حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ اراکینِ نیشنل مجلس عاملہ انصار الله سوئٹزرلینڈ کے ایک وفد کی ملاقات

چھوٹی سی جماعت ہے، اس کو ایک آئیڈیل جماعت بنانے کی کوشش کریں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور آپس میں لڑنے کی بجائے… ایک ہو کے کام کریں۔ جب اکائی پیدا ہو گی، ایک ہو کے کام کریں گے، تو تبھی برکت پڑے گی

مورخہ ۱۸؍ جنوری ۲۰۲۶ء ، بروزاتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ اراکینِ نیشنل مجلس عاملہ انصار الله سوئٹزرلینڈ کے بائیس(۲۲) رکنی وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد(ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے سوئٹزرلینڈ سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

حضورِ انور نے سب سے پہلے صدر صاحب مجلس انصاراللہ سوئٹزرلینڈ سے مخاطب ہوتے ہوئے مجالس کی تعداد اور کُل تجنید کے بارے میں دریافت فرمایا۔ جس پرصدر صاحب نے عرض کیا کہ اس وقت مجالس کی تعداد پندرہ(۱۵) ہے اور انصار کی کُل تعداد ۱۹۴؍ ہے۔ کُل تجنید کی بابت سماعت فرما کر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے تبصرہ فرمایا کہ یہ تعداد تو یہاں کے ایک مقامی محلّے کے برابر ہے۔

بعد ازاں تمام شاملینِ مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے اور اپنی اپنی مساعی کی تفصیل بیان کرنے کا بھی موقع ملا، جن میں نائب صدور، مختلف شعبہ جات کے قائدین اور متفرق مقامی مجالس کی نمائندگی کرنے والے متعدد زعمائے مجالس شامل تھے، جس کی برکت سے انہیں حضورِ انور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔

نائب صدر صفِ دوم نے جب حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ ان کے منصوبے میں انصار کے لیے سائیکلنگ کے پروگراموں کا انعقاد بھی شامل ہے تو حضورِ انور نے اِن سے ان کی ذاتی سائیکلنگ کے بارے میں دریافت فرمایا، جس پر انہوں نے عرض کیا کہ وہ پہلے سائیکل چلاتے تھے اور دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

نائب صدر اوّل، جو قائد تعلیم القرآن و وقفِ عارضی کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں سے گفتگو کے دوران حضورِانور نے دریافت فرمایاکہ یہ اتنے جو بیٹھے ہوئے ہیں، انہوں نے آپ سمیت سال میں کوئی وقف کیا ہے؟اس پر نفی میں جواب سماعت فرمانے پر حضورِانور نے توجہ دلائی کہ خود کریں گے اور نمونہ بنیں گے تو لوگ کریں گے۔ جتنی عاملہ بیٹھی ہوئی ہے، پہلے تو ان کو وقف عارضی کروائیں، پہلے اِن کو باقاعدہ قرآن شریف پڑھنے کی تلقین کریں اورپھر اپنے گھروں میں یہ پڑھائیں۔ پھر آگے نظام چلے گا۔

قائد ذہانت وصحت جسمانی، جنہیں بطورِ زعیم مجلسBaselخدمت کی توفیق بھی مل رہی ہے سے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ کوئی گیم کرتے ہیں؟ اس پرانہوں نے عرض کیا کہ مَیںgym (جِم) جاتا ہوں اور سپورٹس بھی کھیلتا ہوں۔ حضورِ انور کے جِم جانے کی بابت مزید استفسار پر انہوں نے عرض کیا کہ وہ کم از کم ہفتے میں دو سے تین دفعہ جم جاتے ہیں۔علاوہ ازیں انصار کے جِم جانے کی بابت دریافت کیے جانے پر انہوں نے عرض کیا کہ وہ اسی سال عاملہ میں شامل ہوئے ہیں۔ حضورِ انور نے یاد دلایا کہ تو آج پندرہ دن گزر گئے ہیں، پندرہ دن میں آپ نے کچھ پیپرورک کر لیا کہ کتنے انصار ہیں اور کم از کم پچھلی فائلیں تو پڑھ لینی چاہئیں تھیں۔

