان کے باپ دادوں نے تیرے ساتھ کبھی حسن سلوک کیا تھا۔
انگریزی میں بھی مثل مشہور ہے کہ Charity begins at home یعنی صدقہ وخیرات پہلے گھر سے شروع ہوتا ہے۔ اسی طرح وعظ ونصیحت کا سلسلہ بھی ہمیشہ گھر سے ہی شروع ہونا چاہیے۔ چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی اس طرح تعمیل کی کہ آپؐ مکہ کے دستور کے مطابق کوہِ صفا پر کھڑے ہوگئے اور آپؐ نے مختلف قبائل کو نام لے لے کر بلانا شروع کیا…جب مکہ کے تمام قبائل قریش سمیت جمع ہوگئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خطاب شروع کیا اور فرمایا…لو سُنو! مَیں تمہیں ایک اہم خبر سناتا ہوں۔ اور وہ خبر یہ ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ پس مَیں تمہیں کہتا ہوں کہ تم اگر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہنا چاہتے ہوتو میری اتباع کرو۔ آپ ؐ کا یہ کہنا تھا کہ ابولہب جوش سے کہنے لگا کہ تَبًّا لَکَ سَائِرَالْاَیَّامِ اَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا۔ یعنی نعوذباللہ تجھ پر ہلاکت ہو اتنی سی بات کے لیے تُو نے ہمیں اکٹھا کیا تھا۔ اور اسی طرح دوسرے لوگ ہنسی مذاق کرتے اور تمسخر اڑاتے ہوئے منتشر ہوگئے ۔(بخاری کتاب التفسیر زیر آیت وَاَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ تفسیر رازی زیرِ آیتتَبَّتۡ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ وَّتَبَّ۔ وتفسیر رُوح المعانی زیرِ آیت سورۃ لھب)
مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کی مخالفت اور تمسخر اور استہزاء کے باوجود اشاعت توحید کے کام کو جاری رکھا اور متواتر لوگوں کو پیغام حق پہنچاتے رہے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں میں سے ایسے لوگ پیدا کردیے جنہوں نے اسلام کی اشاعت کے لیے اپنی جانیں تک قربان کردیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان پر کچھ نہ کچھ بیداری کے اوقات بھی آتے ہیں۔ اور جب کسی پر بیداری کی گھڑی آتی ہے اور اس کے دل کی کھڑکی کھلتی ہے تو وہ سچائی کو قبول کرلیتا ہے …مَیں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے دوستوں میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو تبلیغ نہیں کرتے اور ان پر اتنا دباؤ نہیں ڈالتے جتنا ڈالنا چاہیے۔ مَیں نے ایک دفعہ اس پر خاص طور پر زور دیا اور بعض احمدیوں نے ایسا کیا تو اس کا نمایاں اثر ہوا۔ چنانچہ ایک احمدی دوست نے بتایا کہ مَیں ایک دن اپنے ایک رشتہ دار کے گھر میں بیٹھ گیا اور اسے کہہ دیا کہ یا تو تم مجھے اپنا ہم خیال بنالو اور یا تم احمدی بن جاؤ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میرے دلائل چونکہ معقول تھے وہ اس پر اثر کرگئے اور وہ احمدی ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ہمیں سمجھا دے کہ ہم غلطی پر ہیں تو ہمیں اس کی بات ماننے میں کوئی حرج نہیں لیکن افسوس تو یہ ہے کہ جماعت کے دوست دلیری سے کام نہیں لیتے۔ آخر یہ صاف بات ہے کہ جس کی دلیل پختہ ہوگی وہ یقیناً دوسرے شخص کو اپنی طرف مائل کرلے گا۔ پس اگر لوگ اپنے اپنے رشتہ داروں کے پاس جائیں تو یقیناً لاکھوں لاکھ لوگ احمدیت کی طرف متوجہ ہوجائیں گے آگے پھر ان کے رشتہ دار ہوں گے جنہیں وہ تبلیغ کریں گے اور اس طرح یہ سلسلہ اتنا غیر معمولی وسیع ہوسکتا ہے کہ ہمارے احساس اور اندازہ سے بھی بالا ہوسکتا ہے …مجھے یاد ہے۔