سلام کرنا ہر احمدی کی پہچان بن جائے
حافظ محمدابراہیم صاحب قادیانی بیان کرتے ہیں۔ اکثر حضور علیہ السلام، السلام علیکم پہلے کہا کرتے تھے۔ (سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ 114)
تو یہ سب کچھ اس محبت کی وجہ سے تھا جو آپؑ کے دل میں اپنے ماننے والوں کے لئے تھی بلکہ کوئی بھی بیٹھا ہو تو آپؑ اس طریقے سے سلام کیا کرتے تھے۔ گویا اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں سے ہمدردی کا جذبہ رکھتے تھے اور اسی جذبے کے تحت آپ سلام کو پھیلایا کرتے تھے۔…
پس آج ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس شعار اسلام کو اتنا رواج دیں کہ یہ احمدی کی پہچان بن جائے۔ اس کے لئے خود بھی کوشش کریں اور اپنے بیوی بچوں کو بھی کہیں ان دنوں میں، جلسہ کے دنوں میں دعاؤں کے ساتھ جہاں وقت گزار رہے ہوں گے، جلسے کی کارروائی سننے میں جہاں وقت گزار رہے ہوں گے، وہاں ہر ملنے والے کو سلامتی کی بھی دعا دیں تاکہ اس مجمع میں، یہاں جو لوگ اکٹھے ہوئے ہیں ان میں جو دینی اور روحانی حالت کی بہتری کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں، یہاں جو آپ آپس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق رشتہ محبت و اخوت قائم کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں اس رشتے کی مضبوطی کے لئے سلامتی کی دعائیں بھی بھیجیں۔ دنیا میں ہر جگہ احمدی پاک دل کے ساتھ ایک دوسرے کو سلامتی کی دعائیں دینا شروع کر دیں تو بہت جلد اس یکجہتی اور دعاؤں کی وجہ سے ان شاء اللہ تعالیٰ آپ احمدیت کی ترقی کو دیکھیں گے۔
…اس ملک میں رہنے والے ہر احمدی کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ جس طرح ان لوگوں نے آپ کو اپنے ملک میں رہنے اور کمانے، اپنے حالات بہتر بنانے کی اجازت دی ہے اور ایک احسان کیا ہے کہ بہت سوں کے حالات اپنے ملک میں اتنے اچھے نہیں تھے یہاں کی نسبت تو اس احسان کا بدلہ اتارنے کے لئے آپ کا فرض بنتا ہے کہ اس خوبصورت تعلیم پر عمل کرتے ہوئے جو اسلام نے آپ کو دی ہے، جس کو اس زمانے میں صحیح رنگ میں ہمارے سامنے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے رکھا ہے۔ اس کو ان لوگوں تک پہنچائیں۔ اسلام سلامتی کا پیغام ہے، ہر احمدی کو اس کو دنیا میں پھیلانا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔
(خطبہ جمعہ ۳؍ستمبر ۲۰۰۴ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۷؍ستمبر ۲۰۰۴ء)
مزید پڑھیں: یہ زمانہ اسلام کی نشأۃ ثانیہ کا زمانہ ہے