مزید برآں انہوں نے عرض کیا کہ ابھی ہم چارج کی تبدیلی کےمرحلے میں ہیں اور ہم نے اس حوالے سے ایک ایپ کے متعلق تبادلۂ خیال کیا ہے۔

یہ سماعت فرما کرحضورِ انور نے مزیدتوجہ دلائی کہ اگر ابھی process میں ہیں ،تو اس طرح توچھ مہینے process میں ہی گزر جائیں گے، یہ کون سا ایسا بڑا کام ہے۔ صرف ۱۹۴؍ لوگ ہی ہیں اور بیٹھے بیٹھے آدمی آدھے گھنٹے میں چارج لے لیتا ہے۔

قائد مال سے حضورِ انور نے ایسے انصار کی تعداد کی بابت دریافت فرمایا کہ جو کماتے ہیں، اس پر انہوں نے عرض کیا کہ اس کا اضافی ڈیٹا تو نہیں ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ نوّے فیصد ہیں۔ یہ سماعت فرما کرحضورِ انور نے توجہ دلائی کہ ڈیٹا ہونا چاہیے، آپ اتنے سال سے قائد مال ہیں، آپ کوexact پتا ہونا چاہیے کہ کتنے لوگ کمانے والے ہیں اور ان کی آمد کتنی ہے اور چندہ شرح سے دیتے ہیں کہ نہیں؟ اگر نہیں دے سکتے تو کیا انہوں نے نہ دینے کی اجازت لے لی ہے، سارا ڈیٹا complete ہونا چاہیے۔

اس ضمن میں حضورِ انور نے مزید توجہ دلائی کہ اصل چیز یہ ہے کہ حقیقت کیا ہے۔حقیقت کے قریب جائیں، جو نہیں دے سکتے ، توان کا آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ نہیں دے سکتے اور جو دے سکتے ہیں اور اچھا کمانے والے ہیں، وہ پوری شرح سے دے رہے ہیں کہ نہیں دیتے؟ اور اگر نہیں دیتے تو پھر چھوٹ لیں، تو یہ ساری چیزیں اور information بھی قائد مال کے پاس ہونی چاہئیں۔

قائد اشاعت نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ مجلس کی جانب سے سال میں دو مرتبہ ایک رسالہ شائع کیا جاتا ہے، جو تقریباً ستّر صفحات پر مشتمل ہوتا ہے اور اُردو اور جرمن دونوں زبانوں میں شائع کیا جاتاہے۔

قائد وقفِ جدید نے عرض کیا کہ وقفِ جدید کی مدّ میں سوئٹزرلینڈ جماعت کے مجموعی چندہ جات میں سے ایک تہائی سے زیادہ حصّہ انصار کی جانب سے ادا کیا جاتا ہے۔

قائد تجنید نے تصدیق کی کہ کُل تجنید۱۹۴؍ ہی ہے اور انہیں اس تعداد کے درست ہونے کا مکمل یقین ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ چھوٹے شہروں میں جا کر مقامی منتظمین سے رابطہ کرتے ہیں اور فہرستوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی عرض کیا کہ وہ بطورِصدرجماعتGeneva بھی خدمت کی توفیق پا رہے ہیں، جہاں کُل احباب کی تعدادگیارہ ہے۔

قائد ایثار سے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ انصار اللہ خدمتِ خلق کا کتناچندہ دیتے ہیں اور کیا کبھی کوئی پراجیکٹ کیا ہے ، افریقہ میں کوئی جھونپڑی بنائی ہے، کوئی نلکا لگایا ہے یا کسی مریض کی مدد کی ہے؟

اس پر انہوں نے نفی میں عرض کرتے ہوئے بیان کیا کہ تنظیمی طور پر تو نہیں، البتہ اپنی ذاتی حیثیت میں نلکا لگوایا ہے۔

یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ اپنی طرف سے بھی لگایا ہے، تو انصار اللہ میں ڈال دیں ، پھرآپ کو ثواب ہی ہو جائے گا ۔پھر انصار کو بتائیں کہ مَیں نے حصّہ ڈال دیا ہے تو تم بھی کچھ کرو ۔

مزید برآں حضورِ انور نے قواعد کے مطالعہ، ان پر عمل کرنے اور اس کی روشنی میں لوگوں کو خدمتِ خلق کی ترغیب دلانے کی بابت راہنمائی فرمائی کہ قائد ایثار کے جو کام ہیں، قواعد پڑھیں، پھر اس پر عمل کریں اورلوگوں کو غریبوں کی خدمت کی تحریک کریں۔ کسی تیسری دنیا کے غریب ملکوں میں، پاکستان میں، سندھ میں،ریموٹ ایریا میں، جہاں جہاں کوئی ضرورت ہے یا افریقہ میں جہاں ضرورت ہے، صدقات کےلیے ، عید پر مدد کرنے کے لیے، کوئی نلکا لگانے کے لیے، کسی ہسپتال میں کچھ حصّہ ڈالنے کےلیے، کچھ نہ کچھ توکرنا چاہیے۔

قائد تبلیغ سے حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ کیا وہ اُردو سمجھتے ہیں، اس پر انہوں نے عرض کیا کہ وہ صرف تھوڑی تھوڑی اُردو بولتے ہیں۔ اس پر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے تبصرہ فرمایا کہ صرف یہی جملہ جو آپ نے بولا ہے۔ پھر حضورِ انور نے مزید دریافت فرمایا کہ آیا وہ انگریزی سمجھتے ہیں، جس پر انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔

مزید برآں حضورِ انور نے قائد تبلیغ سےسوئٹزرلینڈ کی عام آبادی میں مذہب کے حوالے سے دلچسپی کی بابت دریافت کرتے ہوئے استفسار فرمایا کہ تبلیغ کے لیے آپ کا کیا منصوبہ ہے؟ اس پرانہوں نے عرض کیا کہ گذشتہ سال سوئٹزرلینڈ کے دو بڑے شہروں بشمول Winterthur میں لگائی گئی نمائشوں کے ذریعہ بہت اچھا تجربہ حاصل ہوا ہے۔ جس پر حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ آپ کی نمائش دیکھنے کتنے لوگ آئے تھے؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ پورے دن کے دوران تقریباً سو(۱۰۰)افراد آئے تھے۔ اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ صرف سو(۱۰۰)! نیز دریافت فرمایا کہ کیاسوئٹزرلینڈ میں زیادہ تر لوگ مذہب سے لا تعلق ہیں اور انہیں مذہب میں کوئی دلچسپی نہیں ہے؟ اس کی بابت اثبات میں جواب سماعت فرمانے پر حضورِ انور نے توجہ دلائی کہ تو پھر آپ ان لوگوں میں دلچسپی کیسے پیدا کر سکتے ہیں، یہ تو قائد تبلیغ کا کام ہے۔

انہوں نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں یہ بھی عرض کیا کہ نمائشوں کو مزید وسعت دینے کے بارے میں سوچا ہے۔ اس پر حضورِ انور نے ہدایت فرمائی کہ آپ کو تبلیغ کے مزید طریقے بھی تلاش کرنے چاہئیں اور یہ بھی دیکھیں کہ آپ اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو کیسے وُسعت دے سکتے ہیں؟مُفت لٹریچر، پمفلٹس، انفرادی رابطے اور مزید انصار کو داعیانِ اِلَی اللہ کی سکیم میں شامل کرنے کی کوشش کریں کہ جو تبلیغ کے کام میں مصروف ہیں۔