مَیں چھوٹاتھا اوراپنے ایک رشتہ کی نانی کے ہاں دِلّی میں ٹھہراہواتھا کہ ان کے ایک بھائی حیدرآباد دکن سے ان کے ملنے کے لیے آئے۔انہوں نے ایک دن مجھے بلایا اورکہا۔میاں تمہارا اوردوسرے مسلمانوں کا آپس میں کس بات پر اختلاف ہے۔مَیں اس وقت زیادہ علمی باتیں تو جانتانہیں تھا۔مَیں نے کہاہم کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اوردوسرے مسلمان کہتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں۔کہنے لگے۔تم کس طرح کہتے ہو عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔مَیں نے اس پر قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاوَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُ وْا اِ لٰی یَوْ مِ الْقِیٰمَۃِ(آل عمران:۵۶)مَیں نے کہا دیکھئے اس میں صاف لکھا ہے کہ اے عیسیٰؑ میں تجھ وفات دوں گا اورپھر تجھے اپنی طرف اٹھا ؤں گا۔پس وفات پہلے ہے اوررفع بعد میں۔اس پر باوجود اس کے کہ وہ ستر سال کے بڈھے تھے۔کہنے لگے تمہاری باتیں تو سب معقول ہیں۔پھر مولوی کیوں مخالفت کرتے ہیں۔ہماری نانی بڑی متعصّب تھیں وہ غصہ سے کہنے لگیں کہ آگے ہی لڑکے کا دماغ خراب ہے اوراب تم اس کو اَور خراب کررہے ہو۔اب دیکھو وہ حیدرآباد دکن سے اپنی بہن کو ملنے آئے تھے اورمَیں ایک چھوٹابچہ تھا۔مگر محض اس وجہ سے کہ مَیں ان کی بہن کا نواسہ بلکہ پڑنواسہ تھا انہوں نے مجھ سےبات پوچھ لی۔اگرایک چھوٹے بچے سے بات پوچھی جاسکتی ہے تواپنے جوان اوربالغ داما دسے، اپنے خسر سے،اپنی ساس سے،اپنے چچا اورماموں سے کیوں دریافت نہیں کیاجاسکتا۔اورجب و ہ تم سے کوئی بات دریافت کریں گے توان کی مثال اس شخص کی سی ہوجائے گی جوکمبل کو تو چھوڑناچاہتاہے مگر کمبل اسے نہیں چھو ڑتاتھا۔
کہتے ہیں کسی نہرکے کنارے دوشخص جارہے تھے سردی کاموسم تھا کہ ایک شخص نے نہر میں کمبل تیرتے دیکھا۔وہ دراصل ریچھ تھا مگر اس نے غلطی سے اسے کمبل سمجھ لیا اس نے اپنے ساتھی سے کہاکہ میں نہر سے کمبل نکال لوں تم ذراٹھہرو۔جب وہ نہر میں کودا اوراس نے کمبل پکڑناچاہا۔توآپس کی رسہ کشی سے ریچھ کے ہاتھ پاؤ ں جو سردی کی وجہ سے سکڑے ہوئے تھے کھل گئے او راس نے آدمی کو پکڑ لیا۔اب باہر والے نے آوازیں دینی شروع کیں کہ جلدی باہر نکلو سفر خراب ہورہاہے۔اگرکمبل ہاتھ نہیں آتا تواسے چھوڑ دو۔ اورباہر آجاؤ۔وہ کہنے لگا کہ مَیں تو کمبل کو چھوڑنے کے لیے تیا ر ہوں مگرکمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔اسی طرح پہلے وہ تم سے پوچھیں گے کہ بتائیے۔آپ کے کیا اعتقادات ہیں مگر اس کے بعد تمہارے لیے تبلیغ کا ایسارستہ کھل جائے گا کہ جس پر نہ شرعی طورپر کوئی اعتراض ہوگا اورنہ قانونی طورپر کوئی اعتراض ہوسکتاہےجب وہ آپ سوال کریں گےتوکون سامولوی انہیں کہہ سکتاہے کہ ان کی بات نہ سنو۔اگر کوئی کہے بھی توماں کہے گی یہ میرابچہ ہے مَیں اس سے ایک بات پوچھ رہی ہو ں تم بیچ میں دخل دینے والے کون ہوتے ہو۔خسر کہے گا یہ میراداما د ہے مَیں نے اس سے ایک بات پوچھی ہے تم مجھے روکنے والے کون ہو۔اورچونکہ حق تمہارے ساتھ ہے اس لیے آخری نتیجہ یہی ہوگاکہ اللہ تعالیٰ ایک دن اس کا دل بھی کھول دے گا۔اوراسے کھینچ کر صداقت کی طرف لے آئے گا۔ (تفسیر کبیرجلد۹صفحہ۵۸۰-۵۸۸ ایڈیشن ۲۰۲۳ء مطبوعہ یوکے)

مزید پڑھیں: وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button