دادی جان کا آنگن

حضرت اماں جانؓ کی سُنائی ہوئی ایک کہانی

آج بارش بہت زیادہ تھی تو مسجد کی بجائے گھر میں ہی ابو جان نے نماز کی جماعت کروائی اور پھر مختصر درس دیا۔ درس کے فوراً بعد دادی جان کی طرف مڑ کر محمود بولا: دادی جان کہانی ۔

احمد: محمود کو تو بس کہانی ہی سننی ہوتی ہے۔

گڑیا: کہانی بہت ضروری ہوتی ہے۔ دادی جان نے بتایا تھا کہ حضرت مسیح موعودؑ اپنے بچوں کو دیگر نصائح کے ساتھ کہانیاں بھی سناتے تھے۔

دادی جان: جی ہاں۔ بچے کہانیوں کے ذریعہ بات آسانی سے سمجھ جاتے ہیں۔ اِس لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ کبھی حضرت یوسفؑ کا قصہ بیان فرماتے۔ کبھی حضرت نوحؑ کا قصہ سناتے اور کبھی حضرت موسیٰؑ کا واقعہ بیان فرماتے۔ مگر بچوں کے لیے وہ کہانیاں ہی ہوتی تھیں۔ گو وہ سچے واقعات تھے۔ ایک حاسد و محسود کا قصہ الف لیلہ میں ہے وہ بھی سنایا کرتے تھے۔ اس میں ایک مفید سبق ہے۔ اسی طرح کئی ضرب الامثال جو کہانیوں سے تعلق رکھتی ہیں وہ بھی سنایا کرتے تھے۔ کیونکہ بچپن میں تعلیم کا بہترین ذریعہ کہانیاں ہیں۔ گوبعض کہانیاں بے معنی اور بیہودہ ہوتی ہیں مگر مفید اخلاق سکھانے والی اور سبق آموز کہانیاں بھی ہیں۔ اور جب بچے کی عمر بہت چھوٹی ہو تو اِس طریق پر اسے تعلیم دی جاتی ہے۔

محمود: دادی جان کیا حضرت اماں جان بھی کہانی سناتی تھیں؟

دادی جان: جی جی کیوں نہیں۔ ایک بار میں نے ایک کہانی پڑھی تھی۔ گڑیا۔ مشعل راہ کی پہلی جلد پکڑائیں۔ جو حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات پر مشتمل ہے۔

گڑیا نے ریک سے دادی جان کو کتاب پکڑائی تو دادی جان کہانی تلاش کر کے بولیں۔ حضرت مصلح موعودؓ یہ کہانی سنا رہے ہیں کہ ہم جب بچے تھے تو حضرت اماں جانؓ ہمیں کہانی سنایا کرتی تھیں کہ ایک جولاہا کہیں کھڑا تھا کہ بگولا اٹھا اور وہ اُس کی لپیٹ میں اڑتے اڑے کسی شہر کے پاس آگر ا۔

محمود: بگولا کیا ہوتا ہے؟

گڑیا: بگولا کہتے ہیں Tornado کو۔ جب وہ ہوا کے گھومنے سے مٹی کا ایک circleبنتا ہے۔ اسے کہتے ہیں۔

دادی جان: شاباش بیٹا۔حضورؓ فرماتے ہیں کہ اس شہر میں ایک نیم پاگل بادشاہ رہا کرتا تھا اور اس کی ایک خوبصورت لڑکی تھی۔کئی شہزادوں نے رشتے کی درخواست کی مگر اس نے سب درخواستوں کو رَدّ کر دیا اور کہا کہ میں اپنی لڑکی کی شادی کسی فرشتہ سے کروں گا جو آسمان سے اترے گا۔کسی اور کو رشتہ دینے کے لیے تیار نہیں۔جوں جوں دن گزرتے گئے لڑکی کی عمر بھی بڑی ہوتی گئی۔ایک دن وہ جو لا ہا بگولے کی لپیٹ میں جو اس شہر کے قریب آکر ننگ دھڑنگ گرا تو لوگ دوڑتے ہوئے بادشاہ کے پاس گئے اور کہنے لگے۔حضور آسمان سے فرشتہ آگیا ہے۔اب اپنی لڑکی کی اس سے شادی کر دیں۔

محمود: کیا جولاہا اس کا نام تھا؟

دادی جان: نہیں جولاہا اس آدمی کو کہتے ہیں جو کپڑا بنتا ہے۔ کپڑا بننے والا!