آخر میں حضورِ انور نے تبلیغ کو وُسعت دینے کے سلسلے میں تاکید فرمائی کہ اس کے لیے ایک جامع اور وسیع پروگرام بنائیں۔

قائد تعلیم نے اپنے شعبے کی مساعی کی بابت عرض کیا کہ آن لائن کلاسز ہر جمعرات کو منعقد ہوتی ہیں، جن میں قرآنِ مجید اوردیگر کُتب جیسے کشتی نوح وغیرہ پڑھائی جاتی ہیں، اور ان میں اوسطاً پینتیس(۳۵) ممبران شرکت کرتے ہیں۔ یہ سماعت فرما کرحضورِ انور نے تبصرہ کیا کہ اگر یہ پینتیس(۳۵) ممبران واقعی ان تعلیمات پر عمل کریں تو یہ سوئٹزرلینڈ میں ایک انقلاب برپا کر سکتا ہے۔

باقی ممبران کے لیے حضورِ انور نے تجویز فرمایا کہ انہیں مختلف موضوعات پر مختصر اقتباسات اور پیغامات واٹس ایپ کے ذریعے بھیجے جائیں، اس حوالے سے کُتب The Essence of Islamیا حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رُو سے، سے استفادہ کیا جا سکتا ہے جو موضوعات کے اعتبار سےمتفرق اقتباسات کا مجموعہ ہیں۔ حضورِانور نے ہدایت فرمائی کہ یہ کوشش شعبہ تربیت کے کام کی تکمیل کے طور پر ہونی چاہیے۔

قائد تحریکِ جدید نے ذکر کیا کہ کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ تحریکِ جدید کے مالی جہاد میں ملکی سطح پر کُل پیش کی جانے والی قربانی میں انصاراللہ کی شراکت کم از کم ایک تہائی برقرار رہے اور جہاں تک ممکن ہو، اسے اس سے زیادہ بڑھایا بھی جائے۔

بعد ازاں بعض زعمائے مجالس کو بھی یہ توفیق ملی کہ وہ مقامی مجالس کی نمائندگی کرتے ہوئے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں اپنا تعارف پیش کریں۔ حضورِ انور نے چھوٹی مجالس کے زمینی حقائق کو مدّنظر رکھتے ہوئے مناسبِ حال راہنمائی عطا فرمائی نیز عہدیداران کو یاد دلایا کہ چاہے ممبران کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو، مستقل دعا، اتفاق اور باقاعدہ رابطے کے ذریعے انہیں مثالی مجلس میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ کیا شرکاء میں نیشنل مجلسِ عاملہ کے کوئی اراکین بھی شامل ہیں، اس پر کئی جماعتی عہدیداران نے اپنا تعارف پیش کیا، جن میں نیشنل اور مقامی نمائندگان بھی شامل تھے۔

ملاقات کے آخر میں حضورِ انور نے تمام اراکینِ عاملہ کو ایک مثالی مجلس بننے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے عمومی راہنمائی بھی عطا فرمائی کہ کام کریں، چھوٹی سی مجلس ہے، اس کو تو آئیڈیل مجلس ہونا چاہیے۔جتنے آپ کے پورے ملک کے انصار ہیں، یہاں تو اسلام آباد کی جماعت میں میرا یہ خیال ہے کہ اس سے زیادہ انصار ہوں گے، تو اس کو آئیڈیل بنائیں ۔

اس پر صدر صاحب مجلس انصار الله نے عرض کیا کہ ہم آپ سے دعائیں اور برکت لینے ہی کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔

یہ سماعت فرما کرحضورِ انور نے مزید توجہ دلائی کہ نمازیں پڑھیں اور خود بھی تو دعائیں کیا کریں۔ چھوٹی سی جماعت ہے، اس کو ایک آئیڈیل جماعت بنانے کی کوشش کریں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور آپس میں لڑنے کی بجائے کہ اس نے اس کی شکایت کر دی، اس نے اس کی بات نہیں مانی، امیر کو یہ شکوہ ہو گیا، صدر خدام الاحمدیہ کو یہ شکوہ ہو گیا، صدر انصار اللہ کو وہ شکوہ ہو گیا یا لجنہ نے فلاں کہہ دیا، یہ ساری چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، انہیں چھوڑیں اور ایک ہو کے کام کریں۔ جب اکائی پیدا ہو گی، ایک ہو کے کام کریں گے، تو تبھی برکت پڑے گی۔

