حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

بلا کے نازل ہونے سے پہلے دعائیں اور استغفار کرنا چاہیے

استغفار کے معنی سمجھاتے ہوئے ایک موقع پر آپؑ نے فرمایا۔ استغفار کے یہی معنی ہیں کہ ظاہر میں کوئی گناہ سرزد نہ ہو اور گناہوں کے کرنے والی قوت ظہور میں نہ آوے۔ انبیاء کے استغفار کی بھی یہی حقیقت ہے کہ وہ ہوتے تو معصوم ہیں مگر وہ استغفار اس واسطے کرتے ہیں کہ تا آئندہ وہ قوت ظہور میں نہ آوے۔ اور عوام کے واسطے استغفار کے دوسرے معنی بھی لیے جاویں گے کہ جو جرائم اور گناہ ہو گئے ہیں ان کے بدنتائج سے خدا بچائے رکھے اور ان گناہوں کو معاف کر دے اور ساتھ ہی آئندہ گناہوں سے محفوظ رکھے۔ فرمایا بہرحال یہ انسان کے لیے لازمی امر ہے وہ استغفار میں ہمیشہ مشغول رہے۔ فرمایا یہ جو بلائیں نازل ہوتی ہیں قحط کی صورت میں یا کسی اَور صورت میں ان کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ لوگ استغفار میں مشغول ہو جائیں۔

آج کل دنیا میں جنگی حالات ہیں۔ ان حالات میں بھی دنیا کو محفوظ رکھنے کے لیے، اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے ہم احمدیوں کو بھی بہت استغفار کرنی چاہیے۔

…بلا کے نازل ہونے سے پہلے دعائیں کرتے رہنا چاہیے اور بہت استغفار کرنا چاہیے۔ اس طرح سے خدا بلا کے وقت محفوظ رکھتا ہے۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ کوئی امتیازی بات بھی دکھائے۔ اگر کوئی شخص بیعت کر کے جاتا ہے اور کوئی امتیازی بات نہیں دکھاتا۔ اپنی بیوی کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہے جیسا پہلے تھا اور اپنے عیال و اطفال سے پہلے کی طرح پیش آتا ہے تو یہ اچھی بات نہیں۔ اگر بیعت کے بعد بھی وہی بدخلقی اور بدسلوکی رہی اور وہی حال رہا جو پہلے تھا تو پھر بیعت کرنے کا کیا فائدہ؟…(ماخوذ از ملفوظات جلد۹صفحہ ۳۷۲تا ۳۷۴ ایڈیشن ۱۹۸۴ء)

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۵؍اگست ۲۰۲۳ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۵؍ستمبر ۲۰۲۳ء)

مزید پڑھیں: سلام کرنا ہر احمدی کی پہچان بن جائے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button