احمد: کیا واقعی لوگوں نے اُس کو فرشتہ سمجھ لیا؟

دادی جان: جی ہاں۔ حضورؓ فرماتے ہیں کہ بادشاہ نے اپنی لڑکی کی جولا ہے سے شادی کر دی۔وہ پہاڑی آدمی تھا۔نرم نرم گدیلوں اور اعلیٰ اعلیٰ کھانوں کو وہ کیا جانتا تھا۔اسے سب سے بہتر یہی نظر آتا تھا کہ زمین پر ننگے بدن سوئے اور روکھی سوکھی روٹی کھائے مگر جب بادشاہ کا داماد بنا تو اُس کی خاطر تواضع ہونے لگی۔نوکر کبھی اس کے لیے پلاؤ پکا ئیں۔کبھی زردہ پکائیں۔کبھی مرغا تیار کریں۔پھر جب بستر پر لیٹے تو نیچے بھی گدیلے ہوتے اور اوپر بھی اور کئی خادم اسے دبانے لگ جاتے۔

محمود: یعنی وہ شہزادہ بن گیا۔

دادی جان کتاب بند کرتے ہوئے بولیں: جی بالکل۔ اس وجہ سے اس کی بہت آ ؤ بھگت ہونے لگی۔

احمد: دادی جان آگے بھی سنائیں جلدی سے۔

دادی جان نےکتاب کھولتے ہوئے کہا: جی جی۔ بہت دلچسپ کہانی ہے۔

گڑیا: تو کیا اسے اپنا گھر یاد نہیں آیا؟

دادی جان: چلیں آگے دیکھتے ہیں کہ کیا ہوا؟ حضورؓ فرماتے ہیں کہ کچھ عرصہ کے بعد وہ اپنی ماں سے ملنے کے لیے آیا۔ماں نے اسے دیکھا تو گلے سے چمٹالیا اور رونے لگی کہ معلوم نہیں اتنے عرصہ میں اس پر کیا کیا مصیبتیں آئی ہوں گی۔جولاہا بھی چیخیں مار مار کر رونے لگ گیا اور کہنے لگا۔اماں میں تو بڑی مصیبت میں مبتلا رہا۔ایک ایک دن گزارنا میرے لیے مشکل تھا۔کوئی ایک تکلیف ہو تو بیان کروں۔میرے تو پور پور میں دکھ بھرا ہوا ہے۔

محمود(حیرت سے): ہیں! وہ تو اس کی خدمت کررہے تھے۔

دادی جان: جی ہاں! لیکن اس نے یہ خدمت پہلے دیکھی نہیں تھی ناں!۔ جیسے پہلے حضور نے بتایا کہ اسے سب سے بہتر یہی نظر آتا تھا کہ زمین پر ننگے بدن سوئے اور روکھی سوکھی روٹی کھائے۔

گڑیا: یعنی اس کے لیے آسائش تکلیف دہ تھی۔

دادی جان : جی ہاں۔ چلیں آگے پڑھتے ہیں۔ حضورؓ اس کی بات اور بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس نے کہا اماں کیا بتاؤں مجھے صبح شام لوگ کیڑے پکا کر کھلاتے۔ چاول جو اسے کھانے کے لیے دیئے جاتے تھے ، ان کا نام اس نے کیڑے رکھ دیا۔ پھر وہ نیچے بھی روئی رکھ دیتے اور اوپر بھی اور مجھے مارنے لگ جاتے یعنی دبانے کو اس نے مارنا قرار دیا۔اس طرح ایک ایک کر کے اس نے سارے انعامات گنانے شروع کئے۔ماں نے یہ سنا تو چیخیں مار کر رونے لگ گئی اور کہنے لگی۔’’ ہے پُت تجھ پہ یہ دکھ۔‘‘ یعنی اتنی چھوٹی سی جان اور یہ یہ مصیبتیں۔

گڑیا: دادی جان اس کہانی سے کیا سبق ملتا ہے؟

دادی جان : حضورؓ نے یہ کہانی واقفین کے حوالے سے بیان فرمائی ہے۔ اس کے بعد حضور ؓ فرماتے ہیں کہ’’بہرحال ہمیں واقف چاہئیں مگر بزدل اور پاگل واقف نہیں بلکہ وہ ہر قسم کے شدائد کو خوشی کے ساتھ برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘

(مشعل راہ جلد اول صفحہ 452) (ابو الفارس محمود)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button