حضورِ انور نے انصار الله کے افہام و تفہیم کے ساتھ سب کو ساتھ لے کر چلنے کے کلیدی کردار پر بھی روشنی ڈالی کہ تو انصار اللہ اس عمر کے ہیں کہ جو mature (بالغ)عمر ہے، تو آپ لوگوں کو چاہیے کہ ساروں کو سمجھائیں اور ساتھ لے کر چلیں ۔ ساری جماعت کی تجنید کا ایک بٹاپانچ حصہ تو آپ کا ہے ، اگر آپ لوگ اپنے گھروں میں، بچوں میں ،عورتوں میں اور بھائیوں میں صحیح طرح تبلیغ کر لیں، تو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔اور نظام کو چلانے کی کوشش کریں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائیاں نہ کیا کریں۔

اس پر صدر صاحب مجلس انصار الله نےاس حوالے سے عرض کیا کہ آئندہ کوئی شکایت نہیں آئے گی۔یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے سمجھایاکہ شکایات کو چھپا کر نہ بیٹھیں، شکایات کا آنا تودرحقیقت اچھی بات ہے، تو یہ کہیں کہ ہم اصلاح کی کوشش کریں گے، نہ یہ کہیں کہ آئندہ کوئی شکایت ہی نہیں آئے گی۔

مزید برآں صدر صاحب نے مجلس انصار الله کی جانب سے دعا کی درخواست بھی کی، جن میں وہ احباب بھی شامل تھے کہ جو بیماری کی وجہ سے ملاقات میں شریک نہ ہو سکے، نیز انہوں نے ان جملہ احباب کی جانب سے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں محبّت بھرے سلام کا عاجزانہ تحفہ بھی پیش کیا۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطورِ تبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض کیا جاتا ہے کہBasel, Geneva اور Winterthur تینوں سوئٹزرلینڈ کے اہم شہر ہیں۔

Basel سوئٹزرلینڈ کا ایک تاریخی، تجارتی اور ثقافتی شہر ہے، جوRhein (رائن) دریا کے کنارے واقع ہے، یہ اپنی قدیم عمارتوں، مشہور میوزیمز، آرٹ گیلریوں اور بین الاقوامی ثقافتی میلوں کے لیے جانا جاتا ہے، اور یہ شہر جرمنی اور فرانس کی سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی تجارتی روابط کا بھی مرکز ہے۔ Geneva سوئٹزرلینڈ کا دوسرا بڑا شہر ہے اور بین الاقوامی تنظیموں اور سفارتی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے، جس میں اقوامِ متحدہ اور ریڈ کراس شامل ہیں۔ یہ شہر سیاست، مالیات اور تعلیم کے حوالے سے بھی عالمی شہرت رکھتا ہے اورLake Genevaکے کنارے خوبصورت مناظر پیش کرتا ہے۔Winterthurصنعتی، تعلیمی اور ثقافتی اہمیت کا حامل شہر ہے، جوZürichکے قریب واقع ہے، یہ شہر اپنی صنعت، ٹیکنالوجی، تحقیقی اداروں اور ثقافتی مراکز، جیسے میوزیمز اور تھیٹرزکے لیے جانا جاتا ہے۔

مزید یہ کہ سوئٹزرلینڈ اپنی قدرتی خوبصورتی، ترقی یافتہ نظام اور بلند معیارِ زندگی کی وجہ سے دنیا داروں میں بطورِ جنّت نظیر مشہور ہے۔]

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ویسٹ کوسٹ امریکہ کے خدام کے ایک وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button