ارشادِ نبوی
دعا سے نہ تھکنے کی تاکید
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ بندے کی دعا اس وقت تک قبول کی جاتی ہے جب تک وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔ جب تک وہ جلد بازی نہ کرے۔ عرض کیا گیا یا رسولؐ اللہ! جلد بازی سے کیا مراد ہے؟ آپؐ نے فرمایا: وہ کہتا ہے کہ میں نے دعا کی، میں نے دعا کی لیکن میں نہیں دیکھتا کہ وہ میری دعا قبول کرے گا۔ تب وہ تھک جاتا ہے اور دعا ترک کر دیتا ہے۔
(صحیح مسلم كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار باب بَيَانِ أَنَّهُ يُسْتَجَابُ لِلدَّاعِي ۔۔۔ حدیث نمبر ۴۹۰۴)
مزید پڑھیں: فضیلت سورة الفلق و سورة الناس




